مقامی صحافت :ماضی اور حال کے آئینے میں۔۔۔۔ …قسط ششم

 کشمیر کے دو قدآور صحافیوں خواجہ ثناء اللہ بٹ اور صوفی غلام محمد کے ساتھ اگر جموں وکشمیر کے کسی صحافی کا ذکر کیا جاسکتا ہے تو وہ وید بسین ہیں۔ خواجہ ثناء اللہ بٹ کو جہاں یہ کریڈٹ حاصل ہے کہ انہوں نے کشمیر میں صحافت کی تہذیب کو جنم دیا وہیں وید بھسین جی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے جموں میں صحافت کی تہذیب پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ۔تاہم جموں کے مقابلے میں کشمیر میں صحافت کی تہذیب نے تیزی کے ساتھ اپنی جڑیں مضبوط کیں۔خواجہ صاحب اور صوفی صاحب کے بعد ایک گمنام صحافی مقبول حسین کا ذکر کرنا بے جا نہ ہوگا ۔درس و تدریس کا پیشہ چھوڑ کر صحافت کے میدان میں آکر اس نے بہت کم وقت میں اپنی ذہانت اور صلاحیت کا لوہا منوا لیا ۔مختلف اخبارات میں معاون مدیر کے طور پر کام کرتے کرتے انہوں نے میزان نام سے اپنا ہفت روزہ جاری کیا لیکن معیاری اخبار ہونے کے باوجود یہ اخبار عوام کی توجہ حاصل نہی

کتب بینی سے بے رُخی کیوں؟

موجودہ دور میں انسان جتناٹیکنالوجی سے قریب ہوتا جارہا ہے، کتب بینی کا شوق بھی دم توڑتادکھائی دے رہاہے ۔کتابیںصرف لائبریریوں اور چند اہل ذوق تک محدود رہ گئی ہے۔کچھ لوگ انٹرنیٹ کو اس صورتحال کا قصور وار ٹھہراتے ہیںلیکن یہ کہنا درست نہیں کیونکہ انٹرنیٹ ایک میڈیم ہے، جس نے دنیا کو ایک گلوبل ولیج میں تبدیل کردیا ہے۔آج کل مختلف موضوعات پر برقی کتابیں آسانی کے ساتھ دستیاب ہیں یعنی اس ایجاد نے دنیا بھر میں پھیلے علوم تک رسائی آسان بنائی ہے۔ اگرچہ ٹی وی، انٹرنیٹ، موبائل اور سوشل میڈیا نے لوگوں کے ذہنوں پر قبضہ کر لیا ہے لیکن کتاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ نوجوان طبقے کو مطالعہ کی طرف راغب کرنا کٹھن کام بن چکا ہے حالانکہ موجودہ دور میں بڑھتے نفسیاتی مسائل سے بچنے کیلئے ماہرین مطالعہ کو لازمی قرار دیتے ہیں کیونکہ اچھی کتابیں شعور کو جلا بخشنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو بہت سے فضول مشغلوں سے بھی بچ

پاک ۔بھارت جنگ

 بھارت ،پاکستان کے سیاسی آسمانوں اور فضاؤں پر گہری نظر رکھنے والے سنجیدہ دانشور ، تجزیہ کاراور سیاسی ماہرین مسلسل گرم محاذوں کی نفی کرتے آئے ہیں اور بی جے پی کے بر سر حکومت آنے کے بعد بھی اگرچہ کئی بار ایسا لگا کہ اب جنگ چھڑنے میں لمحات کی دیر ہے ، لیکن ہم سب اس تجربے سے گذرتے رہے ہیں کہ ابھی تک وہ جنگ نہیں چھڑی ہے جس کے امکانات ظاہر کئے جاتے ہیں۔کئی سیکٹروں میں گولہ باری ستر سال سے معمول ہے اور کوئی نئی بات نہیں ۔ ائر سٹرائیکس اور پھر ابھینندن کی واپسی تک پاک بھارتی لوگ اس تشویش میں کئی دنوں تک نہیں سوئے کہ ابھی تمام چینلوں سے جنگ کی خبریں آنا شروع ہوں گی ، لیکن بہت سارے لوگ ان لمحات میں بھی آرام سے یہ کہتے رہے کہ جنگ نہیں ہوگی۔بھارت اور پاکستان کی قیادت بھلے ہی نادانوں اور نافہموں پر محیط ہو لیکن جنگ کے معاملے میں قیادت اور عوام، جرنیلوں اور سیاسی بیان بازی میں زمین آسمان

حنیف ترین ؔ الوداع !

سلگتی یاد سے خوں اٹ نہ جائے  دھوئیں سے دل کی کھائی پٹ نہ جائے  نئی فکروں سے بھیجا پھٹ نہ جائے  جو غم میرا ہے سب بٹ نہ جائے   واقعی میں لذتوں کو ختم کرنے والی چیز ’’موت ‘‘ ہے ۔موت ایک ایسی چیز ہے جو انسان کے جذبات وخواہشات کو ختم کردیتی ہیں۔ اس کے آگے بڑے سے بڑے طاقتورں کو بھی اپنے گٹھنے ٹیکنے پڑتے ہیں ۔بحرحال موت انسانی زندگی کا ایک ایسا کڑوا سچ ہے جسے کوئی آج تک جھٹلا نہیں سکا۔اسی ’موت ‘ نے3 دسمبر 2020ء کو ہمارے درمیان ایک ایسی شخصیت کو ابدی نیند سلایا ہے جسے دنیا حنیف ترینؔ کے نام سے جانتی ہیں ۔غزل کی جان اور ہر دل عزیز آواز حنیف ترین ؔکا انداز انہیں اپنے معاصرین سے ممتاز کرتا ہے ۔ان کا لہجہ اس کا غماز ہے کہ وہ ایک غیر جانبدار شاعر ہیں۔بھری محفل میں کڑوا سچ کہنا ان کا خاصا تھا ۔نڈر اور جوش ان کے رگ و پے م

دوشیزہ ٔ ابر ۔۔۔۔ آخری قسط

Caleton University میںPromoting Regional Languages in Literature کے موضوع پر بولنا تھا اور شاعری بھی سنانا تھی۔ شام کوSenate Boardroomمیں استقبالیہ تھا اور اس کے بعد دانش گاہ کےRobert Hall میں عشائیہ تھا، جس میں انگریزی ریسرچ سکالرز سے لے کر پروفیسرز ، ادباء و شعراء شامل ہوئے ۔ بعد دوپہر تک سیروتفریح کے پروگرام کے بعدChallenges of Multilingual Cultureکے موضوع پر بحث و مباحثہ تھا۔ ہمیں، معاصر ہندوستانی ادب (Contemporary Indian Literature)پر پرچہ پڑھنا تھااور پھر استقبالیہ وغیرہ۔دونوں دن دو ذہین خواتین نے بحث کا آغاز کیا۔ڈاکٹر کرسٹین برائیٹ اوروہاں پر مقیم انڈیا کی ڈاکٹر گوپیکا سولنکی۔پُر مغز گفتگو میں سب نے حصہ لیا۔ ہمیں Ottawaمیں 1941سے قایم Lord Elgin میںٹھہرایا گیا تھا،جو ایسا ہی تھا جیسے دنیابھر بشمول ہندوستان میں اعلیٰ ہوٹل ہوا کرتے ہیں۔ اور کوئی خاص بات نہ تھی۔ مستعدعملہ اور

تازہ ترین