تازہ ترین

غزلیات

آرزو پھر جگا کے حد کردی عشقِ آتش لگا کے حد کردی زندگی سے میری جاکے حد کردی یاد کا گھر بسا کے حد کردی! یہ بخیلی  مبارک ہو تجھ کو میں نے آنسو پلا کے حد کردی رسمِ الفت سے ناواقف ہوں میں میں نے  اس کو بُھلا کے حد کردی اس نے راہوں میں آگ بھر دی جو ہم نے چل کر دکھا کے حد کردی تو وفاڈھونڈ مت زمانے  میں میں نے سب کوبُھلا کے حد کردی اب وفا مل کتاب میں جائے اس نے قصہ  سنا کر حد کردی ایک دل میں ہزار خانے  ہیں ہاتھ اپنا چُھڑا کے حد کردی مسکراہٹ سے بیر تھا تجھ کو اشکِ فرقت بہا کے حد کردی   جبیں نازاں لکشمی نگر، نئی دہلی  jabeennazan2015@gmail.com      زمین پاؤں تلے دلدلی لگے ہے مجھے مسافرت کی یہ صورت نئی لگے ہے مجھے یہ تجربے کا تقاضا ہے نام د

نعت

پہلے  جب کرن کا ظہور  ہوگیا  کھلبلی سی  مچ گئی دور تک اندھیروں میں  ایک لاغر سی اونٹنی  کے تھنوں سے بھی دودھ کی نہریں  جاری ہوگئیں  کچھ غلاموں   کی بھی زنجیریں  کھل گئیں  دشت در دشت پھول کھلنے لگے  ریت مسکرانے لگی  آب زم زم  اور  بھی رواں  ہوگیا  کعبے میں بت لرز گئے  آزروں کے  خواب بھی ٹوٹنے لگے    دشمنان  آدمیت سسک گئی  بند ہونے لگے  ننھی قبروں  کے دہانے  دھوپ سایا نہیں  کرتی تو اور کیا  کرتی  خار خصلت نہیں بدلتے  اپنی تو اور کیا  کرتے  گمرہی کےدبیز اندھیرے  دور ہوتے نہیں تو&nb

غزلیات

وقت خود پیچھے رہا دُکھ درد کو آگے کیا ہم نے بازو کھول کر چپ چاپ بانہوں میں لیا   شام کی خوشبو میں تھیں پاگل ہوا کی دھڑکنیں ہم نے بھی کھڑکی پہ اک جلتا ہوا رکھا دیا   شاعری کو آپکے رخسار سے چُھو کر پڑھیں ہو غزل دلی کی یا پنجاب کا ہو ماہِیا   سوئیاں دیوار پر لاکے گھماؤں کس طرف دیر تک مرنا ہی تھا جو مختصر کیونکر جیا   یوں کُھلا رہنے دیا کب دردوغم کا پیرہن اشک نے ٹانکے پروئے، چاک آہوں نے سِیا   رات کا پچھلا پہر تھا ہمنشیں بس اور تم تشنگی کا زہر سارا جام بھر بھر کر پیا   حاصلِ آوارگی شیدؔا ریاضی کی طرح عشق نے سب کچھ لُٹایا حُسن نے دھوکہ دیا   علی شیدؔا  نجدون نیپورہ اسلام آباد،   موبائل  نمبر؛9419045087     دِلوں میں آ

غزلیات

 ایک کہانی لکھتا ہوں یاد پرانی لکھتا ہوں   دنیا بھر کے رنج و غم اپنی زبانی لکھتا ہوں   لفظ تو سارے کہہ ڈالے آج معانی لکھتا ہوں   دل کی بنجر دھرتی پر دھانی دھانی لکھتا ہوں    تیرے بدن کی خوشبو کو رات کی رانی لکھتا ہوں   سچ تو یہ ہے میں عارفؔ آگ اور پانی لکھتا ہوں   عرفان عارف صدر شعبہ اُردو، کامرس کالج جموں موبائل نمبر؛9682698032   ستم یوں مجھ پر وہ کررہا ہے یہ من پسند اس کا مشغلہ ہے قصور اپنا بتا رہا ہے نسب کا لگتا ہے وہ بھلا ہے اسے کبھی یا ر مت سمجھنا قدم پہ حاجت سے گر پڑا ہے کرو نا !الفت کی بات پھر سے عناد میں کیا  کوئی مزا ہے ؟ کرم کریں یا ستم کریں  وہ غریب  دل صبر آزما ہے نہیں ہے قاتل یہاں تو ک

تم نہ رُکنا دوستو طوفاں بھی آجائے اگر زیست کا مطلب ہی کیا ہے حوصلہ جائے اگر   منصفوں کے ہاتھ میں خنجر ہے تو کیا کچھ ہوا بات حق کی بول دوں گا جان بھی جائے اگر     کیسے خود کو پائو گے جب دل پہ اختیار نہیں دل گزرتا حد سے ہے جس کا اعتبار نہیں   عشق میں دیوانگی کی انتہا یہ ہے سعیدؔ چاہتا ہوں میں جسے اس کا انتظار نہیں   سعید احمد سعیدؔ احمد نگر، سرینگر موبائل نمبر؛9906355293    

میدانِ حشر

سہی نہیں ہے نہ سہ سکیں گے   نبی ؐ رحمت  ہماری  ذلت  جزا کے دن جب اُٹھے گی خلقت تو ڈھونڈ لے گی وہ اُن کی قُربت  طویل سجدے میں کر رہے وہؐ   بیان  ہونگے  خدا کی مدحت عرق میں ڈوبے بدن کے اعضاء  وہاں  پہ دیکھیں گے رب کی قُدرت بلک رہیں ہونگے پیاس سے سب نہ کوئی مہلت نہ ہوگی فُرضت سما وہ کتنا عجیب ہوگا نہ باپ بیٹے میں ہوگی اُلفت فرشتے مومن کے ساتھ ہونگے َِ  بَلا کی اُن کو ملے گی راحت اور حال کیا ہوگامُنکروں کا  اُنہیں تو ہوگی فقط عُقوبت سجے گا میداں حساب کا جب اُٹھائینگے سر رسولِ رحمتؐ  خدا کی چاہت سے جسکو چاہے کرینگے اُن کی وہ خود شفاعت دُعا ہے تُم سے خلوصِ دل سے خلوصِ دل سے خلوصِ دل سے  خدائے اعظم  رفیقِ اعظم  نوازنا 

غزلیات

میں سمندر ہوں کنا روں میں کہاں رہتاہوں تیری آنکھوں کے شکاروں میں کہاں رہتا ہوں یوں نہ دیکھا افسردہ نگاہوں سے مجھے میں ترے گھر کی دیواروں میں کہاں رہتا ہوں آ کے دیکھو ذرا پھولوں پہ نکھار آیا ہے تم تو کہتے تھے بہاروں میں کہاں رہتا ہوں عمر کٹ سکتی ہے تنہا بھی کسی کی خاطر میں کہ وحشی ترا یاروں میں کہاں رہتا ہوں اُٹھتے گرتے ہی سہی پا لیا جنت کا سراغ نسلِ آدم ہوں شراروں میں کہاں رہتا ہوں ڈھونڈ سکتے ہو تو ڈھونڈو کہیں مٹی میں مُجھے اب میں اشکوں کی قطاروں میں کہاں رہتا ہوں دیکھ کتنے تری یادوں کے ہیں موتی مُجھ میں میں تو عاشق ہوں خساروں میں کہاں رہتا ہوں مستقل اپنا ٹھکانہ بھی نہیں ہے جاویدؔ اُڑتا پھرتا ہوں میناروں میں کہاں رہتا ہوں   سردارجاویدؔخان   مینڈھر، پونچھ موبائل نمبر؛ 9419175198   &nbs

غزلیات

آپ کی جوشان ہے  اُس پہ دِل قُربان ہے  اُس کی خاطرجان ہے  جومیرامہمان ہے  اِن دِنوں ہے بدگُماں وہ جومیری جان ہے  سب پہ اِک تنقیدہو یہ ہُنرآسان ہے  اُس کودیکھوں کِس طرح ہرکوئی نگران ہے  لے رہے ہیں سانس ہم  آپ کااحسان ہے  زِندگی پیارے ہتاشؔ زخموں کا دیوان ہے    پیارے ہتاش  دور درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں موبائل نمبر؛8493853607       گلوں میں رنگِ حنا کا کوئی نہیں منظر  فقط فنا ہے، بقا کا کوئی نہیں منظر مرے چمن  میں ہے زاغوں کا دبدبہ لوگو  ہے بلبلوں کی اَدا کا کوئی نہیں منظر  چراغ جلتے ہیں لیکن ہے چار سو ظلمت  کہیں پہ نور و ضیا کا کوئی نہیں منظر  گئے وہ دن کہ چمن سیرگاہ تھی اپن

غزلیات

ہی اک انترا  ہے آج کل جو عام چلتا ہے کسی کا کام ٹھہرا ہے کسی کا نام چلتا ہے ہمارے شہر میں اک کہکشاں ہے سرخ لفظوں کی  اسی سے خوں طلب افسانہ صبح و شام چلتا ہے کوئی سکہ نہیں کھوٹا سیاست کی تجوری میں  کوئی سکہ نہیں  سکے کا لیکن دام چلتا ہے ہماری ڈائری محفوظ کرلو کام آئے گی یہاں زندہ کفن میں اور مردہ عام چلتا ہے نئی وحشت کے سائے دن دہاڑے گھوم پھرتے ہیں  کوئی آسیب پروردہ بصد آرام چلتا ہے  سفیرِ آدمیت جا گزیں ہے کنجِ خلوت میں فقط نفرت کے میخانوں میں دورِ جام چلتا ہے تمہاری شاعری میں حسنِ جاناں ہو کہاں  شیدؔا بھلا اس دور میں بھی عاشقی کا کام چلتا ہے !   علی شیدؔا  نجدون نیپورہ اسلام آباد موبائل  نمبر؛9419045087       سہمی سہمی ہے فضا تازہ ہو

غزلیات

تری جانب نکلنا ہے مُجھے اب یہ رستہ بھی بدلنا ہے مُجھے اب ہواؤں میں تری خوشبو نہیں ہے برنگِ عود جلنا ہے مُجھے اب گنوا دی عُمر ساری سرکشی میں کہیں جا کر سنبھلنا ہے مُجھے اب سفر دن کا بڑی مُشکل سے کاٹا ہوئی ہے شام ڈھلنا ہے مُجھے اب اب اُسکے ہاتھ میں سَم ہو کہ امرت بِنا دیکھے نگلنا ہے مُجھے اب بڑی پُرخار ہیں جاویدؔ راہیں یقیناً بچ کے چلنا ہے مُجھے اب   سردارجاویدخان مینڈھر، پونچھ رابطہ،، 9419175198     دشت بھی، تاریکیاں بھی، مل گئیں تنہائیاں واسطے ان کے کیں ہم نے ترک بزم آرائیاں ہم سناتے ہی رہے رودادِ دل، دل کھول کر بے ارادہ وہ سنا، لیتا رہا انگڑائیاں ہم فلک کے زیر سایہ رات دن تڑپیں یہاں وہ محل کے بعد دیکھیں واں چمن آرائیاں ریت قائم ہے ازل سے جائے فانی میں یہی ایک جانب سوگ

غزلیات

اکثر ہوئی ہیں ہم پہ عنایات منفرد  حالانکہ میرے یار کی ہے  بات منفرد  ملتی ہیں مسکرانے پہ سوغات منفرد  پوچھے جو چشمِ تر نے سوالات منفرد  مجروح ہوگیا ہے پرندہ خیال کا  مضمون نے لگائی بھی تو گھات منفرد  تحلیل ہوگئی شبِ فرقت میں روشنی  احساس نے دیا ہے مرا ساتھ منفرد  طوفاں میں رقص تھا کبھی طوفان رقص میں  برسی ہے آنکھ آنکھ سے برسات منفرد  جلتے رہے چراغ دعاؤں کے دوش پر  درپیش تھے ہواؤں کو حالات منفرد  ہر خار نے سوال کیا تھا سوال سا  خوشبو نے بھی دئے تھے جوابات منفرد    اشرف عادل ؔؔ کشمیر یونیورسٹی ،حضرت بل سرینگر  موبائل نمبر؛7780806455       ٹھیک ہے جودِل کی دھڑکن ایک دن رُک جائیگی  زندگی اِس درد

غزلیات

وہ انقلاب کی ہمت نہیں کیا کرتے جو مُردہ دل ہوں، وہ حرکت نہیں کیا کرتے   وہ زندگی جو چراغوں کا نور رکھتی ہو اُسے بُجھانے نے کی جرأت نہیں کیا کرتے   محبت سے تجارت تو ٹھیک ہے، لیکن محبتوں کی تجارت، نہیں کیا کرتے   وہ مرے آئینے پہ دُھول مل کے کہتا ہے صلاحیت کو اکارت نہیں کیا کرتے   حُسینی سر تو کٹاتے ہیں اے رئیس ؔ، مگر کبھی یزید  کی بیعت نہیں کیا کرتے   رئیس ؔ صِدّیقی سابق آئی بی ایس افسر آکاشوانی ودوردرشن  Email:rais.siddiqui.ibs@gmail.com موبائل نمبر؛9810141528       بدن ہے ٹُوٹا ہُوا آنکھ میں خماری ہے اک اور شب ترے ہجراں میں یوں گزاری ہے تُمہاری یاد میں رو رو کے تھک گئیں آنکھیں لہو جگر کا مری چشمِ تر سے جاری ہے بھلے غنیم سہی یہ ب

حسینؓ

سلام اے حُسینؑ ابن علیؑ تیری شہادت کو سلام زیرِ خنجر ہورہی تیری عبادت کو سلام آپ نے قاتل پہ کردی آخری حجت تمام تین دن کی پیاس میں تیری شجاعت کو سلام کربلا میں آپ کا صبر و رضا سے تھا قیام اے خلیل کربلا تیری امانت کو سلام راہِ حق میں گھر لُٹا کے پالیا اعلیٰ مقام کِبریائی کررہی تیری اطاعت کو سلام سربُلند نیزے پہ مُولا وہ تلاوت اور کلام فاطمہ زہرا کے دلبند تیری عظمت کو سلام کربلا میں جل گئے تھے ہائے وہ سارے خیام عابدِ مضطرؑ کی بے بس عزم و ہمت کو سلام با اَدب یوں پیش خدمت ہے مظفرؔ کا کلام یہ عطائے مصطفیٰ ؐہے تیری رفعت کو سلام   حکیم مظفر حسین باغبان پورہ، لعل بازار، موبائل نمبر؛9622171322     نذرِ حسینؓ اس واسطے لہو کو ہے جستجو لہو کی  پہچان، مٹ چکی ہے مطلق لہو لہو کی  مہر

غزلیات

 تہہِ زمیں کی خموشی سمیں سُنائے ذرا کوئی تو سر پہ یہاں آسماں اُٹھائے ذرا   کئی دنوں سے مقید ہوں خواب خانوں میں پلک پہ وار کرے راستہ سجائے ذرا   مسافتوں کے زمانے تمام ہو جائیں مرے قریب ذرا اور ،اور آئے ذرا   اُداس رات هے کیسی رِدائے ہجر لئے صدائے اَشک سے کہدو غزل سُنائے ذرا   حرف حرف هے ٹپکنا لہو نگاہوں کا "غزل سمجھ کے مجھے کوئی گنگنائے ذرا"   سفیرِ خاک ہوا ہوں متاعِ گردِ سفر کوئی تو چاک پہ لاکے مجھے بنائے ذرا   علی شیداؔ  نجدون نیپورہ اسلام آباد،   موبائل  نمبر؛9419045087             وہ شخص اپنی ذات میں گہرا بہت لگا لہجہ اگرچہ سخت تھا سچا بہت لگا یاروں نے یاسئیت کا کیا دائمی

غزلیات

پھرتے ہیں مارے مارے یوں وحشت کے زاغ میں ہم کو پلا دے ساقیا کچھ غم ایاغ میں تیرا بدن ہے گویا ستاروں کی کہکشاں یا ہیرے ہیں جَڑے ہوئے شب کے چراغ میں نازک بدن کو تیرے ستائیں گی تتلیاں تنہا پھرا کرو نہ یوں خوابوں کے باغ میں یہ لوگ میری آنکھوں سے تجھ کو چُراتے ہیں اس بار ہم بنائیں گے نقشہ دماغ میں کانٹوں کے ساتھ ساتھ شگوفے بھی جل گئے ایسی لگی ہے آگ محبت کے باغ میں جو لطف غم کی آگ میں جلنے کا ہے میاں وہ لطفِ جاں کہاں ہے غموں سے فراغ میں داغِ جگر نے ہے مجھے شاعر بنا دیا واللہ کچھ تو بات ہے زخموں کے داغ میں    عاشق راہی ؔ   اکنگام اننت ناگ  موبائل نمبر؛6005630105     خار سے بھی اے صبا پیار میں کرتا رہا راستے میں جو ملا اپنا اُسے کہتا رہا کب رُکا تھا میں کبھی اُن ساحلوں کو دیک

غزلیات

پھیکا پھیکا سا ہے ماحول خُدا خیر کرے اپنی کشتی بھی گئی ڈول خدا خیر کرے   ہم تو دُنیا کی امامت کا سبق بھول گئے اب تو ہاتھوں میں ہے کشکول خدا خیر کرے   جب سے چھوڑاتُجھے ذلت نے ہمیں گھیر لیا اپنے ہاتھوں ہوئی چھترول خدا خیر کرے   کھو دیا ہم نے ہی بھیڑ میں چلنے کا ہُنر کجروی کھول گئی پول خدا خیر کرے   لاکھ پردوں میں بھی کردار نظر آتا ہے اپنا کردار تو ہے ڈھول خدا خیر کرے   ہم مسافر ہیں بشارتؔ تو سفر پر نکلیں راہ پُر پیچ ہے پُر ہول خدا خیر کرے   بشارت حسین بشارتؔ  مینڈھر، پونچھ موبائل نمبر؛7051925481   کر گیا مجروح مجھ کو اعتباری کا جنوں دل کو تڑپاتا رہا بس اضطراری کا جنوں زخمِ دل کرتا رہا آنسو کے دھاروں کی طلب آنکھ سے بہتا رہا یوں آہ و زاری کا جنوں

غزلیات

تمہاری نظر سے گرایا گیا ہوں تمہاری نگہ سے چُرایا گیا ہوں   چراغوں کے من میں اُتارا گیا ہوں ہوائوں کی شہ پر جلایا گیا ہوں   میں تیرے لبوں کے مقدر کا نغمہ کسی کے لبوں سےسُنایا گیا ہوں   میں اک آئینہ ہوں شکایت ہے مجھ کو فقط اندھوں کو کیوں دِکھایا گیا ہوں   سکندر سے جیتے بہت جنگ عادلؔ میں ہارے ہوئوں سے ہرایا گیا ہوں   اشرف عادلؔ کشمیر یونیورسٹی، سرینگر موبائل نمبر؛7780806455     چاند کے گرد جو یہ ہالہ ہے  میری الفت کا اک حوالہ ہے  مجھ کو رکھتا ہے ہر گھڑی بے کل  زیرِ پائے طلب جو چھالا ہے مجھ کو بھی نیند اب نہیں آتی   مجھ کو بھی عشق ہونے والا ہے اب کے کوئی خوشی نہیں دیکھی  غم نے ڈیرا جو گھر میں ڈالا ہے  جن کو خ

غزلیات

گھر سے نکلا تو نئی راہ گزر پہ نکلا چل کے دیکھا کہ پرانی ہی ڈگر پہ نکلا آنکھ بھر خواب سمندر میں کہیں چھوڑآؤں تشنگی لے کے سرابوں کے سفر پہ نکلا سنگِ تربت سا نشاںوقت نے چھوڑا جیسے اک تری یاد کا پھوڑا ہے جگر پہ نکلا چشمِ نم ہجر نے زرخیز یہ مٹی کردی دانۂ خستہ کہ گل شاخِ شجر پہ نکلا کون یہ بوجھ اُداسی کا اٹھائے لوگو اب جو قرعہ بھی اسی خاک بسر پہ نکلا کوئی سورج نہ کوئی چاند ستارہ چمکے ابر چھا جانے مرے عشق نگر پہ نکلا انگلیاںچاند پہ لوگوں نے اٹھائیں شیدؔا ایک تِل سادہ رخِ رشکِ قمر پہ نکلا   علی شیدؔا  نجدون نیپورہ اسلام ا?باد،   موبائل نمبر؛9419045087     غزل لوگ کانٹوں میں بھی پھولوں کی قبا چاہتے ہیں  ہم تو بس فرطِ محبت کا صلہ چاہتے ہیں  ٹِمٹما اُٹھے ہیں پھر

قطعات

رونقِ زمین و زمان، یہ فتنۂ آسمان ہے کیا یقین اور گمان کی فضا کے درمیان ہے کیا وہ جو انجان ہے اپنے جوئے ذات سے بھی غرق بیخودی اب تلک صاحبِ ایمان ہے کیا ���   پھر وہی ہنگامہ پھر وہی شور ہوگا ہم نہ رہے یہاں تو کوئی اور ہوگا اس بزم الم کا کچھ نہیں بدلنے والا نئے لباس میں پھر وہی دور ہوگا   ��� اس ترک تعلق، اس بے رُخی کی وجہ بتاتی جا کیا ہوئی وہ پہلی سی محبت، وہ وعدہ وفا بتاتی جا وہ کیا روٹھے کہ روٹھ گیا سارا جہاں مجھ سے اے بادِ صبا اب تو ہی اس کو حال میرا بتاتی جا   میر شہریار سریگفوارہ اننت ناگ موبائل نمبر؛7780895105

غزلیات

نکلی تھی جگنوئوں کی مٹکتی سیاہ رات روشن ہوئی نگاہ کی حد تک سیاہ رات   تاروں کا جال نوچ رہا تھا خیالِ یار لگتا تھا کررہی تھی فلک پر گناہ رات   اُس لذتِ گناہ کا ہلکا سا وہ خمار برسا رہی تھی اشکِ ندامت نگاہ رات   ویران میرے شہر کو دیکھا تمام دن بھرتی رہی فلک پہ لگاتار آہ رات   وہ پیار بھائیوں کا نکلتا ہے جب فریب یوسفؑ کو پھر سکھاتی ہے تدبیرِ چاہ رات   بادل نے آفتاب کو دن میں کیا اُداس پلکوں پہ پھر بٹھاتی رہی مہر و ماہ رات   اِک ہُوک سی اُٹھی تھی جگر سے فلک کے بھی تاروں سے جیسے مانگ رہی تھی پناہ رات   اشرف عادل کشمیر یونیورسٹی،موبائل نمبر؛7780806455     غزلیات جب بھی وہ کھل کے مسکراتی ہے دیر تک کائنات گاتی ہے   اس سے ملنا قر