کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

س:۱-کیااللہ تعالیٰ انسان کی تقدیر صرف ایک بار لکھتاہے یا بار بار انسان کی تقدیر میں ہر کوئی چیز آتی ہے جن میں موت بھی شامل ہے اور موت مختلف قسم کی ہوتی ہے، تو پھر خودکشی ناجائز کیوں ہے ؟ س:۲-کیا قیامت کے دن ہر کسی جاندار چیز سے حساب لیا جائے گا یا صرف انسان سے ہی ؟ س:۳-اگر کوئی انسان کسی سے کچھ رقم یا اور کوئی چیز لیتاہے جو بعد میں واپس کرنی ہومگر پھر یہی انسان بھول گیا کہ اس نے کسی سے کچھ رقم لی یا کوئی اور چیز اور دینے والا بھی اس سے مانگنے کی جرأت نہ کرے یا وہ بھی بھول گیا ہو تو کیا اس صورت میں قیامت کے دن ادائیگی کرنی ہوگی ؟ غلام محی الدین بٹ …بانڈی پورہ  اموراتِ تقدیر کی وضاحت ج:۱-انسان کی زندگی کے کچھ امور تو وہ ہیں جن میں انسان کو کوئی دخل نہیں ہےاورنہ انسان اُن میں کسی تغیر وتبدل کرنے کا اختیار رکھتاہے ۔ مثلاً موت کا وقت ،جگہ اور جائے دفن وغیرہ

فضیلت حضرت سید نا صدیق ِاکبرؓ

اللہ تبارک وتعالیٰ نے مدحتِ صدیق اکبر ؓمیں بیشتر قرآنی آیات نازل فرمائی ہیں، جس سے آپ کا مقام و مرتبہ ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث شریفہ میں آپ کی تعریف و توصیف فرمائی ہے۔ چنا نچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی شخص کے مال نے مجھ کو اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا کہ ابوبکر ؓکے مال نے مجھے فائدہ پہنچایا ہے۔تمام علمائے اکرام کا اس پراتفاق ہے کہ سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ قبول اسلام سے لے کرحضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک تک ہمیشہ سفروحضر میں آپ کے رفیق رہے ۔ حضرت عویم بن ساعدہؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے چن لیااورمیرے لئے میرے اصحاب کوچن لیا،پھراُن میں سے بعض کومیرے وزیر،میرے مددگاراورمیرے سسرالی رشتہ داربنادیا۔پس جوشخص ان کوبُراکہتاہے اس پراللہ کی لعنت،فرشتوں کی لعنت اورسا

تقویٰ و پرہیز گاری،عبادت اوربندگی کی بُنیاد

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرتے رہا کرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری موت صرف اسی حال پر آئے کہ تم مسلمان ہو اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں مت پڑو، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی اور تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہوگئے، اور تم دوزخ کی آگ کے گڑھے کے کنارے پرپہنچ چکے تھے پھر اس نے تمہیں اس گڑھے سے بچا لیا، یوں ہی اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔(سورۂ آل عمران۱۰۲ تا ۱۰۴) ان آیات میں اللہ رب العزت نے خصوصیت کے ساتھ اپنے بندوں کو تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ سب کو اجتماعی طور پر دین پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونے کی تلقین کی گئی ہے اور فرقہ واریت کا شکار ہونے سے منع فرمایا ہے۔ ا

تازہ ترین