گریٹر اسرائیل… پس ِ منظر اور پیش منظر

یہود ی مذہبی اوربنیاد پرست شاس پارٹی کے رہنما کے ساتھ یہ بیان منسوب ہے جو اس نے 5اگست 2000کو اپنے ایک خطبے میں دیاتھاکہ’’اسماعیلی تمام لعنت زدہ ہیں اور گنہگار ہیں ،خدائے واحد اور اس کی عظمت میں اضافہ ہو وہ اسماعیلیوں کو تخلیق کرکے پچھتارہا ہے ‘‘( نقل کفر ۔ کفر نہ باشد )۔اسی اخباری اطلاع میں عواد یا یوسف کوبراک حکومت کا مذاق اڑاتے ہوئے پوچھتا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ کسی معاہدے کی کیا ضرورت ہے ، وہ وزیر اعظم براک کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ (براک تم ان سانپوں کو ہمارے دوش بدوش کیوں لانا چاہتے ہو ، تمہیں ذرا بھی عقل نہیں) اور یروشلم پوسٹ 5 اگست 2000 کی اطلاع کے مطابق مجمع نے تالیوں کی گونج سے ان ریمارکس کو سراہا۔  یہ چند جملے اہل یہود کی سوچ و فکر اور یرو شلم سے متعلق ان کے نقطہ نگاہ کی وضاحت کے لئے کافی ہونے چاہئیں لیکن اس بات کو ہمیں مدِ نظر رکھنا لازمی ہوگ

بھارتی آئین: ترقی اور استحکام کیلئے ریڑھ کی ہڈی

آزادی کے بعد، بھارت نے 26 نومبر 1949 کو اپنا آئین اپنایا، جو ایک تاریخی دن ہے۔ آج اس اہم تاریخی واقعہ کی 71 ویں برسی ہے، جس نے آزاد بھارت کی بنیاد رکھی ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرساد، پنڈت جواہر لال نہرو، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیدکر، سردار ولبھ بھائی پٹیل، شریمتی سوچیتا کرپلانی، شرمتی سروجنی نائیڈو، مسٹر بی۔ این۔ راؤ، پنڈت گووند ولبھ پنت، شری شریت چندر بوس، شری راج گوپالچاری، شری این گوپالاسوامی آیانگر، ڈاکٹر شیام پرساد مکھرجی، شری گوپی ناتھ برڈولوئی، شری جے بی کرپلانی جیسے اسکالروں نے آئین کی تشکیل میں اپنا کلیدی کردار نبھایا۔ بھارتی آئین کو تشکیل دینے کے لئے دنیا بھر کے تمام آئینوں کا مطالعہ اور وسیع تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئین بنانے والوں نے اس کا مسودہ تیار کرنے کے دوران اس پر بڑے پیمانے پر غور وخوض کیا۔ اس حقیقت کو آئین کی مسودہ کمیٹی سے سمجھا جاسکتا ہے، جس نے کم وبیش 141 میٹینگیں کی

قرآن الحکیم کا ڈوگری میں ترجمہ

عذراچودھری کا وطنی تعلق جموں وکشمیرسے ہے ۔عذراچودھری کی والدہ کا نام رضیہ بیگم ہے اور ان کی داستان ِحیات نہایت الم ناک ہے ۔ جب1947ء میں ہندوستان آزاد ہوا تو اسی دوران جموں میں مسلمانوں کے ساتھ کافی زیادتیاں ہوئیں اور ان کاقافیہ حیات تنگ کیا گیا ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ مسلم خواتین کے ساتھ بھی زبردستی کی گئیں ۔ان ہی میں سے ایک عذراچودھری صاحبہ کی والدہ رضیہ بیگم بھی تھیں ،جن کے ساتھ بھی ناروا سلوک کیا گیا ۔ جموں فسادات میں رضیہ بیگم کے خاندان کا لوٹ کھسوٹ کیا گیا اور ان کے خاندان سے صرف رضیہ بیگم ہی بچنے میں کامیاب ہوئیںلیکن ان کی شادی زبردستی بلوان سنگھ کے ساتھ کی گئی اور انہیں مجبور اََ ان کے ساتھ رہنا پڑا ۔انھوں نے تین بچوں کوجنم دیا جن میں سے بیٹے کا نام کرن سنگھ ، دوسری بیٹی کا نام انجو او اور تیسری بیٹی کانام دیورانی رکھا گیا ۔ اس کے بعد حالات نے پھر سے کروٹ لی اور بلوان سنگھ لاپتہ ہو

ترنم ریاض: افسانہ ’ یمبرزل ‘ کے آئینے میں

ترنم ریاض ریاست کی ایک واحدفکشن نگار خاتون ہیں جنہوں نے اپنے فن کی بنا پر ریاست سے باہر یعنی بین الاقوامی سطح پر اپنا لوہا منوالیا ۔برقی میڈیا سے وابستہ ہونے کے باوجود انہوں نے اردو ادب،خاص طور پر فکشن کو اپنی نگارشات کی بدولت ایک جہت عطا کی اورجموں وکشمیرکے جن فنکاروں کو اردو ادب میں ایک پہچان حاصل ہے، ان میں ترنم ریاض کا نام بھی شامل ہے ۔انہوں نے اپنی تخلیقی کائنات سے قارئین کو اپنی طرف متوجہ کیا اور جلد ہی اردو کے ممتاز افسانہ اور ناول نگاروں میں شمار ہونے لگیں ۔اب تک ان کے چار افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں جن میں یہ تنگ زمین ، ابابیلیں لوٹ آئیں گے، یمبرزل اور آخری مجموعہ جو ۲۰۰۸ء میں شایع ہوچکا ہے ’’میرا رخت سفر ‘‘ ہے ۔ ترنم ریاض کا کینواس موضوع کے لحاظ سے ریاست کے باقی قلمکاروں سے قدرے مختلف ہے۔ انہوں نے مقامی موضوعات کے ساتھ ساتھ برصغیر میں آ

عالم برزخ سے اپنی لاڈلی بِٹیا کے نام

السلام علیکم میری پیاری بیٹی حٰم …   انتہائی پرْاْمید ہوں کہ میرا جگر گوشہ ٔحیات بخیر و عافیت سے ہوگا اور گھرکے سب اراکین بھی، بالخصوص آپ کی امی جان۔دراصل میں آپ کا ابا جان عالمِ برزخ سے آپ کو ایک اہم پیغام اس خط کی صورت میں ارسال کرنے جارہا ہوں۔قریب قریب تین سال قبل کی بات ہے کہ جب میں اچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے آپ سب سے بچھڑ کر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملا ۔ میری پیاری بیٹی حٰم، درحقیقت زندگی کا یہ دستور ازل سے ہی چلا آرہا  ہے کہ جوکوئی انسان بھی اس دْنیا میں آیا، اْسے ایک نہ ایک دن دنیا کی عارضی زیبایش و زینت کو خیرباد کہہ کر اللہ کی جانب ہی رجوع کرناپڑا۔ بس ایسا ہی کچھ  معاملہ آپ کے ابا جان کے ساتھ بھی پیش آیا۔ بات کچھ اس طرح سے ہے کہ میں آج کل جنت الفردوس کے بالاخانوں میں مقیم ہوں جہاں حیاتِ حقیقی کے انتہائی پْرسکون لمحات گزار کر اللہ کی عظ

تازہ ترین