تطبیق کی بجائے اِدغام کی پالیسی

ماہر معاشیات حسیب درابو کے "ایئر برشنگ عبد اللہ" کے عنوان سے کالم (11 مارچ ، 2020  گریٹر کشمیر) کی عصر حاضر کی شکاری ریاست کی فطرت کو دیکھتے ہوئے زیادہ عمر ہوسکتی ہے۔ڈاکٹر درابو کیلئے فوری پس منظر وہ تھا جس کے ذریعے شیخ محمد عبداللہ کے یوم پیدائش کی سرکاری تعطیل کو سرکاری تعطیلات کی فہرست سے باہر کیاگیا لیکن اسی وقت چنانی۔ناشری ٹنل کا نام شیاما پرساد مکھرجی ٹنل رکھا گیا۔ ایک سیاسی نام ہٹا نا اور دوسرا لایا جانا یقینی طور پر یہ ایک سیاسی / نظریاتی عمل ہے ،نہ کہ کوئی معمول کا معاملہ۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے 1927 میںایک اعلامیہ جاری کیاجس میں ریاست کے "پشتینی باشندے" تصور کئے جانے والے شہریوںکیلئے حقوق ، اختیارات اور مراعات کی وضاحت کی گئی۔کیا ایسا معاملہ ہے کہ جموںوکشمیر تنظیم نو قانون2019کے تحت بنائے گئے نئے اقامتی قواعد نے مہاراجہ کو بھی ’’ایئر برش &lsq

چپہ چپہ ہے زرخیز میرے کشمیر کا

آج جبکہ اسرائیل جیسے صحرائی ملک نے اپنے تمام وسائل بروئے کار لاکر ریگزاروں میں سبزیاں ،پھل اور دیگر زرعی پیداوار اگانا شروع کردیا ہے کہ ان میں چند ایک اشیاء برآمد بھی کرتا ہے تو مختلف فصلوں کیلئے موزون آب و ہوا اور موسمی حالات سے مزین جموں و کشمیر اپنی زمینوں سے خاطر خواہ استفادہ حاصل کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ انسان کو زندگی گزارنے کیلئے جن بنیادی اشیاء کی ضرورت ہوتی ہے ان میں خوراک ، لباس اور رہائش شامل ہیں۔چونکہ ان اجزا کا تعلق براہِ راست زراعت سے ہے ،اسلئے کسی بھی یا ریاست کیلئے زراعت کلیدی اہمیت کا حامل شعبہ ہے۔ زراعت کا شعبہ نہ صرف عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ اس کے علاوہ مختلف شعبوں میں عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے اورمعیشت کی ترقی میں کردار ادا کرتا ہے۔ کوروناوائرس کے نتیجے میں پیداشدہ معاشی بحران سے مستقبل میں غذائی تحفظ (فوڈسیکورٹی)اہم

زندگی آمد برائے بندگی

قسمت،تقدیر اور مقدّریہ تینوں الفاظ بالعموم ایک ہی معنی میں بولے جاتے ہیں۔ان سے مراد انسان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہیں۔یہ موضوع بحث طلب نہیں ہے بلکہ غور طلب ہے۔اس موضوع پر اظہار خیال کرنے سے پہلے یہ جان لینا نہایت ضروری ہے کہ آدمی کے بْرے افعال کا تعلق مقدر کے ساتھ جوڑنا سراسر حماقت ہے۔بْرے اعمال ،بْری باتیں ،بْرے طور طریقے، بْری نیت کی پیداوار ہوتے ہیں۔دراصل قسمت، مقدراور تقدیر کا تعلق نیک ارادے میں کامیابی یا ناکامیابی سے ہے۔بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دْنیا کے بْر ے لوگ اپنی تمام بد اعمالیوں کو نوشتئہ تقدیر خیال کرتے ہیں یعنی اْن کے خیال میں نعوذباللہ تمام بْرے کام خدا کرواتا ہے۔انشااللہ خاں انشا  کا یہ شعر دل میں چبھن سی پیدا کرتا ہے کہ کیا ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر فعل بد خود ہی کریں لعنت کریں شیطان پر  اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل وصو

ہند ۔چین سرحدی مناقشہ

یہ مشاہدہ مایوس کن تھا کہ بھارتی ویب سائٹس پر اُس عہد سے متعلق مواد موجود نہیں ہے جس میں 1993میں’’ہند ۔چین سرحدی علاقوں پر لائن آف ایکچول کنٹرول پرامن وسکون کی برقراری سے متعلق معاہدہ‘‘طے پایاتھا۔نتیجہ کے طور ہمیں اقوام متحدہ اور سٹیم سن سینٹر جیسی غیرملکی ویب سائٹس کو کھنگالنا پڑتا ہے۔ یہ معاہدہ 1988 میں راجیو گاندھی کے کامیاب دورہ چین اورعظیم چینی رہنما ڈینگ ژاؤپنگ سے ان کی ملاقات کا براہ راست نتیجہ تھا۔  اس کے علاوہ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور چینی وزیر اعظم لی کی شیانگ کے مابین 23 اکتوبر 2013 کو دستخط شدہ "ہندوستان اور چین کے مابین سرحدی دفاعی تعاون کا معاہدہ" کی اگر صدق دلی ساتھ پیروی کی جاتی تو 2017 کا ڈوکلام تنازعہ یا موجودہ سرحدی کشیدگی جیسے واقعات کو روکا جاسکتاتھا۔  1993 کے معاہدے میں کہا گیا ہے کہ باؤنڈری کی حتمی تصفیے کے

امام خمینی تاریخ ساز شخصیت

طول تاریخ میں کھربوں انسانوںنے اس دھرتی پر جنم لیا اور مختصر مدت تک دنیا کو اپنا عارضی مسکن بناکریہاں سے کوچ کیا۔دہائیوں کے بعدمرحومین کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ عزیز و اقارب کے سوا کسی نے آہ تک بھی نہ کیا۔ لیکن انسانی تاریخ نے ایسے افرادفرشتہ صفت انسانوں کو بھی جنم دیا جواس دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اپنی ذہانت اور عظیم الشان کارناموں کے سبب ایک ابدی اور زندہ و جاوید حقیقت بن گئے۔ یہ روشن فکر طبقہ آنے والی نسلوں کے لیے نمونہ عمل بن گیا ۔حضرت امام خمینیؒبھی اسی طبقہ سے وابستہ ایک زندہ و جاوید حقیقت اور تاریخ ساز شخصیت کا نام ہے جس نے اپنی ذہانت ، جرأت ،عزم و ارادہ،ہمت و استقلال اور مذہبی جوش و جذبہ کے بنا پر سرزمین ایران میں ظلم واستبداد اور مطلق العنان حکومت کا خاتمہ کرکے اسلامی انقلاب برپا کیا اور اس طاغوتی سرزمین پر نظام شریعت نافذ کرکے اﷲ کی حکومت قائم کی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس

اُمت ِ مسلمہ جسد ِ واحد

بیسویں صدی کے عظیم قائد و رہنما اور بانی انقلاب ایران امام خمینی کی روحانی اور ولولہ انگریز قیادت میں جو تاریخ ساز انقلاب ایران فروری 1979 کو سرزمین ایران میں رونما ہوا وہ معاصر تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ آپ کے تاریخ ساز انقلاب سے قبل ایران میں پہلوی شہنشاہیت کے نام سے متعلق العنان حکومت قائم تھی۔ اس آمرانہ، ظالمانہ، جابرانہ،اور روحانی قیادت میں 1979 میں تکمیل کو پہنچا۔ اپنے مثالی انقلاب کی تقدیر ساز کامیابی کے سلسلے میں اپنی تحریر کردہ کتاب میں بانی انقلاب ایران میں امام خمینی ،جن کی آج یعنی 4 جون کو 31 ویں برسی ایران کے علاوہ تقریباً دنیا کے تمام ممالک میں پورے عقیدت و احترم سے منائی جارہی ہے،میں رقمطراز ہیں…’’ہم تمام اسلامی ممالک کو اپنا سمجھتے ہیں ،،تمام اسلامی ممالک اپنی اپنی جگہ پر ہیں ۔ہماری یہ خواہش ہے کہ تمام قوتوں اور اسلامی ممالک میں ایسا ہی انقلاب اسل

’ارطغرل غازی ‘ کی دھوم کیوں؟ ! | تاریخی ڈرامہ کے کردار سچے اور آج بھی چلتے پھرتے

مسلم دنیا میں گذشتہ کچھ عرصہ سے ترک ڈرامہ ' ارطغرل غازی ' کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ ڈرامہ سب سے زیادہ دیکھے جانے والے اور پسند کئے جانے والے سیریلوں کی فہرست میں نمایاں مقام تک پہنچ گیا ہے ۔لوگوں کی اکثر تعداد اس ڈرامہ کو انتہائی دلچسپی اور سنجیدگی کے ساتھ دیکھتی ہے تاہم ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو اس کیخلاف سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں یہاں تک کہ اس کے ’شرعی اور غیر شرعی‘ پہلوئوں کو بھی زیر بحث لایا جارہا ہے۔البتہ ماہرین و تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ ارطغرل ڈرامہ پر اعتراض جتانے والے اسلام میں فنونِ لطیفہ کے قائل نہیں ہیں۔ ایسے لوگوںکی بھی کمی نہیں ہے جو سوشل میڈیا پر اس ڈرامہ کے فنکاروں کو اُن کی نجی زندگیوں کی بنا پر شدید تنقید کا نشانہ بنانے میں مصروف ہیں۔ کچھ بھی ہو،سلطنت عثمانیہ کے بانی کی کہانی نے مسلمانان عالم کو اپنے سحر میں جکڑ لیاہے

عیش پرستی بربادی کا سبب، زندگی سے لڑنا شیوہ مسلمانی

عیش پرستی ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جو انسان کے غیرت اور ہمت کو موت کی نیند سلا کر تباہ کرتا ہے۔اس بیماری سے انسان زندگی کے حقیقی مٹھاس سے بے خبر رہتا ہے۔اس لیے علامہ اقبال ؒ نوجوان کو کبھی شاہین کے اڑان کا پیغام دیتا ہے تو کبھی پہاڑ میں بسیرا کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔عیش پرستی چھوڑ کر جب انسان کاہلی سے دور ہوکر ہمت سے کمر بستہ ہوتا ہے تو پھر وقت کے حالات اس کے تابع بن جاتے ہیں۔  ہمت عالی تو دریا بھی نہیں کرتی قبول غنچہ ساں غافل ترے دامن میں شبنم کب تک  (ہمت والے انسان کے آگے اگر سمندر یا دریا بھی ہو وہ اس کو بھی ٹھکرا کر آگے جاتا ہے. اے کم ہمت اور عیش پرست انسان کب تک معمولی شبنم کے قطروں پر قناعت کرو گے. محنت اور ہمت سے اپنے عظمت کا سامان تیار کر) سماجی تحقیق سے جب انسان لوگوں کے حال واحول کو پڑھتا ہے تو پھر یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ جو لوگ زندگی کے سفر کے پ

عالمی معیشت کے سبھی ستون لرزہ براندام | کورونا کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی

کورونا وائرس کی عالمی وبا نے اب تک دنیا پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں اور اس وبا کے ختم ہونے کے بعد کی دنیا کیسے ہو گی ،یہ آج دنیا کے سامنے سب سے بڑا سوال ہے۔سوال کے پہلے حصہ کا جواب تلاش کرنے کے لیے ملکوں کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کے موجودہ اعداد و شمار پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ وبا کے بعد کی دنیا کیا ہو گی؟ یہ سوال کا دوسرا حصہ ہے، جس کا جواب حاصل کرنے کے لیے دنیا کے معتبر اور نامور ماہرین اقتصادیات کی پیش گوئیوں اور تجزیوں پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ اس طرح موجودہ اور بعد کی دنیا کے بارے میں جو خاکے بن رہے ہیں، وہ معاشی ہیں۔ ان کی فلسفیانہ اور سیاسی تو ضیحات کے لیے ابھی شاید کچھ وقت درکار ہو گا۔دنیا بھر میں2ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے لاک ڈائون کے نتیجے میں تمام ملکوں کی معیشت خستہ ہوگئی ہے۔تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چین میں کورونا کا پہلا کیس نومبر2019 میں سامنے آیا تھا لیک

منشیات کے دلدل میں دھنسا کشمیری معاشرہ

آج کل منشیات نے سماج کو پوری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جو انتہائی تشویش ناک بات ہے۔ 27 دسمبر 2019کو حکومت جموں و کشمیر حکومت کے ذریعے عدالت عظمیٰ میں دائر کی گئی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ساڑھے تین لاکھ افراد منشیات کے دلدل میں پھنس چکے ہیں جنہیں علاج و معالجہ کے علاوہ پیشہ وارانہ مدد کی نہایت ضرورت ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 99607 افراد شراب نوشی کے شکار ہیں جبکہ 25731 گانجہ، 124508 فکی، 2401 سیڑیٹیویز، 29882 انہالینٹس، 831 اے ٹی ایس کے شکار ہیں اور 25098 انجکشن کے ذریعے منشیات کو جسم میں براہ راست داخل کرنے والے مریض بن چکے ہیں۔ اسی طرح باقی منشیات کے مد مقابلہ میں ہیروئن (Heroin) کا استعمال وادی کشمیر میں کافی حد تک بڑھ چکا ہے۔ رجسٹرڈ مریضوں میں سے 90 فی صدی ہیروئن کے شکار ہے جن میں 20 سے 30 فی صدی اس مہلک و جان لیوا نشہ کو براہ راست انجکشن کے ذریعے جسم میں داخل کرتے ہیں۔

بیروزگار ی اور ناقص حکومتی پالیسیاں | دردِ سرکہیں دردِ جگر نہ بن جائے

معاشرے کا سب سے اہم اور پیچیدہ مسئلہ بیروزگاری ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو ایک معاشرے کے علاوہ ملکی معیشت کو بھی ایک دھیمک کی طرح کھوکھلا کردیتی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک میں بھی آئے روز بیروزگاری میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور اس سے ہماری نوجوان نسل ذہنی بیماری میں مبتلا ہورہی ہے اور کئی اپنی بیروزگاری سے تنگ آکر خودکشی جیسے اقدامات بھی اٹھارہے ہیں اور بیروزگاری کو سماجی ناسور بھی سمجھا جاتا ہے۔  سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی نامی ادارہ کی ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری کی شرح فیصد 24.3سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ لیبر کے مطابق اپریل کے مہینے میں لگ بھگ ایک سو دو لاکھ لوگ وبائی بیماری کویڈ۔ 19کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیروزگار ہو گئے ہیں۔ اسی طرح محکمہ کے مطابق بیروزگاری کی شرح فیصد مئی کے مہینے میں29فیصد ہوگئی ہے جبکہ یہ

جدید معاشرے میں حساس ذہنیت کے لوگ آخر کہاں جائیں؟

جب جب دنیا میں ظلم و بر بریت کا دور شروع ہوجا تا ہے تو مظلوم سہم کر رہ جاتے ہیں ۔اس وقت انسانیت انسانوں سے کوسوں دور بھاگ جاتی ہے اور ظالم ،ظلم پر ظلم ڈھاتے جاتے ہیں ۔اس ظلم و بر بریت کا دوسرا نام جہالت بھی ہے ۔مالکِ کائنات نے بندوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔روزی روٹی کا معاملہ اُس نے اپنے ذمہ لیا ہے ،مگر اس کے لیے پختہ یقین ہونا چاہیے ۔اسی طرح اگر ہم مُسلم اور مُنکر کے بیچ فرق کی بات کریں تو لفظ ’’مُسلم ‘‘کے لُغوی معنی ہیں اطاعت و فرماں برداری کرنے والا بندہ ۔ہر بندہ اس بات سے بخوبی واقف ہوتا ہے کہ اُسے ایک عظیم طاقت والے نے اس ناپائیدار دنیا میں لایا ہے۔انسان خود نہیں آتا بلکہ ا سے لایا جاتا ہے ۔جس شخص نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اُس کا خالق ،مالک اور روزی رساں ایک خدا ہے تو وہ مُسلم کہلاتا ہے ۔ان جیسے بندوں کو ہم حساس یا باضمیر کہتے ہیں ۔یہ شرافت اور ن

اپنا مرے توزبان گنگ ،امریکی مرے تو واویلا

امریکہ کی ریاست مینے سوٹا میں 25مئی کو گرفتاری کے دوران افریقی نژاد امریکی سیاہ فام شہری جارج فلائڈ کی موت واقع ہونے سے پورے ملک میں بھوال مچ گیا ہے اور مظاہروں کا سلسلہ 25سے زائد ریاستوں تک پھیل گیا ہے۔ 46 سالہ جارج فلائڈدھوکہ دہی کے الزام میں حراست میں لئے جانے کے دوران ایک پولیس اہلکار کی طرف سے طویل وقت تک گھٹنے سے گردن دبائے رکھنے کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا تھا۔فلائڈ کئی منٹ تک فریاد کرتا رہا تھا کہ ’اس کا دم گھٹ رہا ہے، اس کے سینے میں تکلیف ہورہی اور ایسی صورت میں وہ مرسکتا ہے‘ تاہم پولیس اہلکار اُس کی فریاد ماننے کو تیار نہیں ہے۔کئی شہریوں نے موبائل فونوں کے ذریعے اس واقعہ کو عکس بندی کیا اور واقعہ سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ سوشل میڈیا پر سخت ردعمل کے ساتھ ساتھ لوگ سڑکوں پر آگئے اور ابھی تک پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہو

دوہرا لاک ڈائون اور مفلوج تعلیمی نظام

پوری دنیاکیساتھ ساتھ ہندوستان بھر میں عالمگیر وباء کی وجہ سے دیگر شعبوں کیساتھ ساتھ نظام تعلیم پوری طرح سے مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔اکثر ریاستوں اور خطوں میں کئی جماعتوں کے سالانہ امتحان کا وقت تھا لیکن وائر س کے پھیلا ئو کو روکنے کیلئے عائد پابندیوں کی وجہ سے اس نظام پر بھی روک لگ گئی ہے ۔یو جی سی کی جانب سے یونیورسٹیوں کی جانب سے لئے جانے والے امتحانات و کلاسز کے سلسلہ میں  رہنما ہدایات بھی جاری کی جارہی ہیں لیکن سب کوششوں کے باوجود نہ بچوں کے ذہن اورنہ ہی انتظامیہ آئن لائن سسٹم کیلئے تیار تھی اور نہ ہی ہمار ا تعلیمی نظام اس قدر معیاری ہے کہ پیدا شدہ صورتحال کے دوران وہ معمول کے مطابق آن لائن چل سکے ۔ملک میں اکثر سیمیناروں، کانفرنسوں اور تعلیمی اجتماعوں میں تعلیم کے معیار کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ عام طور پر جب تعلیمی معیار کا ذکر آتا ہے، تو سکولوں کی تعداد، ان می

بستہ ،کتابیں اور ہوم ورک نہیں، تو پھر کیا؟

کورونا وائرس لاک ڈائون کے بے شمار فائدے سامنے آرہے ہیں۔ ہمارا شعبہ تعلیم بھی اس لاک ڈائون کے چلتے زیادہ سے زیادہ فائدے حاصل کرنے کی جستجو میں ہے ۔ چنانچہ دفاتر عوامی خدمات اور نجی مسئلوںکے نپٹانے کے لئے بند ہیں اور صرف انتظامی یا ایمرجنسی کام کاج ہورہا ہے ، جس کے چلتے محکمہ تعلیم بھی اپنے اندر بہت ساری اصلاحات لانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ محکمہ کے اعلی آفسران اس کے لئے مبارک بادی کے مستحق ہیں۔  کئی سارے اسکولوں کے ہیڈماسٹرس کی اسامیاں کافی عرصے سے خالی تھیں، محکمہ تعلیم اُن خالی پڑی اسامیوں کو بھی اسی دوران پُر کر رہا ہے ۔ زونل ایجوکیشن افسران کی کئی ساری کرسیاں عرصہ سے خالی تھیں، ان کو بھی حتی المقدور طریقے سے پُر کر دیا جارہا ہے ۔ محکمہ کے اندر رشورت ستانی کی بدعت کا قلع قمع کرنے کے لیے انتظامی اسٹاف کا بھی ردو بدل کیا جارہا ہے ۔ ایسے ہی مزید اقدامات اٹھانے کی خبریں ابھ

جموں وکشمیر میں اُردو زبان

موجودہ حالات میں جموں وکشمیر میں کئی طرح کی بے چینیاں پائی جاتی ہیں۔جن میں ایک بے چینی یہ بھی ہے کہ  جموں و کشمیر میں اُردو زبان کے تئیں سرکار کی عدم دلچسپی کی شکایت کا برملا اظہار ہوتا رہتا ہے۔اس کے پیچھے سرکار کی غیر واضح اور غیر منظم لسانی پالیسی ہے۔اُردو زبان کے فروغ کی کیا صورتیں ہوں گی۔تعلیم اور دوسرے معاملوں میں اُردو زبان کا کیا رول ہوگا اور ریوٹی میںلسانی فارمولے کے اطلاق کی کیا صورت ہوگی ،یہ اور اس طرح کے معاملات پر سرکار یکسر خاموش ہے۔ اُردو کو سرکاری منصب پر تو بٹھایا گیا ہے لیکن اس کے status planning کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ہماری وادی میں ابتدائی درجات کے طلبا کو اردو کی تعلیم حاصل کرنے میں جو مسائل درپیش ہیں ،ان کی فہرست خاصی طویل ہے۔ایک طرفہ اچھے تجربہ کار،ہمدرد ،بے لوث اور پر خلوض اساتذہ کا فقدان ہے تو دوسری طرف سب سے بڑی پریشانی نصابی کتابوں کی عدم فر اہم

سکالر شپ الرٹ

سکالر شپ نام : ڈیپارٹمنٹ آف سیول انجینئر نگ جونیئر ریسرچ فیلوشپ 2020 تفصیل: انڈین انسٹی آف ٹیکنالوجی رورکی MEاور MTechطلباء سے ڈیپارٹمنٹ آف سیول انجینئر نگ جونیئر ریسرچ فیلو شپ 2020کیلئے درخواستیں طلب کرتا ہے۔   اہلیت: سٹریکچرل انجینئر نگ /کمپوٹیشنل میکانیکس /میکانیکل انجینئرنگ میں MEیا MTechڈگری رکھنے والے طلاب کیلئے یہ فیلوشپ کھلی ہے تاہم انہوںنے GATEامتحان کوالیفائی کیا ہو۔  مشاہرہ: 35ہزار روپے تک ماہا نہ درخواست جمع کرنے کی آخری تاریخ: 15جون2020 جمع کرنے کا طریقہ: صرف آن لائن برقی پتہ : www.b4s.in/gk/DEJ3 سکالر شپ نام : نرچرنگ کلینکل سائنٹسٹس(NCS)سکیم2020 تفصیل: انڈین انسٹی چیوٹ آف میڈیکل ریسرچ (ICMR)نرچرنگ کلینکل سائنٹسٹس(NCS)سکیم2020کیلئے ایسے ایم بی بی ایس /بی ڈی ایس امیدواروں سے درخواستیں ط

سمندروں کی سطح بلند ہورہی ہے | کیا کرۂ ارض کا نظام تبدیل ہونے والا ہے؟

سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں انسانی زندگی کو پُر تعیش اور سہل بنادیا ہے وہیں اس کے نتیجہ میں ہونے والی منفی انسانی سرگرمیوں سے ماحولیاتی آلودگی، عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ، اُوزون کی تباہی، موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات ،خشک سالی،وبائی بیماریاں اور غذائی بحران کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔انسانی تاریخ اور تہذیب کے مطالعہ سے بخوبی ظاہر ہوجاتا ہے کہ شروع شروع میں انسان دریاؤں، نہروں یا اس جگہ جہاں پانی وافر مقدار میں دستیاب ہوتا، وہاں سکونت اختیار کرتا تھا اور جب کسی جگہ خشک سالی کے باعث غذائی بحران پیدا ہوجاتا تو وہاں سے وہ نقل مکانی کرجاتا تھا۔ مگر سائنس کی ترقی کے بعد انسان نے ایسے وسائل اور طریقے اختیار کئے، جس سے پانی کی فراہمی کو ممکن بنایا جاسکے۔ کہیں بورنگ کی گئی، کنویں کھودے گئے، کہیں سمندری پانی کو قابل استعمال بنایا گیا، کہیں نہروں کا سسٹم بنایا گیااور کہیں پائپوں کے ذر

نقلی چہرہ ، اصلی صورت

عہدساز گلوکار محمدرفیع کا ایک گانا بہت مشہور ہے…’’کیا ملئے ایسے لوگوں سے جن کی فطرت چھپی رہے، نقلی چہرہ سامنے آئے اصلی صورت چْھپی رہے‘‘۔ واقعی حساس طبعیت رکھنے والے لوگوں کے لئے مسلہ یہ رہتا ہے کہ سماجی زندگی میں کن لوگوں سے ملے، کن کی بات پر بھروسہ  کرے اور چہروں پر چڑھی شرافت، ہمدردی اور سادگی کے نقابوں کے پیچھے کیسے جھانکے۔  میں نے بزرگوں سے سْنا ہے کہ انسان اگر اقتدار اور دولت کے نشے میں چْور ہوجائے تو وہ سانپ کی طرح دیانت دار نہیں ہوتا کہ ڈھنک مارے، بلکہ وہ چہرے پر کئی چہرے لگا کر لوگوں کو اپنے سحر سے غلام بناتا ہے۔ خاندان میں اپنی بڑھائی دکھانے والے بعض چودھری ہوں یا کْرسی کے عشق میں گھائل حوصلہ مند سیاستدان، سب لوگ اقتدار کی لت میں اس قدر مبتلا ہیں کہ اُن ہی کے متعلقین کے دُکھ اور تکلیف پر آنسو بہاتے وقت وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جن زخ

کورونا مریضوں کی لاشوں کی بے حرمتی نہ کریں | لاش سے وائرس کی منتقلی کا کوئی خطرہ نہیں

وبائی مرض اپنے ساتھ بہت ساری خوفناک کہانیاں لے کر آیا ہے جن میں سے وہ ایک دردناک کہانی اُن مریضوں کی بھی ہے جو کورونا کی وجہ سے فوت ہوجاتے ہیں اور اُنہیں مر کر بھی عزت نہیں بخشی جاتی ہے اور نہ ہی ان کے کنبہ کے افراد کو  رسم و رواج اور مذہب کے مطابق ان کے آخری رسوم ادا کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ وزارت صحت اور خاندانی بہبود کی جانب سے مارچ میں جاری کئے جانے والے پروٹوکول کی ناقص ترسیل اوراس کو سمجھنے میں کمی کی وجہ سے حکام اور تمام قسم کے سرکاری نظام کواس پروٹوکول کی اپنی سوچ کے مطابق مطلب نکالنے کا سبب بن رہے جوزیادہ تر سائینس کی بجائے خوف اور وباء کی وجہ سے مرنے والوں سے وائرس کی منتقلی کے خطرہ کے پیمانہ پر منحصر ہیں۔ حکومت کواس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے انسانی طریقہ کار اپنانے اور حسب ضرورت لوگوںکی مدد اور حوصلہ افزائی کیلئے مختلف سطحوںپر اپنے ہی جاری کئے گئے پروٹوکول کی وضاح