تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

ہیلو کہنے پہ اعتراض…کوئی شرعی جواز نہیں  سوال :-بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ فون پر ’’ہیلو ‘‘ کہناسخت غلط ہے۔ وجہ یہ بتاتے ہیں کہ یہ انگریزی لفظ "HELL"سے مشتق ہے ۔ گویا اس کے معنی یہ ہیں  کہ ہم ہیلو کہہ کر اپنے مخاطب کو جہنمی کہتے ہیں۔اس کی کیا حقیقت ہے ؟کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے ’’ہیلو‘‘ کہنا حدیث کے خلاف ہے ۔ اس لئے کہ حدیث میں ہے : السلام قبل الکلام ۔ پہلے سلام پھر کلام کا حکم ہے ۔کیا یہ واقعتاً حدیث کے خلاف ہے ۔کچھ حضرات نے یہ بھی کہاکہ سعودی عرب کے نوّے یا ستّر علماء نے اس کو حرام قرار دیاہے ۔ کیا یہ دُرست ہے ۔ ضرور آپ کا جواب انشاء اللہ سب کے لئے تشفی بخش ہوگا ۔ خورشید احمد میر …سرینگر جواب:-فو ن پر ہیلو سے آغاز کرنا بالکل دُرست ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہیلو کہہ کر فون کرنے والا صرف یہ جان

حرمتِ سود… لغوی اور شرعی بحث

بینک (Bank)کے ساتھ تجارت:۔عصرحاضر میں چونکہ ہر تجارتی عمل بالواسطہ طورپریا بلاواسطہ طور پربینک سے منسلک ہے۔اور بینک کی بنیاد سود پر رکھی گئی ہے۔لہٰذا اس امر کی وضاحت ضروری ہوجاتی ہے کہ آیا بینک سے قرضہ اُٹھاکر تجارت کرنا جائز ہے یا نہیں؟اس ضمن میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ بینک تجارت کی خاطر عوام کو قرضے پر رقومات فراہم تو کرتا ہے لیکن سود کی شرح کا تعین بھی کرلیا جاتاہے۔اور شریعت کے نزدیک قرض پر دی گئی رقم پر سود کی شرح عائد کرنا قطعًا جائز نہیں ہے۔۹؎۔بلکہ علماء اور فقہاکے نزدیک جو قرض نفع لائے وہ سود ہے۱۰؎۔البتہ قرض دیتے اور لیتے وقت اگر سود کی شرط نہ لگائی گئی ہواور مقروض قرضہ ادا کرتے وقت بخوشی کچھ رقم یا کوئی چیز اضافی طور پر دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ’’یہ واضح رہے کہ سود صرف اُس اضافے کا نام ہے جس کی وصولی کی قرض دیتے وقت شرط لگائی جائے۔اوراگرشرط نہ لگائی گئی ہواور