تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

ہیلو کہنے پہ اعتراض…کوئی شرعی جواز نہیں  سوال :-بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ فون پر ’’ہیلو ‘‘ کہناسخت غلط ہے۔ وجہ یہ بتاتے ہیں کہ یہ انگریزی لفظ "HELL"سے مشتق ہے ۔ گویا اس کے معنی یہ ہیں  کہ ہم ہیلو کہہ کر اپنے مخاطب کو جہنمی کہتے ہیں۔اس کی کیا حقیقت ہے ؟کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے ’’ہیلو‘‘ کہنا حدیث کے خلاف ہے ۔ اس لئے کہ حدیث میں ہے : السلام قبل الکلام ۔ پہلے سلام پھر کلام کا حکم ہے ۔کیا یہ واقعتاً حدیث کے خلاف ہے ۔کچھ حضرات نے یہ بھی کہاکہ سعودی عرب کے نوّے یا ستّر علماء نے اس کو حرام قرار دیاہے ۔ کیا یہ دُرست ہے ۔ ضرور آپ کا جواب انشاء اللہ سب کے لئے تشفی بخش ہوگا ۔ خورشید احمد میر …سرینگر جواب:-فو ن پر ہیلو سے آغاز کرنا بالکل دُرست ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہیلو کہہ کر فون کرنے والا صرف یہ جان

حرمتِ سود… لغوی اور شرعی بحث

بینک (Bank)کے ساتھ تجارت:۔عصرحاضر میں چونکہ ہر تجارتی عمل بالواسطہ طورپریا بلاواسطہ طور پربینک سے منسلک ہے۔اور بینک کی بنیاد سود پر رکھی گئی ہے۔لہٰذا اس امر کی وضاحت ضروری ہوجاتی ہے کہ آیا بینک سے قرضہ اُٹھاکر تجارت کرنا جائز ہے یا نہیں؟اس ضمن میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ بینک تجارت کی خاطر عوام کو قرضے پر رقومات فراہم تو کرتا ہے لیکن سود کی شرح کا تعین بھی کرلیا جاتاہے۔اور شریعت کے نزدیک قرض پر دی گئی رقم پر سود کی شرح عائد کرنا قطعًا جائز نہیں ہے۔۹؎۔بلکہ علماء اور فقہاکے نزدیک جو قرض نفع لائے وہ سود ہے۱۰؎۔البتہ قرض دیتے اور لیتے وقت اگر سود کی شرط نہ لگائی گئی ہواور مقروض قرضہ ادا کرتے وقت بخوشی کچھ رقم یا کوئی چیز اضافی طور پر دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ’’یہ واضح رہے کہ سود صرف اُس اضافے کا نام ہے جس کی وصولی کی قرض دیتے وقت شرط لگائی جائے۔اوراگرشرط نہ لگائی گئی ہواور

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

پیکنگ والے ذبح شدہ مرغوں کی خرید و فروخت مشینی ذبیحہ کی حِلت کے لئے شرعی ضوابط پورے ہونے ضروری حلال سرٹفکیٹ جاری کرنے والے ادارے کے متعلق معلومات حاصل کرنا اہم سوال  :  پولٹری چکن کا استعمال آج کل جتنا زیادہ ہورہا ہے ،وہ سب پر واضح ہے۔بڑے بڑے ہوٹلوں ،ریستورانوں،شادی بیاہ کی تقریبات اور فاسٹ فوڈ کا بزنس کرنے والے ادارں جن میں کئی برانڈڈ نام بھی ہیں،میں فارم کے مرغے ہی استعمال ہوتے ہیں۔یہ مرغے یا تو مقامی مرغ فروشوں سے ذبح کراکر لائے جاتے ہیں یا پھر پیکنگ کی صورت میں دستیاب ہیں۔ظاہر ہے کہ بڑے بڑے فنگشنوں میں ،بڑے بڑے ہوٹلوں میں اور فاسٹ فوڈ کے مراکز میں مقامی ذبح شدہ مرغے کم استعمال ہوتے ہیں ،اس لئے کہ جتنی ضرورت ہوتی ہے اُتنی مقدار میں مقامی مرغ فروش مہیا نہیں کرسکتے ہیں۔ایک ایک ہوٹل میں روزانہ سینکڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔برانڈڈ سینٹروں میں جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

سید الاولیاء حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میںفرمایا ہے کہ میں نے بعض انبیآء کوبعض انبیاء پربرتری دی ہے اگر چہ نفسِ نبوت ورسالت میں وہ یکساں ہیں ، اسی لئے حضرت رسالتمآب ﷺ نے تنبیہہ فرمائی ہے کہ مجھے انبیاء پرایسی فوقیت نہ دو کہ سابقہ انبیاء ورُسل کی اہانت نہ  ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیںاپنے زمانوں میں ضرورت کے مطابق کامل شریعت ،ضابطۂ حیات،نظام اخلاق ،تعلیم دی تھی ، لیکن حضور اقدسﷺ کو زمان آخر میں مبعوث فرماکر ان کی نبوت ورسالت کو اس انتہا تک پہنچایا کہ اب کسی اور نبی ورسول کی ضرورت نہیں کہ وہ نظام زندگی کے تمام شعبوں ،علم واخلاق کو اوروسعت دے اس لحاظ سے حضرت نبی برحقﷺ کو تمام انبیآء ورسولوں پر برتری عطا کی گئی۔  ؎ حضرت ناصح گر آئے دیدہ و دل فرش را کوئی مجھ کو تو یہ سمجھائے کہ سمجھائیں گے کیا تخلیق نورِ نبوت کی سرفرازی کے لحاظ سے حضرت سرور دوعالم ﷺ اول ومصدر ہے اورباقی سب اس کے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی داعیانہ تڑپ اور ہم

 اللہ سبحان و تعالیٰ نے نوعِ انسانی کی ہدایت کے لئے بے شمار انبیاء کرام ؑ مبعوث فرمائے لیکن یہ سب انبیاء کرام ؑ مخصوص زمانے میں مخصوص قوم کے لئے ربّانی کام کی خاطر مامور ہوتے تھے۔ بالآخر جب نوعِ انسانی پچپن کی حالت سے گذر کر سنِ بلوغ کو پہنچ گئی تو حضرت محمد ﷺْ کو وہ بڑا قانون یعنی القرآن دے کر بھیجا گیا جو کہ رہتی دُنیا تک نوعِ انسانی کی ہدایت کے لئے مکمّل کتاب ہے اور اس کتاب کی حفاظت کا ذمہ اللہ سبحان و تعالیٰ نے خود اپنے اوپر لے لیا ہے۔ حضرت محمد ﷺْ کو جب بالخصوص عرب کی سر زمین کی طرف مبعوث کیا گیا تو وہاںہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیراچھایا ہوا تھا، صدیوں سے ریگستان میں آزادی کی زندگی بسر کرنے سے عرب قوم میں جہالت پھیل گئی تھی اور جہالت بھی ایسی کہ اُن کو آدمی بنانا کسی معمولی انسان کا کام نہیں تھا لیکن حضور ﷺْ نے القرآن کے ذریعہ سے ہی اس قوم کی کایا پلٹ ڈالی ۔ حضور ﷺْ نے23سالہ ک

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

دینی معلومات کیلئے علمی  مقابلے منعقد کرانامفید سوال:-آج کل قسم قسم کے مقابلے ہوتے ہیں۔مثلاً اسکولوں میں مختلف مقابلے ، جن میںسیرت کوئز بھی شامل ہے ،منعقد ہوتے ہیں ۔اس میں سیرت رسولؐ کے بارے میں کچھ اچھوتے سوالات پوچھے جاتے ہیں ۔ اسی طرح قرآن کے متعلق بھی مختلف سوالات کئے جاتے ہیں جن میں بعض سوالات انوکھے ہوتے ہیں۔ان مقابلوں کا بالعموم مقصد اسلام، قرآن اورسیرت پاک ؐکے بارے میں طلبہ میں دلچسپی کو جگانا ہوتاہے ۔ہم خود ایک اسکول چلاتے ہیں اور سیرت کوئز منعقد کرتے ہیں ۔ یہ سلسلہ کیساہے؟۔ ملک سجاد احمد جواب:-دینی معلومات کے لئے اس طرح کے علمی مقابلے یقیناً دُرست ہیں ۔ خود حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی حضرات صحابہؓ سے سوالات فرماتے تھے کہ وہ اپنے علم وفہم سے جواب دیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ نے پوچھا : درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے جو مومن کے مشابہ ہے ،بتائو وہ

سیرتِ رسالت مآبؐ

سیرت ِمحمد (صلی اللہ علیہ وسلم)ایک مسلمان صاحب ِ قلم کے لئے وہ شیرین ،دلاویز اور حلاوت و لذت کا نہ ختم ہونے والا ذائقہ علمی و عرفانی لئے ہوئے موضوع ہے کہ ایسا روحانی سرور ،دماغی نشاط اور ذہن و فکر کو سرشار کرنے والا دوسرا کوئی موضوع ہو ہی نہیں سکتا۔ بلاشبہ سیرت پر لکھنے والے ہر دور میں بے شمار رہے ہیں اور اُن میں بہت اونچے درجہ کے اہل فضل و کمال بھی رہے ہیں۔ اس لئے سیرت کے موضوع کو کسی نئے قلم کا ر کی نہ حاجت ہے نہ انتظار ۔ہاں! ہر صاحب ِ قلم کے لئے یہ بات باعث فخرولائق سعادت ہے کہ اُسے سیرت نگاروں کی فہرست میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوجائے۔ اردو کی سیرت نگاری میں سرسید احمد خان ،علامہ شبلی نعمانی ،قاضی سلیمان منصور پوری ،علامہ سلیمان ندوی ،مولانا عبدالروف ،مولانا محمد ادریس کاندھلوی ،مولانا حفظ الرحمٰن ،مولانا آزاد ،مولانا ابو الحسن علی ندوی،مولانا مفتی محمد شفیع ،مولانا سید اب

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

بغیر وضو قران کریم کو چھونا درست نہیں تلاوت کی گنجائش موجود سوال :قرآن شریف پڑھنے کے لئے با وضو ہونا ضروری ہے یا نہیں۔قرآن شریف کی تلاوت کبھی زبانی ہوتی ہے ۔اس کے لئے کیا حکم ہے اور اگر ہاتھ میں لے کر قرآن شریف کی تلاوت ہو تو کیا حکم ہے؟ عبدالرشید خان ۔حاجن جواب :قرآن کریم کی تلاوت کی دو صورتیں ہیں ۔ایک صورت یہ ہے کہ تلاوت کرنے والا زبانی تلاوت کرے اور قرآن کریم کا صحیفہ ٔ مبارک ہاتھ میں نہ ہو۔اس صورت میں باوضو ہوکر تلاوت کرنا افضل اور بہت اہم ادب ِ تلاوت ہے۔لیکن اگر بغیر وضو کے تلاوت کی جائے تو اس کی گنجائش ہے ،یعنی زبانی تلاوت کے لئے وضو لازم نہیں۔اگر بغیر وضو کے تلاوت کی جائے توگناہ نہ ہوگا ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ صحیفۂ قرآنی ہاتھ میں لے کر تلاوت کی جائے اس صورت میں وضو لازم ہے۔بغیر وضو کے ہاتھ میں قرآن لینا ہرگز جائز نہیں۔ترمذی شریف میں حدیث ہے َ(ترجمہ

لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب

ربیع الاول پیغمبر آخر الزمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کا مہینہ ہے۔جس میں پورے عالم کے مسلمان بڑے تزک و احتشام کے ساتھ خاتم النبینؐ کے ساتھ اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کرنے کے لئے سیرت کے پروگرام، نعت گوئی کی محفلیں، عید میلادالنبی ؐ کے جلسے، مسجدوں اور خانقاہوں میں عبادت اور خاص دعاوں کے روح پرور اجتماعات، درود و ا ذکار کی مجلسوں وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں ۔ سیرت النبیؐکے گونا گوں پہلوں کو یاد کیا جاتا ہے ۔ نبی آخر الزمانؐ کی سیرت سے لوگوں کو متعارف کرنا اور آپؐ کی تعلیمات کے قریب لینا بلاشبہ ایک عظیم عمل ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت کے اظہار کا ایک عام سا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہر مسلمان اپنے محسن اور غم خوار پیغمبرؐ کے اقوال وافعال اور ذاتی، عمومی و عوامی زندگی سے آشنا ہو۔ علامہ ابن قیم ؒ اپنی مشہور تصنیف زاد المعاد میں لکھتے ہیں کہ سیرت کا علم ح

فضائل ِدعا اور عدم قبولیت کے اسباب

اللہ تبارک و تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہمیں نعمت ایمان سے نوازا، اور ہمارے قلوب کو ضو ایمان سے مصفیٰ اور مجلیٰ کیا،اور بے حد درود و سلام ہو ہمارے کریم آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر جس کے باعث اللہ عزوجل نے ہمیں خیرِ امت کے درجہ پر فائز کیا۔ اللہ جل مجدہ نے جہاں ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے وہاں ہمیں "دعا " کی بیش بہا نعمت بھی عطا کی ہے۔اسی نعمت کی بدولت ہم اپنے پروردگار کے حضور عجز و انکساری اور اس کی طرف حاجت مند ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔اس کے واسطے سے ہم اپنی ساری مشکلات کا حل اللہ عزوجل سے مانگتے ہیں، اپنے دکھ درد اور غموں کا ازالہ ہم اسی کے ذریعہ اللہ جل مجدہ سے مانگتے ہیں، یہ خدائے لم یزل سے مناجات کرنے کا خوبصورت اور بہترین ذریعہ ہے،یہ جالب رحمت خداوندی ہے۔فضیلت دعا پر قرآن کی آیات کثیرہ اور احادیث وافرہ شاہد ہیں۔ چنانچہ اللہ عزوجل قرآن کریم  میں ار

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

حُسنِ اخلاق۔۔۔ انسانیت کی بقا کے لئے اسلام کا اہم پیغام سوال :انسان کا ایک بڑ اوصف اُس کا حُسنِ اخلاق ہے۔اُس حُسنِ اخلاق کے متعلق اسلام کی اہم تعلیمات کا خلاصہ کیا ہے اور وہ اخلاق اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے کیا کیا تدابیر اختیار کرنا چاہئے؟ غلام مصطفیٰ ۔لال بازار سرینگر جواب :انسان کو اس کے پیدا کرنے والے خالق و مالک ِکُل نے فطری طور اس طرح تخلیق کیا ہے کہ وہ اپنی زندگی دوسرے انسانوں کے ساتھ رہ کر گذارنے پر مجبور ہے۔اسی لئے کوئی بھی انسان کہیں بھی اکیلا رہ کر زندگی نہیںگذار سکتا ۔وہ اپنے ماں باپ ،بیوی بچے ،بھائی بہن کے علاوہ پڑوسیوں ،رشتہ دارں ،اقارب و احباب او ر دوسرے انسانوں سے مِل جُل کر ہی اپنی زندگی گذار تا ہے۔اُس کے لئے ممکن نہیں کہ وہ اس سے صرف ِنظر کرے۔اگر وہ  زمین داری کرے،مزدوری کرے،تجارت کرے،جانور پالے،صنعت چلائے ،ملازمت کرے ،وہ ہر ہر صورت میں دوسرے انسانوں

محمدؐ کی محبت دین ِحق کی شرطِ اول ہے

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام خدا کے حکم سے مرکز توحید یعنی خانہ کعبہ تعمیر کر رہے تھے تو اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل سے یہ دعا بے ساختہ نکلی: اے خدا ہماری نسل سے امت مسلم کو اٹھا تو اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ڈھائی ہزار سال کے بعد 12ربیع الاول بمطابق 20اپریل570ء بروز سوموار کی وہ مبارک صبح تھی جب رحمت الٰہی کے فیصلے کے مطابق اس باسعادت ہستی یعنی پیغمبر آخر الزمان ،امام الانبیاء ، حضرت احمد مجتبیٰ محمد رسول اللہ ﷺ اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئے ۔تقریباً ساٹھ پشتوں کے واسطے سے آپ ﷺ کا حسب و نسب حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم علیہما السلام سے مل جاتا ہے۔ اُسی صدی میں دنیا کی دوطاقتیںتھیں، رومن امپائر مغرب میں اور مشرق میں پرشین امپائر تھیں ۔دونوں میں زر و دولت اور تمدن عروج پر تھا لیکن اخلاقی حالت ناگفتہ بہ اور روح وقلب میں ہر قسم کی بیمار

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

عُشر کی رقوم کا صرفہ۔۔۔ شرعی احکامات پر نظر رکھنے کی ضرورت سوال :آج پورے کشمیر میں فصل اور پھل کا عُشر ادا کیا جارہا ہے ۔عُشر وصول کرنے والے بھی مختلف نوع کی ضروریات کے پیش نظر وصول کرتے ہیں ۔کچھ علاقوں میں عُشر وصول کرنے والے عُشر کی رقوم اپنے اداروں کی تعمیر اور کچھ اپنے اداروں کے سٹاف کی تنخوا ہوں میں دیتے ہیں،یہ ادارے یتیم خانے ،بیت المال ،صبح و شام کے دینی مکتب اور کچھ چھوٹے موٹے مدرسہ والے بھی ہیں ۔ہمارے علاقے میںایک ادارہ تعمیر ہورہا ہے۔ ابھی نہ بچے ہیں نہ تعلیم ہے۔مگر عُشر لے کر رقم کمروں کی تعمیر میں خرچ ہورہی ہے ۔کیا ایسا کرنا درست ہے؟ محمد فاروق ۔شوپیان جواب :عُشر کا حکم وہی ہے جو زکواۃ کا حکم ہے ۔اس لئے جیسے زکواۃ کی رقم نہ تو تعمیر میں خرچ ہوسکتی ہے نہ کسی کی تنخواہ میں۔ اسی طرح عُشر لے کر اُس کو فروخت کرکے اُس کی رقم تعمیر ،تنخواہ اور ادارے کی ضروریات مثلاً ف

سرور کونین ؐ کی بعثت کے مقاصد

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا موضوع بیکراں ہے،کہ صاحب کشور ونشاط، جامع کمالات پیکر رحم و کرم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر سے قلب وجگر کو سکوں،آنکھوں کو ٹھنڈک، خیالات کو بانکپن، زبان کو حلاوت، فکر ونظر کو جلا ،نگاہوں کو حیا اور روح کو شفا ملتی ہے۔مختصر یہ کہ ایک گناہ گار انسان کو اپنے سیاہ اعمال نامہ کو دھونے کیلئے ابر رحمت کے چند قطرے میسر آنے کا زریں موقع نصیب ہوتا ہے کیونکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ایک مسلمان کے لئے سرمایہ افتخار ہے اور سرمایہ حیات بھی ہے۔ رحمۃ للعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس عالمِ رنگ و بو میں سراپا رحمت بن کر تشریف لائے، جن کے جود و کرم کی ضیاپاشیاں ہر طرف عام ہیں۔آپ نے جہنم کی طرف جاتی انسانیت کو کمر پکڑ پکڑ کر بچایا۔۔آئیے آج مختصراً اس بات کا ذکر کریں کہ آخر خلاصۂ کائنات، فخرِموجودات، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسل

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

ساس بہو کا رشتہ : محبت پانے کیلئے محبت کا روّیہ اپنانے کی ضرورت سوال:۱-بہو اور ساس کے درمیان کون سا رشتہ ہے۔ اگر بہو ساس کی خدمت نہ کرے تو کیا وہ گنہگار ہوگی ۔ شریعت کی رو سے تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔ بہو اور سسر میں کون سا رشتہ ہے۔ اگر بہو سسر کی خدمت نہ کرے تو کیا گنہگار ہوگی او راگر ساس اور سسر بہوکوہروقت کام کے لئے ڈانٹیں او ربُرا بھلا کہیں کیا وہ گناہ گار ہوں گے۔ بہو پر ساس سسر کی خدمت فرض ہے یا نہیں ؟ ساس بہو کو طعنے دے ،بُرابھلا کہے۔ لوگوں میں اسے ذلیل کرے جبکہ اپنی بیٹی ، جب وہ سسرال آئے ،کے ساتھ اچھا سلوک کرے  اور جب بہو اپنے باپ کے گھرجائے تو اس کو اچھی طرح رخصت نہ دے اور نہ ہی اس سے خندہ پیشانی سے بات کرے۔ قرآن وحدیث کی رو سے اس دہرے معیار کے لئے ایسی عورت کیا واقعی اللہ کے حضورجوابدہ ہے ۔ جواب:۲-اسلام میں کنبے کا تصور کیا ہے ۔ قرآن وسنت کی روشن

قتلِ ناحق گناہِ عظیم

ایک مسلمان کا جان و مال، عزت وآبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے،کسی کا مال لینا، کسی کی عزت سے کھیلنا گناہ کبیرہ ہے اور گناہ کبیرہ میں بھی سخت ترین گناہ، سخت ترین فسق وفجور، بہت بڑا ظلم وستم لیکن ان سب سے بڑا گناہ ظلم ہے کہ مسلمان کو قتل کر دیا جائے یا قتل کرادیا جائے، یا اس کی جان لے لی جائے۔حدیث میں ہے:’’دنیا کا ختم ہوجانا اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل سے معمولی چیز ہے(ترمذی شریف)مسلمانوں کے خون کی اس قدر قیمت ہے کہ دنیا کی تباہی وبربادی ایک مسلمان کے خون کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی، اللہ کو دنیا کا برباد کر دیا جانا منظور ہے مگر مسلمان کا قتل کر دیا جانا منظور نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:’’اگر بالفرض سارے آسمان وزمین والے کسی مومن کے قتل میں شریک ہوجائیں تو اللہ تعالی سب کو جہنم میں جھونک دے گا‘‘۔(رواہ ترمذی) ارشا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

کوروناوائرس۔   اسلام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اجازت ہی نہیں بلکہ حکم دیتا ہے  سوال  :آج کل وائرس کے پھیلائو کی بنا پر یقیناً پوری دنیا میں جو پریشانی ہے وہ محتاجِ بیان نہیں،اس بارے میں اسلام ہم کو کیا کہتا ہے ،دین اسلام مکمل دین ہے ،اس میں ہر مسئلہ کا حل اور حکم موجود ہے۔براہِ کرم تفصیل سے اس بارے میں شرعی ہدایات اور احکامات بیان کیجئے۔ محمد خلیل لو ن۔گریز ،حال بانڈی پورہ کشمیر جواب  : مسلمان جن بنیادی عقائد کو تسلیم کرتا ہے اُن میں عقیدۂ توحید اور عقیدۂ تقدیر بھی اہم اور انسان کی پوری زندگی پر گہرے اور محیط اثرات ڈالنے والے عقیدے ہیں۔ہر صاحب ِ ایمان مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ موت و زندگی عطا کرنے والا اللہ ہے ۔اُس کے فیصلے اور مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا ہے۔دنیا میں جہاں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی مشیت اور امر سے ہوتا ہے۔کائنات میں ہر ہر

نمازِعصر… اہمیت اور احکام

اس میںدو رائے نہیں کہ نماز دینِ اسلام کا ایک بنیادی ستون ہے۔چنانچہ رسول اللہ ؐ کا ارشادہے کہ ہر مسلہ کی اصل دینِ اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے۔اللہ تعلی نے مومنوں پر جہاں دن میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں وہاں دن کی درمیانہ نماز پر قدرے تاکید فرمائی ہے۔ ’’سب نمازوں کی حفاظت کرو اوردرمیانی نماز کی(خاص طور پر)اور اللہ کے لئے فرمانبردار ہوکر کھڑے رہو‘‘ … (البقرہ۔۔(238   ’’صلوٰۃ الوسطیٰ‘‘میں اگرچہ علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے‘تاہم اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔چنانچہ اس ضمن میں ابو نعمان سیف اللہ خالد حفظہ اللہ رقمطراز ہے: ’’اس کے متعلق گواختلاف ہے مگر اکثر علماء کے نزدیک اس سے مراد عصر کی نماز ہے‘یہی صحیح اور راجح ہے۔متعدداحادیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔سیدنا علیؓ بیان کرتے ہیں کہ غزوئہ احزا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال :(۱)  عُشرکے ضروری مسائل کیا ہیں؟(۲) باغ فروخت ہوا ،اب عُشر فروخت کرنے والے کے ذمہ ہے یا خریدار کے ذمہ؟ (۳) باغ پر دوا پاشی وغیرہ پر جو خرچہ آتا ہے وہ منہا کیا جائے یا نہیں؟ (۴) کوئی عُشر کا مستحق نہ ہو تو وہ عُشر لے سکتا ہے یا نہیں؟(۵) کیا عُشر مسجد میں ،مدرسہ کی کسی تعمیر میں، مکتب میں خرچ کرسکتے ہیں؟ نذیر احمد لون ۔رفیع آباد عُشر کی حقیقت اور اس کے مسائل جواب :اسلام نے جیسے اہل ایمان مالداروں پر زکواۃ لازم کی ہے اسی طرح زمین اور باغوں کی پیداوار پر عُشر بھی لازم کیا ہے ۔عُشر کی ادائیگی کا حکم قرآن پاک میں بھی ہے اور احادیث میں بھی۔عُشر کی ادائیگی اُسی طرح فرض ہے جیسے زکواۃ فرض ہے البتہ عُشر چونکہ زمین کی پیداوار اناج ،سبزیاں وغیرہ اور باغوں کی پیداوار پھلوں پر لازم ہوتا ہے ،اس لئے اس کے لئے یہ شرط بھی ہے کہ زمین عُشری ہونی چاہئے۔ زمینوں میںعُشری زمین

تربیتِ اولاد سے غافل نہ رہیں

ہمیں اپنی اولاد سے محبت ہے، محبت ہونی ہی چاہیے۔ہمیں اپنی اولاد کی چاہت ہے ،ہونی ہی چاہیے۔ہماری آنکھ کا نور دل کا سرور ہے، یقینا ایسا ہی ہونا چاہئے۔ہماری اولاد ہمارا چین، ہمارا صبر و قرار ہے ،گھر کی بہار ہے ،رونقِ ہستی ہے ،دم زندگی ہے ،جان محفل ہے۔ اولاد کے بغیر زندگی ایک اجڑا ہوا گلستاں ہے جس میں دلکشی ہے نہ خوبصورتی، دل آویزی ہے نہ دل بستگی، زندگی کی بے کراں تنہائیوں اور حیات  مستعار کے وسیع وعریض صحراء میں ساری بہار ساری دلکشی بچوں کے دم سے ہے۔ انہی سے ویرانوں میں بہار آجاتی ہے،مردہ کلیاں کھل اٹھتی ہیں، زندگی کے سونے سونے دن ،سونی سونی راتیں یکایک آباد ہوجاتی ہیں، جگمگا اٹھتی ہیں، پھول مسکراتے ہیں، فضا خوشبوؤں سے معطر ہوجاتی ہے ،ہر طرف زندگی ہی زندگی دکھائی دیتی ہے۔ بچے نہ ہو تو زندگی بے کیف، بے سود نظر آتی ہے، کمانا بے فائدہ دکھائی دیتا ہے ،انسان اپنی زندگی میں ادھورا