باپ

پچھلے ڈیڑھ برس سے وہ  اس شہر میں کلکٹر کے عہدے پر فائز تھا ،اس شہر کے لوگ بھی اُس کے کام سے پوری طرح  خوش  تھے اور حُکامِ بالا بھی اُس کی کارکردگی سے مطمئن تھے ۔ویسے تو یہ شہر افرا تفری اور تشدد کے لئے بدنام تھا  اور کئی کلکٹر یہاں سے ناکام ہوکر نکلے تھے لیکن اُس  نے یہ ذمہ داری چیلنج سمجھ کر قبول کی۔ اپنی سوجھ بوجھ اور عقلمندی سے اُس نے نامساعد حالات میں بھی کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آنے دیا بلکہ یہاں آتے ہی اُس نے غریب غُرباء اور مفلوک الحال لوگوں  کے لئے ریڈ کراس فنڈ کے مُنہ کھول دئیے تھے اور  شہر کی تعمیر و ترقی کے لئے کمیٹیاں بناکر لوگوں کی منفی سوچ کو مثبت فکرمیں بدل د یا تھا ۔۔۔،، کیا سڑکیں ۔۔۔کیا سرکاری عمارتیں ۔۔۔،کیا جدید سہولیات  سے لیس اسپتال ۔۔۔کیا پارکیں۔۔۔کیا اسمارٹ اسکول غرضیکہ، ضروریاتِ زندگی کے تمام تقاضے اُس نے پورے کر

تَفاوت

جس طرح کی خوشی ،مسرت ،شادمانی یا جس طرح کا لگاؤ ہم پہلے دن کسی پرائے شہریا پرائے ملک میں جاتے ہوئے محسوس کرتے ہیں کاش وہ خوشی تا دیر رہتی ،لیکن ایسا کہاں ممکن ہے ۔ساتھ ہی جس طرح ہم سانپ یا بچھو کے ساتھ اچھا سلوک کر کے اُس کی خصلت تبدیل نہیں کر سکتے عین اسی طرح ہم اپنے مسکن یا اپنے اپنوں کا درجہ کسی دوسرے کے گھر یا کسی پرائے کو عطا نہیں کر سکتے ۔یہی حقیقت ہے اور یہی صداقت ہے ۔ایسا ہی کچھ خالد کے ساتھ بھی ہوا ۔خالددیو ہیکل تھا۔اس  کے کالے بال،نیلی آنکھیں ،چہرے کی تازگی سے ہر کوئی اس کی تعریف کرنے کے لیے مجبور ہوتا۔خالد کا اس سے پہلے اس طرح کی تبدیلی سے کبھی بھی سروکار نہ  پڑا تھا۔دلی جاتے وقت اُسے اس بات کا بالکل بھی علم نہ تھا کہ اس کی زندگی اس درجہ تبدیل ہونے والی ہے ۔ویسے بھی وہ لمحے بڑے قیمتی ہوتے ہیں جو ہمیں دکھوں سے نکال باہر کر کے چند لمحوں کے لیے فرحت کا سامان مہیا کر

بابا سائیں

سارے دروازوں سے نا امید ہو کر شاکر نے ساری رات پریشانی کی حالت میں کانٹوں پر گزاری کیوں کہ وقت تیزی سے نکل رہا تھا اورکوئی اس کی مدد کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہو رہا تھا ،اپنے پرائے سب مُنہ موڑ رہے تھے ۔ اپنی پریشانی لے کر وہ صبح صبح ہی بڑی امید وںکے ساتھ با با سائیں کے گھر پہنچ گیاتو دیکھا کہ با با گھر کے اندر سے پانی کی بالٹی لے کر نکل رہا تھا ،شاکر کے نزدیک پہنچتے ہی رک گیا تو شاکر نے بڑے ادب سے سلام کیا ،وعلیکم السلام کہہ کر اس نے شاکر کو آنگن میں ہی بچھی چٹائی پر بیٹھنے کو کہا اور خود بالٹی اٹھا کرپاس ہی رکھے ایک مٹی کے بڑے برتن میں پانی ڈال دیا ۔بالٹی لے کر پھر اندر گیا اور کچھ لمحوں بعد پھر سے پانی کی بالٹی لے کر آگیااور اس میں سے آدھا پانی اسی برتن میں ڈال دیا اور جب وہ بھر گیا توآدھا پانی کچھ دوری پر رکھے مٹی کے ہی ایک چھوٹے برتن میں ڈال دیا ۔شاکر، جو یہ منظر بڑی دلچسپی سے د

افسانچے

مصروفیت  بیٹا جعفر!گیس لیک ہورہی ہے۔ جلدی آؤ سلینڈر کو باہر نکالنے میں میری مدد کرو۔۔جعفر او جعفرتم سنتے نہیں۔ماں نے چلاتے ہوئی پکارا۔ جعفر موبایٔل ہاتھ میں لیکر اتنا مشغول تھاکہ اُس نے کچھ سُنا ہی نہیں۔ماں دوسرے کمرے میں بیٹھے دوسرے بیٹے ارشد کو پکارنے گئی لیکن وہ ٹانگیں پسارے موبایٔل ہاتھ میں لیکر دنیا و مافیہا سے بے خبر اوں آں کرتا رہا۔وہ پھر جعفر کے پاس دوڑی۔,,ماں ایک منٹ ٹھہروبس ختم ہی ہونے والا ہے۔کچھ منٹ لگ جائینگے۔ ارے گیس لیک ہورہی ہے۔سارے گھر میں پھیل رہی ہے۔آگ لگنے کا خطرہ ہے۔ وہ دوبارہ ارشد کو پکارتی رہی۔ماں ٹھہرو۔ارے یہ مارا ۔کیا نشانہ ہےـ۔ٹھا!ٹھا! ارشدخوشی سے چلایا۔جب ماں نا امید ہوئی۔تو اُس نے گیس سلینڈر کو گھسیٹتے ہوئی باہر نکالنے کی کوشش کی۔ کچھ دیر کے بعددونوں بھائیوں کو گھٹن سی محسوس ہوئی۔وہ دونوں پکارنے لگے ماں یہ بُو کیسی آرہی ہے۔۔۔وہ کچن میں

شادی

ندیم اپنے محلے میں ایک باعزت انسان شمار کیا جاتا تھا ۔ محلے میں جب بھی کسی ہمسایہ کو کوئی خوشی ہوتی تھی تو ندیم مبارکباددینے میں دیر نہیں کرتا تھا ۔ خاص کر جب کسی کا بچہ امتحان میں اچھی کارکردگی دکھاتا تھا تو ندیم کچھ زیادہ ہی خوش ہوجاتا تھا اور بچے اور اسکے والدین دونوں کی مبارکبادی اور حوصلہ افزائی میں پیش پیش رہتا تھا ۔۔۔ ندیم کے پڑوس میں رمضان خواجہ بھی رہتا تھا ۔ ایک سال پہلے رمضان خواجہ کی بیٹی ایم بی بی ایس کے مسابقی امتحان میں کامیاب ہوئی تھی تو ندیم اتنا خوش ہوا جیسے اسکی اپنی بیٹی کامیاب ہوئی ۔ ندیم نے خود اسکا داخلہ میڈیکل کالج میں کرایا اور کتابیں وغیرہ بھی خرید کر دیں۔  رمضان خواجہ کے بیٹے بلال کی شادی ہے ۔ تمام ہمسائے اور رشتے دار خوشیوں میں حصہ لینے کے لئے رمضان کے گھر تشریف لائے ہیں ۔ ندیم کو بھی دعوت نامہ بھیجا گیا ہے لیکن وہ غیر حاضر ہی رہا۔ تمام ہمسایہ ا

رمزِمحبت

 سیاہ شب کی خاموشیوں میں مانوس قدموں کی آہٹ پر ریان کی نظریں اس سراپے پرمنجمد ہوئیں۔ ’’کبھی کبھی جلد بازی اور جذبات کی رو میں کیے گئے فیصلوں کا خمیازہ ہمیں تاحیات بھگتنا پڑتا ہے.!‘‘ریان نے ریم کے کمزور وجود کو دیکھتے ہو ئے سوچا۔وقت کے ساتھ زخم بھر تو جاتے ہیں لیکن کبھی کبھی یہ ناسور کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ہماری نادانیوں اور غلطیوں کا احساس انھیں مندمل ہونے نہیں دیتا اور یہ ناسور ہمیں موت کے اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔ریم کے چہر ے پر جھلملاتا عکس ، ہجر کی روداد ، لمبی راتوں کے کرب کا غماز تھا۔’’کیوں آئے ہو؟‘‘ ریم کی کربناک آواز خاموشی کا سینہ چاک کرگئی۔ ’’طویل مسافت سے تھگ گیا ہوںلیکن مجھے زیست سے کوئی شکایت نہیں ہے‘‘ ’’مجھے ہے۔۔۔۔۔۔‘‘ریم کرب سے چلائی۔ ریم اس کی عم

" بدنصیب ماں"

معمول کے برعکس صبح صبح نوکر نے میرے کمرے کے دروزے پہ دستک دی- میں نے آنکھیں نیم کھلی کرتے ہوئے آواز لگائی تو اس نے جواب دیا کہ" صاحب حفیظہ بیگم کا انتقال ہوا"۔  حفیظہ بیگم جوکہ ہمارے بغل والے مکان میں عرصہ دراز سے مقیم تھی۔ میں انہیں آنٹی جی کہہ کر پکارتا تھا ۔وہ تھی تو بہت ہی بہادر مگر پچھلے بیس برس سے وہ اندر ہی اندر پگھل کر رہ گئی تھی۔ گویا خزان کے پھول کی طرح جو حالات سے لڑنا تو چاہتا ہے مگر اندر کی نمی آہستہ آہستہ کم پڑ جاتی ہے اور چند ہفتوں میں وہ بکھر جاتا ہے۔ حفیظہ بیگم اس مکان میں اپنے ایک وفادار نوکر کے ساتھ رہ رہی تھی۔ بچپن میں مجھے یاد ہے کہ اس بغل والے مکان میں کافی چہل پہل رہتی تھی۔ حفیظہ بیگم کا شوہر نورمحمد، جسے میں انکل جی کہہ کر پکارتا تھا، مجھے اکثر جنرل نالیج کے سوالات پوچھتا رہتا تھا۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی ۔چھوٹا والا بیٹا مدثر

خار زارِ محبت

ہال میں ہنگامہ ہوا کچھ لوگ جذباتی ہوکر کرسیاں توڑنے لگے تو کچھ لوگ سٹیج کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔جبھی کسی نے آواز دی " ارے آگ لگا دو۔۔۔۔۔ آگ"۔  ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے اس ہال میں لوگ ایک ایک، دو دو کر کے جمع ہورہے تھےاور یہ سب سٹیج ڈراما دیکھنے کے مشتاق تھے۔ انھیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ کچھ دھیر بعد یہ سب ہوگا۔  ڈیڑھ گھنٹہ پہلے  "حیرت کی بات ہے " "کیا ؟" "اور نہیں تو کیا، بالکل حیرت کی بات ہی تو ہے"۔ "آخر کیا بھلا؟" "ہم کتنی مدّت سے ساتھ ہیں؟"  "ہاں۔۔۔۔ ہیں تو " "پر ......... ’’پر کیا؟" "پر میں نے ابھی تک تمہارے کان نہیں دیکھے ہیں ۔" وہ حسبِ معمول یونانی وضع کا سکارف سر پر جمائے آئینے کے سامن

گم شدہ ماضی کا حال

آس پاس کی کہانیوں کو جمع کر کے اس نے ان تمام کہانیوں کونذر آتش کردیا۔اب جو کہانیاں دم توڑ چکی تھیں،انھیں آہستہ آہستہ دفن کیا جا رہا تھا۔کچھ زخمی کہانیاں بکھری پڑی تھیں۔ان زخمی کہانیوں کو نمائش گاہ میں رکھنے کی جب تجویز پیش کی گئی توکچھ عرصہ کے بعد ہی وقت  کے دیوتائوں نے ایک نمائش گاہ کی بنیاد ڈالی جس میں صرف زخمی کہانیوں کی نمائش ہوتی تھی۔میں نے ارادہ کر لیا کہ ضرور نمائش گاہ کی سیر کے لئے جائوں تاکہ مجھے بھی یہ پتہ چلے کہ میں کس زخمی کہانی کا کردار ہوں؟ موسم زمستان کی سردی نے ذرے ذرے کا وجود چیر کے رکھا تھا۔ہلکی ہلکی سی بارش نے سڑک کے آلودہ چہرے کو صاف شفاف کیا تھا۔تقریبا میں گیارہ بجے گھر سے نکلا۔جوں ہی میں نمائش گاہ کے دروازے پر پہنچ گیا تو دروازہ بند تھا۔میں نے دستک دی تو وہاں سے چوکی دار کی آواز آئی۔۔۔ ’’کون ہے؟میں نے کہاں۔۔ مہ، مہ، مہ۔۔ ایک رخمی کہ

یادوں کی بارات

ساون کی اندھیری  رات کو  وہ اپنے دالان میں بیٹھا کسی گہری سوچ میں گُم تھا۔رات کی تاریکی ،آندھی ،موسلادھار بارش اور بجلی کی گرج چمک تھمنے کا نام نہيں لے رہی تھی۔ جو اس کو اور زیادہ بے چین کر رہی تھی ۔ بچپن میں لاڑ و پیار سے پلا ساغر اب کتاب زندگی کے تیس سنہرے باب مکمل کر چکا تھا۔زندگی کے اس تیس سالہ سفر میں اُسے ہر موڑ پر کئ طرح کے تجربات حاصل ہوئے ،کئی طرح کے لوگوں سے پالا پڑا۔ لائق ،ہوشیار اور بلا کا ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اچھے اخلاق و کردار کا مالک بھی تھا۔اس کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد غربا ،مساکین اور سماج کے گرے پڑے لوگوں کی خدمتِ کر سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ساغر نے دن رات مشقتیں اٹھائیں ،کئ طرح کے مصائب کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ،یہاں تک کہ اپنی آشنا 'نوری ' کی شادی کی پیشکش کو بھی یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ جب وہ کوئی اچ

واپسی

’’ارے واااہ ۔۔۔ میری بلو رانی آج کل کیا پڑھ رہی ہے‘‘ ’’ تیرے کام کی چیز نہیں ہے دیدی ۔۔۔ رہنے دو ‘‘ ’’ پھر بھی تو دکھائو کیا ہے  ۔ ‘‘ بڑی بہن شفق نے کتاب ہاتھ سے چھین لی اور دیکھتے ہی نیچے پھینک دی ‘‘ ’’ ارے یہ۔۔۔ چھی چھی چھی۔۔ ۔پھر سعادت حسن منٹو۔۔۔یہ کیا پڑھتی ہو بلورین؟ ‘‘    ’’او ہو شفق دیدی ۔۔۔ بتایا تھا  نا  تیرے مزاج کی چیز نہیں ہے  ۔‘‘   ’’ کتنی بار کہا اسے مت پڑھا کر ۔ اس کو پھر پڑھا تو امی کو بتا دوں گی۔ ‘‘ بلورین اپنی معصوم بہن شفق کو یاد کرتے ہی رو پڑی ۔ شفق شادی کے بعد صرف  پندرہ دن زندہ رہی۔اس کی موت سے سارے علاقے میں  صف ماتم بچھ گئی تھی ۔

آخری سیلوٹ

پرتپال سنگھ ساٹھ کی دہلیز پر قدم رکھ چکا تھا۔عمر بھر اپنی پانچ ایکٹر زمین پر محنت مزدوری کر کے اپنے اکلوتے بیٹے جوگیندر سنگھ کی پرورش اور تربیت کر کے ماں باپ دونوں کی ذمہ داریاں نبھاتا رہا۔گرداسپور کا یہ کسان عام متوسط طبقے کے کسانوں کی طرح اپنی واحد اولاد کے مستقبل کو لیکر نہایت پُر امید اور آرزومند تھا۔عین جوانی میں جب اس کی بیوی کی وفات ہوئی تب جو گیندر بہت چھوٹا تھا ،دوست یاروں کے اصرار کے باوجود وہ کسی دوسری عورت کو بیاہ کر گھر لانے کو راضی نہیں ہوا۔ اُس کو یہ فکر لاحق تھی کہ سوتیلی ماں اس کے بیٹے کو وہ پیار نہیں دے پائیگی جس کا وہ مستحق ہے ۔اس لیے انھوں نے ساری زندگی بے زن گذاری۔ باپ بیٹے دونوں ایک دوسرے کیلئے کل کائنات تھے۔دوست ،محسن ،ہمسفر ،رہنما سب کچھ ۔جوگیندر  پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیتی میں بھی والد کا ہاتھ بٹاتا تھا ،البتہ پرتپال چاہتا تھاکہ اس کا بیٹا پڑھ لکھ کر کسی ا

تحفہ جنم دن کا

آج اِس کے والد کو فوت ہوئے پورے بیس برس ہوئے ہیں مرتضٰی تب صرف نو سال کا تھا جب نامعلوم افراد نے جلیل کاقتل دن کی کھلی روشنی میں شہر خاص میں کیا تھا ۔  جلیل پیشے سے ایک وکیل تھے معصوم مظلوموں کی رہبری کرکے ان کو جبر و استقلال سے بچانا اُن کا پیشہ بن چکا تھا ۔انہیں اپنے بچوں سے زیادہ دوسرے مظلوم بچوں کی فکر رہتی تھی ۔اُن کے انتقال سے نہ صرف ان کے اپنے بچے یتیم ہوگئے بلکہ سینکڑوں افراد بے یار و مددگار ہوکر رہ گئے۔ ۔۔ مرتضٰی بھی اب باقی مظلوم بچوں کی طرح خوف و دہشت میں جی رہا ہے ۔ والد کے انتقال نے سارے گھر کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ایک دو سال تک تو مرتضیٰ کی پڑھائی بھی انہی حالات کی نذر ہوگئی۔اُس کی ماں شمیمہ جہاں جاتی مرتضیٰ کو اپنے ساتھ لے جاتی ۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں مرتضیٰ بھی اُس سے دور نہ ہو جائے ۔۔۔ وقت گزرتا گیا ۔ حالات نے مرتضٰی کے دل کوسوالوں کے ایک سمندر میں تبدیل کرل

مجبوری

موبائل ہاتھ میں لیے فیس بک پر ایک ویڈیو دیکھتے نہ جانے کب  وہ نیند کی آغوش میں چلاگیا۔موبائل بھی ہاتھ سے چھوٹ کر وہیں بستر پر گِر چکا تھا۔ بیگم صاحبہ کھانا بنانے میں مصروف تھیں اور بچے کمرے میں اپنی پڑھائی کر رہے تھے۔ "اجی سنتے ہو کیا......کوئی دستک دے رہا ہے، ذرا دیکھو تو کون ہے، اُٹھو بھی.... آپ بھی ناں... موبائل بھی آن ہے، سونا ہی تھا تو اسے بند کر دیتے "....بیگم صاحبہ نے اپنے خاوند اشرف کو سویا ہوا دیکھ کر کہا.....!! ارے بیگم!! پتا ہی نہیں چلا کب میری آنکھ لگ گئی۔ اچھا اچھا چھوڑو اب...... دیکھو باہر کون ہے، کب سے دستک دے رہا ہے۔ بیوی کے کہنے پراشرف میاں اُٹھے اور کمرے سے باہر نکل گئے۔ السلام علیکم......  دروازہ کھولتے ہی ایک بزرگ چچا نے سلام کیا۔ وعلیکم السلام چچا..... کہیے۔۔۔!!! کیا بات ہے؟  بیٹا! اللہ کے نام پر میری کچھ

آخری اُمید

میں وہ دن آج بھی نہیں بھولتا ،جب زندگی کو میں نے بہت قریب سے جانا ،سمجھا اور امیدوں کوپلک جھپکنے میں بکھرتے دیکھا تھا۔تقریباََ دو سال ہوگئے اس واقعہ کو ،لیکن آج بھی اُس نوجوان کی شکل مجھے بخوبی یاد  ہے جواس کہانی کا صرف ایک حصہ ہی نہیں بلکہ بجائے خود ایک کہانی تھا ۔ یہ کہانی شروع ہوتی ہے اسلم نامی ایک لڑکے سے جو کچھ سال پہلے ہمارے آفس کے ٹھیک سامنے ایک معمولی سا ہوٹل چلاتا تھا۔نہایت ہی شریف اور نیک ،اس لڑکے نے بڑی ہی قلیل مدت میں سب کے دل پر فتح پالی تھی۔بچپن میں ہی والد کا انتقال ہونے کی وجہ سے ساری ذمہ داریاں اس کے کاندھوں پر آن پڑی تھی۔ایک دن میں اُس کے ٹی سٹال میں چائے پینے گیااور باتوں ہی باتوں میں میںنے اُس سے اُس کی تعلیم کے بارے میں پوچھا ۔اُس نے لمبی آہ کھینچی اور پھر ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا’’بھائی جان میں ایم ۔اے پاس ہوں ‘‘۔اس کا یہ کہنا

آٹو اَپ ڈیٹ(Auto Update)

وقت وقت کی بات ہے ایک وقت تھا جب اسکول میں بچوں کو پیاسے کوے کی کہانی کو پڑھایا جاتا تھاکہ کس طرح اس کوے نے مٹکے میں کنکر ڈال کر پانی کی سطح کو اوپر کرکے اپنی پیاس بجھائی لیکن وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ ہر چیز میں تغیر و تبدیل رونما ہوتا ہے۔ اس کا احساس اس وقت ہوا جب ایک روز پانی کی پوری ٹینک بھر کے اگلے روز چہرہ دھونے کو ایک گلاس پانی تک نہ تھا۔ اپنی یاداشت پہ شک ہونے لگا کہ کیا واقعی ٹینکی میں پانی بھرا تھایا کہیں خواب میں پانی بھرنا دیکھا تھا۔ لیکن حیرت اس وقت ہوئی جب کچھ دن گزرنے کے بعد بالکونی پر لگے نل سے پانی ٹپکنے کی آواز آئی ، دیکھنے کے لیے جب اٹھا تو شیشے سے ایک عجب منظر دیکھنے کو ملا کہ پیاسے کوے کی نسل بھی اپڈیٹ ہوچکی ہے جو کنکر ڈالنے کے بجائے اب خود نل کو کھول کر پانی پینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے جاوید نے مختار سے فون کے وائی فائی کا پاس ورڈ شیئر کرکے اپنا فون اپڈی

افسانچے

آن لائن اچانک فیس بک پر وہ دونوں ایک دوسرے کے گہرے دوست بن گیے۔۔۔وہ ہر رات ایک دوسرے کے ساتھ پیار کی باتیں کرتے تھے ۔انہوں نے خیالوں میں ‌کشمیر کے تمام صحت افزا مقامات کی سیر کرلی۔۔۔اب وہ ایک رات ایک ساتھ گزارنا چاہتے تھے۔۔ونود کمار نے تجویز پیش کی۔۔سونیا۔۔ اب ہم نے خیالوں میں بہت ماہ و سالِ گزارے۔ اب ہم ہوٹل آدم اینڑ ایو میں ایک یادگار رات منایں کے۔ مانو سہاگ رات منائیں گے۔ تم دلہن بن جانا اور میں  آکے تمہارا گھونگھٹ۔۔۔او کے۔۔تم کل وہاں آجانا میں تمہارا انتظار کروں گا ؛ دوسرے دن شام کے وقت ونود ہوٹل آدم اینڑ ایو کے سامنے ایک دکان کے پاس کھڑا سگریٹ خرید رہا تھا۔ کسی کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔۔ہیلو کیسے ہیں آپ۔۔واہ کیا لگ رہے ہیں، کسی خاص پارٹی میں جانا ہے کیا۔۔۔۔اس کے سامنے راکیش مسکرا رہا تھا۔ ارے جیجا صاحب آپ ۔۔۔ کیسے ہیں آپ اور ہماری بہنا کیس

’’ گھائو ‘‘

رضیہؔ کی سہیلی ایک اجنبی کواپنی طرف آتے ہوئے دیکھ کر چونک پڑی۔ وہ کبھی اجنبی کو تو کبھی رضیہؔ کو دیکھتی۔دونوں کے چہروں میں بڑی مماثلت تھی لگتا تھاکہ جیسے ایک ہی سانچے میں ڈھالے گئے ہوں۔اُس نے رضیہ سے کہا۔ ’’مردوں کے چہرے بھی عورتوں جیسے ہوتے ہیںوہ اجنبی تم سے کتنا ملتا جلتا ہے۔‘‘ رضیہؔ ، جو کالج کے لان میں اپنی دوسری سہیلیوں کے ساتھ گپیں اُڑانے میں مصروف تھی ، نے مڑ کرہنستے ہوئے اپنی سہیلی سے کہا۔ ’’ارے پاگل مردوں کے چہرے پر داڑھی مونچھ ہوتی ہے۔‘‘ دوسری سہیلیوں نے رضیہ ؔکی ہاں میں ہاں ملائی۔اُس نے پھر رضیہؔکو ہلا کر کہا۔ ’’اُدھر دیکھ۔وہ تمہارا بھوت ہماری طرف آرہا ہے کیا۔۔۔۔؟‘‘ رضیہؔنے نظریں آگے کی جانب دوڑائیںتو وہ بھونچکا رہ گئی۔ایک ادھیڑ عمر کاآدمی‘جس کا چہرہ ہوبہورضیہؔ کے چہرے س

خبر

ہرزاروں میل فضائی سفر طے کرنے کے باوجود بھی ابابیل اُس بجلی کے بوسیدہ کھمبے کو نہیں بھولی تھی جو کئی دہائیوں سے میرے آنگن میں استادہ ہے۔ اپنے آشیانے، جو میرے برآمدے کی چھت پر تھا، میں جانے سے قبل وہ ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لیتی تھی۔ اُس کا آشیانہ، جو برسوں پہلے اُس نے محنت اور لگن سے بنایا تھا، حسن کاریگری کا ایک اعلیٰ نمونہ تھا۔ ابابیل حُسن کی دلدادہ تھی۔ اُس کو میرے کچن گاڑن کا سبزہ زار، گملوں میں اُگائے گئے قسم قسم کے پھول، لہلہاتے کھیت، جھرنوں کی روانی، صبح سویرے پرندوں کا چہچہانا اور میرے گائوں کا نیلا آسماں پسند تھا۔ وہ پانچوں وقت ہماری مسجد کے مؤزن کی سُریلی آواز سننے کے لئے بے قرار رہتی تھی۔ ابابیل کو میرے گائوں کا چپہ چپہ راس آیا تھا۔ اُس کو میرے گائوں کے در و دیوار سے محبت تھی۔ اسی لئے وہ بے خوف نیلے آسماں پر دیر تک اُڑان بھرتی۔ ابابیل اکیلی آتی تھی اورواپسی پ

نوش لب

  میرے دوست راسخ تم کہاں ہو؟مجھے چھوڑ کر تم کہاں چلے گئے ؟۔تم نے بچپن سے  ہر قدم پر میرا ساتھ دیا ہے۔تم نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر تر کستان سے بیت الا امان  تک میرے لئے رختِ سفر باندھ لیااور مشکلات و مصایٔب کا سامناکیا۔اپنے عزیز و اقارب اور عیش و آرام کو چھوڑ کر کوہ و بیا بان دشت و  دریا پار کر کے میرے لئے تکالیف و رنج وغم کاسامنا کیا۔تیرے کھو جانے کے بعد اگر چہ مجھے اپنی محبوب  نوش لب کے ساتھ وصل نصیب ہوا۔لیکن وہ چند لمحوں کی ملاقات تھی۔مجھے راتوں رات جنت سے نکال کر اس جہنم میں ڈال دیا گیا۔آج تمھارا دوست عجب ملک ایک بار پھر بیکسی کی حالت میں بے آب وِگیا پہاڑوں کی آغوش میں پڑا ہے۔تمہارے دوست کو آج پھر تمہاری ضرورت ہے۔آجا۔آج پھر میری غمخواری کر ۔میری مدد کر۔میرا ہمسفر بن جا۔میری رہنمائی کر۔۔۔ ناز مست ! خواہر من یاد ہے جب تم کو ایک بیا بان میں عفریت نے قید