ہماری دنیا اور انسان سوز سرحدیں !

دنیا آج امن و آشتی کی آرزو کرتی ہے اور سکون کے جزیرے تلاش کرتی ہے ۔روزانہ دعائیں مانگی جاتی ہیں اور تقاریر کئے جاتے ہیں ۔لیکن یہ سب لاحاصِل مشقیںہیں ۔کیونکہ جب تک انسان اصل وجوہات کی نشاندہی نہیں کرے گا تب تک یہ ممکن نہیں ہے کہ دنیا امن‌و سکون کا آشیانہ بنے ۔بنی نوع انسان جوں جوں ترقی کے نئے منازل طے کرتا گیا، نئےنئے مسائل کھڑے ہوتے گئے ۔خود غرضی اور لالچ نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور ہمدردی ،بھائی چارگی اور انسانیت نفرت کے شعلوں میں بھسم ہوگئے ۔اس ضمن میں جو سب سے زیادہ خطرناک اور مضر قدم انسان نے اٹھایا، وہ سرحدوں کا وجود ہے ۔سرحدوں نے نہ صرف ایک زمین کے ٹکڑے کئے بلکہ انسانی وحدت کو بھی چور چور کیا ۔سرحدوں کی وجہ سے دو طرح کے محافظ وجود میں آگئے ،ایک سرحد کے اُس پار اور دوسرا سرحد کے اِس پار ۔دونوں ایک دوسرے پر بندوق تانے کھڑے ہیں اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ۔اس سرحد

دُعا ہی سبیل ِ واحد

دعا ایک عظیم نعمت اور ایک انمول تحفہ ہے،جس سے اس دنیا میں کوئی بھی انسان کسی بھی حال میں مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔دعا اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک پسندیدہ اور خوشنودی کا عمل ہے۔دعا شرح صدر کا باعث اور سکون کا محرک ہے۔دعا اللہ تعٰالی کی ذات پر بھروسہ کی گائیڈ لائن ہے۔دعا آفت و مصیبت کی روک تھام کا مضبوط وسیلہ ہے۔بلاشبہ دعا اپنی اثر انگیزی اور تاثیر کے لحاظ سے مومن کا ہتھیار ہے۔ اللہ کے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’دعا مومن کا ہتھیار،دین کا ستون اور آسمان وزمین کی روشنی ہے۔‘‘ دعا ربِّ کریم کے نادیدہ خزانوں کی چابی ہے،جس کے ذریعے سے ہی ہم اِن خزانوں کو حاصل کرکے اپنی جھولی کو بھر سکتے ہیں۔دعا واقعی طور پر انسان کا وہ سہارا ہے جو اس کے  زخموں پر مرہم پٹی کا کام کر تے ہیں۔دعا نہ ہوتا تو ربِ کریم کے دربار میں حاضری بھی نہ ہوتی۔دعا ایک مضبوط قلعہ ہے جس میں داخل ہوتے ہی انس

اِبلاغ کی صلاحیت، کامیابی کی ضمانت

ماہرین کا کہنا ہے کہ، ہم زندگی میں جو علم اور صلاحیتیں حاصل کرتے ہیں، ان میں سب سے اہم علم اور ہنر مؤثر انداز میں اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا ہے۔ بنیادی طور پر پیغام کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کو ابلاغ یا کمیونی کیشن کہا جاتا ہے۔ پیغام پہنچانے کے لیے آواز، تحریر (پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا)، تصاویر (لوگو، نقشہ، چارٹ وغیرہ) یا پھر اشاروں (باڈی لینگویج، بات چیت کا انداز اور ٹون) کااستعمال کیا جاتا ہے۔ ایک شخص کی ’کمیونی کیشن اسکلز‘ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ کس قدر مؤثر انداز میں اپنا پیغام دوسروں تک پہنچاتا ہے اور اس کے پیغام کو کس قدر اس کی اصل روح کے مطابق وصول کیا جاتا ہے۔ 90ء کے عشرے کو ’آئی ٹی ‘ یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا تھا، تاہم جب اس غبارے سے ہوا نکلی تو دنیا ’آئی سی ٹی‘ یعنی انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالو

بچوں کو ذہین اور بااعتماد کیسے بنایا جائے؟

والدین کی اکثریت کو یہی گلہ رہتا ہے کہ ان کے بچے پڑھائی پر دھیان دینے کے بجائے ہر وقت کھیل کود اور موج مستی کرتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی کھیلوں کی سرگرمیوں کو محدود کرکے ان کی مکمل توجہ پڑھائی کی جانب مبذول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ والدین کی جانب سے زبردستی کرنے پر بچہ کتابیں لے کر تو بیٹھ جاتاہے مگر اس کا تمام تر دھیان کھیل میں ہی لگا رہتا ہے اور وہ پڑھائی پر توجہ مرکوز نہیں کرپاتا۔  والدین کی بچوں کی تعلیم کے حوالے سے فکر اپنی جگہ لیکن کھیل کود کے ذریعے بھی بچے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ لہٰذا والدین کو چاہیے کہ پڑھائی اور کھیل کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کریں اور ایک ایسا ٹائم ٹیبل ترتیب دیں جس سے بچے کو یہ احساس ہو کہ اس کے لیے کھیل اور پڑھائی دونوں ہی ضروری ہیں۔  بچوں کی توجہ پڑھائی کی جانب کرنے کے لیے کچھ ایسا کریں جس سے ان کی دلچسپی بڑھے اور وہ پڑھائی کو بوجھ سم

تعلیم۔کیا امتحانات تک ہی محدود ہوتی ہے؟

 بلا شبہ تعلیم جہاں ایک آفاقی تصور ہےوہیں تعلیم ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعہ علم، مہارت، اقدار یا رویوں کے علم کے حصول کو آسان بنایا جاتا ہے۔ تعلیم مختلف سیاق و سباق میں پائی جاتی ہے، اِسے مختلف شکلوں میں پیش کیا جاسکتا ہے اور یہ مشمولات میں بھی مختلف ہوسکتی ہے ، تاہم مقصد ایک ہی ہوتا ہے۔ باقاعدہ تعلیم ایک ملک سے دوسرے ملک میں مختلف ہوسکتی ہےاور ہر ثقافتی سیاق و سباق، تعلیم کی راہ میں فرق بھی پیدا کرتا ہے اور یہ فرق اِسے مختلف اقسام ،درجہ بندی اور خصوصیات میں بانٹتی ہے ،جیسےرسمی ،غیر رسمی،معاشرتی،فکری، اقداری ،جذباتی ،جسمانی،مخلوط ،آن لائن وغیرہ۔بغور جائزہ لیا جائےتو دنیا بھر میں تعلیم رسمی اور غیررسمی انداز میں دی جاتی ہے۔لیکن ہمارے یہاں جو نظامِ تعلیم جاری وساری ہے، اُس کا بنیادی حصہ امتحانات ہیں اور بغیرامتحانات کے یہاں تعلیم کا تصور کُلی طور محال ہے۔ چھوٹی کلاس سے لے کر بڑے

اسلام ۔حقوق انسانی کاعلم بردار

 ہر سلیم الطبع، انسانیت پسند اور خالی الذہن انسان جب کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کا عمیق نظری سے مطالعہ کرے گا، پھر اس میں غور و فکر اور تدبر سے کام لے گا تو ان کے سامنے یہ بات بالکل آشکارا ہوجائے گی اور ان کی زبانیں بے ساختہ یہ پکار اٹھیں گی کہ مذہب اسلام انسانی حقوق کا سب سے بڑا علم بردار ہے ۔  اسلام ابتدائے آفرینش سے ہی امن وامان، ظلم و زیادتی سے کوسوں دور، مساوات، نرمی، مصالحت، فرقہ پرستی سے مکمل دوری اور عدل و انصاف کا درس دیتا ہے، وہیں قبول اسلام پر مجبور کرنے سے مکمل طور سے منع کرتا ہے، اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ آیت نمبر 256 میں بیان فرمایا ہے " لا إكراه في الدين " کہ دین میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ دین میں زور زبردستی اس لیے نہیں ہے کہ دین کا تعلق قلب سے ہے اور قلب پر جبر و اکراہ کی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔ گویا اس حقیقت کا اعلان ہے کہ ایمان

سہل اور عام فہم زبان

  کوئی بھی قلم کار جب اپنی بات لکھنے بیٹھتا ہے تو وہ سب سے پہلے زبان کا انتخاب کرتا ہے کیوں کہ زبان ہی وہ واحد وصیلہ ہے، جسے ہم اپنی بات ایک دوسرے تک پہنچانے میں کامیاب ہوجاتےہیں۔ اب جب ایک قلم کار کوئی تحریر رقم کرتا ہے تو وہ ایسی زبان کا استعمال کرتا ہے جو عام فہم ہو، تاکہ اس عام فہم زبان کو زیادہ سے زیادہ لوگ سمجھ پائیں اور بات بھی زیادہ لوگوں تک پہنچ جائے تاکہ لکھنے کا مقصد پورا ہوجائے۔ عام فہم زبان کے انتخاب کا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ قارین کو پڑھتے وقت تحریر سمجھنے میں کوئی دِقت پیش نہ آجائے،ساتھ ہی ساتھ وہ اُسی معنی تک پہنچ پائے جو معنی قلم کار نے بیان کیا ہوا ہوتا ہے۔ اگر ہم ماضی کی طرف جا کر دیکھیں گے تو ہمیں تحریرات میں عام فہم زبان استعمال ہونے کی کئی مثالیں ملیں گی۔  اردو ادب کی بات کریں تو اس میں 17ویں صدی سے 20 ویں صدی تک کے زمانے میں جتنے بھی قلم کار گز

تازہ ترین