مَن دریدہ سایہ

گوتم بدھ آنکھیں بند کر کے گیان میں محو ہیں ۔ یہ پینٹنگ دیکھ کر میرے قدم خود بہ خود رک جاتے ہیں  اور میں اس تصویر کو دیکھنے میں کچھ ایسا کھو جا تا ہوں  کہ بس پھر کسی چیز کی کوئی خبر ہی نہیں رہتی ۔ کیا میں دھرم کے راستے پر چلنے والا ہوں ؟  کہیں یہ سب اسی بات کا اشارہ تو نہیں   پر میں نے تو کبھی بھی  ان باتوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔میرے نزدیک تو دنیا میں صرف دو ہی مذہب ہیں اور شاید ہمیشہ رہیں گے ایک امیری اور دوسرا غریبی ۔ میں بھی کن باتوں میں الجھ گیا ہوں اُف میرا بازو دکھ رہا ہے یہ موٹی کتاب کافی دیر سے ایک ہاتھ میں تھامے ہوئے ہوں ۔ واہ یہ پینٹنگ ۔۔۔۔ بس یہ پینٹنگ دیکھتے ہی میری دنیا رک سی جاتی ہے ،تھم سی جاتی ہے ۔ کیا آٹھ چالیس کی گاڑی ابھی ہوگی یا پھر نکل چکی  ہوگی ۔ذرا گھڑی دیکھتا ہوں ۔۔۔ارےابھی تو ٹائم ہے۔ ا

اولاد کا درد

آج وہ بہت خوش تھی ۔اُس سے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ شاید دنیا کی ساری خوشیاں اللہ نے آج اس کی جھولی میں ڈال دی ہیں۔وہ بات بات پے قہقہ لگا کر جیسے ہر ایک کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی ۔اس سے دیکھ کر کوئی بھی یہ گماں نہ کر پا رہا تھا کہ اُس نے کل ہی اپنے چاند جیسے بیٹے کو در گو ر کیا ہے۔اپنے غم کو  قہقوں میں چھپاتے چھپاتے اس کی نظر ایک دس سالہ بچے پر پڑی ۔اس بچے کو دیکھ کر وہ جیسے پاگل ہونے لگی اور اس کی ہنسی، جو کچھ لمحہ پہلے بالکل اصلی معلوم ہورہی تھی، اچانک سے اس کے چہرے پر سے غائب ہوگئی۔وہ کافی مدت تک اس بچے کو دیکھتی رہی ،پھر خودسے  ہی باتیں کرنے لگیــ’’نہیں نہیں یہ شاہد نہیں ہے ۔اُسے تو میں نے صبح ہی خاک کے حوالے کر دیا۔اب وہ واپس کیسے آسکتا ہے ۔‘‘یہ جملے دہراتے دہراتے وہ جیسے سوچ کی ایک نئی دنیا میں داخل ہوگئی۔اُسے شاہد کی پیدائش سے لے کر اُس کی موت

افسانچے

سپنے اُسے اپنی بڑھتی عمر کا احساس تھا، لیکن وقت پر کس کا پہرہ رہا ہے۔ آخر وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔  اسی شش و پنج میں وہ آئینہ کے سامنے جابیٹھی، اپنے سراپا کاجائزہ لینے کے بعد ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سنگار دان اُٹھا لیا۔ پہلے اپنے چہرے کا میک اَپ کیا، پھر بالوں کو کلر کرکے آئینہ پر نظر پڑتے ہی شرما گئی۔ اُف۔۔۔ جوانی کی دستک سے دل دھک دھک کرنے لگا تھا۔ ���   بھوک    بھکاری دن بھر گلی کوچوں میں بھوک کی لاحاصل صدائیں بلند کرتا رہا ۔سلیم کے دروازے پر عین اس وقت دستک دی جب وہ کھانا شروع کرنے والا تھا ۔یہ بات سلیم کو سخت ناگوار گزری ۔وہ غصے میں اٹھا تو سالن کی پلیٹ الٹ گئی ،باہر جا کر اس نے سارا غصہ بھکاری کو گالیاں سناتے ہوئے نکالا۔صحت مند بھکاری دیکھ کر اس کا جی چاہا کہ اس کی بھوک گھونسوں سے مٹائی جائے ۔مگر خود پر ضبط کرتے ہوئے ہوٹل

تازہ ترین