تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال  :تصوف کی حقیقت کیا ہے،اس کی ضرورت کیوں ہے ؟ کیا یہ شریعت سے الگ کوئی چیز ہے؟ بیعت کیوں کی جاتی ،اس کا ثبوت کہاں ہے؟کیا بیعت کے بغیر ایک مسلمان مکمل مسلمان نہیں بن سکتا ،کیا علم تصوف شرعی علوم میں سے ہے۔کیا ہمارے نبی ؐ بھی اس طرح بیعت کرتے  تھے ،جس طرح اہلِ تصوف کے یہاں بیعت ہوتی۔اس بیعت سے کیا حاصل کرنا ہوتا ہے ۔ امید ہے کہ جواب مکمل ، جامع اور تشفی بخش ہوگا ۔ غلام محی الدین میر ۔مقیم حال جموں تصوف: انسان کے باطنی اعمال کے اصلاح کے اصول کا بیان جواب :حضرت امام غزالی ؒ نے تصوف کی مفصل حقیقت بیان کی ہے،اُس کا جامع خلاصہ علامہ شامیؒ نے یوں بیان کیا ہے۔تصوف وہ علم ہے جس سے اخلاق ِ ِحمیدہ کی اقسام اور اُن کو حاصل کرنے کا طریقہ اور اخلاقِ رذیلہ کی اقسام اور اُن سے بچنے کا طریقہ معلوم ہو۔دلوں کی طہارت ،روح کی صفائی اور نفس کا تزکیہ حضرت نبی کریم علیہ السلام کا

عبد،معبود اور عبدیت

اور ہر ایک کوشش کرنے والا اپنے ہی بھلے کی کوشش کرتا ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے یقینا بے نیاز ہے(سورہ العنکبوت۔آیت۔6) اس آیت مبارکہ میں دین کے راستے میں کی ہوئی ہر محنت داخل ہے، چاہے وہ نفس اور شیطان کا مقابلہ کرنے کی محنت ہو یا تبلیغ ودعوت کی محنت، یا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کی محنت۔مجاہدہ کے معنی کسی مخالف طاقت کے مقابلہ میں کش مکش اور جدوجہد کرنے کے ہیں، اور جب کسی خاص مخالف طاقت کی نشان دہی نہ کی جائے ،بلکہ مطلقاََ مجاہدہ کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ ایک ہمہ گیر اور ہر جہتی کش مکش ہے، مومن کو اس دنیا میں جو کش مکش کرنی ہے اس کی نوعیت یہی کچھ ہے۔ اسے شیطان سے بھی لڑنا ہے جو اس کو ہر آن نیکی کے نقصانات سے ڈراتا اور بدی کے فائدوں اور لذتوں کا لالچ دلاتا رہتا ہے، اپنے نفس سے بھی لڑنا ہے جو اسے ہر وقت اپنی خواہشات کا غلام بنانے کے لیے زور ل

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

دعوت دین:مخاطب کے مزاج اور فہم کو ملحوظ رکھنے اور شفقت و خیر خواہی کا رویہ اپنانے کی ضرورت سوال : اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے ہم کچھ ساتھی غیر مسلم لوگوں میں دعوت کاکام کرتے ہیں۔ہم کو اس دوران حیرت ناک کامیابی بھی ملتی ہے اور کچھ اُلجھنیں بھی پیش آتی ہیں۔براہِ کرم ان چند باتوں میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ ۱۔ دعوت میں کن موضوعات کو غیر مسلم انسان کے سامنے پیش کرنا مفید ہوگا اور اس بارے میں ہمارا دین کیا رہنمائی کرتا ہے۔ ۲۔ کسی غیر مسلم شخص کی طرف سے طرح طرح کے اعتراضات پیش کئے جاتے ہیں،اُن اعتراضات میں اہم اعتراض خود مسلمانوں کی غیر اسلامی اور غیر اخلاقی زندگی بھی ہے۔ایسے وقت کیا جواب دیا جائے۔ ۳۔اسلام کے کسی حکم مثلاً عورتوں کے پردہ اور کسی کو مسلمان بنانا یا جمہوریت کا انکار وغیرہ ،ان کا کیا جواب دیا جائے۔ ۴۔ دعوت دیتے وقت کن باتوں کا خیال رکھا جائے۔ ابو ندیم

اسلام کا اخلاقی نظام اور ہماری ذمہ داریاں

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف یعنی بہتر کا درجہ روزِ اول سے ہی دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے وقتاً فوقتاً پیغمبر علیہ سلام بھی بھیجے تاکہ انسان اللہ کی نافرمانی کا مرتکب نہ ہو ۔جب انسان کو کوئی عہدہ یا ذمہ داری دی جاتی ہے تو اس کے اصول بھی وضع کئے جاتے ہیں تاکہ وہ انسان سب ذمہ داریوں پر کھرا اُترے۔ اسی طرح اشرف المخلوقات کی صف میں شامل ہونے کیلئے اخلاقی نظام پر چلنے والوں کو ہی تعریف کا مستحق سمجھا جا سکتا ہے۔سچائی، انصاف، پاسِ عہد اور امانت کو ہمیشہ سے انسانی اخلاقیات میں تعریف کا مستحق سمجھا گیا ہے اور جھوٹ، ظلم ،بد عہدی اور خیانت کوہمیشہ نا پسند کیا گیا ہے۔ خود غرضی، سنگ دلی، بخل اور تنگ نظری کو کبھی عزت کا مقام حاصل نہیں ہوا۔ انسان ہمیشہ سے اپنی انفرادیت قائم رکھنے کے لئے اپنے آپ کو اُن لوگوں میں شامل کرتا ہے جن میں اُسے وقارو عزت ملے یا یوں کہئے کہ جہاں احساس کمتری کا شکار ہونے کا خطرہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: موت برحق ہے ،اس لئے کسی کی موت پر تعزیت کا سلسلہ ہمارے معاشرے کا ایک اہم عمل ہے ۔اس بارے میں بہت افراط و تفریط ہوتی ہے۔براہ کرم تعزیت کے سلسلے میں اسلامی احکام بھی بیان کریں اور اصلاح طلب امور کی بھی وضاحت کریں۔   مشتاق احمد جانبازامیرا کدل سرینگر تعزیت کو عبادت کا درجہ حاصل  پُرسا دینے کا شرعی طریقہ جواب: کسی کے گھر میں موت کا حادثہ پیش آئے تو اُس کی غمخواری کرنا ،اُسے تسلی دینا،صبر و برداشت کرنے کی تلقین کرنا اور فوت شدہ شخص کی اچھائیاں بیان کرکے اس کے لئے دعا ئےمغفرت کرنا تعزیت کہلاتا ہے ۔شریعت اسلامیہ میں اس کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔چنانچہ اسلام میں عیادت اور تعزیت دونوں باعثِ اجر و ثواب عمل ہیں۔حدیث میں ہے جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی اللہ اُس کو نور کی چادر اُوڑھائینگے۔دوسری حدیث میں تعزیت کرنے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔لہٰذا ت

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کا فرعون

  حضرت یوسف علیہ السلام کے بعدبھی بنی اسرئیل ملک مصر کا انتظام سنبھالتے تھے اور بادشاہ یعنی فرعون صرف نام کا فرعون ہوتا تھالیکن دھیرے دھیرے بن اسرائیل میں عیش پسندی اور آرام پسندی پیدا ہوتی گئی اور حکومت پر سے اُن کی گرفت چھوٹتی گئی اور مختلف علاقوں میں قبطیوں نے انتظامات سنبھالنے شروع کردیئے ۔ اس طرح دونوں کے درمیان رسہ کشی شروع ہو گئی اور ملک مصر میں بد نظمی پھیلنے لگی اور حکومت کے اہم عہدے قبطی حاصل کرنے لگے اور بنی اسرائیل کے ہاتھوں سے انتظامات کے عہدے چھوٹنے لگے۔یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے بیس(۲۰)یا پچیس(۲۵)سال پہلے حکومت کے تمام عہدے بنی اسرائیل سے چھین لئے گئے تھے اور حکومت کے اہم عہدوں پر مصری فائز ہوچکے تھے اور بنی اسرائیل عام عوام کی حیثیت سے رہنے لگے تھے۔جن کی تعداد کئی لاکھ تھی۔ایسے حالات میں ولید بن مصعب فرعون بنا۔اُس کے فرعون بننے کی کہانی بھی کاف

تصوف:فکر ِ اقبال کی روشنی میں

مجاہدانہ حرارت رہی نہ صوفی میں بہانہ بے عملی کا بنی شرابِ الست دانائے راز، رومی ہند، حکیم الامت حضرت علامہ اقبال کا شمار دنیا کے معتبر، کثیر الجہات اور جامع الصّفات شخصیات میں ہوتا ہے۔ علمی ،فکری اور نظری بنیادوں پر انہوں نے جو وسیع و عریض تخلیقی میرات اُمت مسلمہ کو تفویض کیا۔ اُس سے یہ بات بلا خوف و تردد کہی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ اقبال کے قدآور اور مایۂ افتخار ہستی ہونے کی یہ احسن دلیل ہے کہ وہ انسانی تاریخ کے تمام پُر اسرار گوشوں سے واقف تھے۔ایک وسیع المطالعہ، دقیق النظر، سربرآوردہ مفکر کی حیثیت سے وہ اقوام وملل کے مدوجزر کے تمام عوامل و عواقب کا تجزیہ و تحلیل کرچکے تھے۔ اقبال تنہا ایسے مفکر تھے جو اپنی قوم کو تیغ بُرّاں دیکھنے کے آرزومند تھے ۔ اقبال کی قلب و روح ملتِ اسلامیہ کے لئے دھڑکتی تھی ۔ وہ اعلیٰ انسانی قدروں کے وارث و امین تھے۔ اُنہوں نے اپنی خلاقانہ صلا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

مساجد کے لئے زور زبردستی چندہ جمع کرنا غیر شرعی سوال:-مساجد یا مدارس کے لئے سڑکوں پر چندہ جمع کرنا کیساہے ۔ شہر سرینگر کے قدیم علاقوں میں آج کل کچھ مقامات پر پرانی مساجد کو شہید کرکے از سر نو تعمیر کیا جارہاہے اور سڑکوں پر باقاعدہ طور حصولِ چندہ کے لئے ایک گروپ متعین کیا جاتاہے جو لائوڈ اسپیکر لے کر سڑکوں پر ڈیرہ جماتے ہیں اور ہرآنے جانے والی گاڑی کو روک کر ان سے چندہ کے لئے اپیل کرتے ہیں ۔شریعت اور اخلاقیات کے اعتبار سے ایسی کارروائی/سرگرمی کی کیا حیثیت ہے ، براہ کرم جواب عنایت کریں۔ جاوید احمد……سرینگر جواب:- مساجدیا مدارس کے لئے سڑکوں پر چندہ جمع کرنے کا یہ طریقہ غیر شرعی بھی ہے اور طرح طرح کی خرابیوں کا مجموعہ بھی ہے ۔ مسجدوں کی تعمیر میں حصہ لینا ایک نفلی عبادت ہے اور نفلی عبادت انجام دینے کے لئے صرف ترغیب دے سکتے ہیں خصوصاً وہ نفلی عبادت جومالی عبادات م

اسلام میں نماز اور ادب کا مقام

 حضرت نظام الدین اولیاء ؒ اکثر ایک جملہ کہا کرتے تھے کہ ’’ہم سے تو دھوبی کا بیٹا ہی خوش نصیب نکلا، ہم سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا‘‘۔ پھر غش کھا جاتے- ایک دن ان کے مریدوں نے پوچھ لیا کہ حضرت یہ دھوبی کے بیٹے والا کیا ماجرا ہے؟ آپؒنے فرمایا ایک دھوبی کے پاس محل سے کپڑ ے دھلنے آیا کرتے تھے اور وہ میاں بیوی کپڑ ے دھو کر پریس کر کے واپس محل پہنچا دیاکرتے تھے، ان کا ایک بیٹا بھی تھا جو جوان ہوا تو کپڑ ے دھونے میں والدین کا ھاتھ بٹانے لگا، کپڑ وں میں شہزادی کے کپڑ ے بھی تھے، جن کو دھوتے دھوتے وہ شہزادی کے نادیدہ عشق میں مبتلا ہو گیا، محبت کے اس جذبے کے جاگ جانے کے بعد اس کے اطوار تبدیل ہو گئے، وہ شہزادی کے کپڑ ے الگ کرتا انہیں خوب اچھی طرح دھوتا، انہیں استری کرنے کے بعد ایک خاص نرالے انداز میں تہہ کر کے رکھتا، سلسلہ چلتا رہا آخر والدہ نے اس تبدیلی کو نوٹ کیا ا

مطالعہ ٔ سیرتِ رسولِ اکرم ؐ ضروری کیوں؟

 سیرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کے بے شمار فوائد ہیں، ان میں سے ایک اہم اور بنیادی فائدہ یہ ہے کہ سیرت نبی کا مطالعہ کرنے والا کبھی بھی اسلام، احکام اسلام اور عقائد اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ انبیاء کرام کی زندگی سراپا یقین وایمان کی پکار ہے، اسی لئے قرآن کریم نے جابجا انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات زندگی اور طرز حیات کو پیش فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سابقہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگیوں کا مجموعہ اور نمونہ ہے؛ لہٰذا اگر ایک صاحب استعداد شخص آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر چھوٹی سے چھوٹی کتاب بھی زیر مطالعہ رکھتا ہے تو اس کا اسلام کے متعلق شک واضطراب میں مبتلا ہونا محال قطعی ہے۔  مولانا ابوالکلام آزا دنے اپنی کتاب  ''تذکرہ'' میں علامہ ابن کثیر کے حوالہ سے شیخ ا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

موسم سرما میں سردی کی شدت سے بچائو کا اہتمام  سجدے میں ماتھے کے بجائے ٹوپی زمین سے لگے تو کوئی کراہت نہیں سوال  : سردیوں کے موسم میں لوگ گرم ٹوپیاں پہننے کیلئے مجبور ہوتے ہیں ،ان گرم ٹوپیوں کو پہن کر نماز یںپڑھی جاتی ہیں۔یہ گرم ٹوپیاں کبھی پیشانی پر بھی ہوتی ہیں اور اُسی طرح سجدہ بھی کیا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں پیشانی زمین پر نہیں ہوتی۔سجدہ ٹوپیوں پر ہوتا ہے۔ ہمارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب نمازی اپنا سَر زمین پر رکھتا ہے توپیشانی کے بجائے زمین پر ٹوپی ٹک جاتی ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ اس سے نماز میں کوئی کراہت تو نہیں آتی ۔آج کل اس مسئلہ کی شدت سے ضرورت ہے اور بعض جگہ اس پر بحث و گفتگو بھی ہوتی رہتی ہے۔ عبدالعزیز لون۔گریز  جواب  : سَر پر اس طرح ٹوپی ہو کہ نمازی کی پیشانی بھی اس میں ڈھک چکی ہو اور اسی طرح نماز پڑھی جائے اور زمین پر پیشانی نہیں بلکہ ٹوپی

دورِ نبوت ؐ میں اسلامی بھائی چارہ

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے قندیلیں مسجد میں لٹکادیں ، پھر رات کے وقت ان کو جلادیا ۔یہ دیکھ کر حضور نبی کریم ؐ نے فرمایا:"ہماری مسجد روشن ہوگئی، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے بھی روشنی کا سامان فرمائے، اللہ کی قسم! اگر میری کوئی اور بیٹی ہوتی تو میں اس کی شادی تم سے کردیتا"۔بعض روایات میں ہے کہ سب سے پہلے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مسجد میں قندیل جلائی تھی ۔  مسجد نبوی کی تعمیر کے ساتھ آپؐ نے دو حجرے اپنی بیویوں کے لیے بنوائے تھے ۔(باقی حجرے ضرورت کے مطابق بعد میں بنائے گئے)۔ان دو میں سے ایک سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا تھا اور دوسرا سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا ۔ مدینہ منورہ میں وہ زمینیں جو کسی کی ملکیت نہیں تھیں ، ان پر آپ ؐنے مہاجرین کے لیے نشانات لگادئیے، یعنی یہ زمینیں ان میں تقسیم کر دیں۔کچھ زمینیں آپ کو انصاری حضرات نے ہدیہ کی تھیں ۔ آپ ؐ نے ان کو

مُلکِ مصر میں بنی اسرائیل

حضرت یوسف ؑ ملک مصر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تمام بیٹے الگ الگ علاقوں میں جا کر بس گئے تھے اور صرف حضرت اسحاق علیہ السلام اُن کے ساتھ فلسطین میں رہ رہے تھے۔ اُن کے وصال کے بعد اُن کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام فلسطین میں رہے۔ اُن کی پہلی بیوی سے دس بیٹے ہوئے اور دوسری بیٹی سے دو بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام اور بن یامن ہوئے۔حضرت یوسف علیہ السلام کو اُن کے بھائیوں نے ایک کنویں میں پھینک دیا ۔ ملک مصر جانے والا ایک قافلہ اُس کنویں پانی لینے آیا تو اُسے حضرت یوسف علیہ السلام مل گئے۔ قافلے والے انہیں لیکر ملک مصر چلے گئے اور اﷲ تعالیٰ نے وہاں پر ایسے حالات پیدا کئے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ملک مصر کے بادشاہ بن گئے۔ انہوں نے اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کو اور تمام بھائیوں کو ملک مصر بلا لیا اور وہ سب وہیں بس گئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام اور اُن کے گیارہ بھائیوں کی اولادیں ہوئی

شرک اور اس کی اقسام | سوال :-کفروشرک کیا ہے ۔ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کی کچھ اقسام ہوتی تو ان کو ضروری تفصیل وتحقیق سے تحریر کریں ۔

جواب:-شرک یہ ہے کہ اللہ کی ذات میں یااُس کی صفات میں کسی بھی مخلوق کو اس کا شریک ، مثیل، نظیر یا مماثل مانا جائے ۔ اور کفر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا یا اُس کی کسی لازمی صفت کا سرے سے ہی انکار کردیاجائے ۔ اللہ کی ذات کے علاوہ کسی اور ذات کو بھی ماننا جیسے عیسائی تین خدائوں کے قائل ہیں یا اکثر ہندو کروڑوں خدائوں کو مانتے ہیں تو شرک فی الذات ہے ۔ اللہ کی مخصوص صفات میں سے کسی صفت کو کسی مخلوق کے حق میں تسلیم کرنا یہ شرک فی الصفات ہے ۔مثلاً کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ جیسے اللہ اپنی ذات کے اعتبارسے زندہ ہے اور جیسی غیر فانی زندگی اُسے حاصل ہے یا جیسے اس کی حیات کسی کی محتاج نہیں اسی طرح مخلوق میں سے کسی کی زندگی اور حیات بھی ایسی ہی ہے ۔تو یہ شرک فی الحیات ہے ۔  اسی طرح اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ جیسے اللہ کی ذات کو اس کائنات کے ذرّہ ذرّہ کا علم ہے اور ہر آن اپنی ہر ہر قوم

دیارِ نبی ؐ سے معیارِ عشق

خیر الانام سرورکونین خاتم النبیین رحمت اللعالمین امام الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم کے امت پر بے حد احسان ہیں جس کے بدولت امت مسلمہ کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے بے حد محبت کرنا واجب بن جاتا ہے۔ عظیم الشان پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ و سلم کے ذات اقدس کے ساتھ ایسی والہانہ محبت ہونی لازمی ہے کہ جس کا مطالبہ قرآن نے یوں مبذول فرمایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:"اے محبوب ! فرما دیجئے ان کو کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میری اتباع کرو، خدا تعا لیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے اور تمہارے سب گناہوں کو معاف کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ بڑے معاف کرنے والے بڑی عنایت فرمانے والے ہیں"- (القرآن؛ آل عمران، ۳:۱۳) قرآن کریم نے صاف اعلان کر دیا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ اللہ کے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع کریں،

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال :صورت ِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے زید کو بطورِ خانہ داماد گھر میں لایا ،اُس کی شادی اپنی بیٹی سے کرلی اور اُس کو حصۂ وراثت سے بھی نوازا اور زید کے بچے بھی ہوئے۔چنانچہ زید اس علاقہ کا پشتینی باشندہ نہیں تھا ،جہاں وہ خانہ داماد لایا گیا ۔اب پوری زندگی دوسرے علاقہ میں گذارنے کے بعد زید وفات پاگیا۔حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا زید کو اپنے سُسر کے قبرستان میں دفن کرنے کا شرعی جواز ہے یا نہیں؟کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اس کو یہاں قبرستان نہیں ملے گا بلکہ زید وہاں ہی دفن ہوگا جہاں کا وہ پشتینی باشندہ تھا اور نہ ہی زید کے بچوں کو نانا کے قبرستان میں دفن ہونے کا حق ہے۔ براہِ کرم اس مسئلہ پر تفصیلاً روشنی ڈالیں تاکہ یہ اختلاف ہمیشہ کے لئے پوری وادی بالعموم شہر سرینگر میں ختم ہوجائے گا ۔ طارق احمد ملہ۔نور باغ سرینگر  جواب :مقبرہ جب بستی کے تمام باشندگان کے لئے وقف ہو اور تمام

قرآن میں ہوغوطہ زن اے مردِ مسلمان

جب سے لاک ڈائون شروع ہوا تب سے لے کر تادمِ تحریر تدریسی نظام متاثر ہے۔ اسکول اور صباحی و مسائی درسگاہیں بند پڑے ہیں۔ حا لانکہ اسکول والوں نے آن لائن کلاسز شروع کئے البتہ درسگاہوںکانظامِ تعلیم متاثرہی ہے۔ ادارہ فلاح الدارین ’ شعبہ معارف ‘ کے ذریعے قصبہ بارہمولہ میں صباحی و مسائی درسگاہوں کاتدریسی نظام چلا رہا ہے ۔ادارہ کے اس شعبہ نے لاک ڈائون میں اس کی ضرورت محسوس کی کہ درسگاہوں کا نظام متاثرنہیں رہنا چاہئے ۔ اس سلسلے میں آن لائن کلاسز شروع کیے گئے ۔   راقم پرچھوٹے بچوں کوپڑھانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ اس کے لئے باضابطہ’درسگاہ‘ نامی وٹس ایپ گروپ کھولا گیا ۔ا س کلاس کے لئے کم از کم ۸۰ بچوں نے وٹس ایپ پر رجسٹریشن کیا۔ یہ کلاس ۱۳ اگست۲۰۲۰؁ء سے Zoom Appکے ذریعے سے شروع ہواہے۔ مذکورہ کلاس شام سات بجکرپندرہ منٹ پر ہوتاہے۔ یہ کلاس ’قاعدہ ‘کے

ابو لہب:حق سے انحراف کا عبرتناک انجام

تکبر بالاجماع ایک شیطانی جذبہ اور ایک گمراہ کُن صفت ہے۔سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا تکبر حق کو جھٹلانے اور لوگوں کو حقیر و ذلیل سمجھنے کا نام ہے۔ پیغمبر ِاسلام حضرت محمدعربی ؐ پر جب یہ آیت اُتری ’’وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبَیْنَ‘‘ (اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراتے رہو)۔تو رسول اللہ ؐ وادیٔ بطحا کی طرف گئے اور وہاں موجود ’’صفا‘‘ نامی ایک چھوٹی سی پہاڑی پر چڑھے اور آواز دی’’یاصباحاہ‘‘یہ وہ الفاظ ہیں جو اہلِ عرب اُس وقت پکارتے تھے جب کسی خطرہ کا انداشہ ہوتا۔آواز سنتے ہی اہلِ قریش پیاڑی کے نیچے جمع ہوگئے۔اوررسول اللہؐ نے اُن سے خطاب کرتے ہوئے وہ تاریخی خطبہ دیا جو سیرتِ نبویؐ میں ایک انقلابی نقطہ آغاز کی حیثیت رکھتا ہے۔آپؐ نے وہاں موجود لوگوں سے کہا کہ اگر میں تم لوگو

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

ہیلو کہنے پہ اعتراض…کوئی شرعی جواز نہیں  سوال :-بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ فون پر ’’ہیلو ‘‘ کہناسخت غلط ہے۔ وجہ یہ بتاتے ہیں کہ یہ انگریزی لفظ "HELL"سے مشتق ہے ۔ گویا اس کے معنی یہ ہیں  کہ ہم ہیلو کہہ کر اپنے مخاطب کو جہنمی کہتے ہیں۔اس کی کیا حقیقت ہے ؟کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے ’’ہیلو‘‘ کہنا حدیث کے خلاف ہے ۔ اس لئے کہ حدیث میں ہے : السلام قبل الکلام ۔ پہلے سلام پھر کلام کا حکم ہے ۔کیا یہ واقعتاً حدیث کے خلاف ہے ۔کچھ حضرات نے یہ بھی کہاکہ سعودی عرب کے نوّے یا ستّر علماء نے اس کو حرام قرار دیاہے ۔ کیا یہ دُرست ہے ۔ ضرور آپ کا جواب انشاء اللہ سب کے لئے تشفی بخش ہوگا ۔ خورشید احمد میر …سرینگر جواب:-فو ن پر ہیلو سے آغاز کرنا بالکل دُرست ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہیلو کہہ کر فون کرنے والا صرف یہ جان

حرمتِ سود… لغوی اور شرعی بحث

بینک (Bank)کے ساتھ تجارت:۔عصرحاضر میں چونکہ ہر تجارتی عمل بالواسطہ طورپریا بلاواسطہ طور پربینک سے منسلک ہے۔اور بینک کی بنیاد سود پر رکھی گئی ہے۔لہٰذا اس امر کی وضاحت ضروری ہوجاتی ہے کہ آیا بینک سے قرضہ اُٹھاکر تجارت کرنا جائز ہے یا نہیں؟اس ضمن میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ بینک تجارت کی خاطر عوام کو قرضے پر رقومات فراہم تو کرتا ہے لیکن سود کی شرح کا تعین بھی کرلیا جاتاہے۔اور شریعت کے نزدیک قرض پر دی گئی رقم پر سود کی شرح عائد کرنا قطعًا جائز نہیں ہے۔۹؎۔بلکہ علماء اور فقہاکے نزدیک جو قرض نفع لائے وہ سود ہے۱۰؎۔البتہ قرض دیتے اور لیتے وقت اگر سود کی شرط نہ لگائی گئی ہواور مقروض قرضہ ادا کرتے وقت بخوشی کچھ رقم یا کوئی چیز اضافی طور پر دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ’’یہ واضح رہے کہ سود صرف اُس اضافے کا نام ہے جس کی وصولی کی قرض دیتے وقت شرط لگائی جائے۔اوراگرشرط نہ لگائی گئی ہواور