تازہ ترین

غزلیات

ملتی ہے جنہیں تیری رضا کیا نہیں پاتے خاطر میں نہیں تخت سلیمان بھی لاتے خورشید ہی آئے تو جہاں ہوگا منور ’’بجلی کے چمکنے سے اندھیرے نہیں جاتے‘‘ ہوتا نہیں ادراک جنہیں سود وزیاں کا وہ اپنا چمن اپنے ہی ہاتھوں ہیں جلاتے رہزن کے جِلو میں چلیں جس قوم کے رہبر منزل تو کُجا وہ کبھی رستہ نہیں پاتے تھی کیسی خطا ٹوٹ گئے اُن سے روابط خوابوں میں خیالوں میں نہیں چہرہ دکھاتے پَل بھر میں بدل جاتی ہیں احباب کی سوچیں حالات بھی انسان کو کیا کیا ہیں بناتے یہ زیست بھی بسملؔ ہے نرالی سی پہیلی آتے ہیں چلے جاتے ہیں جاکر نہیں آتے   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی، راجوری،موبائل نمبر؛9086395995   گو تُو ہے پیکرِ بے بدل ترا نفسِ ناطقہ بھی ناب ہے تُو ہی جنس مانا ہے بالاتر تیری زیست لیکن حباب ہے تُو کہ شکل و صو

رسولِ پاکﷺ

رسولِ پاک ؐ کی چھاؤں میں رہنے کی تمنا ہے مصائب کی یہاں حدت نے چاروں اور گھیرا ہے   جسے جبریل ؑنے اپنے پروںمیں شوق سے رکھا حرا کی چھائوں میں بیٹھا ، وہ خوشبودار میرا ہے   بساؤ گے اُسے دل میں تو روشن قبر پاؤ گے وگرنہ پھر وہاں ہردم اندھیرا ہی اندھیرا ہے     یہ جان و تن لٹاؤ گے نبیؐ کی راہ میں جانو  تمہارے ہاتھ محشر میں خلاصی کا پھریرا ہے ـ نبیؐ کی اُلفتِ عالی میں پنہاں اُلفتِ اللہ  خدائے لم یزل فرماں یہی قُرآں میں تیرا ہے         طُفیل شفیع گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر موبائل نمبر؛6006081653     

تازہ ترین