نعتِ حبیب ﷺ

وطن کے لیے ہےمدینے کی چاہت  مجھے خوشبوؤں میں ہے جینے کی چاہت   میں مشک و ختن عودکو کیا کروں گا مجھے ہے نبی ﷺ کے پسینے چاہت   جو پہنچادے ہم کو دیار  نبی تک ہمیں تو ہے ایسے سفینے کی چاہت   مرے دل کو چاہے ہے عشقِ نبی یوں انگو ٹھی کو جیسے نگینے کی چاہت   مٹادے خیالاتِ جام و سبو تو اگر جام کوثر ہے پینے کی چاہت   تو پھر نقش پائے نبی ﷺڈھونڈ’’زاہدؔ‘‘ دوعالم کی گر ہے خزینے کی چاہت   محمد زاہد رضابنارسی  دارالعلوم حبیبیہ رضویہ  گوپی گنج،ھدوہی،یوپی انڈیا        

غزلیات

چلن عشق کا ہے وفا کیجیے ہے جب حُسن کہتا جفا کیجیے ہے یہ موت اور زندگی کا سوال کبھی دل نہ دل سے جدا کیجیے دکھاوا کہاں اور محبت کہاں نہ ہم سے یہ مکر و ریا کیجیے خدا کا بھی دیکھا طریقہ یہی کہ خلوت میں اُس سے ملا کیجیے کھٹکتا جو غم آپ کے دل میں ہے وہ غم کچھ ہمیں بھی عطا کیجیے مجھے آپ کا غم گوارا نہیں خدارا سدا خوش رہا کیجیے کوئی چارہ گر ہو نہ جب اے بشیرؔ تو اپنے خدا سے دعا کیجیے   بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاطؔ) کشتواڑی کشتواڑ، موبائل نمبر؛7006606571     نظر کر رہی ہے اثر رفتہ رفتہ اٹھی ہیں ہمیں پر نظر رفتہ رفتہ ذرا تم کرو دل کی باتیں او جاناں کسی دم بھی کرلو مگر رفتہ رفتہ پرندوں کو گھر میں جگہ دے دو یارو کہ کم ہو رہے ہیں شجر رفتہ رفتہ نشے میں گزاری گئی ہیں جو راتیں وہ راتیں

تازہ ترین