تازہ ترین

ٹھہر اے وقت!

ٹھہر اے وقت! میں بھی تیرے ساتھ جستجو کی خِلش مٹانے کو بے نشاں راستوں پہ چلتا ہوں   بے تُک سے سفر پہ نکلے ہو یہ نہ معلوم کب تلک، کب سے کون سی سمت میں، کدھر سے، کیوں؟   لمحہ بھر کے لئے تو دم لے لو اتنی جلدی بھی کیا، کہاںجانا؟! تیری راہ، رہ گزر بھی، منزل بھی ہست اور نیست کے منازل سے آگے بھی سینکڑوں مراحل ہیں ٹھہر پل بھر، کہ تیرا ہمراہی بن کے بانٹوں میں تیری تنہائی   اور ہم ایک ساتھ کھوجیں گے بے پناہ واہموں کیوں اور کب؟ تھک بھی جائیں تو غم نہیں، ہم تو نیستی کے لطیف خوابوں میں مثلِ شمع سحر پگھل جائیں   جُھولتی کائینات کے پُل پر رازِ کون و مکاں سمجھنے میں اپنی ناکام جَہدِ لاحاصل کا ہلاہل زہر نگل جائیں ٹھہراے وقت، میں بھی تیرے ساتھ گرتے پڑتے، سنبھلتے چل دونگا می

رَحم کَر

 مرے خامہ ! تو سوچتا کیا ہے اب رحیم اور رحمٰن ہے میرا رب الٰہی رحم کر ہے مشکل گھڑی کہ آفت میں ساری  ہی  دنیا پڑی وبا جس نے پھیلائی وہ میرا رب اکیلا ہمیں چھوڑتا ہے وہ کب یہ دھوپ اور چھاؤں کا سنسار ہے وہ حمد و ثنا کا سزا وار ہے نبی سے محبت خدا کو بھی ہے ہے الفت ہمیں بھی جہاں جو بھی ہے سزا اور جزا کی یہ دنیا نہیں کہیں کچھ ہے زیادہ تو کم ہے کہیں خدا نے جہاں جس کا مرنا لکھا نہیں کوئی مقصد کسے کیا  دکھا جو قانون قدرت پہ راضی رہا خدا کے ہی دیں پہ مرا اور جیا یتیموں،ضعیفوں کا کَس تھا سُنا وہ سوپور والوں کا بس تھا سنا وہ جو چاہتا رہتا عشرت میں بھی  مزے اس کے تھے بس تو مسجد میں ہی  ملی موت ایسی شہادت کی واہ  جئے زندگی وہ صداقت کی واہ انہیں وقت توبہ کا بھی تھا ملا کٹھن