تازہ ترین

انسانی عمل اور طمع کے خوفناک نتائج | قدرتی ماحول کے بگاڑ میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے

ماحولیات یا قدرتی ماحول کا مطلب ہے انہیں ماحول، آبی ماحول اور فضائی ماحول، کرہ ارض پر اور اس کے اردگرد جو کچھ ہے وہ قدرتی ماحول کا حصہ ہے، ماحولیات کے مسائل میں کچھ مسائل قدرتی طور پر موسمی تبدیلیوں سے رونما ہوتے ہیں مگر مسائل میں انسانی عمل اور طمع نے بہت سے مسائل کھڑے کر دیئے ہیں۔ جس سے کرہ ارض کا قدرتی ماحول بتدریج بگڑتا جا رہا ہے۔ مگر انسان کو اس کی پرواہ نہیں ہے وہ اپنے معمولات اور سرگرمیوں میں محو ہے۔ ماحولیاتی سائنس کے ماہرین، ارضیات داں مسلسل ماحولیات کے مسائل پر بہت کچھ کہہ رہے ہیں۔ لکھ رہے ہیں اور دنیا کو درپیش مسائل خدشات کے الگ الگ مسائل ہیں، مفادات ہیں اور معاشی مسئلے زیادہ اہم ہیں ایسے میں انسان کچھ کرنے سے قاصر نظر آتا ہے۔  جبکہ دنیا کا سیاسی معاشی اور سماجی نظام اس قدر پیچیدہ ہیں کہ کمزور پسپا ہوتا رہا ہے اور طاقت کا بول بالا ہے۔ مگر کھلی سچائی یہ ہے کہ انسان

فیس بک۔ کرونا کا نیا شکار

آج کے دور کو ڈیجیٹل ایج یا انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے، جس میں ہر معلومات، تفصیلی یا غیر تفصیلی آپ کو باآسانی دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ ہر ڈیجیٹل آلہ سائز میں چھوٹے سے چھوٹا اور کام کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے ساتھ دستیاب ہے۔ آج سے دس یا پندرہ سال قبل ہمیں جس کام کو کرنے کے لیے پی سی کی ضرورت ہوتی تھی وہ تقریباً سارے کام آج آپ کے موبائل پر مختلف ایپس کی مددسے ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاٹا پروسیسنگ میں جو کام کمپیوٹر اور انسان مل کر کرتے تھے وہ اب Artificial Intelligence یاA.I. مصنوعی ذہانت کے مختلف پروگرامس کے ذریعہ صرف کمپیوٹر کے ذریعہ کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ آپ تمام کام مشینوں کے اوپر نہیں چھوڑ سکتے اس میں انسانی مداخلت یا نگہداشت بھی ضروری ہے۔ لیکن انسانی مداخلت کا منفی پہلو بھی حالیہ انکشافات کے بعد سامنے آرہا ہے۔ گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا کی مقب

عقل کوحیران کرنے والی ایجادات ! | دفتر میں بیٹھ کر گھر کے کچن میں کھانا پکائیں

اس جدید دور میں دنیا بھر کے ماہرین اور کمپنیاں جدت سے بھر پور چیزیں تیار کرنے میں سر گرداں ،ان میں کچھ چیزیں تو ایسے ہیں جن کے بارے میں جان کر عقل دنگ رہ جائے ۔ان میں سے چند کے بارے میں ذیل میں بتایا جا رہا ہے۔ ائیر بیگ والی کار  : اکثر کاروں میں اب ائریبگ لازمی موجود ہوتے ہیں، تاہم ان کا مقصد ڈرائیور یا مسافر کی حفاظت کرنا ہوتا ہے ۔ Volvo نامی کمپنی نے ایسی کار متعارف کروائی ہے، جس کے ائیربیگز گاڑی سے باہر ہیں اور یہ ٹکرائو کی صورت میں پیدل چلنے والے کا بچائو کریں گے۔ گاڑی سے ٹکرائو کی صورت میں ونڈ اسکرین کے قریب بونٹ کے ایک حصہ کے بیگ کے ساتھ اوپر اٹھے گا اور یہ گاڑی کی ونڈ اسکرین اور سامنے والے حصے پر جا کر پھیل جائے گا۔ ا س کے نتیجے میں ٹکرائو پر کم سے کم نقصان ہو گا۔ انسانی دماغ کی نقل کرنے والی کمپوٹر چپس  : انسانی دماغ قدرت کی تیار کردہ سب سے حیرت انگیز

سانپ کا زہر صرف نقصان دہ نہیں | زہر میں موجود لحمیات تریاق کے کام آتے ہیں

زمین پر بسنے والے جانداروں میں سانپ ایک ایسا جانور ہے جو ہمیشہ سے انسانی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ کہیں اسے پر اسرار مخلوق کے طور پر دیکھا جاتاہے، کہیں اسے ایک عام رینگنے والا جانور مانا جاتا ہے اور کہیں ایک موذی جاندار سمجھ کر مارد یا جاتا ہے ۔دنیا میں پائے جانے والے سانپوں کی کم و بیش تین ہزار اقسام ہیں، جن میں سے صرف بیس فی صد زہریلے ہوتے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ تعداد بہت کم ہے۔ ان زہریلے سانپوں میں سے بھی صرف ایک تہائی سانپ ایسے ہیں جوکسی انسان کو اپنے زہر سے نقصان پہنچاسکتے ہیں ۔ انسان کے اندر موجود جستجوں کی فطرت اور کھوج لگا نے کی عادت نے سانپ کے اندر موجود اس زہریلے مائع کو سمجھنے اور اس کے اندر موجود عناصر کو مختلف طریقوں سے استعمال کرنے کی طرف راغب کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں موجود مختلف قسم کے زہریلے سانپوں سے حاصل شدہ زہر پر ہر لحاظ سے تحقیق کی گئی ہے۔ آج ہمیں مختلف قسم ک

دنیا کاسب سے طاقت ور کوانٹم پروسیسر | کمپیوٹر کے ذریعے انسانی جینوم کی پروسیسنگ ممکن

اس ترقی یافتہ دور میں ہر کام کوآسان بنانے کی جدوجہد جاری ہے ۔اس ضمن میں سائنس دانوں نے انقلابی ٹیکنالوجی کی مدد سے عام کمپیوٹر پر صرف چند منٹوں میں انسانی جینوم کی پروسیسنگ کا عمل انجام دیا جا سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اورفرانس کے پاسچر انسٹی ٹیوٹ نے مشتر کہ طور پر یہ ٹیکنالوجی وضع کی ہے ۔اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں صرف 20 فی صد وسائل استعمال ہوتے ہیں لیکن جینوم پڑھنے کا کام 100 گنا تیزرفتار سے ہوتا ہے۔  اس طرح ایک جدید لیپ ٹاپ پر پورا جینوم اور میٹا جینوم معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اس کی بدولت معدے کے خردنامیوں اور اس سے وابستہ بیماریوں کی فوری طور پر جینیاتی وجوہ معلوم کی جاسکتی ہیں۔ واضح ر ہے کہ 2003 میں جب پہلا انسانی جینوم پڑھا گیا تھا تو اس میں دس برس لگے تھے اور دو ارب 70 کروڑ ڈالر خرچ ہوئےتھے۔ اب ایم آئی ٹی اور پاسچر کے ماہرین نے پھل

تازہ ترین