تازہ ترین

سال 2014سے 2019 تک

نئی دہلی // جموں وکشمیر سمیت ملک کی دیگر ریاستوں میں 2014 سے 2019 تک بغاوت کے قانون کے تحت 326 مقدمات درج کئے گئے ہیں جن میں سے صرف 6 افراد کو سزا سنائی گئی ہے ۔ تاہم اس بات کی اطلاعات نہیں کہ 2019 اور 2021کے درمیان کتنے کیس رجسٹر کئے گئے ۔ جموں وکشمیر میں بغاوت کے 25مقدمات درج ہوئے ہیں اور صرف تین معاملات میں چارج شیٹ دائر کی گئی ہے تاہم یہاں کسی کو بھی اس قانون کے تحت سزا نہیں سنائی گئی ہے۔ جموں وکشمیر میں تین معاملات میں چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ تاہم 2014 سے 2019 کے درمیان تینوں ریاستوں میں کسی کو بھی سزا نہیں سنائی گئی ۔سپریم کورٹ نے پچھلے ہفتے کہا تھاکہ آئی پی سی کی دفعہ 124 (اے)  بغاوت کے قانون کا بے حد غلط استعمال کیا گیا ہے۔مرکزی وزارت داخلہ کے اعدادوشمار کے مطابق 2014 اور 2019 کے درمیان ملک میں بغاوت کے قانون کے تحت مجموعی طور پر 326 مقدمات درج کئے گئے ، آسام میں سب سے

بھارت ،چین اورپاکستان سے لگنے والی سرحدوں پردائمی امن کا خواہاں

سرینگر//بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ ہندوستان اور دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر امن و امان بنائے رکھنے سے ہی خطے میں خوشحالی اور ترقی ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لداخ اور جموں کشمیر میں چین اور پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر اس وقت جو امن کی فضاء ہے، اس سے سرحدی آبادی کو سکون میسر ہوا ہے اور بھارت حتی امکان کوشش کرے گا کہ امن کی بحالی قائم رہے ۔سی این آئی  کے مطابق وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ بھارت اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر امن کا متمنی ہے تاکہ خطے میں ترقی اور خوشحالی برقرار رہے ۔ ان باتوں کااظہار وزیر خارجہ نے چین کے اپنے ہم منصب وانگ یی کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کیا ۔ اس موقعے پر دونوں رہنمائوں نے مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر موجودہ صورتحال پر تفصیلی گفتگوکی  ۔ اس بات کی جانکاری موصوف نے سماجی رابطہ وی

حدبندی کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعداسمبلی چنائو ہوں گے:اشوک کول

بانڈی پورہ//جموں کشمیرمیں حدبندی کمیشن کاکام مکمل ہونے اور اس کے رپورٹ پیش کرنے کے ایک دو ماہ بعداسمبلی انتخاب کاانعقاد عمل میں لایا جائے گا۔ان باتوں کااظہار پارٹی کے جنرل سیکریٹری اشوک کول نے بانڈی پورہ میں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں کشمیرکی 87اسمبلی نشستوں میں سے جموں کشمیر کو دومرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کئے جانے کے بعدچار نشستیں کم ہوئی ہیں تاہم اب ریاستی اسمبلی کی نشستوں میں سات سیٹوں کااضافہ ہوگا۔کول نے کہا کہ یہ ساراکام حدبندی کمیشن کرے گااور اس میں کوئی شک کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ دفعہ370اور35Aایک تاریخ ہے اوراب جموں کشمیرکے لوگوں کو خطے کی ترقی کی طرف توجہ دیناہوگی۔  

سیلابی صورتحال کی پیش گوئی کے مدنظرقبل ہی اقدامات لازمی:اشرف میر

سرینگر//سابق وزیر اور اپنی پارٹی صوبائی صدر کشمیر محمد اشرف میر نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے گذارش کی ہے کہ محکمہ موسمیات کی طرف سے جموں اور وادی کے پہاڑی علاقوں میں سیلابی ریلوں اور مٹی کے تودے گرآنے کی پیش گوئی کے مدِ نظر ہرممکن پیشگی اقدامات اُٹھائے جائیں۔ یہاں جاری بیان میں انہوں نے کہاکہ ناسازگار موسم کی پیش گوئی سے جموں وکشمیر میں سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اور اِس سے پوری چوکسی اور تندہی سے نپٹنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے بعد خاص طور سے دریاؤں کے کنارے اور بالائی علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ پسیاں گر آنے، سیلابی ریلے اور چٹانیں گرنے کا حدشہ ظاہر کیاگیا ہے۔ کشمیر میں متعلقہ ضلع انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیموں کو متعلقہ علاقوں میں روانہ کرنے اور بروقت قیمتی جانوں کو بچانے کے لئے ضروری اقدامات یقینی ب

۔5اگست 2019کے فیصلوں کی منسوخی میں جموں وکشمیر میں امن و امان کا راز مضمر: کمال

 سرینگر// افسر شاہی جمہوریت کیلئے سم قاتل ہے اورجموں کشمیرکاپورا نظام اس وقت درہم برہم ہے۔ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مصطفی کمال نے اپنی رہائش گاہ پر کئی وفود سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔ایک بیان کے مطابق نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام گذشتہ کئی برسوں خصوصاٍ 5اگست2019سے برابر زیر عتاب ہیں اور ظلم و ستم کی چکی میں پسے جارہے ہیں۔ لوگوں کی اقتصادی اور معاشی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ اور ناقابل بیان ہے اور حکومتی سطح پر آئے روز ایسے غیر سنجیدہ اور غیر دانشمنداہ عوام مخالف فرمان جاری کئے جارہے ہیں، جو آئینی اور جمہوری قدروں کے عین منافی ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ جموں و کشمیر میں مخصوص نظریہ رکھنے والے افراد کی ایماء پر حکمرانی ہورہی ہے اور انہی کی منشاء کے مطابق فیصلے لئے جاتے ہیں اور احکاما

ویشنہ سر کی مہم جوئی پھر شروع

کنگن//سیاحتی مقام سونہ مرگ کے شتکڑی سے 30کلو میٹر دوری پہاڑ کے دامن میں واقع ویشنہ سر میں ان دنوں مقامی سیلانیوں اور سیاحوں کی ٹریکنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں سیاحت شعبے سے افراد خوش نظر آرہے ہیں ۔سیاحت شعبے سے جڑے افراد کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس کورونا وائرس کی وجہ سے ویشنہ سر میں ٹریکنگ کا سلسلہ بند ہوگیا تھا لیکن امسال کورونا وائرس کے پازیٹیو کیسوں میں کمی واقع ہونے سے گذشتہ ایک ماہ سے ٹریکنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا  جس میں مقامی سیلانیوں کے علاوہ سیاح شامل بھی ہیں اور پہلے روز ٹریکنگ پر آنے والے سیاح شتکڑی سونہ مرگ کے مقام پر نالہ سندھ کے کنارے پر کم سے کم دو روز قیام کرنے کے بعد وشنہ سر کا سفر شروع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویشنہ سر میں ایک بڑا تالاب ہے جس میں ٹرائوٹ مچھلیاں پائی جاتی ہیں اور اکثر سیاح اور مقامی سیلانی زیادہ تر ان کو ہی کھانے میں پسند کرتے ہیں اور ویشنہ سر

صدفیصد احاطہ ہدف

جموں//سٹیٹ ہیلتھ ایجنسی ’’ گائوں گائوں آیوشمان ‘‘ کے اِقدام کا مقصد جموںوکشمیر میں آیوشمان بھارت کا رڈ وں کو مہیاکرنا ہے جس میں لوگ جوش و جذبے سے شرکت کر رہے ہیں۔اِس اِقدام کا آغاز جموںوکشمیر یوٹی کے تمام اَضلاع میں ایک ایک بلاک میں کیا گیا ہے۔اِس مہم کا بنیادی مقصد جموںوکشمیر کے اضلاع کے مختلف بلاکوں میں 15 جولائی 2021ء سے 19 جولائی 2021ء تک شروع ہونے والے ہر اہل مستفید کی رجسٹریشن کرنا ہے۔جس میں جموں کے اضلاع  میں پہلے مرحلے میں بھلیسہ (ڈوڈہ) ، ارنیہ (جموں) ، باگگن (کٹھوعہ) ، درب شالہ (کشتواڑ) ، بفلیاز (پونچھ) ، درہال (راجوری) ، بٹوت (رام بن) ، بھو ماگ (ریاسی) ، بڑی براہمنا(سانبہ) اور چنونٹا (اودھمپور )شامل ہیں ۔ اِسی طرح صوبہ کشمیر میں بیجبہاڑہ ( اننت ناگ ) ، ارین ( بانڈی پورہ ) ،بونیار ( بارہمولہ ) ، بی کے پورہ ( بڈگام) ، لار ( گاندربل)، ڈی ایچ پورہ(

گاندربل ضلع کے کئی علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت

کنگن+گاندربل//ضلع گاندربل کے بنہ پورہ کلن گنڈ  اور وانی محلہ کے لوگوں نے سرینگر لداخ شاہراہ پر جل شکتی محکمہ کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا۔دھرنے پر بیٹھے لوگوں نے کہا کہ گذشتہ آٹھ روز سے انہیں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے اور انہیں ندی نالوں کا ناصاف پانی استعمال کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکمہ کو اس ضمن میں کئی بار پینے کے پانی کی سپلائی بحال کرنے کیاپیل کی گئی لیکن کوئی اقدام نہیں کیا گیاجس کے سبب وہ سڑک پر نکلنے کیلئے مجبور ہوگئے ۔مقامی سرپنچ نے اس موقع پر کہا کہ اگر چہ بابا پورہ کلن میں تیس لاکھ روپئے کی لاگت سے نیا فلٹریشن پلانٹ تعمیر کیا گیا ہے لیکن آج تک اس کو چالو نہیں کیا گیا ۔ اس سلسلے میں جل شکتی محکمہ کے ایگزیکٹیو انجینئر کنگن نثار احمد ڈار  نے بتایا کہ محکمہ نے فلٹریشن پلانٹ کی تعمیر کے لئے جس شخص سے اراضی حاصل کی گئی ہے اس سے بات چیت جاری ہے اور یہ معاملہ

سی سی ٹی وی کا فائدہ

گاندربل//صفاپورہ بازارمیں دوران شب نقب زنوں کی سرگرمیوں کے سبب تجارت پیشہ افراد میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔اس سلسلے میں کئی تاجروں نے بتایا کہ پچھلے چند روز سے دوران شب نقب زنوں کی سرگرمیاں جاری ہیں جن کی تصویریں سی سی ٹی وی کیمرے میں عکس بند ہوچکی ہیں۔غلام قادر نامی ایک دوکاندار نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں سے دوران شب نقب زنوں کو لوہے کی سلاخوں سمیت سی سی ٹی وی فوٹیج میںدیکھا گیا جو دوکانوں کے شٹر توڑنے کی کوشش کررہے تھے۔انہوںنے اس سلسلے میں پولیس کو اطلاع دی جبکہ پولیس کے اعلیٰ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔  

جموں وکشمیر کے عوام کی کامیابی اور عالمِ انسانیت کی بقا کیلئے دعا کریں

سرینگر//نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے عازمین حج سے اپیل کی کہ وہ مناسک حج کے دوران دوران جموںوکشمیر کے عوام کی فتح و نصرت، امن و استحکام، خوشحالی اور عالم انسانیت کی بقا کیلئے دعا کریں۔ انہوں نے سعودی عرب میں مقیم کشمیریوں، جو امسال حج کی سعادت حاصل کررہے ہیں، سے اپیل کی کہ وہ جموں وکشمیر کے عوام کو موجودہ چیلنجوں سے نجات کیلئے خصوصی دعائوں کا اہتمام کریں۔ ڈاکٹر فاروق نے عازمین سے کہا کہ وہ دُنیا بھر کے مسلمانوں کے مشکلات اور حالات کو مدنظر رکھ کر اللہ کے دربار میں سروسجود ہوکر دعا کریں تاکہ عالم اسلام کو درپیش موجودہ مشکلات سے چھٹکارا مل سکے۔  

کشمیری زبان کو عام کرنے کی پہل

 سرینگر// ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان سپیکرمنیر احمد ڈار،جن کی عملی تربیت دوران طالب علمی ادارہ کشمیر عظمیٰ میں ہوئی،نے کشمیری زبان کو عام کرنے اور تمام لوگوں خاص نوجوان نسل کر سوشل میڈیا کے کئی پلیٹ فارموں کے ذریعے مادری زبان کی طرف راغب کرنے کی منفرد پہل کی ہے جس کو سماج کے تمام لوگوں نے زبردست سراہنا کی ہے ۔ضلع کے کھاگ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان منیر احمد ڈار نے کشمیر زبان کو عام کرنے اور لوگوں کو اس زبان کی طرف کئی اہم اقدامات کئے جہاں لوگوں کی طرف سے ان اقدامات کی بڑے پیمانے پر سراہنا کی جاری ہے ۔منیر ڈار دور درشن سرینگر کے ایک معروف پروگرام گڈمارننگ جے اینڈ کے۔ یوتھ فورم اورریڈیو کشمیر سرینگر کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے کئی اعلیٰ پرنٹ میڈیا اداروں کے ساتھ وابستہ رہ چکے ہیں۔ منیر احمد ڈار نے بتایا کہ انہوں نے مادری زبان کی طرف لوگوں کو راغب کرنے اور اسے کشمیر

رجنی پاٹل کا پردیش کانگریس رہنمائوں سے دوسرے دن بھی تبادلہ خیال

سری نگر//کل ہندکانگریس کمیٹی جموں وکشمیر اور لداخ تنظیمی امورکی انچارج نے اتوار کے روز سری نگر پارٹی رہنماؤں ، ضلع صدور اور باقی لوگوںسے بات چیت کی اور آنے والے دنوں میں کشمیر بھر میں پارٹی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک نقش راہ تیار کیا۔ کے این ایس کے مطابق اے آئی سی سی انچارج اور جے کے پی سی سی صدر نے پارٹی کے درجنوں وفود سے بات چیت کی اور پارٹی سرگرمیوں کے سلسلے میں رائے حاصل کی ، کارکنوں سے پارٹی کے پروگراموں اور پالیسیوں والے لوگوں تک پہنچنے کے علاوہ پارٹی کو مضبوط بنانے کے لئے پرعزم رہنے کی بھی تاکید کی۔کل ہند کانگریس کمیٹی کی انچارج نے تنظیمی امور کے حوالے سے اضلاع میں نچلی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں رائے حاصل کی اور پارٹی کے پروگراموں اور پالیسیوں کولوگوں تک پہنچانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ  وہ میڈم سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کی قیادت میں ان کے لئے کام کرتی ر

مزید خبرں

ملہ پورہ نارواو فلٹریشن پلانٹ ایک سال سے بے کار فیاض بخاری  بارہمولہ// ضلع بارہمولہ کے ملہ پورہ نارواوعلاقے میں قائم واٹر فلٹریشن پلانٹ پچھلے ایک سال سے ناکارہ پڑا ہے جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں کو مشکلات درپیش ہیں ۔ مقامی لوگوں کے مطابق اگر چہ سرکار نے دو سال قبل ایک فلٹریشن پلانٹ تعمیر کیا تھا جس سے پینے کا صاف پانی فراہمی ہوتا تھا تاہم محکمہ جل شکتی کی عدم توجہی کی وجہ سے کچھ ماہ بعد ہی بند ہوگیا بلکہ گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے بیکار پڑا ہے ۔منظور احمد راتھر نامی ایک شہری نے بتایاکہ محکمہ جل شکتی کی لاپرواہی سے فلٹریشن پلانٹ میں فضلہ جمع ہوا ہے اوراس میں آس پاس کے علاقے کی گندگی ہے جس نے پلانٹ کو ناکام بنادیا ہے اور اس کا پانی پینے کے قابل نہیں ہوتاتھا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ  فلٹریشن پلانٹ میں جنگلی جانور بھی گومتے ہیں کیونکہ فلٹریشن پلانٹ جنگل

۔ 4ماہ بعد یومیہ تعداد100سے کم

سرینگر //کشمیر صوبے میں 124دنوں کے بعد روزانہ متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 100سے کم ہوگئی ہے۔ اتوار کو جموں و کشمیر میں کورونا وائرس سے 146افراد وائرس سے متاثر ہوئے جن میں 58جموں جبکہ 88کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسطرح 16مارچ کے بعد پہلی مرتبہ کشمیر صوبے میں کورونا متاثرین کی تعداد 78تھی۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 3لاکھ 19ہزار 901تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران کشمیر صوبے میں 5دنوں کے بعد ایک شخض کورونا وائرس سے فوت ہوگیا ہے جبکہ جموں میں کوئی بھی شخص وائرس سے کسی کی جان نہیں گئی ہے۔ متوفین کی مجموعی تعداد 4364ہوگئی ہے۔گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے 59ہزار 844ٹیسٹ کئے گئے جن میں 3سفر کرنے والوں سمیت 146افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ مثبت قرار دئے گئے 146افراد میں 58جموں جبکہ 88کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے سبھی 88افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ

تازہ ترین