تازہ ترین

اللہ! اللہ! اللہ!

  اتوار کا دن تھااور نومبر کا مہینہ۔سورج بادلوں کے لحاف میں مُنہ چھپائے بیٹھا تھا۔بیچ بیچ میں ٹھنڈی دُھوپ اور چھاؤ ں آپس میں آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ عظمت اُللہ کو فوج سے کیپٹن کی پوسٹ سے رٹائرڈ ہوکر گھر پینشن آئے کُل پندرہ دن ہوگئے تھے ۔ایک دن چائے ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد اُنھوں نے اپنی بیوی ساجدہ بیگم کو کہا ’’ساجدہ ! میں اپنے پرانے دوست اور محلے دار بُدھی سنگھ سے ملنے جارہا ہوں ‘‘ ساجدہ بیگم بولی ’’وہاں سے جلدی آجایئے گا ،بازار میں گرم کپڑوں کی سیل لگی ہے ۔میں اپنے اور بچّوں کے لیے سوئٹر اور جیکٹیں خریدنا چاہتی ہوں‘‘ ’’ہاں میں کوئی ڈیڑھ گھنٹے کے بعد آجاؤں گا‘‘ اُنھوں نے ہاتھ میں چھوٹی سی تسبیح اُٹھائی اور اللہ کا ذکرکرتے ہوئے بُدھی سنگھ کے گھر کی طرف چل دیئے۔تھوڑے وقت کے بعد وہ

پگھلا ہوا سیسہ

’’تھوڑی لیں گے؟‘‘ نہیں، جس چیز کو میں نے ایک بار ترک کردیا وہ میرے لئے حرام ہوگئی۔۔۔ ہاں! اگر کوئی میرے سامنے پیے گا تو مجھے اعتراض نہیں۔۔۔‘‘ بے نیاز صاحب نے سلاد سے بھری ہوئی پلیٹ سے گاجر کا ٹکڑا اُٹھاتے ہوئے لاپرواہی سے آتش صاحب کے سوال کا جواب دیا۔ آتش صاحب کے حلق سے اُن کا یہ جواب نہ اُترا۔ اُس نے اِنکی بات کو کاٹنے کی بجائے اپنی ہی مثال دیکر کہا؛ ’’جناب میرے باطن اور ظاہر میں کوئی فرق نہیں۔۔۔ میں کوئی نقاب نہیں پہنتا۔۔۔۔‘‘ ڈاکٹر بے نیاز صاحب کو آتش صاحب کی یہ بات ناگوار گزری لیکن چہرے پہ ملال کا کوئی نشان ظاہر نہ ہونے دیا اور مسکراتے ہوئے گوش گذار کردیا؛ ’’اِس کا مطلب یہ ہوا کہ میں بہروپیا ہوں؟ میں نے ہی نقاب پہنی ہوئی ہے؟۔۔۔۔‘‘ ’’نہیں یار، میں نے آپ کے لئے ن

غربت

بچپن میں آصفہ سے یوں تو ہر خوشی نے جیسے ناطہ ہی توڑ دیا تھا اور اب اس کی طبیعت بھی ایسی ہی بن گئی تھی کہ وہ روتے روتے کبھی ہنس دیا کرتی اور ہنستے وقت اُس کی آنکھیں اشک بار ہو اکرتیں ۔قدرت کی تقسیم کاری سے یوں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں لیکن پھر بھی آصفہ کبھی کبھار اپنے رب سے اپنی بے بسی اور اپنی غربت پر سوال کیا کرتیں ۔رب کی تقسیم کاری سے یوں تو حاسدوں کو ہی اختلاف رہتا ہے لیکن میرے خیال میں اتنا نیک اس دنیا میں کوئی نہیں جو اپنے دل میں کبھی نہ کبھی اس طرح کا وسوسہ نہ پالے ۔آج آصفہ کی سہیلی نے حسب ِ معمول نہایت خوبصورت پوشاک پہنی تھی اور آصفہ وہی پرانے کپڑے جو وہ کئی عیدوں پر پہن چکی تھی اور جس کے متعلق وہ کئی بار اپنی ماں سے کہہ چکی  تھی ’’ماں نجمہ ہر عید پر نئے کپڑے پہنتی ہے ،کیا اس کے والدین اتنے اچھے ہیں جو اُسے ہر تہوار پر نئے کپڑے پہننے کو دیتے ہیں یا نجمہ ا

سکون

علی بابا ایک متقی اور پرہیزگار  انسان تھے۔ وہ ہمیشہ ہاتھ میں تسبیح لئے عبادت خداوند میں مشغول رہتے تھے۔گاؤں بھر میں اس کی عبادت گزاری اور دیانتداری کا خوب چرچا تھا۔لوگ اسے امین اور صادق کے ناموں سے پکارتے تھے۔بستی میں جب کھبی بھی کوئی مسئلہ پیش آتا، تو لوگ اس کا حل تلاش کرنے کے لئے علی بابا کے پاس دوڑے چلے آتے اور وہ اس مسلے کا حل معقول طریقے سے نکال لیتے۔وہ ہمیشہ پرسکون رہتے، یاد خدا اور خدمت خلق اُن کا پسند دیدہ مشغلہ تھا۔انہوں  نے اپنی زندگی میں سکھ ہی نہیں بلکہ دکھ بھی بہت دیکھے تھے مگر کبھی اس کی پیشانی پر بل نہیں پڑے۔۔غم کو وہ اپنے آس پاس بھٹکنے بھی نہیں دیتے تھے۔وہ ہمیشہ خوش و خرم نظر آتے۔ ایک دن اچانک ان کی جوان بیوی کا انتقال ہو گیا۔ پوری بستی پر ماتم کی فضا چھاگئی۔بستی کی سبھی عورتیں ماتم کرنے لگیں۔ جوان،بوڑھے سب تشویش میں مبتلا تھے کہ بیوی کا غم آخر سب غموں س

تازہ ترین