تازہ ترین

’بِچولیا ‘۔ دورِ جدید کی پنپتی بُرائیوں کا مجموعہ!

ہم نے روزانہ کے معمول میں غیبت، بغض،کینہ ، حسد، بہتان، الزام ،نفرت جیسی کئی اخلاقی برائیوں کے بارے میں سُنا اور تجربہ کیا ہے۔ دغا ، دھوکہ ،فریب ، عیاری ، مکاری، احسان فراموشی،غداری اور چالبازی بھی اُسی برائیوں کی فہرست میں شمار ہوتی ہے۔ اِن برائیوں کا جب انسان شکار ہوجاتاہے تو شریف انسان بھی انسانیت کے معیار سے اُتر جاتاہے اور پھر چولا بدلنا، گرگٹ کا رنگ دکھانا، انسان کے بھیس میں شیطان صفت انسان کے شکم میں شاطرانی کہاوتوں اور محاوروں کو وجود میں آنے اوراُنہیںبامعنی اعتبارکے لحاظ سے سمجھنے میں دیر نہیں لگتی۔ عصرِ حاضر کے سماج میںبُرائیوں کی بدلتی شکلوں و صورتوں پر غوروفکر کریں تو طرح طرح کی نت نئی خرابیاں اوربرائیاں سر چڑھ کر بولتی نظر آتی ہیں۔ ان سب برائیوں کی بنیا د مذہبی وا خلاقی اقدار کی کمزور ہوتیں جڑیں اور جدیدیت کے پس منظر میں پرورش پاتیں اشکال کی خرافاتیں ہیں، جنھیں آج کل

تمباکو نوشی۔ غمِ راحت کا مداوا نہیں

تمباکو کا سائنسی نام نکوٹینا ٹباکم ( Nicotiana tabacum) ہے ،جب کہ اس سے عام طور پر تمباکو کے نام سے ہی جانا جاتا ہے ۔ ایک قدیم خیال کے مطابق میکسیکو کے جزیرہ ٹباکو (Tobago) پر کولمبس اور دیگر سیاحوں نے وہاں کے باشندوں کو تمباکو نوشی کا استعمال کرتے دیکھا ۔ جس کے بعد جزیرہ کی مناسبت سے اس کو ٹباکو کا نام رکھ دیا گیا ہے ، جو رفتہ رفتہ بگڑ کر تمباکو (Tobacco) ہوگیا ہے ۔تمباکو دراصل ایک جھاڑی دار پودا ہے جو چند فٹ سے لے کر دو یا تین میٹر کی اونچائی کا ہوتا ہے ۔ تمباکو کے استعمال کے لئے مزکورہ پودے کے صرف پتے کام آتے ہیں ،اس کی کاشت ہندوستان کے متعدد علاقوں میں کی جاتی ہے ۔ عالمی سطح پر تمباکو نوشی سے چین سب سے زیادہ متاثرہ کن ( 300 ملین) ممالک میں سے اول ہے ،جب کہ تمباکو کی پیداوار میں عالمی سطح پر ہندوستان دوسرے (274 ملین) نمبر پر ہے ۔ملک کے اندر آندھراپردیش کی ریاست میں تمباکو کی سب سے

معیشت کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار

اکیسویں صدی میں اگر آپ کو ترقی یافتہ اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنی معیشت کو مضبوط اور توانا رکھنا ہے تو بقو ل ماہرین، مفکرین، ناقدین اور دیگر علوم سے تعلق رکھنے و الے افراد کے،کسی بھی ملک کی معیشت کو جدید خطوط پر آراستہ کرنے کے لیےسب سے پہلے معیشت پر توجہ دیں کیونکہ ہر ملک کی معیشت ہی بنیادی ستون ہوتی ہے، جس پر قوم کی ترقی کا دارومدار ہوتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ہم تب ہی شامل ہوسکتے ہیں جب ہماری معیشت مضبوط ہو۔   اگرچہ وطن عزیز میں وسائل کی کسی طور کمی نہیں۔ یہاں کی زمینیں سونا اُگلتی ہیں۔ معدنیات کے بے پناہ خزینے چھپے ہوئے ہیں، دُنیا کا بہترین نہری نظام یہاں موجود ہےاور سب سے اہم بات یہ کہ ہمارے پاس نوجوانوں کی شکل میں اتنا سرمایہ موجود ہے جو دنیا کے کسی بھی ملک کے پاس اتنی تعداد میں نہیں ہے۔کسی بھی ملک کی ترقی میں اس ملک کے نوجوانوں کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔

اسمارٹ فون کا مستقل استعمال اور دماغی صحت

بڑے ہوں یا بچے، آجکل ہر کسی کے ہاتھ میں بیشتر وقت اسمارٹ فون دکھائی دیتا ہے۔ ضروری کام کے لیے موبائل استعمال کرنا تو الگ بات ہے مگر ڈرامے، فلمیں، سوشل میڈیا اور گیمز کھیلنے کے لیے متواتر گھنٹوں موبائل استعمال کیا جاتا ہے۔ موبائل ایک سہولت ہے، مگر اس کا غیرضروری استعمال دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے؟ بچوں میں اسمارٹ فون کے بڑھتے استعمال پر ہیلتھ کیئر پریکٹیشنز، ذہنی صحت کےماہرین، والدین اور اساتذہ فکرمند نظر آتے ہیں۔ اسمارٹ فون کے استعمال سے متعلق کیے جانے والے ایک مطالعہ کے دوران محققین کی جانب سے سروے میں شامل شرکاء کو مختلف اوقات میں اسمارٹ فون کے بغیر وقت گزارنے کا پابند کیا گیا ، نتائج میں سروے ماہرین کا کہنا تھا کہ اسمارٹ فون کی عادت ترک کرنا کسی کے لیےبھی بے حد مشکل ہے۔ بچوں کے معاملے میں یہ عمل ان کی پڑھائی، جسمانی ورزش اور کھیلوں سے توجہ ہٹانے کا باعث بنتا ہے، کچھ

عملی زندگی میں کامیابی کا مؤثر اصول

’وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا‘، ’گزرا ہوا وقت کبھی لوٹ کر نہیں آتا‘۔ وقت کی اہمیت پر یہ اور اس جیسی کئی کہاوتیں، اردو، انگریزی اور دیگر زبانوں میں ہم سب نے سُن رکھی ہیں۔ ان کہاوتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زندگی میں کامیابی کے لیے وقت کا مؤثر اور کارگر استعمال انتہائی ضروری ہے۔ وقت کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے بروقت کام انجام دینا ایک بہترین ہنر ہے، جس سے ہر شخص واقفیت نہیں رکھتا۔  ہم وقت کے مؤثر استعمال کے مفید مشورے (ٹِپس) مینجمنٹ کی کتابوں، کامیاب لوگوں کے ترغیبی اقتباسات، حوصلہ نہ ہارنے کا سبق دینے والی فلمیں یا کسی نئی تحقیق سے حاصل کرسکتے ہیں۔ تاہم، ان تمام ذرائع سے وقت کو پیداواری بنانے کی ٹپس حاصل کرنا ایک مشکل طلب کام ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے وقت کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کی کچھ ماہرین کی تجاویز ذیل میں پیش کی جارہی ہیں۔ ایک منٹ میں ہ

زندگی کا اصل مقصد،دوسروں کے کام آنا

ہمارے دین ِ اسلام میںامدادِ باہمی، ہمدردی ،معاونت و مروت اور ایک دوسرے کے کام آنے کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اسی لئے مسلمانوں کو زکوٰۃ، صدقات، خیرات، عطیات وغیرہ دینے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ معاشرے میں معاشی پریشانی کا شکار، مصیبت زدہ، بے گھر اور بے سہارا افراد کی مالی مدد ہوسکے۔اپنے مال و دولت سے امدادی کام کرنے والے لوگوں کو خود بھی کسی مستحق،لاچار اور بے سہارا کی مالی مدد کرنے سے دلی سکون اور خوشی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اپنے سے کمتر اور غریب لوگوں کو دیکھنا اور ان کے مسائل سننا، شکر گزاری اور خود کو حاصل نعمتوں کی قدر کرنے کا سبب بھی بنتا ہے۔ گھر کے افراد کی طرف سے دوسروں کی امداد و معاونت کرنے کی عادت سے گھر کے بچوں کو بھی اس کی ترغیب ملتی ہے اور اس طرح یہ نیک کام نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔ بلا شبہ زندگی کا اصل مقصد دوسروں کے کام آنا ہی ہے۔ دولت اور وسائل ایک حد تک انسانی ضرور

تازہ ترین