تازہ ترین

ائمہ مساجد بھی انسان ہیں

یہ تو ہر مسلمان کو معلوم ہے کہ خودکشی کرنا حرام ہے لیکن اس کے باوجود بھی خودکشی کا رجحان بڑھتا ہی جارہا ہے ،آئے دن لوگ خودکشی کررہے ہیں۔ جب تک لوگ عاشق و معشوق کی خودکشی کی خبر اخباروں میں پڑھتے تھے تو طنز و مزاح پر مبنی تبصرہ کرتے تھے، ہنستے بھی تھے، ہنساتے بھی تھے مگر خودکشی کے بڑھتے واقعات نے آج وہ صورتحال پیدا کردی کہ قوم مسلم کو خون کے آنسو رونے کا وقت آگیا، خود اپنی غیرت کو للکارنے کا وقت آگیا اور خودکشی کو روکنے کے لئے میدان میں اترنے کا وقت آگیا، وہ بھی تقریروں کے ذریعے نہیں بلکہ عملی طور پر قدم بڑھانے کا وقت آگیا کیونکہ اب وہ طبقہ خودکشی کرنے لگا ،جس کے سر ذمہ داری ہے کہ وہ محراب و منبر سے ہر طرح کے حرام کاموں سے بچنے کا پیغام دے یعنی ائمہ مساجد بھی خودکشی کرنے لگے اور ظاہر بات ہے کہ کوئی خوشی میں سرشار ہوکر خودکشی نہیں کرتا ہے بلکہ اپنی ناکامی سے تنگ آکر، غریبی و تنگد

غریبوں کے لئے مخصوص راشن کہاں جاتا ہے؟

 یہ امر بخوبی واضح ہے کہ خوراک انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک اہم ضرورت ہے کیونکہ بغیر خوراک کے انسان کا زندہ رہنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے۔ یہ بات بھی ہر شخص جانتا ہے کہ ہمارے ملک میں لاکھوں ایسے لوگ ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی مشکل سے میسر ہوتی ہے اور بعض اوقات ان میں سےبیشتر لوگوں کو ایک وقت کی روٹی بھی مہیا نہیں ہوتی اور وہ ایک ایک نوالے کے لئے ترستے رہتے ہیں۔ انہی لوگوں کو مد نظر رکھتے ہوے حکومت نے بہت ساری اسکیمیں لاگو کی ہیں تاکہ ان غریب لوگوں کو کھانا میسر کیا جا سکے۔ انہی اسکیموں میں بی پی ایل بھی ایک زمرہ ہے، جس کے اندر فقط ان کوگوں کو رکھا گیا ہے جو نہایت غریب ہیں یعنی خط ِافلاس سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔  دوسری طرف اگر کویڈ۔19 جیسی عالمی وبا نے بھی تو عام لوگوں کا بالخصوص غریب طبقے کا روزگار پچھلے دو برسوںبُری طرح متاثر کردیا ہے۔ بے شمار لوگوں کے لئے جسم

نگہتؔ کا شعری مجموعہ "زرد پنکی ڈیر" صدائے نسواں کی ترجمان

آج میرے ہاتھوں میں ایک ایسا شعری مجموعہ ہے کہ جس کی جتنی بھی تعریفیں کی جائیں کم پڑیں گی۔جی ہاں! اس شعری مجموعہ کا نام "زرد پنکی ڈیر"ہے یہ تخلیق ایک نہایت ہی قابل، ہونہار اور بہترین شاعرہ نگہت صاحبہ کی ہے ۔میری ملاقات نگہت صاحبہ سے کورونا وبا میں "زُوم ایپ " کے ذریعے ایک مشاعرے میںہوا مشاعرہ کا اہتمام کأشُر قلم نے کیا تھا جس میں انہوں نے اپنی میٹھی آواز میں ہمیں ایک غزل سے نوازا تھا، اسی وقت مجھے اشتیاق ہوا کہ میں اس کے کلام کا مطالعہ ضرور کروں ،پھر کتاب منگوا لی اور ماشاءاللہ کتاب بہت ہی معنی خیز ہے۔کتاب میں غزلیں اور نظمیں نہایت ہی دلچسپ اور خوبصورت پیرائے میں پیش کی گئی ہیں۔ نگہت صاحبہ کے اس مجموعے کو 2017میں ساہتیہ اکیڈمی کے ایوارڈ " یُووا پرسکار "سے نوازا جاچکا ہے اور آپ کی اردو شاعری کو 2014میں اکبر جے پوری ایوارڈ اور 2018میں ملیکہ سین گپتا ایوار

دبستان کشمیر کے درخشاں ستارے

 دنیا اس کام کی ستائش ضرور کرتی ہے جو اشتیاق ، کامل توجہ ،دیدہ ریزی ، اور والہانہ پن سے کیا جائے۔شوق اور لگن کے ساتھ ساتھ فن پر بھی مکمل گرفت ہونی چاہیے، جب ہی ایک تخلیق کار کی تخلیق صدیوں تک زندہ رہتی ہے۔یہ امر بھی ذہن میں رہے کہ کوئی بھی تخلیق کار اس کوشش میں ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ بھی تخلیق کرتا ہے، اس کو شہرت اور دوام ملے۔جس تخلیق میں کچھ انوکھا اور نیا ہو، جو پرکشش اور خوبصورت ہو،پُر تاثیر ہو اور جو اپنی طرف متوجہ کرنے کی طاقت رکھتی ہو ،وہی زندہ رہتی ہے۔ وادی کشمیر میں ایسے تخلیق کاروں کی کمی نہیں جنہوں نے ایسی یادگار تخلیقات چھوڑی ہیں، جن میں یہ خصوصیات پائی جاتی ہیں کہ وہ خود کو صدیوں تک زندہ رکھ پائے گی۔ایسا ہی ایک منفرد اور کنہہ مشق ادیب ڈاکٹر اشرف آثاری ہے۔ جن کی تخلیقات اس قابل ہیں کہ وہ قارئین کے ایک وسیع حلقے کو متاثر کرنے کی قوت رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر اشرف آثاری

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی!

مفکر اسلام علامہ اقبال نے آج سے تقریبا صدی قبل جو پیشگوئی کی ہے وہ پوری ہو رہی ہے۔ علامہ نےیہ نظم 1907ء میں لکھی تھی ،جب وہ مغرب سے واپس آئے تھے۔ علامہ کے مطابق مغرب نے عقل سے مستعار نظام دنیا میں متعارف کرائے۔لیکن اکیسوی صدی کی دہلیز پر اب علامہ کی پیشگوئیوں کے مطابق اس تہذیب کاخاتمہ ہونے جا رہا ہے۔اس تہذیب کی بنیاد مادیت پر ہے۔سکیولر (secular)تہذیب نے انسان کو روحانیت سے محروم کردیا ہے۔علامہ اقبال نے 1910 میں خود نوشت کے اقتصابات کی تحریروں میں یہ بھی لکھا ہے کہ فرشتوں کی طرف سے ہی خوشخبری ملی ہے کہ سفینۂ مغرب اب غرقاب ہونےکو ہے۔علامہ کے مطابق مسلمانوں کی سینس(science)خداآشنا تھی لیکن اہل مغرب جس طرح الحاد، زندیقیت اور لامذہبیت کا شکار ہے،اُسی طرح ان کی سینس(حِس) بھی خدا بے زاری سے آلودہ ہے۔مغربی اہل علم دانشور سینسی ترقیات سے مرعوب ہوئے،لیکن مشرقی مفکرین اس طرح کےذہنی دباو

صادقہ نواب سحر کے ناول ـ’’جس دن سے ‘‘کا تجزیاتی مطالعہ

اردو خواتین قلم کاروں میں کئی خواتین قلم کار ایسی گزری ہیں جو نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الا قوامی سطح پر بھی اپنی اہمیت منوا چکی ہے ۔ایسے ہی تخلیق کاروں میں صادقہ نواب سحر کا نام بھی لیا جاتا ہے ۔انہوں نے اردو ادب کے تئیں اپنی قابلِ قدر خدمات انجام دے کر اپنا نام سنہرے حروف میں لکھوایا۔یا ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اردو ادب کو جن تخلیق کاروں پر ہمیشہ ناز رہے گا اُن میں صادقہ نواب سحر کا نام بھی شامل ہے۔دراصل کسی بھی میدان میں قدم رکھنا کمال نہیں ہوتا ،اصل کمال تو یہ ہوتا ہے کہ اُس میدان میں اُتر کر کیسے ایک انسان اپنی محنت اور لگن سے محور بن کر میدان میں ٹکا رہے ۔ہر میدان کی طرح اُردو ادب کے میدان میں بھی کئی ایسی شخصیات سامنے آئیں، جنہوں نے محض چند گوشوں سے متعلق خامہ فرسائی کر کے اپنے آپ کو اردو ادب سے وابستہ تو کر لیا لیکن تادیر اس میدان میں خود کو ایک فعال شخصیت کے طور پر نہ رک