تازہ ترین

نظمیں

شالیمار کی گود میں تیری آغوش میں میرا بدن کیوں کسمساتا ہے مگر یاروںکا میٹھا غم رگوں میں دوڑ جاتا ہے تیری روشوں پہ چلتا ہوں، تفکُر جاگ جاتا ہے تمنا جھلملاتی ہے، تخیل گُنگناتا ہے ��� ہرے لانوں پہ جب میری نگاہیں دوڑ جاتی ہیں خِرد مسحور ہوتی ہے،تصور مُسکراتا ہے تیرے پھولوں کی خوشبو میں خُمارِ خود فراموشی  چناروں کا گھنا سایہ تردُد کو سُلاتا ہے گھنیری جھاڑیاں، سبزہ، عنادِل، تتلیاں، جھرنے عَدن کو رشک آتا ہے، اِرم آنسو بہاتا ہے! ��� یہ برقی قُمقمے تیرے، صدا اور نُور کا جادُو گھڑی بھر کے لئے بُھولا فسانہ یاد آتا ہے یہ کھنڈر، ٹوٹی دیواریں تجسُس کو جگاتی ہیں مناظر کتنی صدیوں کے تسلسل سے دِکھاتی ہیں ��� جہانگیری زمانے کے حقائق اور افسانے میری یاداشت کے پردے پہ تصویروں کی

حمد

طور پر جلوہ ترا برق و شرر میں تُو ہی ٹو  دور تک موسیٰ کے پاکیزہ سفر میں تُو ہی تُو   شام کے ڈھلتے ہوئے سایوں میں تیرا ہی دوام  ہر گجر میں تُو ہی تو نور سحر میں تُو ہی تُو    ہر سفر تیری طرف ہر موڑ پر موجود تُو  تُو تھکن میں منزلوں کی رہگزر میں تو ہی تو    سانس لینا ورنہ اس دنیا میں ہے کس کی مجال   تیرے جلوے ہر نظر میں ہر بشر میں تو ہی تو    نازکی بزمِ جہاں کی کوئی سمجھا ہی نہیں  شیشہ سازی میں تو ہی تو شیشہ گر میں توہی تو     بارشوں میں ترا جلوہ دھوپ میں تیرا کرم  ہر خوشی میں تو ہی تو ہے چشم  تر میں تو ہی تو    لفظ بھی کرتے ہیں اب اوراق پر حمدوثنا  شکر ہے اس حمد کے زیروزَبر میں تو ہی تو    ا