کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ قرآن کریم کے حقوق کیا کیا ہیں اور کیا ہم مسلمان اُن حقوق کو ادا کررہے ہیں یا نہیں ۔تفصیلی جواب ، اُمید ہے کہ ،بیداری اور بصیرت کا ذریعہ ہوگا اور اپنی کوتاہی کا احساس بیدار کرنے کا سبب بنے گا۔ محمد فاروق،سرینگر مسلمان پر قرآنِ کریم کے حقوق جواب:۔ قرآن کریم کے کچھ حقوق تو فکری و ایمانی ہیں اور کچھ حقوق عملی ہیں۔ ایمانی حقوق مختصراً یہ ہیں: اس پر ایمان لانا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اوراس پر یقین رکھنا کہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ اس کی عظمت دل میں رکھنا۔ اس پر یقین رکھنا کہ یہ حضرت محمد ﷺ  پر حضرت جبرائیل ؑکے ذریعہ نازل ہوئی ہے۔ یہ یقین رکھنا اب انسانیت کے لئے صرف یہی ایک صحیفۂ ہدایت ہے اور قرآن کریم کے عملی حقوق یہ ہیں ۔ اس کی تعلیم حاصل کرنا ،یعنی اس کو اس کے عربی میں پڑھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ یہ پڑھنے کی صلاحیت چاہئے صحیفۂ مبارک ہاتھ میں لے کر ا

عید کی نماز اپنے گھروں کے بڑےہال، صحن یا پارک میں ادا کرسکتے ہیں

نماز جمعہ کی طرح تمام احتیاطی تدابیر اور طبی ہدایات کے مطابق محدود تعداد کے ساتھ نماز عید الفطر بھی ادا کی جائے۔ جن مقامات میں شرائط کے مطابق جمعہ پڑھا جا رہا ہے وہاں پر بڑی مساجد کے علاوہ چھوٹی مساجد، گھروں ، ان کے صحن یا پارکوں اور ھالوں میں یہ نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ مساجد کے منتظمین اور با اثر مدبر حضرات مشورہ کر کے بنکوں، گیس ایجنسیوں اور راشن اسٹوروں وغیرہ میں حکومت کی طرف سے دی گئی ہدایات کے مطابق قائم سماجی فاصلہ (سوشل ڈسٹنس) کے نمونہ پر نمازیوں کے درمیان فاصلہ بنائیں۔ اس سے صحت کی حفاظت بھی ہوگی اور شرعی حکم کی بجا آوری بھی۔ ایک مسجد، ھال، گھر کے صحن یا پارک میں ہجوم سے بچنے کے لئے تھوڑے تھوڑے افراد وقفہ وقفہ سے ایک سے زائد مرتبہ بھی نماز عید ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن ہر مرتبہ کا امام الگ الگ ہونا چاہیے۔ کیونکہ وقت کافی دستیاب ہے۔  نماز عید کا وقت اشراق (آج کل پون

قبلہ اول کی بازیابی | ملت مرحومہ کی بے کسی روح فرسا

 تاریخ گواہ ہے کہ آج سے تقریبا تہتر سال پہلے اس سرزمین پر اسرائیل نامی صیہونی ریاست کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ پہلی جنگ عظیم سے قبل مٹھی بھریہودی ارض فلسطین پر آباد توتھے۔ یہ اپنے ازلی حریف عیسائیوں کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے سینکڑوں سال تک مسلمانوں کے زیر سایہ اپنی زندگی بسر کررہے تھے اور مسلمانوں کے ہوتے ہوئے بنا کسی خوف و خطرکے اپنے مذہبی امور انجام دیتے تھے۔ صیہونی دہشتگردی نامی کتابچہ کے مطابق 1800 ء سے قبل صرف چھ ہزار سات سو یہودی فلسطین میں آباد تھے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دنیا بھر سے یہودیوں کو اکھٹا کرکے فلسطین کی سرزمین پر بٹھایا گیا اور 1915 ء میں فلسطین میںیہودیوں کا تعداد ستاسی ہزار پانچ سوتک پہنچ گئی اور یہ تعداد بتدریج بڑھتی چلی گئی۔ 1947 ء تک فلسطین کی سرزمین پر چھ لاکھ تیس ہزار یہودیوں کو بسایا گیاجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ1948 ء میںامریکہ اور برطانیہ کی ناجائز

بیت المقدس کے تئیں امت ِ مسلمہ کی ذمہ داری

قبلۂ اول کا تقدس اس کے نام سے ہی عیاں ہے اور اس کی تقدیم و تقدس کیلئے یہ امر کافی ہے کہ اسے مسلمانان عالم کے قبلہ اول ہونے کا شرف حاصل ہے۔ خدا کے اس مقدس گھر کی جانب رخ کرکے اولین و سابقین مومنوں نے امام المرسلین ؐ کی پیشوائی میں نماز ادا کی۔ خداوند قدّوس نے اپنے محبوب کو معراج پر لے جانے کیلئے روئے زمین پر اسی مقدس مقام کا انتخاب کیا۔ جب سے اس کی بنیاد پڑی ہے خاصان خدا بالخصوص پیغمبروں نے اس کی زیارت کو باعث افتخار جانا ہے۔ بیت المقدس بارگاہ خداوندی کے ان اولین سجدہ گزاروں اور توحید پرستوں کا مرکز اول ہے جن کے سجدوں نے انسانیت کوہزارہاسجدوں سے نجات دلادی۔  لیکن افسوس صد افسوس کہ جو بیت المقدس مدت مدید سے خداجو افراد کے واسطے خدا نما ثابت ہوا، جس نے پریشان فکروںکو مجتمع کر کے مسلمانوں کو مختلف الجہتی اور پراگندگی سے بچایا، جس نے فرزندان ِ تو حید کی قوت ِ بندگی کو مرتکز (Conce

تازہ ترین