تازہ ترین

غزلیات

جہد سے جو گریز کرتا ہے وہ تو جینے سے پہلے مرتا ہے دیر تک ٹھوکروں میں رہتا ہے تب کہیں آدمی سنبھلتا ہے نور تیرا ہے ایک اک شئے میں تو ہی خاکوں میں رنگ بھرتا ہے اب نہیں ہے وحوش سے وحشت آدمی آدمی سے ڈرتا ہے ہرکوئی عارضی سا نظّارا خودبخود خاک میں بکھرتا ہے گفتگو بھی سلیقہ چاہتی ہے ورنہ انساں نظر سے گرتا ہے رُک سی جاتی ہیں دھڑکنیں دل کی جب وہ جانے کی بات کرتا ہے حال بسملؔ کا پوچھتے کیا ہو سَو جتن کرکے دل گزرتا ہے   خورشید بسمل تھنہ منڈی ، راجوری موبائل نمبر؛9086395995     غزلیات چمن کے نو دمیدہ گُل بہاروں سے خفا بیٹھے صباحت میں خلش پیہم اسیرِغم ہوا بیٹھے ابھی فردِ وفا اِک جاں بہ لب ہے شہرِ گریاں میں تبھی سب پا بہ گِل پہلے بچھا  فرشِ عزا  بیٹھے کہا جب اہلِ بین

تازہ ترین