تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

کورونا متاثرہ میت کی تکفین و تدفین۔۔۔ چند اہم مسائل سوال:گذشتہ جمعرات دس افراد کرونا سے موت کے منہ میں چلے گئے ۔فوت شدہ افراد کے غسل اور کفن دفن کے مسائل سامنے آئے ۔کئی فوت شدہ افراد کو بغیر غسل دیئے تابوت میں ہی قبر کے حوالے کیا گیا ۔اس صورت حال میں یہ سوالات پیدا ہورہے ہیں کہ اس وبائی بیماری میں فوت ہونے والے افراد کے بارے میں تمام وہ احکام جو ایک مسلمان میت کے ساتھ منسوب ہوتے ہیں ،اُن پر عمل کے متعلق کیا کیا رخصت اور سہولت ہے، نیز غسل ،کفن دفن و جنازہ کس طرح اہتمام کیا جائے ۔اس لئے کہ ہمارے علاقہ میں ایک میت کو بغیر غسل کے دفن کیا گیا۔ عبدالعزیز ۔شوپیان جواب :کرونا کی وبائی بیماری سے فوت ہوئے شخص کے متعلق وہی سارے احکام ہیں جو دوسرے کسی بھی مسلمان کی میت کے لئے ہیں،البتہ اس سلسلے میں طبی ماہرین جو احتیاط برتنے کا حکم دیں، اُس کی پوری پابندی کی جائے۔اس سلسلے میں یہ امر م

سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی خصوصیات

اللہ رب العالمین نے فرمایا’’جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے(سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے)میثاق(عہد)لیاکہ جو کچھ میں تمہیںکتاب و حکمت دوں۔پھر تمہارے پاس وہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم )آئے،جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہارے لئے اُس پر ایمان لانا اور اُس کی مدد کرنا ضروری ہے۔فرمایا کہ تم اسکے اقراری ہو ؟اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟سب نے کہا کہ ہمیں اقرار ہے۔فرمایا،تو اب گواہ رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔پس اس کے بعد بھی جو پلٹ جائیں وہ یقینا پورے نا فرمان ہیں۔‘‘(سورہ آل عمران آیت نمبر  ۸۱؎  ۸۲؎)  نبوت ازل سے ابد تک  سورہ آل عمران کی آیات نمبر۸۱؎ ، ۸۲ کی تفسیر میں مولانامفتی محمد شفیع آگے لکھتے ہیں۔’’اِس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت &rs

سورہ حجرات کی چند آیات اور معاشرہ سازی...قسط تیسری

فرمانبرداری کا فقدان:  موجودہ دور کا انسان علی الخصوص ایک مسلمان ایسا لگتا ہے کہ وہ پوری دنیا کو تابع فرمان دیکھنا چاہتاہے اور کسی کے تابع رہنا اسے گوارا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی فرمانروائی چاہتا ہے اور فرمانبرداری کسی کو راس نہیں آتی۔افسری کے دلدادہ سب ہیں، ماتحتی کو ہر ایرا غیرا بھی کثرِ شان تصور کرتا ہے۔جسے کھٹیا پر بیٹھنے کی سد ھ نہیں وہ کھڈ پینچ (مکھیا ) بنا پھرتا ہے۔اسی لئے لیڈروں کی بھرمار ہے اور پیرو کاروںکے سلسلے میں قحط الرجال ۔ہر ایک دوسرے شخص کا باغی ہے۔ کوئی کسی کو ماننے اور سننے کے لئے آمادہ ہی نہیں۔ہر ایک اپنی ہی رائے کو پورے عالم پر مسلط کرنے کے فراق میں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسا تابعداری اور فرمانبرداری کا مادہ ہی کسی آسیب نے آدم زاد سے اچک لیا ہو۔خودسری اور خود خواہی کا راج ہے، ایثار گری اور ہمدردی کا کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔ اجتماعی مصالح کی کسے فک

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

منشیات کی خوفناک وباء نجات کیلئے انفرادی اوراجتماعی جد وجہد کی ضرورت سوال:۔ہمارے معاشرے میں منشیات کی مختلف قسمیں بہت تیزی سے رائج ہو رہی ہیں ۔نوجوان بہت تیزی کے ساتھ منشیات کاعادی ہوتے جا رہے ہیں ۔ شریف اور معزز خاندانوں کے بچے اس میں بُری طرح پھنس رہے ہیں ۔شراب اور دوسری منشیات کا پھیلائو بہت زیادہ ہے ۔شراب خانوں کے باہر  شراب لینے والوں کی لائینںلگی ہوتی ہیں۔ کہیں پر خفیہ اور کہیں پر کھلم کھلاشراب ، چرس اور دوسری منشیات کی فروختگی کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ یہاںجموں میں حال زیادہ ہی بُرا ہے ۔ برائے مہربانی تفصیل کے ساتھ منشیات کے متعلق قران اور حدیث کے مطابق روشنی ڈالیں۔میں میڈیکل شعبہ سے وابستہ ایک ڈاکٹر ہوں میرے سامنے بہت شرمناک اور افسوسناک واقعات ہیں۔ ڈاکٹر نجیب اشرف۔۔۔۔۔۔۔جموں جواب :۔اللہ نے انسان کو جن مخصوص اور اہم نعمتوں سے نوازا ہے اُن میں ایک خاص اور ممتاز ن

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔کیا اسلام میں لباس کی کوئی حقیقت ہے؟ آج کل اکثر لوگ کہتے ہیں کہ لباس کی کوئی شرعی حقیقت نہیں ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے دوسری چیزیں بدلتی ہیں لباس بھی بدلتا رہتا ہے۔ قرآن و حدیث کے حوالےسے تفصیلی جواب دیں۔ تنویر احمدبونیار  اسلام میں لباس کا تصّور اور نفسانیت و فیشن پرستی جواب :۔اسلام مکمل دین  ہے اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ انسان کی زندگی کے ہر ہر معاملے میں وہ پوری طرح رہنمائی بھی کرے گا اور ہر ہر شعبۂ زندگی کے متعلق احکام و ہدایات بھی دے گا۔ احادیث کی کتابوں میں لباس کے متعلق مستقل ایک تفصیلی باب ہوتا ہے۔ اس لئے یہ سمجھنا کہ لباس کی کوئی شرعی حقیقت نہیں یہ غلط بھی ہےاور لاعلمی بھی ہے یا اپنے غلط عمل کو درست ثابت کرنے کی حرکت ہے۔ لباس کے تین مقاصد ہوتے ہیں جسم کو ڈھانکنا، جسم کو سجانا اور موسم کی سردی وگرمی سے اپنے آپ کو بچانا۔ ان میں سے پہلا مقصد جسم ک

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

س:-  لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ۔ دونوں ہی معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔لڑکی کا باپ لڑکے کی سرکاری نوکری کا نہ ہونے کا بہنانہ بناکررشتے سے انکار کررہاہے۔ لڑکی کی مرضی کے خلاف اس کو نکاح کے لئے دبائو ڈالاجارہاہے ۔کیا وہ نکاح دُرست ہوگا ؟ زبیر احمد لڑکی یا لڑکے کی رضامندی کے خلاف رشتہ طے کرنا غیر دُرست جواب:-نکاح پوری زندگی کے لئے ایک ایسا رشتہ ہے جو بہت وسیع اثرات لئے ہوئے ہوتاہے ۔ انسان کی دینی ،اخلاقی ،خانگی ، معاشی اور معاشرتی زندگی پر جتنے اثرات نکاح کی وجہ سے پڑتے ہیں ۔ اُتنے کسی اور چیز کے نہیں پڑتے۔ اس لئے اس رشتہ کو قائم کرنے کی ذمہ داری والدین کی ہے ۔ جولڑکے لڑکیاں از خود رشتوں کا انتخاب کرتے ہیں وہ ہرگز دُرست نہیں کرتے ۔اس کے انتخاب کے لئے جیسی دُور اندیشی ،بصیرت اور حزم واحتیاط کی ضرورت ہے وہ عموماً نوجوانی کی جذباتی اور ناتجربہ کاری کی عمر می

نکاح میں تاخیرسماجی انحطاط کا سبب

دور حاضر میں مادی آسائشوں کے حصول کی خواہش نے انسان کو خود غرض بنادیا ہے۔ خاندان کے حقوق ادا کرنے سے فرار کی روش عام ہوچکی ہے۔بچوں کی شادی میں تاخیرکرنا اب ہمارے معاشرے کا رواج بنتا جارہا ہے۔ جہاں مادی ترقی کے نام پربہت کچھ بدل گیا وہیں رشتوں کے انداز بھی بدل گئے، جس وجہ سے معاشرے میں کنواری بیٹیوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ آج کل نوجوانوں میں شادی کرنے میں تاخیر کا رجحان تیزی سے فروغ پارہا ہے،بلکہ یہ ایک فیشن بنتا جارہا ہے،جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں پیش پیش ہیں۔اس میں ایک حد تک معاشرے اور بڑی حد تک والدین کا کردار بھی شامل ہے،جس کی بدولت معاشرے میں بے شمار برائیاں جنم لے رہی ہیں،والدین کے ذمے جہاں اولاد کی بہترین پرورش،مناسب تعلیم اور اچھی تربیت ضروری ہے وہاں سن بلوغت میں پہنچنے کے بعداولاد کیلئے بروقت مناسب رشتہ ڈھونڈ کر ازدواجی زندگی کی شروعات کیلئے بھی مکمل توجہ چاہئے۔

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال : ہمارے بہت سارے رشتہ دار اور ہم خود بھی سردیوں میں جموں ، دہلی یا ممبئی جاتے ہیں ۔بعض لوگ تو کرایوں کے مکانات میںرہتے ہیں جبکہ اکثر لوگوں کے اپنے فلیٹ ہوتے ہیں۔  اب یہ لوگ وہاں مقیم قرار پائیں گے یا مسافر رہیں گے ،ان میں جولوگ پوری سردیوں کے لئے جاتے ہیں وہ تو یقیناً وہاں مقیم ہوں گے مگر جو لوگ چند دن کے لئے جائیں گے اُن کے لئے کیا حکم ہے؟بعض حضرات کہتے ہیں کہ چونکہ جموں ،دہلی وغیرہ آبائی مقام یعنی کشمیر سے دور ہیں، لہٰذا نماز ہر حال میں قصر ہی کرنا ہے ۔اس کے لئے کیا حکم ہے؟جو لوگ تعلیم حاصل کرنے کے لئے کسی کالج یا یونیورسٹی میں جاتے ہیں وہاں وہ کبھی پندرہ دن سے کم اور اکثر پندرہ دن سے زیادہ قیام کرتے ہیں ،اُن کے لئے کیا حکم ہے؟سفر میں نمازیں کس طرح پڑھیں :کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر ،جہاز میں ،ٹرین میں ،بس میں یا چھوٹی گاڑیوں میں کیسے نماز پڑھی جائے؟گھر میں نماز قضا ہوئی ہو اور گ

نعت گوئی کی فنی،فکری اور موضاعاتی جہات

 میں جب بھی کوئی نعتیہ شعر یا کلام پڑھتا یا سنتا ہوں تو مجھے عربی شاعر زہیر ابن ابی سلمیٰ کے درجہ ذیل شعر کی معنویت پر رشک آتا ہے کہ سب سے بہترین شعر جو تم کہہ سکتے ہو،وہ ہے کہ جب پڑھا جائے تو لوگ کہیں کہ سچ کہا ہے۔  ؎ وَ اِنَّ احسنَ بیت انت قائلہ بیت یقال اذا انشد تہ  صدقا      تو نعت سے بھلا بہتر اور سچا شعر کیا ہوسکتا ہے۔(اگراس میں غلو نہ ہو)کیونکہ نعت میں نہ صرف ایک عاشق رسولؐ کا روحانی جذبہ شامل ہوتا ہے بلکہ رحمت للعالمینؐ کی ذات و صفات کی سچی مدح خوانی بھی ہوتی ہے۔  عشق رسولؐ کے روحانی جذبہ کی ایک مثال مشہور نعت’’بلغ العلیٰ بکمالہ‘‘ بھی اپنی تواریخی معنویت کا احساس دلا رہا ہے کیونکہ ایک طرف اس نعتیہ رباعی کی مقبولیت اور قبولیت کا یہ عالم ہے کہ صدیوں سے یہ عاشقانِ رسولؐ کے لئے روحانی وظیفہ ثابت ہورہی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

کووڈ- 19اور عالمی لاک ڈائون اختلافی آراءسامنے آنے کی صورت میں کیا کیا جائے؟ سوال: عالمی سطح پر لاک ڈائون کی وجہ سے لوگ گھروں میں بند ہوکر رہ گئے ہیں، ایسے حالات میں رابطوں کا اہم ذریعہ سوشل میڈیا ہے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ اس کے توسط مسائل پر علمائے کرام کی جو آرأ آئی ہیں، اُن میں کئی معاملات میں اختلاف رائے نظر آتا ہے، جس کی وجہ سے ایک عام مسلمان، جسکو علوم دینیہ پر عالمانہ تجرنہیں، پریشانی کا شکار ہوجاتا ہے۔ برائے کرم یہ بتائیں کہ شریعت کے مسائل میںجب اختلاف رائے سامنے آئے تو کیا کیا جائے؟ شوکت احمد بٹ، لین نمبر14، فردوس آباد بٹہ مالو سرینگر   جواب:شریعت اسلامیہ کے اکثر مسائل متفقہ ہیں، بہت کم مسائل ایسے ہیں جن میں اختلاف رائے ہے۔جن مسائل میںیہ اختلاف رائے ہے ،اُن میں کچھ مسائل تو عقائد سے متعلق ہیں اور کچھ مسائل عبادات سے متعلق ،پھر کچھ اختلافات اص

ماہ شوال کی خصوصیات اور ہمارا معاشرہ

 ہر مہینہ کی کچھ نہ کچھ خصوصیات ہیں ، جن کی بنا پر اللہ تعالی نے ایک مہینہ کو دوسرے مہینے سے ممتاز کیا ہے۔ یہ مہینہ شوال کا ہے ، شوال ہجری سال کا دسواں مہینہ ہے ، اس ماہ کی بھی بہت سی خصوصیات و فضائل ہیں،ان میں سے ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کی پہلی تاریخ یعنی یکم شوال کو مسلمانوں کی دو شرعی عیدوں میں سے پہلی عید یعنی عید الفطر کا شرف حاصل ہے ، یہی وہ دن ہے جس میں مسلمان نہا دھو کر صاف ستھرے کپڑے پہن کر اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ ، واللہ اکبر اللہ کبر وللہ الحمد کی صدائیں بلند کرتے اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرتے ہوئے عید گاہ جاتے ہیں ، وہاں دو رکعت عید کی نماز ادا کرتے اور امام سے خطبہ سن کر رب العزت کی بارگاہ میں اپنے روزوں ، تراویح، اور دیگر عبادات کی مقبولیت کی درخواست دے کر اپنے گھروں کو شاداں و فرہاں لوٹتے ہیں۔کیونکہ یہ دن در حقیقت روزہ دار کے انعام و بخشش کا دن

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال :(۱) اسلام میں تجارت کی اہمیت اور حیثیت کیا ہے ؟ایک تاجر کو کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے اور کن باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ہمارے بزنس کرنے والے حضرات میں اچھے سے اچھے بھی ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو دھوکہ ،فریب ،ملاوٹ ،بددیانتی اور خریداروں کو لوٹنے کی ایس ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ لگتا ہے ان کو نہ مرنے کا ڈر ہے اورنہ خدا کی پکڑ کا کوئی خوف ۔اس لئے مختصراً تجارت کے کچھ اصول و آداب سے روشنا س فرماویں۔ سوال (۲)ہم نے ہمیشہ سے سُنا کہ شوال کے چھ روزے رکھنے ہوتے ہیں مگر آج کل ایک ہم عصر عالم ،جو ہمارے پڑوسی خطہ میں ہیں ،کا ویڈیو وائرل ہورہا ہے کہ شوال کے چھ روزوں کی کوئی حیثیت نہیں ۔اس کے متعلق آپ جواب تحریر فرمائیں،نیز یہ بھی فرمائیں کہ یہ روزے کس طرح رکھے جا سکتے ہیں ۔تسلسل کے ساتھ یا درمیان میں کچھ دنوں کا فاصلہ بھی کرسکتے ہیں؟ شیخ عمران۔نوگام سرینگر تجارت میں دیانت جنت

نماز مومن کی معراج

 نماز دین اسلام کا ایک ایسا عظیم رُکن ہے جسکی فرضیت کا اعلان زمین پر نہیں بلکہ ساتوں آسمانوں کے اوپر بلند واعلیٰ مقام پر معراج کی رات ہوا، نیز اس کا حکم حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم تک نہیں پہنچا بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرضیت ِ نماز کا تحفہ بذاتِ خود اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو عطا فرمایا۔ نماز، ایمان کے بعد اسلام کا اہم ترین رُکن ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید اور احادیث مبارکہ صلی اللہ علیہ و سلم میں نماز کی مسلمہ اہمیت وفضیلت کو کثرت سے ذکر کیا گیا ہے۔ صرف قرآنِ پاک میں تقریباًسات سو مرتبہ کہیں اشارتاً اور کہیں صراحا ً مختلف عنوانات سے نماز کا ذکر ملتا ہے۔جن میں نماز کو قائم کرنے پر بڑے بڑے وعدے اور ضائع کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کے بارے میں قرآن کریم کر سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر ۵۴ میں اللہ ربّ العزت فرماتے

انسانیت کا مرکز و محور ذات ِمصطفیٰ ؐ

 انسانی تاریخ کے محققین لکھتے ہیں کہ چھٹی صدی عیسوی میں انسانیت کی تباہ کاریوں کی وجہ صرف خالق و مالک کی وحدانیت کا انکار تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کائنات کے گوشہ گوشہ میں اخلاقی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی فسادات نمودار ہوئے ساری انسانیت پر لرزہ طاری تھا۔ در اصل انسان اپنی حقیقت کو بھول چکا تھا کہ کس طرح اللہ تبارک وتعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کے مجسمہ خاکی کو تیار فرماکر اپنی مخلوق کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا اور اشرف المخلوقات کے انعام سے نوازا۔ یہ لاشعور مخلوق اپنی گمراہیوں کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالی کو بھول چکی تھی ۔یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ گمراہی کسی ایک ملک، ریاست، قبیلہ، فرد میں نہیں تھی بلکہ عالم انسانیت اس کا شکار تھی ۔یہ کہنا مناسب ہوگا کہ انسانیت کا کوئی پہلو ایسا نہیں تھا جس سے فساد و عناد کی بو نہ آتی ہو۔ مگر اس رحیم و کریم ذات نے کبھی بھی انسان کو اپنے احسانات و

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ قرآن کریم کے حقوق کیا کیا ہیں اور کیا ہم مسلمان اُن حقوق کو ادا کررہے ہیں یا نہیں ۔تفصیلی جواب ، اُمید ہے کہ ،بیداری اور بصیرت کا ذریعہ ہوگا اور اپنی کوتاہی کا احساس بیدار کرنے کا سبب بنے گا۔ محمد فاروق،سرینگر مسلمان پر قرآنِ کریم کے حقوق جواب:۔ قرآن کریم کے کچھ حقوق تو فکری و ایمانی ہیں اور کچھ حقوق عملی ہیں۔ ایمانی حقوق مختصراً یہ ہیں: اس پر ایمان لانا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اوراس پر یقین رکھنا کہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ اس کی عظمت دل میں رکھنا۔ اس پر یقین رکھنا کہ یہ حضرت محمد ﷺ  پر حضرت جبرائیل ؑکے ذریعہ نازل ہوئی ہے۔ یہ یقین رکھنا اب انسانیت کے لئے صرف یہی ایک صحیفۂ ہدایت ہے اور قرآن کریم کے عملی حقوق یہ ہیں ۔ اس کی تعلیم حاصل کرنا ،یعنی اس کو اس کے عربی میں پڑھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ یہ پڑھنے کی صلاحیت چاہئے صحیفۂ مبارک ہاتھ میں لے کر ا

عید کی نماز اپنے گھروں کے بڑےہال، صحن یا پارک میں ادا کرسکتے ہیں

نماز جمعہ کی طرح تمام احتیاطی تدابیر اور طبی ہدایات کے مطابق محدود تعداد کے ساتھ نماز عید الفطر بھی ادا کی جائے۔ جن مقامات میں شرائط کے مطابق جمعہ پڑھا جا رہا ہے وہاں پر بڑی مساجد کے علاوہ چھوٹی مساجد، گھروں ، ان کے صحن یا پارکوں اور ھالوں میں یہ نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ مساجد کے منتظمین اور با اثر مدبر حضرات مشورہ کر کے بنکوں، گیس ایجنسیوں اور راشن اسٹوروں وغیرہ میں حکومت کی طرف سے دی گئی ہدایات کے مطابق قائم سماجی فاصلہ (سوشل ڈسٹنس) کے نمونہ پر نمازیوں کے درمیان فاصلہ بنائیں۔ اس سے صحت کی حفاظت بھی ہوگی اور شرعی حکم کی بجا آوری بھی۔ ایک مسجد، ھال، گھر کے صحن یا پارک میں ہجوم سے بچنے کے لئے تھوڑے تھوڑے افراد وقفہ وقفہ سے ایک سے زائد مرتبہ بھی نماز عید ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن ہر مرتبہ کا امام الگ الگ ہونا چاہیے۔ کیونکہ وقت کافی دستیاب ہے۔  نماز عید کا وقت اشراق (آج کل پون

قبلہ اول کی بازیابی | ملت مرحومہ کی بے کسی روح فرسا

 تاریخ گواہ ہے کہ آج سے تقریبا تہتر سال پہلے اس سرزمین پر اسرائیل نامی صیہونی ریاست کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ پہلی جنگ عظیم سے قبل مٹھی بھریہودی ارض فلسطین پر آباد توتھے۔ یہ اپنے ازلی حریف عیسائیوں کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے سینکڑوں سال تک مسلمانوں کے زیر سایہ اپنی زندگی بسر کررہے تھے اور مسلمانوں کے ہوتے ہوئے بنا کسی خوف و خطرکے اپنے مذہبی امور انجام دیتے تھے۔ صیہونی دہشتگردی نامی کتابچہ کے مطابق 1800 ء سے قبل صرف چھ ہزار سات سو یہودی فلسطین میں آباد تھے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دنیا بھر سے یہودیوں کو اکھٹا کرکے فلسطین کی سرزمین پر بٹھایا گیا اور 1915 ء میں فلسطین میںیہودیوں کا تعداد ستاسی ہزار پانچ سوتک پہنچ گئی اور یہ تعداد بتدریج بڑھتی چلی گئی۔ 1947 ء تک فلسطین کی سرزمین پر چھ لاکھ تیس ہزار یہودیوں کو بسایا گیاجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ1948 ء میںامریکہ اور برطانیہ کی ناجائز

بیت المقدس کے تئیں امت ِ مسلمہ کی ذمہ داری

قبلۂ اول کا تقدس اس کے نام سے ہی عیاں ہے اور اس کی تقدیم و تقدس کیلئے یہ امر کافی ہے کہ اسے مسلمانان عالم کے قبلہ اول ہونے کا شرف حاصل ہے۔ خدا کے اس مقدس گھر کی جانب رخ کرکے اولین و سابقین مومنوں نے امام المرسلین ؐ کی پیشوائی میں نماز ادا کی۔ خداوند قدّوس نے اپنے محبوب کو معراج پر لے جانے کیلئے روئے زمین پر اسی مقدس مقام کا انتخاب کیا۔ جب سے اس کی بنیاد پڑی ہے خاصان خدا بالخصوص پیغمبروں نے اس کی زیارت کو باعث افتخار جانا ہے۔ بیت المقدس بارگاہ خداوندی کے ان اولین سجدہ گزاروں اور توحید پرستوں کا مرکز اول ہے جن کے سجدوں نے انسانیت کوہزارہاسجدوں سے نجات دلادی۔  لیکن افسوس صد افسوس کہ جو بیت المقدس مدت مدید سے خداجو افراد کے واسطے خدا نما ثابت ہوا، جس نے پریشان فکروںکو مجتمع کر کے مسلمانوں کو مختلف الجہتی اور پراگندگی سے بچایا، جس نے فرزندان ِ تو حید کی قوت ِ بندگی کو مرتکز (Conce

خلیفہ چہارم حضرت علی ؓ

 تاریخ اسلام پر فکری لحاظ سے سب سے زیادہ اثرات حضرت علی ؓ نے چھوڑے ہیں۔ ان کے بارے میں مسلمانوں میں کئی فرقے افراط وتفریط میں پڑ گئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ انہیں بلاکر ارشاد فرمایا تھا کہ’ تیری مثال حضرت عیسیٰ ؑ جیسی ہے ۔ یہود کو ان سے اتنی نفرت تھی کہ ان کی ولادت تک کوناجائز بتایا اور نصاریٰ نے ان سے اس قدر محبت کی کہ انہیں ایسے درجے پر پہنچایا جس کے وہ مستحق نہ تھے۔ ‘ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت علی ؓنے شہادت کے بعد تاریخ کو جس پیمانے پر متاثر کیا ہے، اس کی نظیرنہیں ملتی مگر ان کی شخصیت کے بارے میں مسلمانوںکے دو بڑے گروہوں میں یہ بات مسلّم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں تمام صفات حسنہ جمع کئے تھے۔ ان کے جو فضائل اور مکارم اخلاق حدیث و سیرت کی کتابوں میں بیان ہوئے ہیں ان پر ایک مستقل تصنیف تیار ہوسکتی ہے ۔ یہاں ان کی عظیم شخصیت کے ایک پہلو کا سرسری تذک

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال :رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جو اعتکاف ہوتا ہے،کیا یہ اعتکاف آج گھروں میں ہوسکتا ہے یعنی جیسے جمعہ گھروں میں ہورہا ہے اسی طرح اعتکاف کرنے کی اجازت ہوگی یا نہیں ۔یاد رہے کہ کچھ علماء نے جمعہ و جماعت کی طرح گھروں میں بھی اعتکاف کی اجازت دی ہے ،اس کا جواب ضرور لکھا جائے کہ کیا یہ اعتکاف مسنون ہوگا اور کیا اس عبادت کا کوئی اجر ہوگا یا نہیں اور اس میں کوئی فایدہ ہے یا یہ ضیاع ہے؟ محمد معروف بٹ۔باغات کنی پورہ سرینگر اعتکاف مسجد میں لازمی موجودہ حالات میں ایک شخص معتکف ہوسکتا ہے جواب  :رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف سنت موکدہ ہے ۔مردوں کے اعتکاف کے لئے مسجد ہونا شرط ہے اور خواتین گھروں میں اعتکاف کریں گی ۔مردوں کے اعتکاف کے لئے چونکہ مسجد ہونا شرط ہے اور جب اس شرط کے ساتھ یہ اعتکاف ہوگا تو یہ سنت علی الکفایہ کی وجہ سے سب کی طرف سے ادا ہوجائے گا ۔اس لئے ج