تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال1:۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جوں ہی مسجد شریف میں امام صاحب قرأت شروع کرتے ہیں تو کسی نہ کسی کے فون کی گھنٹی بجنے لگتی ہے۔ بہت سارے اصحاب کو یہ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے کہ وہ فون جیب سے نکالتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ یہ کال کس نے کی ہے یا یہ مسیج(Message) کہاں سے آئی ہے، پھر فون بند کرکے جیب میں ڈالتے ہیں ۔ براہ کرم یہ فرمائے کہ کیا نماز میں ایسا کرنا صحیح ہے۔ اس سے نماز میں کوئی خلل تو نہیں پڑتا ہے؟ سوال2:۔ ثواب دارین حاصل کرنے کیلئے ہم قرآن شریف۔ دلائل الخیرات۔ حزب البحر، حزب الاعظم۔ مناجات مقبول، اوراد قادریہ، اوراد فتحیہ وغیرہ کی روز تلاوت کرتے ہیں ۔ان کے علاوہ بھی چند ایک کتابوں کا حوالہ دیجئے جن کی تلاوت سے ثواب کمائیں جاسکتے ہیں؟ محمد اسلم سہروردی  نماز میں بجتے موبائیل کو سنبھالنے کا مسئلہ  جواب1:۔ نماز شروع کرنے سے پہلے موبائل کا سوئچ بند

محبت محض اللہ کیلئے

والدین کو اولاد سے الفت ہوتی ہے اور اولاد کو ماں باپ کے ساتھ محبت ہوتی ہے۔بھائی بہن بھی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔اسی طرح رشتہ داروں کے درمیان محبت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ یہ فطری محبت ہے جو انسان کی سرشت میں رکھ دی گئی ہے۔یہ وہ جبلی محبت ہے جو انسانوں کے علاوہ تمام جانداروں، چرندوں، پرندوں اور درندوں کے درمیان بھی موجود ہے۔ہر جانور اپنے بچوں سے محبت رکھتا ہے اور بچوں کو بھی اپنے ماں باپ کے ساتھ محبت ہوتی ہے۔یہ محبت جاندار مخلوق کی زندگی کے لئے ناگزیر ضرورت ہے اور ایک جبلی تقاضا ہے۔ ایک محبت وہ ہے جو کسی کے حسن سلوک، ہمدردی، خیر خواہی اور احسان کے نتیجے میں پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک شخص کسی کو خطرے سے نکا لتاہے یا مشکل میں اس کی مدد کرتا ہے یا اس کی کوئی مالی ضرورت پوری کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس محسن کے ساتھ محبت پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ یہ محبت ایسی ہے جو نیکوں اور بُروں،فاسقوں، فاج

اﷲ تعالیٰ قرآن پاک کا محافظ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کتاب کی حفاظت  اللہ رب العزت نے سورہ الحجر میں فرمایا۔ترجمہ’’بے شک ہم نے ہی اس ذکر (قرآن پاک) کو نازل کیا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘(سورہ الحجر آیت نمبر ۹؎)۔اس آیت کی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔’’تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن پاک کی حفاظت کچھ اس طرح سے کی ہے کہ اگر مسلمان عمل سے دور ہو گئے۔اور انہوں نے خدمت قرآن کو چھوڑ دیا تو اللہ نے دشمنان قرآن کو ایمان کی دولت سے نواز کر محافظ قرآن بنا دیا۔اس کی سب سے بڑی مثال ۱۳ویںتیرھویںصدی کا وہ عظیم الشان تاریخی واقعہ ہے ،جب تاتاریوں نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی تھی۔مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کئے گئے ،خون کی ندیں بہا دی گئیں۔ان کے کتب خانے اور ان کی علمی کاوشوںکو تا تاریوںنے تہس نہس کر کے رکھ دیا۔کب

تازہ ترین