تازہ ترین

ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ پر 10 گھنٹے بعد ٹریفک بحال

ڈوڈہ //بھاری برفباری سے جہاں ڈوڈہ ضلع کی رابطہ سڑکوں پر بھاری پھسلن پیدا ہوئی ہے وہیں متعدد مقامات پر پسیاں گرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا ہے۔ ادھر ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ پر جمعرات کی شب بھاری پسی گرنے کی وجہ سے دس گھنٹوں تک ٹریفک نظام معطل رہا جس دوران مسافروں و باالخصوص مریضوں و ضعیف العمر لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بھاری پتھر کی وجہ سے پسی ہٹانے میں تاخیر ہوئی تاہم دس گھنٹے بعد ٹریفک کو بحال کیا گیا۔ کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے عتیق الرحمن کی قیادت میں ایک وفد نے کہا کہ تعمیراتی ایجنسیوں نے سڑکوں سے مکمل طور پر برف نہیں ہٹائی ہے جس کی وجہ سے بھاری پھسلن و کورا لگنے سے سفر کرنے میں دقت پیش آتی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے تعمیراتی ایجنسیوں کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔   ڈوڈہ کے بالائی علاقوںمیں سڑک رابطے ہنوز منقطع  چوتھے روز بھی بجلی و سڑک را

برفباری کے بعد پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لینے کا مقصد

بانہال//برفباری سے پیدا ہوئی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے صوبائی کمشنر جموں راگھو لنگر نے جمعرات کی دوپہر بعد بانہال کا دورہ کیا اور ارکان انٹرنیشنل کے کانفرنس ہال میں ضلع اور سب ضلع افسروں کی میٹنگ سے خطاب کیا۔ ان کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام اور ایس ایس پی رام بن موہیتا شرما ، چیف میڈیکل افسر رام بن ڈاکٹر محمد فرید بٹ ، ڈی ڈی کونسلر امتیاز کھانڈے اور دیگر افسران بھی تھے۔  صوبائی کمشنر نے قومی شاہراہ ، فورلین ٹنل اور سب ضلع ہسپتال بانہال کا دورہ کیا اور وہاں میسر سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ اور بنیادی سہولیات کی جلد از جلد بحالی کے بارے میں افسران پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی اور پانی کی سپلائی بحال کرنے ، شاہراہ پر گر آئی پسیوں کو صاف کرنے اور رابطہ سڑکوں سے برف صاف کرکے انہیں قابل آمدورفت بنانے کیلئے متعلقہ ذمہ داروں سے بات کی ہے

سرکاری سکیموں کا غریب عوام کو کوئی فائدہ نہیں

کشتواڑ//سرکاری سکیموں کا کتنا فائدہ غریب عوام کو ملتا ہے یہ بات کشتواڑ ضلع کے دیہات میں عیاں ہو جاتی ہے۔ اس بات کا اندازہ ضلع کشتواڑ کے تقریباً سبھی دورافتادہ علاقہ جات میں غریبی سطح سے نیچے رہ رہے لوگوں بخوبی ہے جنھیں ان سکیموں کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔اگرچہ پردھان منتری اواس یوجنا کے زریعے ملک بھر میں غریب لوگوں کو رہائشی مکان دیے گئے اور اثر رسوخ والے لوگوں کو ضلع میں  بھی مکانات فراہم کئے گئے لیکن نہ جانے کن وجوہات کی بناپر ان مستحق لوگوں کو اس سکیم سے محروم رکھا گیا ہے۔ سب ڈویژن چھاترو کے ذیوگ علاقہ کا رام کرشن گزشتہ کی سالوں سے ایک انتہائی خستہ حال ٹوٹے چند کمروں میں اپنی اہل و عیال کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے جو کسی بھی وقت گر سکتاہے۔لیکن اج تک اسکی مدد کیلے نہ کوئی انتظامیہ ائی اور نہ ہی کسی سیاستدان نے قدم بٹھایا۔ رام کرشن نے بتایا کہ اگرچہ گزشتہ سال انھیں یہ بتایا گیا

برف باری کے بعد چھاترو کے متعددعلاقے بجلی سے محروم

کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کی سب ڈویژن چھاترو کے متعدد علاقہ جات برفباری کے سبب بجلی سپلائی سے محروم ہے اور دس روز سے کی علاقہ جات گھپ اندھیرے میں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اگرچہ چند علاقہ جات میں بجلی کی سپلائی کو بحال کیا گیا لیکن اس کے باوجود ابھی بھی متعدد علاقوں کی عوام گھپ اندھیرے میں ہے جس سے انھیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ چھاترو کے چنگام،کھوڑہ ، کوترنہ، بسچین ،کلومولہ، بونگام ، پیٹھگام، وٹسر و کھلمونڑو کی عوام دس روز بعد بھی بجلی سپلائی سے محروم ہے۔ علاقہ کی عوام نے بتایا کہ اگرچہ ترسیلی لاینوں و پولوں کی مرمت کی گی لیکن بجلی کی سپلائی بحال نہ کی گی جسکے سبب عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے بچوں وودیگر کاروبار سے جڑے لوگ سخت مشکلات سے گزررہے ہیں ۔انھوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ جلداز جلد بجلی کی سپلائی کو یقینی بنایا جائے۔ وہیں چھاترو میں متعدد  سب ہیلتھ مراکز میں ع

ہائرسکینڈری سکول سنگلدان سے فلسر تک سڑک کا افتتاح

گول// سنگلدان میں ریلوے کارڈ بننے کی وجہ سے قریباً دس ہزار نفوس پر مشتمل آبادی بازار سے کٹ کر رہ گئی تھی اور انہیں کافی دور سے سفر کر کے بازار آنا پڑتا تھا اور کوئی متبادل نہیں تھا یہاں کی عوام کی یہ کافی عرصہ سے مانگ تھی کہ پیر موڑ سے گرگڈ نالہ تک پونے ایک کلو میٹر کی سڑک تعمیر کی جائے بالآخر مقامی لوگوں میں اس وقت خوشی کی لہر دوڑی جب متعلقہ ڈی ڈی سی ممبر و ضلع چیر پرسن ڈاکٹر شمشادہ شان نے اپنے ڈی ڈی سی فنڈ میں اس روڈ پر تعمیری کام شروع کروایا ۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ جب سے ریلوے کا کام یہاں شروع ہوا تب سے یہ پورا علاقے بازر سے کٹ کر رہ گیا تھا اور جہاں آدھ کلو میٹر بازار دور تھا وہیں لوگوں کو ریلوے یاڈ کی وجہ سے کئی کلو میٹر سفر کرنا پڑتا تھا ۔ انہوں نے اس موقعہ پر ڈی ڈی سی چیئر پرسن ڈاکٹر شمشادہ شان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لوگوں کی دیرینہ مانگ کو پورا کیا

مہاکنڈمیں بنیادی سہولیات بہم فراہم کی جائیں

گول//گول کی دور دراز پنچایت مہاکنڈ کے نوجوانوں نے مرکزی و یو ٹی جموںو کشمیر سرکار سے اپیل کی ہے کہ ا ن کے ساتھ کب انصاف کیا جائے گا ۔ اکیسویںصدی میں بھی یہاں کی عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور ہر آنے والے الیکشن میں یہاں کی عوام سے ووٹ حاصل کرنے کے لئے سیاسی لیڈران بڑے بڑے وعدے کئے جاتے ہیں لیکن بعد میں و ہ نظر نہیں آتے ۔ مقامی لوگوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اُٹھا کر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پر پی ایم جی ایس وائی کا ایک روڈ جو بولنی ٹاپ سے مہا کنڈ کے لئے 16برسوںسے تعمیر ہو رہا ہے لیکن ابھی تک مکمل نہیں ہے جس وجہ سے یہاں کی عوام کافی پریشان ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ سڑک کی مکمل تعمیر کے لئے یہاں پر انتظامیہ نے بھی دورہ کیا تھا مقامی سیاسی لیڈران نے بھی دورہ کیا تھا لیکن کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح سے ہیلتھ سب سینٹر کی عمار پر بھی تیرہ برس قبل تعمیری

اتھہ روٹ کشمیر نامی رضاکار تنظیم نے بانہال والنٹیرز کو سازو سامان فراہم کیا

بانہال//آتھہ روٹ کشمیرنامی رضاکار تنظیم نے بانہال میں ایک تقریب کے موقع پر  بانہال والنٹیرز نامی رضاکار تنظیم کو سڑک حادثات اور دیگر ناگہانی آفات  کے دوران بچا کاروائیوں میں کام آنے والے اہم سامان اور آلات کو مفت تقسیم کیا ہے ۔ جس سے دن رات بلا معاوضہ رضاکارانہ طور کام کرنے والی بانہال والنٹیرز کے رضاکاروں کے کام کو مزید فعال اور پر اثر بنانے میں مدد ملے گی ۔ بدھ کے روز ٹان ہال بانہال میں منعقد ہوئی سادہ تقریب کے موقع پر ایس ڈی ایم بانہال ظہیر عباس مہمان خصوصی کے طور مدعو تھے جبکہ تقریب میں آتھہ روٹ کشمیر کے چیئرمین بشیر احمد ندوی ، ان کے رفقا ، رضاکار تنظیم سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن بانہال کے تعظیم احمد وانی اور منظور احمد کامگار کے علاہ بانہال والنٹیرز کے صدر محمد ادریس وانی اور درجنوں رضاکار موجود تھے۔ بانہال والنٹیرز ایک رجسٹرڈ مقامی رضاکار تنظیم ہے اور ضروری ساز و سامان ک

مزید خبریں

گندوہ ہسپتال میں 2 ماہ کی بچی کی موت  والدین نے ڈاکٹروں کو ٹھہرایا ذمہ دار، بی ایم او کی تردید  اشتیاق ملک ڈوڈہ //ڈوڈہ کے سب ضلع ہسپتال گندوہ میں دو ماہ کی بچی کی ہوئی موت پر ڈاکٹروں کی ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سیول سوسائٹی نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دو روز قبل بھلیسہ کے گاؤں ڈھڈکائی سے اسرار الحق چوہدری کی دو ماہ کی بچی کو بخار کی شکایت ہوئی جس کے بعد انہوں نے شدید برفباری کے باوجود پیدل سب ضلع ہسپتال گندوہ پہنچایا تاہم والدین نے الزام لگایا کہ ڈاکٹروں کی عدم موجودگی سے بخار میں زیادتی ہوئی اور جب ڈاکٹر پہنچا تب تک بچی نے دم توڑ دیا تھا۔اس سلسلہ میں جب کشمیر عظمیٰ نے بلاک میڈیکل آفیسر گندوہ ڈاکٹر شفقت زرگر سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جب بچی کو ہسپتال پہنچایا گیا اسوقت سارے ڈاکٹر موجود تھے اور بچی کی حالت نازک تھی۔ انہوں