تازہ ترین

ڈرون نظرآنے پر ہیرا نگر کے سرحدی گائوں منیاری میں خوف

جموں//کٹھوعہ کے ہیرا نگر سیکٹر میں پاک بھارت سرحد پر منیاری علاقے کے لوگوں میں اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب مقامی لوگوں نے دیکھا کہ ان کے کھیتوں پر ایک ڈرون اُڑ رہا ہے۔بی ایس ایف نے کسی ڈرون کو دیکھنے سے انکار کیا تاہم مقامی پولیس کی ٹیم جو مقامی لوگوں کی اطلاع پر موقعہ پر پہنچی تھی ، نے دعویٰ کیا کہ ڈرون کو نشانہ بناتے ہوئے کچھ گولیوں سے فائر کیا گیالیکن اُسے گرانے میںکامیابی نہیں ملی۔ ایس ایس پی کٹھوعہ شیلندر مشرا نے بتایا،’’ہم نے ڈرون کا پیچھا کیا، ہم نے اُسے گرانے کی کوشش کی، ڈرون نظروں سے دورہو گیا، یہ بہت اونچائی پر اُڑ رہاتھا، ہمیں نہیں معلوم کہ تاریکی کے درمیان یہ کہاں چلاگیا‘‘۔مشرا نے بتایا کہ انہوں نے بین الاقوامی سرحد کے ساتھ ملحقہ دیہات اور تمام رابطہ سڑکوں کی تلاشی شروع کردی ہے۔ایس ایس پی نے کہا،’’ہم نے پولیس جوانوں کو آگاہ کردیا ہے او

ماہرین کی مرکزی ٹیم کا میڈیکل کالج جموں واودھم پور کا دورہ

جموں//حکومت ہند کے ذریعہ جموں پہنچنے والی ایک اعلیٰ سطحی مرکزی ٹیم نے سنیچر کے روزگورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں اور اودھم پور ضلع ہسپتال دورہ کیا جہاں کووڈ 19 متاثرہ مریضوں کے اضافے کے پیش نظر آکسیجن کی کمی کی اطلاعات کے درمیان پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ڈائریکٹر این سی ڈی سی ، نئی دہلی کے سربراہ ڈاکٹر ایس کے سنگھ ، این ڈی سی ڈی میں جوائنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر تنزین اور دیگر ماہرین پر مشتمل ٹیم نے کورونا صورتحال کا باریکی سے جائزہ لیا۔ڈاکٹر وجے ہڈا اور ڈاکٹر مہیش پر مشتمل ٹیم نے جی ایم سی جموں کا دورہ کیا اور پرنسپل ڈاکٹر نصیب چند ڈنگرا ، انتظامیہ اور ڈاکٹروں سے صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی۔ہسپتال کے ایک عہدیدار نے بتایا’’ہم نے ڈاکٹروں اور نرسوں سمیت عملے کی کمی کے بارے میں مطالبات پر روشنی ڈالی گئی کیونکہ عملہ کے بہت سارے ارکان متاثر ہوئے ہیں اور و

کووڈ-19 معاملات میں اضافہ

جموں / نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر دیویندر سنگھ رانا نے کووڈ۔ 19 کے معاملات میں اضافہ کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ناکافی انفراسٹرکچر سہولیات کے پیش نظر جموں میں میڈیکل ایمرجنسی کے اعلان کرنے کا مطالبہ کیا۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر منظر نامہ انتہائی سنگین ہے اور اس میں خوش فہمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے جو تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے جب تک کہ قیمتی جانوں کو بچانے کے لئے کوئی ہنگامی اور فعال ردعمل شروع  نہ کیا جائے۔ انہوں نے ہسپتالوںمیں مریضوں کو علاج معالجے کے لئے بستر نہ ملنے یا آکسیجن اور وینٹیلیٹر کی کمی کی وجہ سے پریشان کن اطلاعات کا حوالہ دیا اور بتایا کہ حالات بہت ہی خطرناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسی ابھرنے والی صورتحال کی پیشگی توقع کرنی چاہئے تھی اور ہر ہسپتال میں زیادہ سے زیادہ بیڈوں کی نشاندہی کرکے ، نجی اسپتالوں اور نرسنگ ہومز میں کم سے کم ایک ہزار بسترو

تازہ ترین