تازہ ترین

ابدیت کا گیت

تم جو ہنستی ہو تو میرے آنگن کے خاموش پیڑ پہ دھوپ کِھکھلانے اُترتی ہے دھوپ۔۔ جو ابدیت کے گاؤں میں خود بخود اُگتی رہتی ہے  ہر موسم میں ، وقت کی کیاریوں سے باہر  ابدیت کا گاؤں کالے جزیرے پہ وقت سے پہلے بسایا ہوا ہے کالا جزیرہ، جو اَن گِنت خاموشیوں سے تعمیر شدہ ہے۔۔۔۔ تم جو ہنستی ہو تو مرے آنگن کے پیڑ پہ بادل رقص کرنے اُترتے ہیں سفید روئی میں ملبوس پریوں کی طرح  سارے رنگوں کے غبارے پھوڑ  کے بادل۔۔جو گاؤں کے تالاب میں اکثر نہاتے رہتے ہیں برف کی پہلی تہہ میں چُھپے گالے بدن پہ رگڑتے ہیں برف کی پہلی تہہ،جس پر کبھی کوئی موسم نہیں آتا ہے  بادل ابدیت کے سمندر سے اُڑان بھرتے ہیں مدوجزر کے اُڑن کھٹولے پر۔۔۔۔۔ تم جو ہنستی ہو تو مرے آنگن کے پیڑ پہ بارشیں بھیگنے چلی آتی ہیں دکھ سکھ کے شعلوں سے

جنگ

ہم نے جنگیں بہت سی دیکھی ہیں جن میں ہر بار لوگ مرتے ہیں شہر گائوں سبھی اُجڑتے ہیں جب بھی بارُود یہ اُگلتی ہے موت پھر زندگی نگلتی ہے خون پانی کی طرح بہتا ہے گدھ لاشوں کو نوچ کھاتے ہیں سرحدوں سے بُری خبر سُن کر ٹوٹ جاتی ہیں چوڑیاں ساری کوئی بھی ایسی جنگ نہیں گزری جس پہ انسانیت نہیں روئی جنگ نفرت کا استعارہ ہے جنگ آسائشیں نہیں دیتی جنگ تو مسئلے بڑھاتی ہے  اس نے اُلفت کبھی نہیں بانٹی اس نے بس سرحدیں بنائی ہیں تیرے اجداد نے بھی دیکھی ہے میرے اجداد نے بھی دیکھی ہے  آنے والی بھی نسلیں دیکھیں گی ازل سے ابد تک یہ جاری ہے تاج تختوں کی جنگ دیکھی ہے ہم نے رشتوں کے سنگ دیکھی ہے یہ زمینوں کی جنگ دیکھی ہے اب خلاؤں کی جنگ دیکھیں گے جنگ سے مفلسوں کو کیا مطلب جنگ تو حکمران کرتے ہیں بھوک ک

حمد

ہر عبادت کا مدعا ہے کون  تُو نہیں تو ترے سوا ہے کون چاہتا ہوں کہ سب تجھے مانیں یہ نہ بولے کوئی خدا ہے کون ہر نَفَس کی زباں پہ تیری ثناء تیری تعریف کر سکا ہے کون سارے رشتے محض تکلف ہیں میرا جگ میں تیرے سِوا ہے کون آس ہے بس تیرے کرم کی ہمیں ورنہ دنیا میں بے خطا ہے کون سُن کے عاقبؔ کو بول اُٹھے سب لوگ مدحتِ رب یہ کررہا ہے کون   حسنین عاقب (پُوسد) <saquibuddin99999@gmail.com>  

قطعات

دل کہ کُشتۂ غم سر کُوئے صنم اب تو ہے ہر دم منت کشِ مرہم   کیا یونہی رکھا جائے اسے تشنہ دم حسبِ تشنگی ہے یہی سکوتِ پیہم   نکلے تھے کس شوق سے حسرتوں کا قافلہ لئے اب جو لوٹ کے آئے ہیں تو بے نیل مرام   کسے خبر تھی یہ سفرِ عشق ہے سفرِ لازوال اسکی کوئی منزلِ آغاز نہ ہے کوئی لمحۂ انجام   میر شہریار سریگفوارہ اننت ناگ،موبائل نمبر؛7780895105  

قطعات

آگ سے میں مانگتا گلزار ہوں پروانے کا ہی کررہا کردار ہوں   آتشِ عشق میں جُھلس جانے کے بعد یہ گماں ہوتا ہے میں بیدار ہوں     میرے دل سے غم کا سایہ نہیں جاتا چاند بن کر تم سے بھی آیا نہیں جاتا   درد کی داستان کیسے کہوں میں طبیب داغ دل کا زمانے کو دکھایا نہیں جاتا     رکتا کہاں میں اندھیروں سے گزرا بلندی سے گِرکر مزاروں سے گزرا   میری کیا ہے اوقات محفل میں تیری لئے دل کا شیشہ چٹانوں سے گزرا   سعید احمد سعید احمد نگر سرینگر، (حال بنگلور) موبائل نمبر؛9906355297  

قطعات

زندگی کو بہت قریب سے دیکھا تو یہ ثابت ہوا کہ ٹیڑھی تھی ریکھا   آخرش یہ سمجھ لیا میں نے  سہنا پڑتا ہے جو ہو بخت میں لکھا     دولت جب تک تھی پاس ہر کوئی مانتا تھا باس   جب کیسہ ہونے لگا خالی اب ڈالتا نہیں کوئی گھاس     جب تلک رہی صحت مندی محسوس ہوئی نہ کوئی بھی مندی   انجر پنجر اب ہوئے ڈھیلے بھاتا نمکین اور نہ ہی قندی   غلام نبی نیئر کولگام، کشمیر موبائل نمبر؛  9596047612  

زرد آنگن کی دھوپ

کھردرے موسم کے پنکھ سردیوں کی تلاش میں سرگرداں دھوپ سینکنے اُترے ہیں میرے آنگن میں ۔۔۔ دھول سے اٹی اُڑانیں سستانے لگیں بدلتے موسم کی بُجھی بُجھی دھوپ کُھلے آسمان کی گلیاریاں تکتی ہے کرنوں کے راستوں پہ کپکپاتی دھند اُگ آئی ہے دور کوہ ِقاف پہ کوئی پرانی شفق اونگھ رہی ہے سنہرے خوابوں کی سلوٹوں  پر  تازہ کہرے کی چادر سے نکل کر زرد پتوں کی مہک  آوارہ گردی کررہی ہے میرے آنگن میں۔۔ میرا آنگن ہجر کی مٹی پہ ٹھہرا ہے جس میں ان گنت اشکوں کی نہریں دفن ہیں آہوں کی کئی صدیاں رُکی پڑی ہیں رات دھیرے دھیرے اُتر رہی ہے دعاؤں کے موسمی پرندے لوٹ رہے ہیں نئے موسم کی نئی صبح میں سوجائیں گے بُجھی بُجھی دھوپ جاگے گی تو ٹھٹھرتے موسم کے پنکھ پھر دھوپ سینکنے اتریں گے میرے آنگن کی زرد مسہری پر۔۔۔۔۔۔

نوحہ وفاتِ زہراؑ

 فاطمہ زہرا خدایا چھوڑ کر دنیا چلی! رُوتے رُوتے وہ یتیمہ سب سے رخصت ہوگئی   رہ نہ پائی ایک پل بھی اپنےباباؐ کے بغیر گُلشنِ زہرا پہ ٹوٹی ہے قیامت کی گھڑی   فاطمہ زہرا خدایا چھوڑ کر دنیا چلی   خاک برسر کرکے فِضّہ کررہی آہ و بکا زینب و کلثوم کو لیکر رو رہے تھے مرتضیٰؑ کہہ رہے حسنین سے بابا ہائے زہر ۱مرگئی   فاطمہ زہرا خدایا چھوڑ کر دنیا چلی   خوب رُویا مرتضیٰ نے ضربِ پہلو دیکھ کر اُس زخم سے ہائے مولا رہ گئے تھے بے خبر ڈس رہی تھی آج اُس کو جانے اپنی بے بسی   فاطمہ زہرا خدایا چھوڑ کر دنیا چلی   سہہ نہ پائے یہ جدائی شاہ حسنؑ اور شاہ حسینؑ اپنے نانا کو صدائیں دے رہے تھے نورِعین چھوڑ کر اماں بھی آخر ہم سے رخصت ہوگئی   فاطمہ زہرا خدایا چھوڑ کر دنیا چلی

رواں سالِ رفتہ ہوا چاہتا ہے

رواں سالِ رفتہ ہوا چاہتا ہے بہ خلقِ زمین الوداع چاہتا ہے   بہت تھک چُکا ہے سفر کرتے کرتے یہ خلوت نشیں آرام گاہ چاہتا ہے   الم خیز جو رد ستم اِس نے ڈھائے کفارہ یہ اُن کا کیا چاہتا ہے   ابھی سالِ نو کی ہے پُرشوق آمد نئی تمکنت یہ خوشا چاہتا ہے   ہیں آمد کے اس کے اشارات عمدہ یہ شائد کہ سب کا نِباہ چاہتا ہے   نہیں یہ اسیرِ فلک ہوگا مطلق حکمراں یہ سب پہ ہوا چاہتا ہے   یہ جب چاہے جسکو غمی اور خوشی دے یہ مختارِ عالم ہوا چاہتا ہے   بھلا ہاتھ دو دو کرکے کون اِس سے یہ ہونا ہی ہرجا سِوا چاہتا ہے   اثر اس پہ ہوگا نہیں بددُعا کا نہیں یہ کسی کی دعا چاہتا ہے   قصہ المختصر رقم ہے یہ عشاقؔ ہم اس سے یہ ہم سے وفا چاہتا ہے   عُشاق کشتوا

نظمیں

موسموں کے بدلتے تہوار   دکھ سُکھ موسموں کے تہوار ہیں جو ہمارے جسم و جاں کی گلیوں میں منائے جاتے ہیں کوئی موسم سبز پتوں کے اوراق لے کر آتا ہے تو ہماری پلکوں پہ لفظوں کے شگوفے کھلتے ہیں موسم  پیاسے دہشت  پہ بارش چھڑکتا  ہے تو ہم آنسؤں  کی جگہ شبنم کے قطرے لکھ دیتے ہیں نرم دھوپ کو چھو کر دھیمی ہوائیں چلتی ہیں  تو ہم آہوں کو دعاؤں میں رنگ دیتے ہیں  موسم بدلتے رہتے ہیں اپنے تہواروں کے ساتھ  میری نظموں کے لڑ کھڑاتے راستوں کی طرح  ابر کی  گھنی وادیوں پہ نئے آسمان کُھلتے ہیں  بجلی چمکتی ہے تو کسی بچے کی گڑیا ٹوٹ جاتی ہے روشنی کے تھرکتے  پیروں تلے یوں میری نظموں میں شگاف پڑتے ہیں۔ پھر خزاں کا تہوار آ ٹپکتا ہے عریاں موسم کا جشن منانے ہم سب چلتے ہیں نئے مو

نظمیں

تکیہ کلام جس کی تھیں تنویر کی باتیں ہوتی بہشت میں اب بھی ہیں کشمیر کی باتیں مہجورؔ کبھی حبہؔ کبھی رسول میرؔ کی باتیں پژمردہ مگر عصر میں وادی کے ہیں نقوش کرے ہیں سب ان کی اب تقدیر کی باتیں اس خطۂ فردوس کے جوگانِ عام میں عصرِ رواں میں عام ہیں شمشیر کی باتیں آماجگاہ یہ سرزمیں رشیوں کی رہی ہے چلتی مگر ہیں اب بھی یاں بے پیر کی باتیں تہذیب کا تھا یاں بھی کبھی مہر منوّر تکیہ کلام جس کی تھیں تنویر کی باتیں حسنِ جمیل اس کا تھا یکتائے زماں آپ اعجازِ بیاں تھیں کبھی توقیر کی باتیں تاحدِّ نظر تھی یہی عالم میں سیر گاہ کرتے تھے سیّاح جاکے گھر تصویر کی باتیں سر چشمہِ فیضان کبھی اس کی فضا تھی راحت نواز جس کی تھیں تاثیر کی باتیں صد حیف مگر گردشِ دوراں کے سبب آج ہوتی ہیں کم و بیش ہی کشمیر کی باتیں   عُشّاق ؔکِشتواڑی

نعت حبیب ﷺ

میں سوجاؤں حمدِ خداکرتے کرتے اٹھوں وردِ صلِّ علٰی کرتے کرتے مقدّر بنا اور درِ مصطفٰے پر پہنچ ہی گئے التجا کرتے کرتے جفا کاروں میں گِھر کے نادِ علی ہو وہ تھک جائیں گے خود جفا کرتے کرتے مری زندگی گزرے اے میرے مولا ثنائے  شہِ  انبیاء کرتے کرتے گزر جائیں گے پل صراطوں سے ہنس کر نبی پاک  کا تذکرہ کرتے کرتے ہمیں مانگنے میں برتتے ہیں سُستی نبی کب تھکے ہیں عطا کرتے کرتے چلو ان کے روضے پہ اے غم کے مارو اور آؤ خوشی کا مزہ  کرتے کرتے کٹے عمر طورِ نبی سے اے اے زاہدؔ فرائض نوافل ادا کرتے کرتے   محمد زاہدؔ رضا بنارسی  چیف ایڈیٹر ۔صدائے بسمل  گوپی گنج،بھدوہی۔یوپی ۔ بھارت  

دسمبر کے آنگن میں

نظم تخیل کی زمین سے پھوٹتی ہے نظروں سے اوجھل کئی بے رنگ آسمانوں کے خیمے ہیں کئی خلاؤں کے نہتے دربدر دشت و صحرا جنکی پہنائییوں میں لاشعوری پرندہ اُڑتا رہتا ہے عنوان کا بیج اسی کی چونچ سےگر کے زمیں سے اُگ آتا ہے وقت سے باہر کی وادیوں کا بانجھ پن زرخیز ہو جاتا ہے سطریں، معانی، اسلوب، بلاغت وغیرہ شاخیں، پتے، پھول، ثمر کی طرح ہیں  اشک اوس بن کے آبیاری کرتا ہے وصل کی دھوپ تازگی لاتی ہے تو ہجر کی قینچی شاخ تراشی پہ اُتر آتی ہے ہجر سخت کڑوا سچ ہے شبنم کو پالا بنا دیتا ہے محبت کے شعلوں سے اُتری ہوئی  گیلی راکھ  کی طرح۔  لفظوں کے پتوں میں زرد کہرا پھیلا دیتا ہے زرد موسم رقص کرنے لگتا ہے گردو غبار کے لباس میں۔۔ نظم اپنی ہریالی پہ بین کرتی ہے اپنے تخلیق کار کے ہمراہ  دسمبر کے آنگن میں

نظمیں

ماں کبھی گر بیٹھے بیٹھے میں بہت مایوس ہوتا ہوں آنکھیں نم سی ہوتی ہیں دل بے چین ہوتا ہے خزاں کا سا تصوّر مجھ کو فصلِ گُل میں ہوتا ہے محفل میں بھی گر خود کو مُستثنٰی ہی پاتا ہوں چَناروں کے سائے میں جُھلستا ہوں ، تڑپتا ہوں خوابوں میں بھٹکتا ہوں راہیں بھول جاتا ہوں تبھی لَا تَقنَطُو کہہ کر کوئی مانوس سی آواز شیریں سی ، مُترنّم سی سماعت سے ہے ٹکراتی ہوائیں مہک سے لبریز ٹھنڈے آنچل سے آتی ہیں کسی کے دستِ نازک کا لمس محسوس کرتا ہوں میں اپنے آپ کو قدموں میں اپنی ماں کے پاتا ہوں جہاں جنّت بھی ہوتی ہے وہیں میں خود کو پاتا ہوں نہ میں مایوس ہوتا ہوں نہ آنکھیں نم ہی ہوتی ہیں   جاوِید یوسف تمنّاؔ شعبئہ اُردو، یونیورسٹی آف حیدرآباد موبائل نمبر؛8491871106   &

ہستی میں ایسا فرد کیا با بخت نہیں ہے؟

رحلت کا مری گو کہ ابھی وقت نہیں ہے جینے کا مگر دیر تک بھی بخت نہیں ہے راہِ عدم کا سلسلہ ہے ازل سے دراز آسان سفر ہے یہ مگر مفت نہیں ہے ذی فہم جو بھی چھوڑ دے یادوں کے ہیولے ہستی میں ایسا فرد کیا بابخت نہیں ہے لازم یہی ہے امر تم نپٹائو سب شتاب آلس کو میاں چھوڑیئے اب وقت نہیں ہے شاہ و گدا کا آخرش مقسوم ہے اَجل تابع ہے ان کے سلطنت پر وقت نہیں ہے یہ کھیل سب ہے گردشِ لیل و نہار کا چھوڑا اجل نے تاج اور تخت نہیں ہے مدت سے درِ دوست پہ سجدہ گزار ہوں ملتا مگر عُشّاقؔ وہ دل سخت نہیں ہے   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ موبائل نمبر؛ 9697524469  

قطعات

جوانی میں کی ہے بہت سینہ کاوی رہی ہے مگر شومئی قسمت ہی حاوی سرِعام دُکھڑا سنانے کو اپنا بنا ہوں یہ دیکھو میں اپنا ہی راوی  ��� طبیعت میری ہے یارو مر نجانِ مرنج دُکھ ہوتا مجھے ہے گر پہنچے کسی کو  رنج میں دُنیا میں چاہتا ہوں سب کا ہو بھلا پسند ہے وہ جو پہنچائے نا کسی کو رنج ��� جب آدمی کو دبوچ لیتا ہے بُڑھاپا دُکھتا ہے پھر اس کا سارا ہی سراپا بنتا چِڑ چِڑا پن مزاج کا حصہ یکسر ہی بدل جاتا ہے پھر آپ اور آپا ��� آغوش کا پروردہ جب طوطا چشمی کرے ایسا لگے دل و جگر میںجیسے کوئی نیزہ بھرے ایسا نہیں ہے دُنیا میں وِشواس گھات کوئی جب آخری ایام میں اولاد رہے پرے   غلام نبی نیّرؔ کولگام، کشمیر،موبائل نمبر؛9596047612      

نعتِ رسولﷺ

ہیں جو آقا کے خاکساروں میں نام ان کا ہے تاجداروں میں یہ بھی نعتِ رسولِ اکرم ہے جوترنُّم ہے آبشاروں میں ذاتِ شمس الضحٰی کی آمد سے ہے مہک گل کے ساتھ خاروں میں مرے رہبر کی شان کیا کہنا چاند تارے ہیں رہگزارو ں میں شہرِ طیبہ میں دلکشی ہے جو دلکشی وہ کہاں بہاروں میں کاش ہم کوبھی رب عطا کردے جومحبّت تھی چار یاروں میں دیکھئے تو کرشمۂ قدرت حُر ہیں شبیری جاں نثاروں میں یہ ہے اعجازِ مصطفےٰ زاہدؔ ڈوبا سورج اُگا اشاروں میں   محمد زاہد رضا بنارسی دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج بھدوہی ،یوپی۔انڈیا

نظمیں

پپیہے سے چھپتے ہو کیوں کر، سامنے آجاؤ پپیہے کُھل کر ذرا صورت ہمیں دکھلاؤ پپیہے بچہ نظر بھر دیکھ لے رک جاؤ پپیہے پھر جس طرف بھی دل کرے اُڑجاؤ پپیہے کچھ دیر گاتے ہو تو اُڑ جا تے ہو اچانک کیو ں چھیڑنے آتے ہو چلے جاؤ پپیہے سب لوگ ہیں بے انتہا مغموم بستی میں ہر ایک موسم میں نظر اب آؤ پپیہے آندھی چلی ایسی کہ اعضائے بدن بکھرے کوئی جگر پاروں کی خبر لاؤ پپیہے موقع مناسب ناچ نغمے کا یہ نہیں ہے کر کے ہرا زخموں کو نہ تڑپاؤ پپیہے انظرؔ سے لے کر نو حہ پڑھ لو تم بھی موسم کا خوشیوں کے ابھی گیت نہ تم گاؤ پپیہے   حسن انظرؔ بمنہ سرینگر،کشمیر       ذرا آرام آ جاتا ۔۔ تمہاری وہ سبھی باتیں  تمہاری وہ سبھی یادیں  مرے دل کے کسی کونے میں  سب محفوظ ہ

’’چپکے چپکے نفسِ خائن کا کہا کرتا رہا‘‘

جب خیالِ کُشت و خوں کو مَیں روا کرتا رہا کارِ بد ہاتھوں سے اپنے مَیں سوا کرتا رہا درسِ دہشت دے گئی مجھ کو مِری خردِ کمال اور مَیں اس کی بدولت سب خطا کرتا رہا بس کہ یہ چوگانِ ہستی تھا مِرے آگے سراب مَیں کہ اپنے نفس کی نشو نما کرتا رہا بھول بیٹھا میں کہ اکثر سلف کا طرزِ کہن ’’چپکے چپکے نفسِ خائن کا کہا کرتا رہا‘‘ چھا گیا اعصابِ جاں پر ناخدائی کا غرور اور مَیں خود کو تصور بس خدا کرتا رہا میں کہ غازی ہو گیا اک نامور آفاق میں تابع اپنے ہی اجل کو مَیں سدا کرتا رہا ایک دن جب بالمقابل تھے مرے منکر نکیر مَیں کہ تھا لاچار و بے بس اور ندا کرتا رہا   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ موبائل نمبر؛ 9697524469      

نعت

حُسنِ گلِ گلزار کی تعریف کروں میں  ہر دور میں سَرکار کی تعریف کروں میں زلفِ شبِ بیدار کی تعریف کروں میں اُس مطلعِ انوار کی تعریف کروں میں دشمن بھی جنہیں دیکھ کے پاتے ہیں ہدایت اُن صاحبِ اَسرار کی تعریف کروں میں مجھ سے بیاں ہوتا ہی نہیں حُسنِ پا ان کا کیسے لب و رخسار کی تعریف کروں میں؟ جس جرأتِ انکار نے روندھے بتوں کے سر اس جرأتِ انکار کی تعریف کروں میں اُتنی ہی مہکتی ہے زباں عشق میں میری  جتنی شہِ ابرار کی تعریف کروں میں عذراؔ یہ تمنا ہے کہ خود یار بلالے اور در پہ درِ یار کی تعریف کروں میں   عذرا حکاک  سرینگر، کشمیر ای میل؛bintegulzaar@gmail.com  

تازہ ترین