تازہ ترین

نظم

چمن زیر و زبر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم گماں ایسا  اِدھر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  یہ کشتی ڈوب سکتی نے جو نسبت نوح سے ہمکو  تجربۂ جزر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  یہ دُنیا ہے مکافاتِ عمل کا اک دبستاں کہ نشاں بے عیب سر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  زمانے بھر دغا کی اب فضائے بد چلی ہے جو یقیں کَس کے نہ کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  خیالِ خوش، خرابہ باغ ہر لمحہ رُلاتا ہے  حذر یاں دور شر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  مکمل پاس اپنے ہو اگر منزل تو رستہ موڑ کوئی نو خواب سر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  تذبذب،مخمصہ اور پھر تھوڑی سی بیقراری  ہو  تو اے بیدل سفر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  نہیں ہوتا سوائے تیغ عالم میں شرف حاصل سُخن ایسا جگر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم    محمّد اقبال خ

سیاہ دُھند

کوئی مجھے رستہ دکھائے خدا کے حجرے کا شکایت درج کرنی ہے اک سیاہ دھند کی خیمہ زن ہے جو میرے آس پاس یہ اندھیروں کے بنکر مجھے تک رہے ہیں ان کے روزنوں سےپھوٹتی ہیں چمگاڈروں کی لیزر کرنیں  مجھ میں پھولوں کی وادی ہے میں خوشبو زادہ ہوں اور خوشبو لٹاتا  ہوں چاندنی راتوں میں اوس کے قطرے چُن چُن کر ململی  دھوپ سے گزارتا  ہوں بارش کی بوندوں میں گھول کے پیتا ہوں نئے عطر کے پودے اُگاتا ہوں بارش کی بوندیں جو رم جھم کرتی تھیں شہزادی کے گھنگھرو بجتے تھے دونوں ٹوٹ گئے  کوئی مجھے رستہ دکھائے خدا کے حُجرے کا شکایت درج کرنی ہے اک سیاہ دھند کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!   علی شیدؔا  نجدون نیپورہ اسلام آباد موبائل  نمبر؛9419045087 

نامِ فرحت

مرحبا صد مرحبا صدر مرحبا آپ ہیں شرم و حیاء کےآشیاں   علم و حکمت آگہی کے یہ ہُنر! حضرتِ رحمٰں ہوا ہے مہربان   آہٹوں میں کیا عجب حُسنِ حیا آنکھ بھی اخلاص کی ہے ترجماں   دیکھ کر بے مثلِ اسلوبِ وفا روحِ اطہر فاطمہؓ کی شادماں   جان لیتی ہو حقیقت عجز کی نامِ فرحت دیکھ لو ہے درمیاں   ہے دُعا میری یہی ہر اک پہر آپ کو حاصل ہو رحمت بے کراں   طفیل شفیعؔ سنٹرل لائبریری گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر موبائل نمبر؛9541186172

نعت پاک

کمان و تیر و خنجر اور نہ ہی تلوار کی باتیں میرا اسلام کرتا ہے ہمیشہ پیار  کی باتیں   بڑا بے چین دل ہے بے سکونی اس پہ چھائی ہے سناؤ مجھ کو میرے آقا کے دربار کی باتیں   جہازوں کی کہانی کے بجائے کیجئے ہم سے  شب معراج رف رف کو ملی رفتار کی باتیں    وفا کا تذکرہ جب بھی کبھی ہوتا ہےدنیا میں  نکل پڑتی ہیں آقا کے وہ چاروں یار کی باتیں   گریباں چاک کر ڈالا سبھی جھوٹے خداؤں کا  سنیں جب مکے والوں نے میرے سرکار کی باتیں    ابو بکر و عمر عثمان و حیدر کی زبانوں پر رہا کرتی تھی ہر لمحہ شہہ ابرار کی باتیں   صحائف ہوں کہ قرآں ہو یا کوئی اور کتب "زاہد" لکھی ہیں سب میں بیشک آمد سرکار کی باتیں     محمد زاہد رضا بنارسی دارالعلوم حبیبیہ

نظم

آئو مل کر پیڑ لگائیں     ہم اپنی دھرتی کو سجائیں     دھرتی کا کم ہو گا کٹائو   کم ہو گا جب تیز بہائو  پانی کا تب ہو گا بچائو    دھرتی بھی ہو گی اُپجائو   آندھی طوفاں بھی کم ہو نگے    اور حفاظت میں ہم ہو نگے    آندھی طوفاں تیز ہوائیں   ورنہ اتنا  قہر مچائیں جن سے کبھی ہم بچ نہ پائیں   بہتر ہے یہی رہ اپنائیں آگے پیچھے دائیں بائیں    آئو مل کر پیڑ لگائیں   ہریش کمار منیؔ بھدرواہی جموں،موبائل نمبر؛9906397577  

محرم خصوصی

 مدحتِ اہلِبیتؓ  این و آں کی نہیں عادتِ اہلِبیت ہوتی ہے سب پہ ہی رحمتِ اہلِبیت مجھ کو بھی دے گا رب جنتِ اہلِبیت میرے دل میں بھی ہے اُلفتِ اہلِبیت ساری دنیا کے آلام ہیں اک طرف اور تھی اک طرف کُلفتِ اہلِبیت میرے اعمال نامے میں دوزخ تھا بس وہ تو کام آگئی نسبتِ اہلِبیت ہم سے بھی راضی ہوجاتا پرور دگار کاش کر پاتے ہم خدمتِ اہلِبیت تیرا بھی نام رہ جاتا باقی یذید تو بھی کر لیتا جو منتِ اہلِبیت ذہنِِ انساں کو ممکن نہیں علم یہ رب ہی بس جانے ہے رفعتِ اہلِبیت دل میں جنت کی حسرت ہےجاگی ذکیؔ آؤ آؤ کریں مدحتِ اہلِبیت    ذکی طارق بارہ بنکوی  سعادت گنج،بارہ بنکی،یوپی موبائل نمبر؛7007368108     محرم تاریخ بتاتی ہے یہی شام و سحر کی   تکلیف ، محرم میں بڑھے سوزِ

نظمیں

کون راہ دے گا اب رستہ کوئی دیتا نہیں،ہمت ہے تو چلو ہر سمت میں اک بھیڑ ہے، قوت ہے تو چلو ہیں ناتواں سب لوگ یاں اور کچھ بھی نہیںہے اے جانِ جاں گر تجھ میں کچھ ہمت ہے تو چلو ہے جان بچانا ہی مقدم اس گُھٹن میں گر سانس کچھ لینا ہی غنیمت ہے تو چلو جو کھو گیا ہے راہ میں تو اس پرصبر کر اللہ کی گر اس میں ہی رحمت ہے تو چلو سوئے ہوئے ہیں دن میں تو گھبرائیں بھلا کیوں خوابوں میں غرق رہنا جو فطرت ہے تو چلو رستوں کا پتہ مانگ تُو راہیں تو ملینگی منزل سے دوری گر نہیں زحمت ہے چلو   سید مصطفی احمد حاجی باغ، زینہ کوٹ     ذکرو فکر پلائے مجھے گر مئی سوز و ساز کْھلے گا جہانِ نہفتہ کا راز مکافات میں ہے یہ زنّار پوش فلک سے پکارے نوائے سروش ترے دم سے مٹتے ہیں نقشِ کْہن ہرے تجھ سے ہوتے ہیں اْجڑے چمن ت

گلہائے عقیدت

 آپ کی شہادت اے ابنِ مرتضٰیؓ مہکے آج بھی زمانے میں ذکرِ کربلا مہکے لفظ جگمگائیں تو جامہ فکر کا مہکے ذکرِ آلِ زہرہؓ سے شعری سلسلہ مہکے عزم ، صبر، استقلال اور ارادہ ، قربانی کربلا کے سلطاں کی ایک اک ادا مہکے آسمان پر جیسے چاند ضوفگن ہے وہ اس زمیں پہ ویسے ہی روضہ آپ کا مہکے دیکھا تو بس اک کاغذ پر حسینؓ لکھّا تھا سوچتا تھا کیوں آخر اتنا گھر مرا مہکے مرتضٰیؓکے گلشن کے گل نے دی ہے قربانی اس جہاں میں جو دینِ مصطفٰیﷺ مہکے آسماں کے دامن پر دیکھ تو شفق صورت آج بھی شہیدوں کا خونِ با وفا مہکے کوئی ابنِ حیدرؓکا ذکر کر رہا ہے کیا دیکھو تو ذرا کتنی آج کی فضا مہکے    ذکی طارق بارہ بنکوی  سعادت گنج ، بارہ بنکی،یوپی ، انڈیا موبائل نمبر؛7007368108     حسینؑ زندہ باد رضائے حق

نذرانۂ عقیدت

استاذ گرامی جناب شوکت محمود شوکت کیلئے ’’ اے معلم، اے مدرس مہر پیکر، السلام ‘‘ آپ کا درجہ ہے اونچا اورہے اعلی مقام کتنے ہی ہیرے، جواہر اور تراشے کوہِ نور آپ درسِ آگہی دیتے ہیں یوں ہی صبح و شام  ہیں امینِ علم و حکمت قوم کے معمار آپ آپ کی چشمِ کرم سے ہو گئے کامل،  تمام  بیر رکھنے والے تو محروم ہیں اخلاص سے آپ کی تعلیم تو ہے صرف الفت کا پیام آپ تو بس درس دیتے ہیں وفا کے نام پر نفرتوں سے بالا تر ہے ، آپ کا سارا کلام  آپ سے ہوتے ہیں سارے لوگ ہر پل مستفید  سچ کہوں تو آپ کی تدریس کا ہے فیض عام  بالمقابل باپ ماں کے ، فوقیت ہے آپ کی آپ ہی کے درس سے انجم ؔ ہوئی ہے  شاد کام   فریدہ انجم  پٹنہ سٹی، بہار anjum.fareeda786@gmail.com

نعت رسولؐ

دین سے بڑھ کے اگر تجھ کو جچے گی دنیا آخرت پائے گا تو اور نہ ملے گی دنیا ہٹ کے سرکارِ مدینہ کے اصولوں سے کبھی نہ چلی تھی نہ چلی ہے نہ چلے گی دنیا سنتِ احمدِ مرسل میں اے ڈھلنے والے میرا ایماں ہے تری داسی بنے گی دنیا کھلتے جائیں گے خدائی کے رموز واسرار جب بھی معراج محمدؐ کوپڑھے گی دنیا کب مرا عشقِ نبی ہوگا جنونی مولا کب مجھے شاہ کا دیوانہ کہے گی دنیا میرا ایمان ہے یہ اے مرے آقائے کریم ایک دن آپکی سیرت پہ چلے گی دنیا صرف اک بار درِ آقا پہ ہو آ "زاہد" پھر ترے دل کو کبھی بھا نہ سکے گی دنیا   محمد زاہد رضا بنارسی دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج,بھدوہی  

محمد رفیع کی یاد میں

خدائے پاک نے بخشا حسیں انداز کا تحفہ بڑا بے مِثل تھا بے شک  لبِ اعجاز کا تحفہ مچلتا ہے سبھی کا دل ترے نغمات کو سن کر  مِلا رب سے تجھے یوں دلنشین آواز کا تحفہ   مرے دل کو لبھاتا ہے تری آواز کا جادو کہ جس آواز پر پھیکا پڑا ہر ساز کا جادو بہت ہی دلنشیں تیرے سبھی نغمات ہیں بے شک دِلوں پر نقش ہے جن کے حسیں انداز کا جادو   تری آواز قلب و روح کو مخمورکرتی ہے صدائے دل نشیں ہر نفس کو مسرور کرتی ہے  مْغنّی تو زمانے میں بہت آئے گئے لیکن تجھے دنیا سبھی سے خوش گْلو منظور کرتی ہے    محمد مصطفیٰ غزالی  پٹنہ ، موبائل نمبر8409508700, 9798993200    

( نعتِ رسولﷺ)

کیوں نہ اس پہ زندگی اپنی ذکی واری کرے وہ نبی جو سارے ہی نبیوں کی سرداری کرے دیکھو تو آقا سے مولا کیا حسیں یاری کرے ہر پہر اس کے مدینے پر کرم باری کرے قافلہ جاتا ہوا سوئے مدینہ دیکھ کر اے خدا غمگیں بہت مجھ کو یہ ناداری کرے پتھروں کی بارشوں کے بدلے برسائے دعا کوئی سرکارِ مدینہ جیسی سرکاری کرے شکر ہے میں اس نبیٔ پاکؐ کا ہوں اُمتی جو برائے عاصی رب سے گریہ و زاری کرے مرحبا میرا نبی  ہے  ایسا اک گلزار ساز جو کہ چٹانوں پہ بھی تیار پھلواری کرے میرے جیسا ایک عاصی اور نعتِ مصطفٰی دیکھئے کیا کیا کرشمے رحمتِ باری کرے عظمتِ دنیا بھی بخشے اور بہشتِ ناز بھی کون ہے جو میرے آقا جیسی مختاری کرے    ذکی طارق بارہ بنکوی  سعادتگنج،بارہ بنکی،یوپی موبائل نمبر؛7007368108  

نظمیں

لائوڈ تھنکنگ دوستی کی پیدائیش سے لے کر  دوسری سالگرہ تک تمہارا چہرہ,پگھلتا,لرزتا پیشانی کی لکیروں سے ہوکر یاداشت کی گھنی جھاڑیوں میں کھپ چکا ہے۔ میں حاشیے پر کہیں  کسی سیاہ نکتے کی صورت منتظر ہوں منتظر ہوں اس بات کی  کہ کب تم مرکز سے ہٹ کر میرے دل کو اپنی ہتھیلیوں میں لے کر تسکین دوگے میرا مریل سا دل جو راتوں کی بے خواب ہواؤں سے ڈرتا ہے دریاؤں میں نہاتی،بل کھاتی،خُنک ہوائیں زرد خاموشی کو چیر کر وجود سے ٹکراتی ہیں تو ذہن کے کونوں سے جالے ہٹ جاتے ہیں اطراف دھوئیں کی لکیریں بنتی،بگھڑتی ہیں میں اپنی نبض کو ٹٹولتی ہوں۔ تو تمہارے لب بھی ہلتے ہیں تم مجھے میلے،مرجھائے حروف کی خلعت پہناتے ہو۔ یہ خاموش اور سنجیدہ مہربانیاں مجھے گرمی اور حرارت دیتی ہیں۔ جو جذبوں کے لمس سے بھی آگے کی گرمی ہے ی

آہ ! دلیپ کمار

ہے فنا انجام ہر کوئی فنا ہو جائے گا اِک نہ اِک دِن نیند ابدی اوڑھ کر سو جائے گا جو یہاں آیا ہے اُسکو لَوٹ کر جانا بھی ہے گُھوم پِھر کر دُنیا کے میلے میں گھر جانا بھی ہے ادنٰی ہو اعلٰی ہو کوئی حُکمراں ہو یا غُلام موت سے دو چار ہونے ولا ہے ہر خاص و عام آتی جاتی سانسوں کا اِک سِلسِلہ ہے زِندگی تیرتا آبِ رواں پر بُلبُلہ ہے زِندگی زِندگی سب کچھ ہے لیکن زِندگی کچھ بھی نہیں جو ہمیشہ ہی رہے وہ زِندگی مِلتی نہیں آج کل پرسوں کِسی بھی وقت یہ آ سکتی ہے موت تو برحق ہے یہ ٹالی نہیں جا سکتی ہے اِس دیارِ فانی میں کچھ بھی نہیں ہے جاوِداں اِک نہ اِک دِن جانا ہے اُسکو جو آیا ہے یہاں دیکھنے سُننے میں آئی ہر طرف سے یہ خبر آ گیا مُنہ کو کلیجہ کِتنوں کا یہ جانکر کر گئی ہے جانے کِتنوں کو خبر یہ بیقرار زِندگی نے مان لی ہے موت سے آہ !

نظمیں

کاسنی کے پھول کاسنی کے پھول ابھی کھلے نہیں تھے کہ محبت مر گئی موسم وقت کی گڑیا ہے  وقت جسے وقت وقت پہ  بدلتا رہتا ہے   محبت نہیں محبت  دائروں سے باہر ہے صحرا میں پڑی کسی گمشدہ مسافر کے  حوادث کی پوٹلی جیسی شیلا مندر کی آخری سیڑھی پہ رک کر کہا کرتی تھی دیکھ بھیّا۔۔۔محبت امر ہے تب ماہی میری طرف دیکھ کے پلکوں سے آرتی اتارتی تھی شیلا کا سندور چھن گیا  دکھ اور درد کے خوفناک جنگل میں میں اور ماہی کسی عجیب موسم میں آگرے  دائروں کے بیچ حادثہ آ ٹپکا ماہی اور میرا موسم کئی حصوں میں بٹ گیا شیلا وقت کی دھند میں کھو گئی تپتی دوپہر کی دھوپ میں پگھل گئی پہلگام کی وادیوں میں برفیلے بابا کی طرح پگڈنڈی کے دوسرے سرے کی اور ہم تنہا ہوتے گئے لمس چھوٹنے لگے کاسنی کے پھول ابھی ک

نعت شریف

تضمین بر اشعار خمارؔ بارہ بنکوی یوں تصور میں مدینہ کی گلی اچھی لگی وہ سکوں پرور بہارِ زندگی اچھی لگی جو بھی گزری ہے وہاں وہ ہر گھڑی اچھی لگی صبح بھی اچھی لگی اور شام بھی اچھی لگی مجھ کو سوتے جاگتے یادِ نبی ؐ اچھی لگی مجھ سا آثم اور بیانِ سیرتِ خیرالوریؐ آپؐ ہیں شمس الضحیٰ بدرالدجیٰ نور الہدیٰ مدحِ لولاکِؐ لما صل علیٰ صل علیٰ خود تو فاقہ کُش مگر کونین کے حاجت روا رحمت اللعالمین کی مفلسی اچھی لگی اللہ اللہ آپ کے رحم و کرم کا سلسلہ  بالیقین جو کچھ ملا وہ آپ کے در سے ملا غلبۂ حسنِ تصور اس قدر بڑھنے لگا کہتے کہتے یا خدا میں یا نبی ؐ کہنے لگا میرے رب کو یہ میری دیوانگی اچھی لگی آپ کی سیرت کے ہیں تاریخ میں وہ معجزے اہلِ فہم اہلِ نظر انگشت بدنداں رہے معجزے ایسے کہ جس کے غیر بھی قائل ہوئے چانددو ٹکڑے ہوا مٹھی

قطعات

ہجومِ زندگی سے شاد ہو کر چلا ہوں گھر کو  میں برباد ہو کر حقیقت آنی اور فانی ہماری ہوئے برباد ہم آباد ہو کر °°°° مری تقدیر کو کر دے تُو روشن تخٔیل میں مرے بھر دے تُو روشن ترے شمس و قمر اور چاند سُورج رگ و پے کو مرے کردے تُو روشن °°°° نہ سوچو کتنے ہی ہیں عیب میرے بھروسہ تُجھ پہ ہے اے غیب میرے مدینے سے کوئی پیغام لائے مٹا کے آئیں ہیں لاریب میرے °°°° ابھی سے گردشِ پیہم پڑا ہوں کہ بھٹکی راہ میں جیسے کھڑا ہوں کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ہے یہی حالت ہے، افسردہ پڑا ہوں   یاور حبیب ڈار  بڈکوٹ ہندوارہ طالبِ علم,شعبہء اردو کشمیر یونی ورسٹی سری نگر موبائل نمبر؛ 6005929160      

نعت رسول مقبول ﷺ

رب نے ایسی بنائی ہے ذات آپ کی ملکیت ہے شہا کائنات آپ کی اس پہ شاہد احادیث و قرآن ہیں بات رب کی ہے سرکار بات آپ کی صدق دل سے پڑھیں مصطفے پر درود ختم ہو جائیں گی مشکلات آپ کی اُن کی الفت بسائے رہیں قلب میں ہوگی ایمان پر ہی وفات آپ کی رکھیے گا لب پہ نغمات صل علیٰ ٹوٹے جس دم طنابِ حیات آپ کی نعت ہو ہی نہیں سکتی مجھ سے رقم ہو نہ جب تک شہا التفات آپ کی ان کی مدحت کیے جائیں شارق ؔرضا اس کے صدقے میں ہوگی نجات آپ کی   سید شارقؔ خالدی  شاہجہاں پوری اُتر پردیش موبائل نمبر؛9450684815  

مفتی فیض الوحید صاحب کی یادمیں

وہ صاحب ِکتاب    وہ علم کاآفتاب وہ حلم کامہتاب   آبروئے قلم کی تاب  جس سے فیضیاب تھی بزمِ زمانہ  ہائے ظالم قضانے وہ بنالیااپنانشانہ    اب قرآن ویساکون سُنائے گا پتھردِلوں کوپھرکون رولائے گا انسانوں کوانسانیت کون سکھائے گا آخرت کے ہُوبہُومناظرکون دکھائے گا   چلا گیا وہ مردِ صالح اپنے دیارسے  نکاتِ دین اب سمجھائے گاکون پیارسے جس نے کوہستانوں میں چراغِ ہدایت جلائے  بھٹکے ہوئے قافلوں کوراستے دکھائے    جس کی کاوشوں سے بے عِلم سُوئے عِلم آئے  مدہوش جوپڑتے تھے ہوش میں آئے    آہ! وہ مفتی جوواقف تھارازِہستی سے سفرآخرت پرنکل گیااپنی بستی سے    نواب دین کسانہ  اُودہمپور،جموں،موبائل نمبر؛94191-66320

نظمیں

سُن اے بنتِ حوا  سُن اے بنتِ حوا  تو ہے کتنی ناداں  کہ ریت پر بناتی  ہے آشیاں  یہ ابنِ آدم بُنتا ہے  جال لفظوں کا  اور تو لے آتی ہے ایماں  تو ہے کتنی ناداں    سُن اے بنتِ حوا  تو جسے سمجھتی ہے فرشتہ  ہوسکتا ہے وہ ہو کوئی درندہ  قدم قدم پر درندگی یہاں  قدم قدم پر یہاں بہروپیے  ملتے ہیں  جو نئی نئی چال یہاں  چلتے ہیں  سُن اے بنتِ حوا  نہ لفظوں کے سحر میں مبتلا ہونا  نہ اپنوں کا کبھی تم بھروسہ کھونا    سُن اے بنتِ حوا  کچھ لوگ تجھے  جنت کی حور کہیں گے کچھ تو تجھے دل کا  سرور کہیں گے کچھ تو تیری چشم کو  چشمِ غزال کہیں گے  اور کچھ لوگ تجھے&n