کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

نکاح خوانی، مہر اور تھان…شرعی احکام سوال:۱- نکاح خوانی کا طریقہ کیا ہے ؟ سوال:۲-مہر کتنا مقرر کرنا چاہئے ؟ سوال:۳- مہر کے علاوہ تھان نکاح اور زیورات کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے ۔ نکاح کی مجلس میں ان معاملات کے متعلق کیا کچھ تحریر میں لایا جانا چاہئے؟ سوال:۴-مجلس نکاح میں ایجاب وقبول کا کیا طریقہ ہوتاہے ؟ سوال:۵- لڑکی سے نکاح کی اجازت لینے کا حق کس کو ہے اور اس کی طرف سے کس بات کو رضامندی سمجھا جائے ۔ سوال:۶- نکاح مجلس کے بعد نکاح خواں کو اُجرت دی جاتی ہے ۔ یہ اُجرت لڑکے والے کو دینی ہوتی یا لڑکی والوں کو۔ عام طور پر لڑکے والے یہ اجرت دیتے ہیں اگر نکاح خواں لڑکی والے بلا کرلے آتے ہیں ۔ توپھر لڑکے والوں سے کیوں اُجرت لی جاتی ہے ۔یہ اجرت لینا جائز ہے یا نہیں ۔تفصیل سے لکھئے ۔ ایک سائل …کپواڑہ کشمیر جواب:۱-نکاح خوانی کا طریقہ یہ ہے کہ مجلس نک

’’شوال المکرم‘‘ کے چھ روزے باعثِ اَجر و ثواب عمل

’’شوال المکرم ‘‘رمضان المبارک کے بعد وہ اسلامی مہینہ ہے جس کا آغاز اہل ایمان کی ماہِ رمضان میں کی گئی عبادات بالخصوص ماہِ صیام کے روزوں کی جزا کے طور پر عیدالفطر سے ہوتا ہے ،یہ دن روزوں کی جزا کے طور پر انعام و اکرام کے طور پر عطا کیا گیا۔ رمضان المبارک کے روزوں اور عید الفطر کے بعد اہل ایمان کے لیے شوال کے چھ روزے رکھنے کی احادیث میں بہت فضیلت اور ترغیب آئی ہے۔ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ترجمہ : جس نے رمضان کے روزے رکھے ، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ساری زندگی کے روزے رکھنے کی طرح ہے ۔ (صحیح مسلم : 2815) اللہ عزوجل اپنے بندوں پر ہر آن مہر بان ہے،اپنی رحمتیں،نعمتیں بر ساتا رہتا ہے۔ وہ بڑا کریم ہے کہ اس نے رمضان المبارک جیسا بابرکت مہینہ ہمیں عطا کیا۔روزہ، تلاوت قرآن، نوافل،

مسجدوں کےلاؤڈ اسپیکر کی آواز کا گراف؟

 لائوڈ اسپیکر یا آلۂ مکبّر الصوت آواز کو بڑا کر کے پیش کرنے کے لیے ایجاد کیا گیا ہے۔اس کی حکمت یہ ہے کہ اگر کسی مقرر یا امام وخطیب یا قاری یا حمد ونعت پڑھنے والے کی آوازتعداد زیادہ ہونے کے سبب اُن سب حاضرین وسامعین تک نہ پہنچ سکے، جونماز میں شامل ہیں یا خطاب اور حمد ونعت کو سننے کے لیے جمع ہیں، تو یہ آلہ استعمال کیا جائےتاکہ ِابلاغ اور اِسماع (سنانے)کا مقصد پورا ہوسکے، غرض یہ آلہ تب استعمال کیاجاتا ہے ،جب اس کی ضرورت ہو۔  اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ جو لوگ نماز میں شامل نہیں ہیں یا قصد وارادے سے خطاب ، تلاوت یا حمد ونعت کو سننے کے لیے جمع نہیں ہیںیا آرام کر رہے ہیں یا اپنے کام کاج میں مشغول ہیں یا دنیاداری کی باتوں میں لگے ہوئے ہیں ، اُنہیں سننے پر مجبور کیا جائے ۔اس کا اثر منفی مرتب ہوتا ہے ، خاص طور پر مساجد کے قریب جو مکانات ہوتے ہیں ،اُن کے رہنے والے شکایت کر

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:-دوئم یہ کہ منتقلی جائیداد کے وقت بیٹے اور بیٹیوں کو سراجلاس بلا کر انتقالِ وراثت تصدیق کیا جاتاہے ۔یہاں پر بھی بیٹیاں اکثر اپنے براداران کے حق میں جائیداد سے دستبردار ہوجاتی ہیں جب کہ وہ ابھی جائیداد کی مالک ہی نہیں ہوتیں اور ’’بخش دیتے ہیں ‘‘کا جملہ استعمال کیاجاتاہے ۔ بعض اوقات بیٹیوںکویہ کہہ کرمجبور کیا جاتاہے کہ آپ کو اپنے میکے میں یعنی بھائیوں کے پاس آنا جانا ہے اگر آپ نے حصہ لے لیا تو میکے میں آمد ورفت سے دستبردار ہوناہوگا اور اسی عوامی ذہنیت کی بناء پر بیٹیاں بھی سمجھتی ہیں کہ اگر ہم نے حصہ لے لیا تو ہم نے میکے آنے کا راستہ بند کردیا۔ اس صورت حال کو مدنظر رکھ کر آپ سے گزارش ہے کہ منتقلی وراثت کا مسنون طریقہ کیا ہے ۔ براہ کرم تفصیلاً جواب سے آگاہ فرمائیں ۔ ایک سائل… سرینگر قبضہ میں لینے سے پہلے ہبہ کرانا غیر درست  ج

اللہ تعالیٰ کی شانِ رحمت

اللہ رب العزت کی صفاتِ عالیہ میں ایک بہت نمایاں صفت اللہ کی شانِ رحمت ہے، اسمائے حسنیٰ میں ’’الرحمٰن‘‘ اور ’’الرحیم‘‘ دونوں اسی صفت کے ترجمان ہیں، اور ان میں اللہ کی رحمت کی کثرت، عموم، تسلسل اور دوام سب کی طرف اشارہ موجود ہے۔ قرآن مجید میں سیکڑوں مقامات پر اللہ نے اپنی صفتِ رحمت کا ذکر کیا اور حوالہ دیا ہے، تمام قرآنی سورتوں کے آغاز میں جو آیت تلاوت کی جاتی ہے اور تمام اہم کاموں کا آغاز جن مبارک کلمات سے کیے جانے کا حکم ہے وہ ’’ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‘‘ ہے، جس میں اللہ کے ’’رحمٰن‘‘ (سب پر مہربان) اور ’’رحیم‘‘ (بہت مہربان) ہونے کی صراحت ہے، قرآن میں مستقل ایک سورت ’’سورۃ الرحمٰن‘‘ کے نام سے موسوم ہے، جسے قرآن کی زینت قرار دیا گیا ہے، اس

توبہ و استغفار!،موجودہ حالات میں نہایت اہم

ارشادِ ربانی :اے ایمان والوتم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو ممکن ہے تمہارا رب تمہارے گناہ دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں پہنچادے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جس دن اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور ان اہل ایمان کو جوان کے ساتھ ایمان لائے، بےتوقیر نہ کرے گا۔ ان کا نوران کے سامنے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا۔ یہ دعائیں کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمیں نور عطا فرما اور ہمیں بخش دے ۔یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے۔ (سورۃ التحریم ) انسانی فطرت و جبلت کی بنیادنسیان و عصیان پر استوار کی گئی ہے، لیکن مسلم اور غیرمسلم انسان میں بنیادی فرق ہے۔ عام انسان خطا وعصیان پردائمی استوار رہ سکتا ہے الاّ یہ کہ اللہ رب العالمین اسے ہدایت سے سرفراز فرمادے اور وہ حلقہ بگوش اسلام ہو کر اپنی سابقہ روش ترک کر کے اسلامی اصول و ضوابط پر کار بند رہ کر باقی زندگی مرضیات ربانی کے مطابق گزاردے ۔ مندرج

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

۔۲۹؍رمضان :چاند کا انتظار اور تراویح سوال:-29؍رمضان کی شام کو لوگ چاند کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ اسلئے کچھ لوگ کہتے ہیںکہ تراویح مت پڑھو جب تک چاند کافیصلہ نہ ہوجائے اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جب تک عید ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ نہ ہو جائے اُس وقت تک انتظار کرو ۔ پھر یہ انتظار کبھی دس گیارہ بجے تک پہنچ جاتاہے ۔ پھر اگر عید نہ ہونے کا اعلان ہوتاہے تو پژمردہ ، دل ملول ہو کر کچھ لوگ تراویح پڑھتے ہی نہیں اور کچھ لوگ بادلِ نخواستہ پڑھتے ہیں ۔ اسلئے رہنمائی فرمائی جائے کہ کیا کرنا ہوتاہے ؟اور کیا کرنا چاہئے ۔ عبدالرشید …پامپور ، کشمیر جواب:-رمضان المبارک کی ۲۹؍تاریخ کی شام کو جب تک چاند کے نکل آنے کی یقینی اطلاع نہ آئے اُس وقت تک رمضان قائم اور موجود ہے اور عید ہونا مشکوک ہے تو رمضان کا وجود قطعی ہے ۔ اس لئے ساری دنیا کے لئے اصول بھی یہی ہے اور اسی پر عمل بھی ہے کہ جوں ہی نما

زکوٰۃ۔۔۔

 ارکانِ اسلام میں زکوٰۃ نماز کے بعد دوسرا اہم ترین رُکن ہے۔قراٰن میں ۲۸ مقامات پر زکوٰۃ  ادا کرنے کا تاکیدی حکم آیا ہے اور ۲۳ مقامات پر نماز اور زکوٰۃ کا  ذکر یکجا کیا گیا ہے، جس سے اسلام میں زکوٰۃ کی اہمیت اور مقام کا انداز ہ کیا جا سکتا ہے۔جس طرح نماز حقوق اللہ کی ادائیگی کی سب سے اہم کڑی ہے، اُسی طرح حقوق العباد میں یہی حیثیت زکوٰۃ کو حاصل ہے۔ زکوٰۃ کے معنی پاکیزگی اور صفائی کے ہیں، اپنے مال سے بخوشی خدا کا حق نکالنے سے مال بھی پاک ہو جاتا ہے اور آدمی کا اپنا نفس بھی خود غرضی، دنیا پرستی اور مادہ پرستی سے پاک و صاف ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہو کر ارشاد فرماتا ہے:    خذ من اموالھم مصدقۃ تطھّر ھم و تزکیھم بھا۔ یعنی (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) ان ( مومنوں ) کے مالوں میں سے زکوٰۃ لے کر ان کے ظاہر و باطن ک

زکوٰۃ الفِطر ۔ہر مسلمان پر فرض ہے

  زکوٰۃ اور زکوٰۃ الفطر میں فرق یہ ہے کہ زکوۃ الفطر ہر مسلمان پہ فرض ہے۔گھر کے سربراہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کیطرف سے نماز عید سے قبل زکوٰۃ الفطر ادا کرے۔اس کیلئے مقررہ نصاب کی بھی کوئی شرط نہیں ہے۔علماء کےمطابق جب رمضان کے آخری دن کا سورج غروب ہوتا ہے تو زکوٰۃ الفطر واجب ہو جاتی ہے ،جسے نمازعید سے قبل ادا کرنا ضروری ہے۔ اِسے عید سے دو تین دن قبل بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔جبکہ زکوٰۃ صرف اس شخص پہ فرض ہے جو صاحب نصاب ہو۔مقررہ نصاب یعنی ساڑھے سات تولہ سونا اور پچپن تولے چاندی یا ان کے برابر پیسوں کے سال پورا ہونے پہ اڑھائی فیصد ادا کرنا ہے۔جس کیلئے رمضان کی شرط نہیں ہے۔جب بھی نصاب کو سال پورا ہو جائے زکوٰۃ ادا کر دینی چاہیے۔مثلا ایک خاتون کی شادی صفر میں ہوئی اور وہ ساڑھے سات تولے یا اس سے زیادہ سونے کی مالک بن گئی تو اسے اگلے سال اس سونے کی زکوٰۃ صفر میں ادا کرنی ہو گی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

صدقہ فطر: فضائل ومسائل  سوال:- صدقہ فطر کیا ہے ؟ اس کی ادائیگی کاوقت کب سے ہے ؟اور اس کاآخری وقت کیاہے ؟ اس کی مقدار کیا ہے ؟ اس کی مقدار کا حساب کیسے لگایا جاتاہے ؟ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کس طرح ادا کیا جاتا تھا ؟ اس وقت روپیہ تو تھا نہیں پھر ادائیگی میں کیا چیز دی جاتی تھی ،اس کی زیادہ سے زیادہ مقدارکیاہے ؟اس کی رقم کاحساب کرنے میں کبھی مختلف آراء سامنے آتی ہے۔اس کا شرعی طریقہ بتایئے تاکہ ہم خود اس کا حساب کریں ۔ یہ کن لوگوں کو دینا ہوتاہے یعنی مستحق کون ہیں؟ ان سوالوں کا جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں ۔   محمد یونس… سرینگر  جواب:-صدقہ فطر غرباء ومساکین کو تعاون دینے اور اپنے روزوں کی خامیوں ، کمزوریوں اور نقائص کو دورکرنے کا ذریعہ ہے ۔ چنانچہ احادیث میں اس کو طھر اللصیام وطعمۃ للمساکین کہاگیا ہے ۔ یعنی روزوں کی تطہیر اور غرب

زکوٰة ۔ احادیث کے آئینے میں

زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن اور اہم ترین مالی فریضہ ہے ،جس کی فرضیت قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے دوسرے سال میں مسلمانوں پر زکوٰة کی فرضیت کا حکم نافذ فرما یا۔ زکوٰة کے لغوی معنیٰ پاکیزگی اور بڑھوتری کے آتے ہیں ، کیونکہ زکوٰۃ کے ادا کرنے سے مال میں خیر و برکت کی زیادتی اور پاکیزگی ہو جاتی ہے، اس لئے ایسا مال جو ظاہر اور باطن کی پاکیزگی کا ذریعہ بنتا ہے، اسے زکوٰۃ کہا جاتا ہے۔        شرعی اعتبار سے زکوٰۃ مال کا وہ حصہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے مالداروں پر غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کےلئے چند شرطوں کے ساتھ واجب کیا، جو سال گزرنے کے بعد مقررہ نصاب کے مطابق محتاجوں کو دیا جاتا ہے۔           اسلام میں زکوٰۃ اللہ کی رضا جوئی کی نیت سے کسی مسلمان فقیر کو اپنے مال میں سے مقررہ حصوں کے مالک بنا دینے کا نام ہے۔ لیکن زکوٰۃ کی ر

اسلامی تاریخ کا یادگار دن!

 رمضان المبارک مقام بدر میں تاریخ اسلام کا وہ عظیم الشان یادگار دن ہے جب اسلام اور کفر کے درمیان پہلی فیصلہ کن جنگ لڑی گئی ،جس میں کفار قریش کے طاقت کا گھمنڈ خاک میں ملنے کے ساتھ اللہ کے مٹھی بھر نام لیواؤں کو وہ ابدی طاقت اور رشکِ زمانہ غلبہ نصیب ہوا ،جس پر آج تک مسلمان فخر کا اظہار کرتے ہیں۔ 13 سال تک کفار مکہ نے محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے، ان کا خیال تھا کہ مُٹھی بھر یہ بے سرو سامان سر پھرےبھلا ان کی جنگی طاقت کے سامنے کیسے ٹھہر سکتے ہیں، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اللہ کی خاص فتح ونصرت سے 313 مسلمانوں نے اپنے سے تین گنا بڑے لاؤ و لشکر کو اس کی تمام تر مادی اور معنوی طاقت کے ساتھ خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا۔ دعائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور جذبہ ایمانی سے ستر جنگجو واصل جہنم ہوئے، چودہ صحابہ کرام

جمعہ کے دن کی عظمت وفضیلت !

اسلامی قمری سال کے تمام دنوں میں جمعہ کادن سب سے افضل ہے،جمعہ کے دن کی فضیلت وعظمت اوراس کے تقدس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کثیراحادیث منقول ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کی بڑی برکات اورفضیلتیں ارشاد فرمائی ہیں۔احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ جمعہ کے دن کاعبادت کے لئے مخصوص ہونا اس امت کی خصوصیات میں سے ہے، سابقہ امتوں کو یہ دن نصیب نہیں ہوا، اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر یہ دن منتخب فرما کر اس آخری امت کوعطا کیا ہے، چناںچہ حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذرؓ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ دنوں کا سردار ہے، اور اللہ کے نزدیک یہ بڑے مرتبے کا حامل ہے اور اللہ پاک کے نزدیک اس کی عظمت عیدوبقر عید سے زیادہ ہے۔(ابن ماجہ) یہ توعام ایام میں جمعہ سے متعلق ارشادات ہیں اوریہی جمعہ جب رمضان المبارک میں آجائے اورخصوصاًرمضان کے آخری عشرے میں تواس

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

اوقاتِ سحری و افطار میں تقدیم و تاخیر   س: -۱:  سحری و افطار کے لئے جو وقت متعین ہے کیا ایک دو منٹ کم زیادہ ہونے سے روزے میں کوئی فرق پڑ سکتا ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں ایک دو منٹ آگے پیچھے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس بارے  میں رہنمائی فرمائیں  س: - ۲: افطار اور سحری کے لئے جو میقات اور کلینڈر مسجدوں میں آویزاں رکھے جاتے ہیں، اُن کے مابین کہیں کہیں کچھ منٹوں کا فرق ہوتا ہے،ایسی صورت میں کونسا کلینڈر اعتماد کے قابل ہے؟ عبد العزیز…شوپیان   ج: -۱: سحری کھانے کا آخری وقت صبح صادق کا طلوع ہے اور یہ طلوع فجر کہلاتا ہے۔ اس وقت کے ہو جانے پر کھانا پینا بند کرنا لازمی ہے۔صبح صادق کا یہ وقت اختتام سحر، اختتام تہجد، آغاز روزہ اور آغازِ نماز فجر کا وقت ہے۔ اس سلسلے میں یہ امر ملحوظ رہے کہ سحری کے لئے اصل وقت کون سا ہے۔ اس کے لئے محققین جن م

علمائے کرام و ائمہ عظام کرکے دکھائیں!

 رمضان المبارک کا مقدس و بابرکت مہینہ جب عالم اسلام پر سایہ فگن ہوتا ہے۔ تو اپنی رحمت ونور سے زمانے بھر کو معطر کر دیتا ہے۔ اور سارا عالم اپنے رب کے حضور اس کی رحمتوں، برکتوں کی سوغات لینے سوالی بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ مقصد وجود انسانی کے تحت انسان کا دل گناہوں کی آلودگی سےکنارہ کش ہو کر روزہ پر استقامت، نماز کی ادائیگی، سنن و واجبات کی پابندی، جذبۂ اخلاص وایثار، صبر واستقلال، تلاوت قرآن کریم، اوراد و وظائف اور اعمال خیر کی طرف راغب ہوجاتا ہے۔اور مومن کی ایمانی حرارت میں مزید تیزی آجاتی ہے۔ ایسے پر بہار موقع سے امت  کے علمائے کرام وائمہ عظام کے لیے بڑا بہترین موقع ہے کہ وہ اپنے فریضۂ دینی یعنی دعوت واصلاح، تبلیغ وارشاد کے ذریعہ عوام الناس کو دین کی صحیح تعلیمات سے روشناس کرائیں، اور دینی مراکز میں درس قرآن ،درس حدیث اور فقہی مسائل جیسے حلقوں کا اہتمام کریں۔ اس وقت جبکہ م

قرآن کریم۔تا قیامت ایک معجزہ !

دنیامیں تقریباایک لاکھ چوبیس ہزارپیغمبرؑ انسانوں کی ہدایت کیلئے اللہ کی طرف سے بھیجےگئےاور ہرایک نبی کو اس وقت کےحالات کےمطابق معجزات بھی دیئےگئے ،فرعون کےزمانے میں جادوگروں کابڑازورتھا ،اس وقت حضرت موسی ؑ کولاٹھی کامعجزہ عطاکیاگیا۔فرعون نےجادوگروں کوبلایا اورلاکھوں انسانوں کوجمع کیااوراسی بیچ حضرت موسی ؑ کوبلایا کہ مقابلہ کرو ،جادوگروں نے رسیوں کومیدان میں پھینکا تووہ سانپ بن گئے ،تب موسیٰ ؑ نے اللہ کےحکم کےمطابق لاٹھی کومیدان میں پھینکا، وہ لاٹھی اژدہابن گئی اور تمام سانپوں کونگل گئی ، جادوگرحیران ہوگئے اوربول اٹھے یہ جادو نہیں ہے ،سب نے بیک زبان موسی ؑکواپنا نبی مان لیااورایمان لےآئے۔ حضرت موسی ؑ کویدبیضا کامعجزہ اورآسمانی کتاب توریت عطاکی گئی ،حضرت داؤودؑ کوزبورعطاکی گئی، حضرت عیسیؑ کوانجیل اور یہ معجزہ بھی دیاگیا کہ وہ مُردوں کو زندہ کردیاکرتے،پیدائشی نابیناکو بینائی عطافرماتے،

انفاقیت کامبارک مہینہ!

انفاق فی سبیل اﷲ یعنی اﷲ کے راستے میں اﷲ کی عطا کردہ دولت و ثروت میں سے خرچ کرنا اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انتہائی محبوب عمل ہے ۔ چونکہ فطری طور پر انسان کے دل میں دنیاوی مال و متاع اور عیش و عشرت کی محبت بہت زیادہ ہو تی ہے اور ہر شخص کی خواہش ہو تی ہے کہ وہ خود اور اس کی آئندہ نسلیں بخیر و خوبی زندگی کے مزے لو ٹ سکیں۔ اسلام مال و دولت اکٹھا کرنے سے منع نہیں کر تا ،البتہ اس کے ذرائع حصول حلال و پاکیزہ ہوں اور اس کا استعمال جائز و مستحسن انداز میں ہو۔  اپنے اہل عیال کی جائز خواہشات کی تکمیل اور اسلامی تعلیمات کے مطابق بودو باش اختیار کرنا ،سب ٹھیک عمل ہے، مگر ایسا نہیں ہو سکتا کہ اﷲ رب العالمین آپ کو اپنے دوسرے بندوں پر فضیلت و بر تری عطا فرماتے ہوئے مال و دولت اور اسباب ظاہری سے مالا مال فرمائے اور آپ بس اپنی دنیا میں ہی گم ہو کر رہ جائیں اور اپنی خواہشا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

روزوں کو بچانے کیلئے احتیاط لازم  سوال:۱- روزہ رکھنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ اب روزہ رکھ لینے کے بعد کن باتوں کی رعایت کرنا ضروری ہے اور وہ کیا احتیاط ہے جس کی وجہ سے روزہ بہتر سے بہتر بن جائے ۔ سوال :۲- رمضان شریف میں افضل عبادت کیا ہے ؟ نورالدین …بتہ مالو ،سرینگر جواب۱:-روزہ رکھنے کے بعد یہ بات بہت لازم ہے کہ روزے دار اپنے روزے کو اُن تمام خرابیوں سے بچانے کی پوری فکر کرے جو روزہ کے تمام ثمرات ، اثرات اور فوائد کو ختم کردیتی ہیں ۔ قرآن کریم میں روزہ رکھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ روزہ لازم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تمہارے اندرتقویٰ پیدا ہو۔ تقویٰ وہ کیفیت ہے جس کے نتیجے میں مومن تمام فرائض کو انجام دینا ہے اور تمام اُن کاموں سے بچنے لگتاہے جو اللہ اور اُس کے رسول صلعم نے حرام کئے ہیں یعنی تمام حرام کردہ اشیاء سے بچنے کا اہتمام تقویٰ ہے ۔ اب اگر ر

ماہِ رمضان ۔اللہ کی رحمت کا عظیم مظہر

اللہ تبارک وتعالیٰ کی مہربانی ورحمت کاکیا پوچھنا وہ تو اپنے بندوں پر سترمائوں سے بھی زیادہ مہربان ہے ،وہ توبہ واستغفارکوپسندکرتاہے اورگناہوں میں سرتاپا ڈوبے ہوئے لوگوں کوبھی اپنی رحمت سےمایوس نہ ہونےکی ہدایت کرتاہے۔رمضان المبارک اللہ تعالی کی رحمت کاعظیم مظہرہے،جس میں اس کی رحمت کا دریا سمندرکی شکل اختیار کرلیتاہے ،رحمت باری جوش میں ہوتی ہے ،چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی بھی وہ قدرافزائی اوربدلہ کہ ہم تصور نہیں کرسکتے اورپھررمضان المبارک کی برکتوں سے ایساخوشگوارماحول جوخودبخود خیرکی طرف متوجہ کرتاہے اوربرائیوں سے وحشت محسوس ہونےلگتی ہے، خیروبرکت کے اس ماحول میں اگر تھوڑی سی بھی کوشش کی جائے توہم میں سے ہرفرد اپنے نفس کی تربیت وتزکیہ کرکے ایک پاکیزہ زندگی کاآغازکرسکتاہے،ایک ایسی زندگی جو ہمارے رب کو مطلوب ہے اورجس کے نتیجےمیں ہم تمام ابدی ودائمی مسرتوں کےحقدار بن سکتےہیں۔ یہ کام مشکل توہےمگرنا

روزے کی حالت میں مسواک کا استعمال

حضرت عامر بن ربیعہ ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے بے شمار مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روزے میں مسواک کرتے دیکھا، (سُنن ترمذی:725)۔روزے کی حالت میں فقہاء احناف نے مسواک کی اجازت دی ہے ،چاہے وہ خشک ہو یاتر ، جس میں کچھ ذائقہ موجود ہوتا ہے ۔علامہ زین الدین ابن نجیم حنفیؒ لکھتے ہیں:’’ اوررہا مسواک کرنا ،روزے دار کے لیے مسواک کرنا مکروہ نہیں ہے، مسواک خشک ہویاتر ،اگرچہ پانی سے تر کی ہوئی ہو ،زوال سے پہلے کرے یا بعد میں ،(البحرالرائق ،جلد 2،ص:302)‘‘۔علامہ نظام الدین ؒ لکھتے ہیں: ’’ اوررہی سبز مرطوب مسواک تو اس میں کسی کے نزدیک کوئی مضائقہ نہیں ،(فتاویٰ عالمگیری ، جلد1،ص:199)‘‘۔ مسواک کی تری یا اس کی لکڑی کاکوئی ریزہ یا ریشہ حلق میں چلاگیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا،امام یحییٰ بن شرف النَّوَوی لکھتے ہیں: ’’ اگر مرطوب مسواک کی

تازہ ترین