تازہ ترین

مذہبی آزادی کے معاملے

’’ایک حالیہ امریکی رپورٹ میں ہندوستان اور جنوبی ایشیاکے کئی دیگر ممالک میں مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور حقوقِ انسانی کے خراب ہوتے حالات پر امریکی انتظامیہ نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ‘‘  اپنی 2022 کی سالانہ رپورٹ میں، ریاستہائے متحدہ امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے سفارش کی ہے کہ ہندوستان کو 'خاص تشویش کا ملک'یعنی Countries of Particular Concern  -CPCقرار دیا ہے۔ یعنی مذہبی حوالے سے سب سے زیادہ خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی حکومتوں کے زمرے میں آزادی کے معیار پر پورا نہ اترنے والا ملک۔ رپورٹ نے مذہبی آزادی کی شدید خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد اور اداروں اور ان کے اثاثوں کو منجمد کرنے اور/یا ان کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا کر ان پر ''ٹارگٹڈ پابندیاں'' لگانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

عازمینِ حج کے لئےکچھ لازمی باتیں

حجِ بیت اللہ ارکان ِاسلام میں ایک اہم ترین رکن ہے۔ بیت اللہ کی زیارت اور فریضہ ٔحج کی ادئیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا و آرزو ہے۔سفرِ حج ایک مسلمان کی زندگی کا سب سے اہم سفر ہے، جس میں اسے ایک عظیم عبادت ادا کرنے کا موقع ملتا ہے اور وہ گناہوں سے اُسی طرح پاک ہوجاتا ہے، جیسا کہ اس وقت تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔کعبۃ اللہ مسلمانوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والا ہے، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں۔ ہر مسلمان کی یہ آرزو و تمنا ہوتی ہے کہ کب اسے مکۃ المکرمہ میں اللہ کے گھر کی زیارت کرنے کا موقعہ ملے گا اور کب وہ مدینہ طیبہ جا کر اپنی آنکھوں کو روضۂ اقدس کے جلووں سے معمور کرے گا۔ دنیا کے دور دراز راستوں سے مسلمان حرمین شریفین کی طرف وفد در وفد آتے ہیں اور ہر سال حج ادا کرتے ہیں۔ ہمارے ملک سے بھی ہر سال عازمین کرام کے نورانی قافلے سوئے حرم چل پڑتے ہیں اور اللہ کی رحمت سے جھولیاں

سنبھل جایئے۔ملک کا بھلا ہوگا !

دنیا کے کسی بھی ملک کی ترقی معیشت کی مضبوطی ،انصاف پسند حکمران،نظم و نسق کی پابندی پر منحصر ہوتی ہے۔ اگرچہ اس ملک میں معاشی بحران پیدا ہوجائے ،بے روزگاری عام ہوجائے، مہنگائی آسمان کو چھوتی جائے، حکمران تاناشاہی چلائیں ،تو ایسا ملک بجائے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے تباہی کی دہلیز تک پہنچ جاتا ہے اور ملک میں ہر طرف بدامنی پھیل جاتی ہے، نظم و نسق کی دھجیاں اُڑ جاتی ہیں اور حالت اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ عوام درپیش مسائل سے دل برداشتہ ہوکر سڑکوں پر نکل آتی ہے ،صورتحال خانہ جنگی کی شکل اختیار کرلیتی ہے پھر یاتو موجودہ حکومت کو معزول کرکے تختہ اُلٹ دیا جاتا ہے یا وہ اُسےاپنی ناکام حکمرانی اور عوام کے شدید احتجاج کے دباؤ میں حکومت سے دستبردار ہونا پڑجاتا ہے ۔آج یہ صورتحال ایشیاء کےایک چھوٹے ملک سری لنکا کی ہوچکی ہے، جسکی کل آبادی لگ بھگ 22کروڑ ہے ۔لیکن پچھلے دو ماہ سے یہ ملک معاشی بحران

خاندانی زندگی میں رشتوں کی اہمیت

 دنیا بھر میں 15مئی کو خاندان کا عالمی دن (انٹرنیشنل ڈے آف فیملیز) منایا گیا۔ 1993ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرار داد کے ذریعے اس دن کو منانے کی منظوری دی گئی، جس کے بعد 1994ء سے یہ دن باقاعدہ طور پر دنیا کے مختلف ممالک میں منایا جانے لگا۔ خاندانی نظام کی دن بدن بگڑتی صورتحال کی وجہ سےاس کی اہمیت کو دوبارہ اُجاگر کرنے کے لیے یہ دن منانے کی ضرورت پیش آئی۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس میں خاندان کی اہمیت کو اجاگر کرنا، خاندانی زندگی کو مضبوط بنانا اور خاندانی نظام میں موجود خرابیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ خاندانی زندگی کے متعلق شعور کو اُجاگر کرنا ہے۔ اس طرح خاندان سے جڑے سماجی اور معاشی مسائل جو خاندان پر اثر انداز ہو رہے ہیں، ان پر بات کرنے اور سماجی ،معاشی اور آبادی کے عوامل سے متعلق شعور اجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس دن فیملی لائف کی اہمیت اور رشتوں کے حق

دیہی علاقوں کے عوام اور سرکاری راشن؟

ڈیجیٹل انڈیا اسکیم کے چھ سال پورے ہونے پر وزیر اعظم نے اپنی تقریر کے ذریعہ ملک کے معروف ترقی پروگراموں کے حوالے سے نہایت ہی دلچسپ طریقے سے اس اسکیم کی حصولیابیوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں کہا کہ یہ ڈیجٹیل انڈیا کی ہی طاقت ہے کہ ون نیشن،ون راشن کارڈ کا عزم مکمل ہو رہا ہے، جس نے غریبوں کو ملنے والے راشن کی ڈیلیوری کو بھی آسان کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب دوسری ریاستوں میں جانے سے نیا راشن کارڈ نہیں بنانا ہو گا۔ایک ہی راشن کارڈ کو پورے ملک میں تسلیم کیا جائے گا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ ان مزدور خاندانوں کو ہو رہا ہے جو کام کیلئے دوسری ریاستوں میں جاتے ہیں۔ انہوں نے اس اسکیم کی تفصیلاً جانکاری دیتے ہوئے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی شکریہ ادا کیا ،جس پر سپریم کورٹ نے اُن ریاستوں کو ون نیشن اور ون راشن والی اسکیم کو نافذ کرنے کا حکم دیا جو اس اسکیم کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی

ارب پتی بننے والی خوبیاں کیا ہیں؟

ہم میں سے ہر کوئی ارب پتی افراد کو دیکھ کر رشک کرتا ہے اور جاننا چاہتا ہے کہ آخر ان کی کامیابی کا راز کیا ہے؟ ان کی کامیابی کا راز ملٹی ٹاسکنگ سے گریز کرنا اور اس وقت تک کسی کام پر توجہ دینا ہے، جب تک وہ مکمل نہ ہوجائے۔ درحقیقت جدید سائنس کا بھی ماننا ہے کہ ملٹی ٹاسکنگ انسانی صلاحیتوں کے لیے بہت نقصان دہ ہے اور صرف دو فی صد افراد ہی ایسا کرسکتے ہیں، ورنہ اکثر افراد بہ یک وقت کئی کام کرنے کی کوشش میں کسی ایک کو بھی پورا نہیں کرپاتے۔ ہر ایک کے پاس زندگی میں دو راستے ہوتے ہیں، ایک آسانی اور سکون جب کہ دوسرا مشکل اور ایڈونچر سے بھرپور، اور انھوں نے آسانی کی بجائے مشکل کا انتخاب کیا۔ دنیا میں کئی ارب پتی افراد ہیں، جیسے ایلون مسک، بل گیٹس، جیک ما، وارن بفیٹ وغیرہ جنھوں نے اپنی اپنی حکمتِ عملی کے تحت زندگی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور بے پناہ دولت کمائی۔ یہ سارے لوگ ہماری اور آپ

نیا تعلیمی سال اور ہمارا تعلیمی نظام؟

آج کے دور میں ہم نے معصوم بچوں کو کتابوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔والدین کے پاس بچوں کے لئے وقت نہیں،گھر کا ہر فرد، مرد و خواتین کو فکر ِروزگار ہے۔ ضروریات زندگی بڑھ رہی ہیں، لائف سٹائل اور طرز زندگی بدل رہے ہیں، بدلتی زندگی میں تعلیم و تربیت پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا جاتا، بچے توجہ کا مرکز نہیں بن رہےہیں۔ والدین کی ترجیحات میں اضافہ ہو رہا ہے، علم زیادہ اور تربیت کم ہو رہی ہے۔ سکول بھی ریٹنگ پر توجہ دیتے ہیں، نصاب کی مکمل کتاب کے بجائے بچے کو چند مخصوص سوالات رٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے، پھر وہی سوالات امتحان میں آتے ہیں۔ اس لئے بچے تعلیم کے بجائے چند سوال رٹ کر 90فیصد سے زیادہ نمبرات لیتے ہیں۔ سکول اور اساتذہ کی بھی نیک نامی ہوتی ہے اور ان کی ریٹنگ بھی بڑھتی ہے مگر بچہ کورا کا کورا رہ جاتا ہے۔ کتابیں علم کا سمندر ہیں، مگر کتابی اورذہنی بوجھ سے بچے کی نشو و نما رُک جاتی ہے۔ اس کے پٹھے

انسانیت نایاب ہورہی ہے؟

بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے اپنےتمام مخلوقات میں انسان کو سب سے بہتر اور افضل مخلوق بنایا ہے، جس کے باوصف انسان نہ صرف انسانوں کی بھلائی و بہبودی کے کام کرسکتا ہے بلکہ دیگر مخلوقات کی تحفظ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ مگر افسوس! اشرف المخلوق کہلانے والا یہ انسان اس حد تک اپنے وصف کھو چکا ہےکہ وہ انسان کہنے کے لائق نہیں رہا ہے ۔ انسانیت کے اصولوں سے ہٹ کر وہ ایسے ڈگر پر چل پڑا ہے کہ شیطان کے لئے تمام راستے آسان ہوچکے ہیں۔ دورِ حاضر کے انسان کوایک دوسرے کی تباہی ،بُربادی اور ہلاکت کا تماشہ دیکھنے،ایک دوسرے کو ذلیل و خوار کرنے ،ایک دوسرے کی عزت اُچھالنے، ایک دوسرےبدنام اور رُسوا کرنے میں ہی مزہ آتا ہےاور تسکین پاتا ہے۔ بظاہر آج کایہ انسان دوسروں انسانوںکی تباہ کاریوں یا بُربادیوں پر مگر مچھ کے آنسو بھی بہاتا ہے مگر در حقیقت وہ ان مصنوعی آنسوئوں سے دوسرے انسانوں پر یہ تاثر دلانے کی کوشش کر تاہے

خیالات کو بدلو ،زندگی بہتر بن جائے گی

زندگی ایک بہت خوبصورت امتحان ہے جس کا ایک پرچہ ہمیں روز حل کرنا ہوتا ہے۔اس پرچے میں کبھی خوشیاں ہوتی ہیں، کبھی غم ہوتے ہیں، کبھی محبتیں ہوتی ہیں اور کبھی نفرتیں اور بدگمانیاں!ہمیں اس پرچے کو حل کرنا ہوتا ہے اور ہم اپنی غفلت میں کئی جگہیں خالی چھوڑ دیتے ہیں۔وہ جگہیں جہاں ہمیں خوشی کے جواب میں شکر لکھنا ہوتا ہے، جہاں ہمیں درد کے جواب میں صبر درج کرنا ہوتا ہے،وہاںہم کچھ بھی نہیں کرتے۔زیادہ غلطی تب ہوتی ہے جب ہم جگہ خالی چھوڑنے کی بجائے اپنی مرضی کے جواب درج کردیتے ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا۔گویا احساس ہمارے اندر بتدریج گھٹتاجارہا ہےاور ہم بغیر احساس کے رشتے توڑتے چلے جارہے ہیں۔ہمیں کسی کو دُکھ دیتے ہوئے احساس ہونا چاہیے، کسی کے خوشی کی قدرکرنے کی حس ہونی چاہیے مگر وہ حِس ہمارے پاس نہیں ہوتی۔ہم تہی دامان دوسروں کے دامن سے بھی اچھی چیزیں نوچ لیتے ہیں اور ہمیں اتنا بھی یاد نہیں رہتا کہ

خدا کرےزندگی تری رہے محفوظ

ریلوے اسٹیشن پر باپ بیٹی پہنچے ہی تھے کہ باپ نے کئی مسافروں کو مفید مشورے دینا شروع کیے۔ میں ساتھ ہی کھڑا جو گفتگو سن رہا تھا، اس سے یہ بات واضح ہورہی تھی کہ اس بزرگ کو کئی لوگ اپنے مفید مشوروں سے نواز رہے تھے۔ میں نے جب نظریں اُٹھاکر اس بزرگ کی طرف دیکھا تو اس کا چہرہ اندیشوں کی ایک عجیب پرت سے ڈھکا ہوا لگ رہا تھا۔ اس کے ساتھ کھڑی اس کی بچی کے چہرے پر فطری معصومیت ڈر اور خوف کے دبیز پردے میں چھپ گئی تھی۔ اس کے والد کا کوئی دوست بچی کو وہ صلاح دے رہا تھا جسے ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں، یعنی ’’لیس لگیج، مور کمفرٹ‘‘ مطلب یہ کہ ’’بار قلیل، آرام وافر!‘‘ تاہم میں نے باپ بیٹی کو کسی انجانے نفسیاتی بوجھ سے دبا ہوا محسوس کیا، کیونکہ دونوں کے چہروں پر خوشی کی کوئی رمق تک موجود نہیں تھی! اس دوران میں یہ جستجو کرنے لگا کہ میں ان کی افسردگی کا را

والدین کی خدمت میں چند گزارشات

حال ہی میں جب مجھے ایک جگہ والدین اور اساتذہ کے مابین بات کرنے کا موقع ملا اور مجھے اختتامی کلمات پیش کرنے کی دعوت دی گئی تو اپنے اختتامی کلمات میں ،میںنے جو گزارشات عرض کیں،وہ میں تمام اسکولی بچوں کے والدین کے گوش گذار کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ وہ اپنے بچوں کی کارکردگی کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ ٭سبھی والدین واقف ہیں کہ اسکولی بچوں نے تین سال کے لمبے وقفے کے بعد اسکولوں کا باضابطہ رُخ کیا۔ اس سلسلے میں یہ بات پیشگی مدِ نظر رہے کہ تقریباً تمام بچوں میں نشو نما کی کمی ہے۔ بچے اچھے سے سمجھ نہیں پارہے ہیں، انہیں سبق پڑھنے کے سلسلے میں کئی ساری دشواریاں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اب سیدھی سی بات ہے، پچھلی با ر جس بچے نے اپنے آپ کو ساتویں جماعت میں پالیا تھا، تین سال گذرنے کے بعد وہ یک لخت دسویں جماعت میں پہنچ گیا ہے۔ ساتویں، آٹھویں اور نویں جماعت کا درس تو اس نے پڑھا ہی نہیں۔ اِدھر سے یہ ٹ

نوآموز قلم کار۔ناقدری کا شکار

غالب نے کیا خوب کہا ہے: ہے آدمی بجائے خود اک محشرِ خیال ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو            جب علم و آگہی اور تخلیق و صناعی کے مختلف عناصر انسان کے باطن میں بزم آرا ہوجاتے ہیں تو خیالات کا محشر برپا ہوجاتا ہے ۔ان خیالات کو ایک خوبصورت اور شایانِ شان وسیلۂ اظہار ملے، تو یہ ایک آب جو کی صورت اختیار کرکے نہ جانے کتنے ذرخیز ذہنوں کو سیراب کرتے ہیں۔ بصورت دیگر ایک آتش فشاں لاوا ہے جو نہ صرف فرد کے اندرون میں بے چینی کی کیفیت پیدا کرتا ہے بلکہ گاہے بگاہے اس کی بے ہنگم ہنگامہ خیزی سے معاشرہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’جاننا‘‘ ہماری سرشت کا جزولاینفک تو ہے ہی۔ فطرت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ جو ہم جان پائیں، اس کو دوسروں پر منکشف کرنے کا خاطر خواہ انتظام بھی کریں۔ شعور، لاشعور اور تحت العش

ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد

  بلڈوزر سیاست کیا رنگ لائے گی؟ صورتِ حال کا مقابلہ جمہوری انداز میں کرنا لازمی حال واحوال         رمضان کے مقدس مہینہ میں دہلی کے جہانگیرپوری علاقہ میں مودی حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے دن کے اُجالے میں مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلا کر ان غریب مسلمانوں کے سروں سے ان کا سایہ چھین لیا اور اب گزشتہ دنوں دہلی کے شاہین باغ کے مکینوں سے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف تاریخی احتجاج کرنے کی پاداش میں ان سے بدلہ لینے کی خاطران کے گھروں اور دکانوں پر بلڈوزرس چلانے کی پوری کوشش کی گئی۔ شاہین باغ کے جیالوں نے دہلی مونسپل کارپوریشن کے اس جارحانہ اقدام کے خلاف زبردست مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلدی عملے کوکو ئی انہدامی کاروائی انجام دئے بغیر واپس ہونے پر مجبور کردیا۔سینکڑوں لوگ انہدامی کاروائی کے خلاف سڑکوں پر اُتر آئے ا

نور آباد۔ سیاحت کے نقشے پر نمودار

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ کشمیر خطہ نہ صرف انتہائی خوبصورت ہے بلکہ وادیٔ کشمیر میں سیاحتی مقامات کی ایک کثیر تعداد موجود ہے۔بغور دیکھا جائے تو پوری وادی ایک صحت افزا مقام ہے ،ہر طرف فلک بوس پہاڑ، سر سبز وادیاں، پانی کے صاف و شفاف چشمے، گھنے جنگل، ایک دلنشین اور دلفریب نظارہ پیش کرتے ہیں  اور حسبِ روایت  آج بھی دنیا بھر کے سیاحوں کو مسحور کرنے کے لئے وادیٔ کشمیر باہیں پھیلائے ہوئی ہے۔شایدوادیٔ کشمیر کی محسورکُن دلکشی پر فریفتہ ہوکراور اس کے دلفریب اور دلنشین نظاروں کو دیکھ کر ہی کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا کہ ؎ اگر فردوس بروئے زمین است ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است یعنی دنیا میں اگر کہیں پر جنت ہے ،وہ یہیں پر ہے، یہیں پر ہے، یہیں پر ہے۔ضلع کولگام کا نورآبادؔ، اِسی جنت نما وادیٔ کشمیر کا ایک انتہائی خوبصورت اور پُر کشش علاقہ ہے ۔جہاں ہر دس پندرہ کلومیٹرف

مستقبل میں زمین مزید گرم ہوگی ؟ | اِس وقت انسانیت چٹان پر کھڑی ہے!

سائنس دان موجودہ رازوں پر سے پردہ فاش کرنے اور نت نئی دریافتوں کو منظر عام پر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے بھی آگا ہ کررہے ہیں۔ ماہرین کو لگتا ہے کہ گلوبل وارمنگ میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی انسانی سر گرمیوں کے سبب کئی صدیوں بعد آنے والا وقت بھی جلد ہی آجائے گا ۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2016ء میں دنیا بھر کا اوسط درجہ ٔ حرارت صنعتی عہد سے پہلے کے درجۂ حرارت کے مقابلے میں 1.2 ڈگری زیادہ رہا ہے اوراسی وجہ سے ہم بہت تیزی سے 1.5 ڈگری درجۂ حرارت کے اس ہدف کے قریب پہنچ گئے ،جس کو سائنس دانوں نے 21ویں صدی کے آخر کے لیے طے کیا تھا ،تاکہ گلوبل وارمنگ کے اثرات کو کم کیا جاسکے۔ ناسا کے اسپیس اسٹیڈیز کے ڈائریکٹر گیون اسکمیڈٹ کے مطابق عالمی سطح پر گرمی میں اضافہ کم ہی نہیں ہورہا جب کہ لگتا ہے کہ ہر چیز نظام کو تبا ہ وبر باد کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہ

’’فائبرو مائلیجیاء‘‘۔پٹھوں کو متاثر کرنے والی بیماری

فائبرومائی ایلجا (Fibromyalgia) پٹھوں کا ایک دائمی عارضہ ہے، جس میں جسم کے عضلات میں بہت زیادہ درد ہوتا ہے۔ پٹھوں کو متاثر کرنےوالی یہ بیماری تھکن، یادداشت، نیند اور مزاج کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ یہ بیماری ذہنی دبائو، صدمے یا کسی آپریشن کی وجہ سے لاحق ہو سکتی ہے۔ اس عارضہ نے دنیا کی تقریباً 2سے5فیصد آبادی کو متاثر کیاہے اور یہ نوجوان سے درمیانی عمر کی خواتین میں زیادہ عام ہے۔ فائبرومائی ایلجا میں یادداشت کی پریشانیوں کو fibro-fog بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دماغ کی سگنل پروسیسنگ کی صلاحیتوں کو متاثر کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں درد کے احساسات کو بڑھاتا ہے۔ اس سے متاثرہ شخص کی خاندانی یا سماجی زندگی متاثر ہو سکتی ہے، جو کہ ڈپریشن کا باعث بن سکتی ہے۔ 1992ء میں عالمی ادارہ صحت (WHO) کی طرف سے اسے ریومیٹک مرض کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اسی وجہ سے دنیا بھر کے کئی ممالک میں ہر سال 12مئی کو ف

زیرِ زمین تیل اور گیس بردار ساخت

 نامیاتی اجزاء سے پیوست رسوبات نئی سمندری فرش پر ذخیرہ ہوتی ہے جہاں نیچے سے درجہ ٔحرارت کی مناسب مقدار ملتی رہتی ہے۔ یہا ںپر میکنیزم کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ نئے سمندری فرش پر تبخیری معدہ خصوصی طور پر نمک سمندری فرش پر جمع ہوتا رہتاہے۔ یہ نمک کی تہہ ہزاروں فٹ کی دریافت کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ مثلاً بحرقلزم میں جہاں نمک کی بہت ہی دبیز تہہ موجود ہے سمندری فرشی پھیلائو کی وجہ سے نیچے موجود حرارت کے بہائو سے منسلک ہوتی ہے۔ اگلے مرحلے میں وسعت پاتے ہوئے سمندری فرش یا طاس میں ماحول کی تبدیلی نظرآتی ہے جو بلند شوریت سے تمام شوریت کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ نمک کے ذخائر جوگہرے پانی میں براعظمی حاشیے پر ہوتے ہیں۔ براعظمی رسوب کے ساتھ سمندری فرش پر دفن ہو جاتے ہیں جو نامیاتی مواد میں خود کفیل ہوتا ہے۔ حرارتی بہائو ’’طلاطم ویج‘‘ کے نیچے تہہ ہوتی ہے لیکن مناسب مقدار اوپر پہنچتی

واٹس ایپ کا میسیج ’ری ایکشن‘ فیچر متعارف | گوگل کے اینڈرائڈ 13کا بِیٹا ورژن ریلیز

دنیا کی مقبول ترین انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے صارفین کی دیرینہ خواہش پوری کرتے ہوئے میسیج ری ایکشن کا فیچر متعارف کرادیا۔ ابتدائی طور پر واٹس ایپ نے گزشتہ برس نومبر میں بتایا تھا کہ بعض صارفین کے لیے جلد میسیج ری ایکشن کا فیچر متعارف کرا دیا جائے گا، جس کے بعد جنوری میں اسے محدود صارفین میں پیش کردیا گیا تھا۔تاہم گزشتہ ماہ اپریل کے آغاز میں واٹس ایپ انتظامیہ نے بتایا تھا کہ مذکورہ فیچر کو مزید بہتر بنانے اور اس میں اضافی ری ایکشنز شامل کرنے پر کام جاری ہے اور فیچر کو جلد عام کردیا جائے گا۔اور اب واٹس ایپ نے مذکورہ فیچر متعارف کرادیا، تاہم تاحال کئی ممالک کے صارفین کے واٹس ایپ پر مذکورہ فیچر فوری طور پر سامنے نہیں آیا مگر جلد ہی سارے ممالک کے صارفین بھی مذکورہ فیچر کو استعمال کر سکیں گے۔ واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ نے 5 مئی کو اپنی مختصر فیس بک

منشیات۔اُبھرتی جوانیاںتباہی کے دہانے پر!

رات کے اندھیرے میںصبح کی بات تاریکی کوناگوارگزرتی ہے۔ باضمیر نفوس اندھیرے سے ہمیشہ ملول رہے ہیں اورانہوںنے سینکڑوں اندھیرے دریافت کئے ہیں،جن سے اُمتِ مسلمہ صدیوںسے نبردآزما ہے۔ لیکن افسوس کہ اکثریت فقط زوال کارونا روتی ہیں۔ کام کیسے اورکہاںسے شروع کریں، لب خاموش،عقل زنگ آلود! مولاناحسین احمدمدنیؒ سے کچھ رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ایک بارمولانا ؒ ٹرین سے سفر کررہے تھے۔ سامنے والی نشست پرایک بڑے شائستہ اور’نستعلیق‘ سوٹ بوٹ والے صاحب تشریف فرماتھے۔ ابتدائی گفتگو ہوئی اورسُوٹ بوٹ والے ’انگریز نما‘ صاحب کومولوی صاحب بڑے دقیانوسی اورقوم کی پسماندگی کی دلیل نظرآئے۔چنانچہ بات چیت زیادہ آگے نہ بڑھ سکی، کافی دیرسکوت چھایا رہا،صرف ٹرین کی رفتار کااحساس ہلنے جھلنے سے ہوتارہا۔ کچھ دیربعد سُوٹ والے صاحب کوبیت الخلاء کی حاجت ہوئی ۔ حاجت بشری کے لئے بیت الخلاء کادروازہ کھولت

یوم ِمزدورتقاریب۔محض ایک رسم اور تماشہ!

ہر سال یکم مئی کو یوم مزدور منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر گھڑ یالی آنسو بہائے جاتے ہیں، شامیانے لگائے جاتے ہیں، مائک اور اسپیکر نصب کئے جاتے ہیں، کسی مشہور شخصیت کی آمد ہوتی ہے، پھر ان کا خطاب ہوتا ہے، تالیاں بجائی جاتی ہیںاور یوں محسوس ہوتا ہے کہ بس آج سے مزدوروں کے حالات بدل جائیں گے۔ سارے مزدور خود کفیل ہو جائیں گے اور غربت کا خاتمہ ہو جائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس موقع پر بھی کسی اصلی مزدور کو پروگرام کے اِرد گرد بھٹکنے نہیں دیا جاتا، اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یومِ مزدور کے نام سے تقاریب کا انعقاد کرنے کرانے والوں کے سینے میں مزدوروں کا کتنا درد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سفید پوش شخصیات کو معلوم ہوتا ہے کہ آج یوم مزدور ہے۔ آج ہمیں کہیں جانا ہے، روائتی انداز میں مگرمچھ کے آنسو بہانا ہے، اپنے نام کا نعرہ لگوانا ہے، فوٹوگرافی کرانا ہے اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے ذریعے شہرت حا

تازہ ترین