پیروکاری:لیڈرشپ کا دوسرا نام

تعارف :ایک ہوتا ہے لیڈر لیکن دوسرا ہوتا ہے پیروکار (Follower)۔ من پسند لیڈر کی تلاش میں یا موجودہ لیڈر کو من پسند بنانے میںہم اُن لوگو ں کو بھول جاتے ہیں جو کسی لیڈر کے پیچھے چل رہے ہوتے ہیں، یا چلنا چاہتے ہیں، یا چلنے کے دعویدار ہوتے ہیں۔ اِن لوگوں کا لیڈر کے پیچھے چلنا پیرو کاری (Followership)کہلاتا ہے۔ لیڈرشپ اور پیروکاری ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ لیکن دنیا کی کثیر آبادی سکے کے اِس رُخ سے بے خبر ہے۔ لیڈران کو ہی اکثر موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، جب کہ لوگ اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں۔ اسے پہلے کہ وہ اپنے لیڈر پر کوئی سوال کریں ، انہیں چاہیے کہ خود کا بھی محاسبہ کریں کہ لیڈرشپ کے مقابلے میں ہم نے بطور پیروکار کتنا کام کیا ہے۔ دونوں کو متوازن طور پر چلنا ہوتاہے، دونوں کی ذمہ داریاں گر چہ الگ الگ ہیں، لیکن ہیں تو برابر کی اہمیت کی حامل۔ چلیے، آج تھوڑا سا وقفہ نکال کر ہم سکے کے اِس نایاب

’اذان‘ایک مسلسل کوشش | انسانیت کی قفل ِ فلاح کی چابی میسرہے مگر

’’اذان‘‘ کی آوز ہو رہی ہے … اُس ’’اذان‘‘ کی جس کے اعلان پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایک جگہ جمع ہو کر مسجد میں خدا کے حضور سربسجود ہو جاتی ہے۔ ’’اذان‘‘ کی آواز سن کر لوگ اپنے گھروں سے جوق درجوق مسجد کا رُخ کرکے نکل رہے ہیں… اکثر لوگوں کی زبان پر ’’اذان‘‘ کے ہر جملے کا جواب ہوتا ہے… مؤذن ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر خدا کی بڑائی کا اعلان کر رہا ہے اور سننے والا اپنی زبان سے اللہ اکبر کہہ کر ’’اللہ‘‘ وحدہ ٗلاشریک کی بلندی کو تسلیم کرنے کا اظہار کرتا ہے۔ دراصل انسان کو معلوم ہے کہ دنیا کی تمام ظاہری طاقتیں اللہ کی طاقت کے سامنے کوئی وزن نہیں رکھتی،اسی لیے مؤذن بار بار اس کا اعادہ کر تا ہے۔ یہ ’’اللہ اکبر‘‘ کی

کارپوریٹ گھرانوں کو بینک کاری کی تجویز | نگرانی کا نظام ڈھیلا،مفادات کے ٹکرائو سے بچائے کون؟

جب گھر میں آگ لگ جاتی ہے اور صورتحال ناامید نظر آتی ہے توکسی بھی بے تکی اور غیر مقبول حرکت کو ایک اچھی سرگرمی کے طور پیش کیاجاسکتا ہے۔یہ آر بی آئی کے اندرونی ورکنگ گروپ کی رپورٹ کو دیکھنے کا ایک طریقہ ہے جس میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ بڑے کارپوریٹ اور صنعتی گھرانوںکو بینکوں کے پراموٹر بننے کی اجازت دی جائے۔ اس سفارش پر آر بی آئی کے دو سابق سینئروں رگھورام راجن اور وائرل اچاریہ ، جو رخصت ہوچکے ہیں اور اپنی تعلیمی ملازمتوں میں واپس آچکے ہیں، کی جانب سے سخت اور تشویشناک ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ سفارش میں کہا گیا ہے کہ تبدیلی سے پہلے قانون میں تبدیلیاںکرکے "منسلک قرضوں" کو روکنے کے لئے اور نگرانی کے طریقہ کار کو مستحکم کرنا ہوگا ۔یوں اس بات کو تسلیم کیاگیاہے کہ خطرات موجود ہیں لیکن نیا انضباطی نظام ان کو کم کرسکتاہے۔ حقیقت میں رپورٹ خود کہتی ہے: ’’یہ بلا شبہ لا

اُمید کا چراغ ،کاشتکاری سے باغبانی تک کا کامیاب سفر

دنیا میں ہر ایک انسان صلاحیت سے بھرپور ہے۔ لیکن صرف چند لوگ اس صلاحیت کا استعمال کرکے کامیابی کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور دنیا میں ایک مثال قائم کرتے ہیں۔ یہ حوصلہ مند لوگ نہ صرف اپنے لیے خوشیوں اور کامیابیوں کے نقیب ہوتے ہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی امیدوں کے چراغ ثابت ہوتے ہیں جو راہوں میں گم ناامیدیوں کے بادل میں گھرے رہتے ہیں۔  مٹی پورہ اننت ناگ کا نوجوان محمد شفیع راتھر بھی ایسے ہی حوصلہ مند انسانوں میں سے ایک ہے جس نے اپنی محنت شاقہ اور پہل قدمی سے بظاہر ناممکن کو ممکن بنا کے چھوڑا۔ شفیع ایک تعلیم یافتہ جوان ہونے کے ناطے روایتی طرز کاشتکاری سے کبھی مطمئن نہیں تھا اور اپنے علاقے میں دھان فصل کی گھٹتی پیداوار سے بھی بہت مایوس تھا۔ وہ اپنے چھ کنال رقبہ زمین میں ایسی کم پیداوار والی فصل کی مزید کاشت کرنے کیلئے بالکل تیار نہیں تھا۔ لہٰذا وہ جاکر شملہ سے High densityایم- نائن

دوشیزہ ٔ ابر

رات کافکر میں ڈھل کر طویل ہو جانا کوئی عجیب بات نہیں ہے کہ انسان کے ساتھ کبھی کبھار ایسا ہوجاتاہے۔ بعض اوقات ہوائی سفر بھی اتناطویل معلوم ہوتا ہے جیسے سمندر کا سفر ہواورمشرق اورمغرب کے درمیان کی پرواز نسبتاً زیادہ وقت طلب کرتی ہے۔ پھرطویل سفرکے لیے اگر نشست وسعت لئے ہو تو راحت محسو س ہو سکتی ہے۔ ہم بھی سفر میں تھے اورہماری نشست کچھ کشادہ بھی تھی، بلکہ رات بھر آرام کرنے کے لئے مزید پھیلائی جا سکتی تھی۔ اس کے باوجود ہم بے آرام تھے ۔ منزل چودہ گھنٹے سے زیادہ کا وقت لینے والی تھی اور جہاز پر ہم رات کو سوار ہوئے تھے۔  یہ کینیڈا جانے والی ، ائر انڈیا کی ، ـ’ اے آی، ایک ۔ آٹھ ۔ سات ‘  (AI-187)نمبر کی فلائٹ تھی۔اور ہرغیر ملکی پرواز کی طرح مختلف النسل مسافروں سے بھری تھی۔ کئی گھنٹوں بعد بھی صبح ہونے کی جگہ رات ہونا تھی کہ سورج روشنی بکھیرنے کے لیے ہمارے خطوں کی جانب نک

پیسہ بچائیے کل کام آئے گا

آپ کی جو بھی آمدن ہو، پیسہ بچانا لازمی عادت ہونی چاہیے،کیونکہ مشکل گھڑی کبھی پوچھ کر نہیں آتی۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ جمع شدہ رقم زندگی بھر کے اخراجات کے لیے کافی ہے تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔ لاکھوں کی رقم یوں چلی جاتی ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا۔ اس کے علاوہ لاکھوں کمانے کے باوجود امیر شخصیات کو بھی مالی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسے کچھ دن قبل فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوگیا۔ ہالی ووڈ اداکار جانی ڈیپ اپنے دوست کی خواہش پوری کرنے کیلئے3ملین ڈالر گنوابیٹھے۔ ایسے اے لسٹ اداکاروں، موسیقاروں ، کھلاڑیوں کی طویل فہرست ہے جو اپنی شاندار طرزِ زندگی اور شاہ خرچیوں کے باعث کنگال ہوگئے۔ ہمیں ان سیلیبرٹیر کی شاہ خرچیوں پر کوئی اعتراض نہیں لیکن کچھ رقم بچاکر بھی رکھنی چاہیے تاکہ مشکل وقت میںکام آسکے۔ ذرا ہالی ووڈ اسٹارٹوری اسپیلنگ کو ہی دیکھئے کہ35ہزار ڈالر سے زائد

تازہ ترین