تازہ ترین

غزلیات

ہم نوائی کے سفر سے کوئی ہمسر آیا  آج کوئی تو مرے قد کے برابر آیا  عشق نے آس لگائی ہے دل ویراں سے  اے خرد میں تری چوکھٹ پہ مکرر آیا  تشنگی بہہ گئی ہے دھوپ کے دریاؤں میں  اب کہیں پیاس کے صحرا میں سمندر  آیا  جائزہ اپنی فقیری کا میں  لیتا ہوں پھر  کہتے ہیں شہر میں اب کوئی قلندر آیا  لوٹ جانے کا ارادہ میرا ہی ہے ورنہ  کشتیاں اپنی وہ ساحل پہ جلاکر آیا  شام آئی  نہ سحر آئی نہ منزل آئی  چشمِ حیراں میں مگر خواب کا پیکر آیا  روپ پہچان لیا اس کا نیا بھی عادل ؔ بارہا شہر میں جو بھیس بدل کر آیا    اشرف عادل ؔ سرینگر  موبائل نمبر؛9906540315     جھیل کر سختیاں کچھ نہ حاصل ہوا میں جہاں کی طرف اور مائل ہوا

غــزلیـــــات

اس زبانِ تلخ کا تلوار ہونا ہائے نرگس کا چمن میں خار ہونا تم نے پانی سے کِھلائے ہونگے باغ ہم نے دیکھا آب کا ہے نار ہونا رُخ بدلنے میں تیرا فنکار ہونا میرے دل کا صاحبِ افکار ہونا ہے ضروری رات بھر اذکار ہونا میری غزلوں میں تیرا کردار ہونا ہے مؤحد میرا دل مشرک نہیں عشق کا  آساں نہیں سو بار ہونا دل میں ہو  ایمان  یا  ہو کفر ہے ضروری سر  پہ اب دستار  ہونا تم گئے لیکن  یہ عادت نا گئی  بے سبب بے ساختہ بے زار ہونا ہجر کا ہے یہ خلشؔ عالی مقام  آنسوؤں میں جام کا خمار ہونا   خلشؔ لارم اننت ناگ،کشمیر Khalish25x@gmail.com محوِ خواب هوں نیند سے جگانا مت کھل جائے گی حقیقت تو چُھپانا مت یهاں کب کون بھرم رکھتا هے حالِ دل کسی کو بتانا مت میراث اَسلاف کی هے

غزلیات

 ناصر کاظمی کی زمین میں   جب سے تُو نے ہمیں بیگانہ بنا رکھا  ہے "سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اُٹھا رکھا  ہے"  نہجِ نبوی سے مسلمان گریزاں کیوں ہیں  نورِ وحدت کو جہالت میں چھپا رکھا ہے  اب کہاں آئیں گے رحمت کے فرشتے در پر ہم نے ابلیس کو آنگن میں بٹھا رکھا ہے  ہم ہیں وہ قوم کہ جس سے ہے خدا روٹھا ہوا ہم نے دنیا کو عذابوں میں پھنسا رکھا ہے  اسطرف بھی کبھی آجاتا مرے جانِ عزیز میں نے تیرے لئے کاشانہ سجا رکھا ہے تنگدستی کی اذئیت سے بچا رہتا ہوں  شکر ہے ہاتھ سدا اپنا کُھلا رکھا  ہے  اب کہاں ہوگا سکوں ہم کو میسر بسملؔ  ربِ اقدس کو تو اب ہم نے بُھلا رکھا ہے   خورشیدبسملؔؔ تھنہ منڈی ، راجوری موبائل نمبر؛9622045323 غزلیات اگر پاسِ وفادار

غزلیات

 ترے ہجراں میں اِن آنکھوں کو جلانے کے لئے کتنے پروانے جلے راز یہ پانے کے لئے قتل میرا تو سرِ عام ہوا ہے پھر بھی لوگ کچھ آ گئے مجرم کو چُھڑانے کے لئے دم نکلتا ہے کہاں عشق کے بیماروں کا میں نے کیا کُچھ نہ کیا جان سے جانے کے لئے تیرا مُجرم ہوں مسلسل ہی سزا کاٹ رہا ہوں کوئی حد بھی تو مقرر ہو دیوانے کے لئے میں نے تنہا ہی ترے شہر سے ہجرت کر لی لوگ چلتے ہیں کہاں ساتھ نبھانے کے لئے ہم سے اک گھر بھی بسایا نہیں جاتا جاویدؔ آپ نکلے ہیں نیا شہر بسانے کے لئے   سردارجاویدخان موبائل نمبر؛9419175198 مینڈھر پونچھ     بھٹکی ہوئی نگاہ تھی مجھ پر ٹھہر گئی  دیکھا جو اُس نے پیار سے میں تو سنور گئی    تیرے لبوں سے سن کے صنم نام غیر کا  زندہ ہے جسم آج مگر روح مر گئی  &nb

غزلیات

میں سچ کہوں تو یہ دل بدحواس ہے ہی نہیں جو لگ رہا ہے بظاہر اُداس، ہے ہی نہیں    وہ جس کو ہجر کے صدمے سے لطف نا آئے مری نظر میں محبت شناس، ہے ہی نہیں   یہ عشق آپ سے لوگوں کا کام ہے پیارے ہمارے جیسوں کو یہ کام راس، ہے ہی نہیں   مجھے یہ شک کہ یہیں آس پاس ہے میرے مگر وہ شخص مرے آس پاس، ہے ہی  نہیں   یہ لوگ راہ میں بیٹھیں تو  کس لئے؟ کہ انہیں کسی کے لوٹ کے آنے کی آس، ہے ہی نہیں   جعفر تابش مغلمیدان، کشتواڑ موبائل نمبر؛ 8492956626       یہ جو مقتل میں میری لاش پڑی ہے لوگو دھوپ سے اس کو اُٹھانے کی ضرورت کیا ہے مات کا داغ ہے ماتھے پہ شرمسار ہوں میں خاک چہرے سے ہٹانے کی ضرورت کیا ہے میرے قاتل سرِ محشر بھی بچاؤں گا تجھے خون دامن سے م

غزلیات

 کوئی نہ آئے گا تو انتظار مت کرنا  کہا تھا دل نے یہ مجھ سے کہ پیار مت کرنا تُو مسکرا کہ یہی دن ہیں مسکرانے کے غمِ حیات سے دل سو گوار مت کرنا مسرتوں کو بھی حاصل نہیں ثبات یہاں مسرتوں سے یہ دل ہم کنار مت کرنا ہے فہم کس کو جو دِل کا معاملہ سمجھے کسی کی یاد میں دل بے قرار مت کرنا وہ جس کو ہو نہ شعورِ وفا ذرا سا بھی وفا شعاروں میں اس کا شمار مت کرنا سکونِ زندگی جس کی نظر میں کچھ بھی نہیں سکونِ زیست تو اُس پر نثار مت کرنا وہ شخص جس کو وفا کا نہیں ذرا بھی شعور تُو اس کا ذکر یہاں بار بار مت کرنا پرکھ کسی کو نہ ہو پیار کی جہاں اے دوست وفا جتا کے یہاں خود کو خوار مت کرنا ہر ایک شخص ہے خود اپنے راستے پہ رواں یہاں کسی کا بھی تو انتظار مت کرنا ہے اپنے رستے پہ ہر شخص گام زن عارف

نعتیں

نعتِ مقدسﷺ خدا سے کیسے میں تقدیر میں لکھاؤں تجھے اے شہرِ پاکِ نبیؐ کس طرح سے پاؤں تجھے درِ رسول ؐپہ یہ عمر کاٹ کر اپنی چل اے حیات مری اب سنوار لاؤں تجھے نبی ؐکے شہر کے اوصاف میں سمایا ہوا تصورات کا احوال آ سناؤں تجھے نبی ؐکے عشق کا بس یاد کرکے ایک سبق  اسی میں ہے بھلا اے دنیا بھول جاؤں تجھے نبیؐ کی نعتِ مقدس اگر نہ لکھّوں تو اے میرے ذہن بتا پھر کہاں کھپاؤں تجھے خوشا نصیب ہے مرکز ترا دیارِ نبیؐ مرے شعورِ عقیدت گلے لگاؤں تجھے گھرا ہے ظلمت و بدعت میں تو دلِ ناداں تباہیوں سے بتا کس طرح بچاؤں تجھے اے حسنِ گنبدِ خضرا تو ہے نظر میں بسا میں دیکھ دیکھ کے ہر لمحہ مسکراؤں تجھے غمِ فراقِ مدینہ میں لمحہ لمحہ ذکیؔ جو دل پہ بیت رہی ہے وہ کیا بتاؤں تجھے   ذکی طارق بارہ بنکوی  سعادت گنج،بارہ بن

غزلیات

مجھے ز ما نے کی مشکلو ں سے نکا ل مُر شد کہ گُمرہی میں بھٹک نہ جاؤں سنبھال مُرشد بشر ہوں بھولے سے غیر در پر چلا بھی جاؤں تُو اپنے د ل میں ذرا نہ لا نا ملا ل مُرشد یہ کیسی تُو نے لگن لگا ئی  ہے  چا ہتو ں کی مجھے  ہے  تیرا نما ز  میں  بھی خیال مُرشد نو از نا  تو  ہے تیر ی فطر ت گد ا گر و ں کو ہمیں بھی دے دے ذرا سی مٹی نہ ٹال مُرشد میں تاب اُن کی نہ لا سکوں گا مجھے یقیں ہے کہ جب بھی مُد ت کے بعد ہو گا وصال مُرشد فلک نے جب بھی گرائی بجلی مکاں پہ میرے مجھے بچا کر کیا ہے تُو نے کما ل مُرشد عبا د تو ں کیلئے ہے کا فی یہ د ل کا  گوشہ میر ے تصو ر میں تو  بسا ہے بلا ل مُرشد میں چُن کے لایا ہوں تہہ سی موتی بصارتوں کے مجھے سمند ر کی بن کے  لہر یں اُچھال  مُرشد مجھے تمنا عر و

غزلیات

زندگی کیسے نبھائیں، یہ سمجھنا چاہئے بوجھ یہ کیسے اُٹھائیں، یہ سمجھنا چاہئے کہکشاں ساری ،یہ بحر و بر تھے تیرا کارواں اب  فقط کالی گھٹائیں، یہ سمجھنا چاہئے یادِ ماضی ہے تمہارے واسطے سوہانِ روح درد کی کیا ہیں دوائیں، یہ سمجھنا چاہئے اک نیا ہی عزم ہے درکار ساری قوم کو پاؤں پھر  کیسے جمائیں، یہ سمجھنا چاہئے چار سُو ہیں راستے ہی راستے پیشِ نظر راہِ حق پہ کیسےآئیں، یہ سمجھنا چاہئے کردیا جھوٹے خداؤں نے ہمیں رُسوا بہت ہم کو اتنی کیوں سزائیں، یہ سمجھنا چاہئے جذبہء ایثار سے قومیں ہوئیں محروم جب  مسندِ عزت نہ  پائیں، یہ سمجھنا چاہئے اپنی دستارِ فضیلت کا اگر احساس ہے کیوں درِباطل پہ جائیں،یہ سمجھنا چاہئے اب نہ بسملؔ نیند کی چادر رکھو اوڑھے ہوئے تاک  میں ہیں سو بلائیں، یہ سمجھنا چاہئے   خورشی

غزلیات

خلوت کدے میں چاہ کے نا عکسِ غیر رکھ اپنے مکاں میں کوئی نہ اپنے بغیر رکھ  پکی سڑک پہ دھوپ نے مرہم بچھا دیا تو آبلوں کا سوچ نہ بے فکر پیر رکھ دشتِ جنوں کے ظرف میں ہو آشنائے غم پاؤں کی ٹھوکروں پہ تماشائے سیر رکھ روزن کُھلے تو عکس کا ہمزاد ہوں عیاں  پھر چاہے  زیرِ آنکھ حرم یا کہ دیر رکھ مانا کہ تجھ پہ وقت ذرا سا ہے مہرباں اپنی انا سے کچھ تو میرے یار بیر رکھ پیہم سنائی دیتی ہے رختِ سفر کی بات کچھ تو ندی کے پاس نشاں تیر تیر رکھ تُوشاعرِ خیال ہے شیداؔ تو کیا ہوا الفاظ میں تو وسعتِ پروازِ طیر رکھ   علی شیداؔ نی پورہ، نجدون ،اننت ناگ کشمیر ، موبائل نمبر؛7889677765     مری اُن سے مل گئی تھی جو نگاہ چلتے چلتے  مرا دِل وہیں لُٹا تھا سرِراہ چلتے چلتے   تھے تو اجنبی

غزلیات

ایک مُٹھی شام دے دو پیار کے دو گام دے دو گلاب گالوں کی تمتماہٹ نشیلی آنکھوں کے جام دے دو مرے اندر آئیو تم مجھ کو اپنا نام دے دو ہونٹھ چاہے بند کرلو آنکھ سے پیغام دے دو تم سدا میرے رہو گے یہ خیالِ خام دے دو چاند ہو تو دیکھنے دو چاہے پھر الزام دے دو گرمحبت مل سکے تو  زندگی بے دام دے دو زلف کے سائے کے نیچے دو گھڑی آرام دے دو   خوش دیو مینی پونچھ،جموں وکشمیر  موبائل نمبر؛8493881999   زخم سوغات پر اُتر آئے اشک برسات پر اُتر آئے صرف دیکھا تھا اک نظر یوں ہی وہ ملاقات پر اُتر آئے مجھکو دشمن کی کیا ضرورت ہے "دوست سب گھات پر اتر آئے" وہ مقابل تھا سامنے اپنے اس لئے مات پر اُتر آئے چوٹ گہری نہیں لگی پھر بھی درد نغمات پر اُتر آئے صرف شیش

نعتیں

نعت خوابیدہ مقدر کو جگانے میں لگے ہیں ہم روضۂ سرکار پہ جانے میں لگے ہیں اعدائے نبی آگ لگانے میں لگے ہیں ہم نادِ علی پڑھ کے بُجھانے میں لگے ہیں سرکار کے قدموں کے فیوضات کی خاطر جبریلِ اَمیں پر کو بچھانے میں لگے ہیں محشر میں گنہگاروں کی بخشش کے لئے بس رب کو مرے سرکار منانے میں لگے ہیں دیکھو تو ذرا آقا کی ہم سب سے محبت خود بُھوکے رہے ہم کو کِھلانے میں لگے ہیں سرکار مرے دامنِ الطاف و کرم میں امّت کے گناہوں کو چھپانے میں لگے ہیں پھر بھیج دے دنیا میں عمر کوئی خدایا پھر دشمنِ دیں دین مٹانے میں لگے ہیں عشّاق کو محشر میں اے" زاہد "مرے رب سے پروانہ ء جنت وہ دلانے میں لگے ہیں   محمد زاہدؔ رضا بنارسی دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج بھدوہی۔یوپی بھارت     نعت شریف اگر دیکھی محم

غزلیات

نیزے پہ لہو کی کوئی قیمت نہ ملے گی  مقتول کو مرکے بھی رفاقت نہ ملے گی  شکوہ نہ ملے کوئی شکایت نہ ملے گی  شعروں میں کسی کے یہ بلاغت نہ ملے گی  کلیوں کو تبسم کی اجازت نہ ملے گی  تتلی کی نگاہوں میں شرارت نہ ملے گی  الله  رے ہمیں آپ کی قربت نہ ملے گی  محشر میں بھی جلوئوں کی قیامت نہ ملے گی  دوچار قدم چل کے ضمانت نہ ملے گی  سینوں میں محبت کی امانت نہ ملے گی کشمیر کے رنگوں میں تبسم ہے صبا کا  پھولوں کی کہیں تم کو نظامت نہ ملے گی  منصف طرفدار تو انصاف کا ہوگا  عادل ؔکی عدالت میں سیاست نہ ملے گی    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی سرینگر موبائل نمبر؛ 7780806455     جہاں میں اب وفاداری نہیں ہے وہ پہلی سی  ملنساری نہیں ہے &n

غزلیات

  آئینے میں اُتر گئے ہوتے ٹوٹ کے ہم بکھر گئے ہوتے زندگی کے بھی کچھ تقاضے ہیں ورنہ جاں سے گزر گئے  ہوتے غم کی ہوتی مٹھاس ہے اپنی کوئی چارہ تو کر گئے ہوتے وقت سے خاک ڈالنا چُھوٹا زخم دو چار بھر گئے ہوتے آپ آتیں تو قوس قزح کے رنگ ساتوں اُتر گئے ہوتے عشق زادہ ہوا نہ تخت نشین  بخت بگڑے سنور گئے ہوتے اِس خرابے  میں  آگئے شیدؔا ہاں، نہیں تو کدھر گئے ہوتے   علی شیدا ؔ  نجدون نیپورہ اننت ناگ موبائل  نمبر؛9419045087       غزلیات اپنے بچوں کو ہم  بے کار نہ ہونے دیں گے یہ تو ہیں پھول انہیں خار نہ ہونے دیں گے   رکھ کے پردوں میں بچائیں گے گھروں کی عزت

منقبت

رخُُِ دین کا نِکھار علی حیدرِ کرارؑ   پتجھڑ میں ہیں بہار علی حیدرِ کرار مچھلی نے پڑھا نادِ علی تو تیر اِک چلا   ساغر کےآر پار علی حیدرِ کرار شیوہ نہیں ہے شیر کا پیچھے سے جھکڑنا   آگے سے کرے وار علی حیدرِ کرار مادر نے میری مجھ کو ہے شیر پکارا   کہتے ہیں بار بار علی حیدرِ کرار جاتے کہاں ہو بس یہی سیراب ہوں گے تم   ہیں علمِ آبشار علی حیدرِ کرار مشکل کے وقت بھاگنا بزُدل کا کام ہے   ہوتے نہیں فرار علی حیدرِ کرار مایوسیوں کو چھوڈ دو معصوم یتیمو   تم سب کے غمگُسار علی حیدرِ کرار مولا میرے جو آپ کو پہچان نا سکا   ہوگا وہ شرمسار علی حیدرِ کرار آنا نہ کبھی جنگ میں صفدر کے سامنے   ہے ربّ کی زولفقار علی حیدرِ کرار حکمِ رسول ﷺ پر لبیک دل و جان

غزلیات

دل تجھ پہ فدا شوق سے دلدار کروں گا میں پاس ترے عشق کا اظہار کروں گا خود کو میں ترے واسطے ہوشیار کروں گا  ہاں پیر کو بدھ ، بدھ کو میں اتوار کروں گا اک جلوہ دکھا یار! مجھے ،در پہ پڑا ہوں سینے میں حزیں قلب کو سرشار کروں گا آ کر تو مجھے آج پِلا شربتِ دیدار ورنہ لہو سے سرخ یہ دیوار کروں گا اک بار مجھے آزماء، میں جان یہ اپنی قربان تری راہ میں سو بار کروں گا شادابؔ میں باطل سے ڈروں یہ نہیں ممکن حق بات کا اعلان سرِ دار کروں گا    شفیع شادابؔ پازلپورہ شالیمارسرینگر کشمیر موبائل نمبر؛9797103435     بے رنگ زندگی ہے اگر کوئی غم نہیں گھر میں مکیں نہ ہو تو کھنڈر سے وہ کم نہیں کیسے وہ لکھ رہے ہیں سب اعمال میرے دیکھ کاغذ نہیں، سیاہی نہیں ہے، قلم نہیں مانوس ہو چکا ہوں میں تنہائی سے بہت

غزلیات

  بھول جا عُشّاق اب اُردو زباں کو بھول جا مجھ سے کہتے ہیں مِرے احباب ماں کو بھول جا بھول جا عُشّاقؔ اب ’اردو‘ زباں کو بھول جا عصرِ نو میں ہے عنانِ ریختہ بونوں کے ہاتھ بھول جا یکسر ابھی تو بازباں کو بھول جا تذکرۂ اقبالؔ و چکبستؔ کیوں کِیا کرتے ہو یار بزمِ ہندؔ میں ان کے اب ذکر و بیاں کو بھول جا وہ شبابؔ منشاؔ وہ آزادؔ اور وہ عابدؔ و نورؔ نورِ اردو سے مزین کہکشاں کو بھول جا یہ زبانِ سلف مانو ہے ابھی گرداب میں گردشِ دوراں کے اس دورِ زماں کو بھول جا تُخم ریزی سر زمینِ ہندؔ میں اس کی ہوئی جس جس کے ہاتھوں سے ہوئی اُس جانفشاں کو بھول جا ہے مسلّم مہرو مہ کا ہے مِیاں اپنا وجود کُند سر کہتے ہیں اکثر مہر و ماہ کو بھول جا حال ’اردو‘ کا لکھا جن صاحبوں نے ذوق سے بھول جا عُشّاقؔ اُن تاریخ داں کو بھول جا

غزلیات

ہیں فضلِ خدا تیری مخمور آنکھیں کہاں سب کو ملتی ہیں پُرنور آنکھیں   فقط اپنی پلکوں کی  جنبش کے دم پر  جو کہتا ہو کہتی ہیں مشکور آنکھیں   جو ٹکرائے گا اِن سے گُل کے گُماں میں تو کردیں گی پتھر کو بھی چُور آنکھیں   خُدا تک رسائی کا ہیں اِک وسیلہ ہوئے تُم جو موسیٰ تو کوہِ طُور آنکھیں   سمجھنے لگیں لوگ اِن کو دوکاں ہی خدا را نہ کر اتنی مشہور آنکھیں   ترجماں ہیں پنچھیؔ یہ رنج و لم کی نظر آرہی ہیں جو رنجور آنکھیں   سردار پنچھیؔ ملیر کوٹلہ پنجاب موبائل نمبر؛9417091668   کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے پایا ہوا سب کھو سکتا ہے   اس کے ساتھ ہوا جو سب کچھ میرے ساتھ بھی ہو سکتا ہے   وہ اپ

غزلیات

وقت مُشکل ہو کہ آسان گُزر جائے گا تُو بھی اک دن اِسی مٹی میں اُتر جائے گا پھر اُگے گا نیا سورج نئی اُمید کے ساتھ پھر کسی شام کی دہلیز پہ مر جائے گا ایک دریا مری آنکھوں سے جو نکلا ہے ابھی جب سمندر سے ملے گا تو ٹھہر جائے گا لوٹ آتے ہیں پرندے بھی گھروں کو اکثر وہ بھی اب عالمِ بالا سے اُتر جائے گا جسم مٹی کے مجسمے کے سوا کچھ بھی نہیں ایک ٹھوکر جو لگے گی تو بکھر جائے گا میں نے اُمیدِ رہائی نہیں باندھی جاویدؔ میرا محسن سرِ اجلاس مُکر جائے گا   سردارجاویدؔخان مینڈھر پونچھ موبائل نمبر؛ 9419175198       غزل سخن سخن کو گُلِ تر بنا کے بیٹھے ہیں  کلامِ یار سے خوشبو چُرا کے بیٹھے ہیں    نگاہِ ' بزم میں جو سر جھکا کے بیٹھے ہیں&nbs

غزلیات

 رب سے باتیں کیا کرو یارو اپنے سب غم ہوا کرو یارو بندگی سے عروج پاؤگے تم خدا مَت بنا کرو یارو زندگی  ایک بار ملتی ہے        ہر کسی کا بھلا کرو یارو زیر دستوں کی مختصر دنیا نہ انہیں تم خفا کرو یارو  حد سے باہر ہزار خطرے ہیں حد کے اندر جیا کرو  یارو غیظ پَل بھر میں راکھ کرتا ہے زہر یہ پی لیا کرو یارو چھوٹی باتوں پہ کان دھرنا کیا نہ کسی سے گلہ کرو یارو کچھ تو رکھّو بھرم محبت کا  تم بھی ہم سے وفا کرو یارو بھول جاؤ عنایتیں کرکے بن بتائے دیا کرو یارو قَول انساں کو عزتیں بخشے مت کسی سے دغا کرو یارو دل کے ٹکڑے ہیں شعر بسملؔ کے اس کے حق میں دعاکرو یارو   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی راجوری جموں وکشمیر موبائل نمبر؛9086395995