فخر موجودات ؐ تاریخ کا افتخار

تاریخِ انسانی کے نماشا گاہ پر کافی تعداد میں بڑی بڑی شخصیات کا ظہور ہوا جنہوں نے انسانوں کی علمی اور عملی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے،جنہوں نے انسانی زندگی کی مجموعی ساخت کو متاثر کیا ،جنہوں نے انسانوں کے طرزِ فکر اور طرزِ عمل کو بدلا ڈالا،جنہوں نے تاریخ میں ایک ہلچل پیدا کی ،جنہوں نے تاریخ کو اپنے نام کر دیااور تاریخ کے دھانے کو موڑنے کی کوشش کی۔ایسی شخصیات ہی عبقریت اور عظمت کا تاج پہن کر لوگوں کے دلوں میں ایک محترم مقام پیدا کرتی ہیں۔ایسی شخصیات کی زندگیاں عوام الناس کے لئے قابلِ التفات ہوا کرتی ہیں۔ان عظیم انسانوں کی تعمیر کس ڈھنگ اور کس پیٹرن پہ ہوئی ہے یہ محققین کے نزدیک قابلِ تحقیق موضوع ہوا کرتا ہے۔ ایسی شخصیات کی تعمیر میں متعدد عوامل کادخل ہوتا ہے۔جن عوامل کا صحیح خطوط پر تفتیش کرنا دشوارتو ضرور  ہے لیکن ناممکن نہیں۔ یہاں پر ان تمام عوامل کا (جو تعمیرِ شخصیت میں درکار ہ

رسول اللہ ؐ کی مقدس معاشرت

آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے جب دنیا میں ہر طرف ظلم ومعصیت کی تاریک گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں ، ہر مخلوق کسی بھی حیثیت یا درجہ کی تھی، دنیا میں اسکی پرستش ہورہی تھی اور کوئی ایسی برائی نہیں تھی جس میں دنیا بالخصوص اہلِ عرب مبتلا نہ ہوں اور پھر وحشت، جہالت، لڑائی جھگڑا، دختر کشی، شراب خوری، جوئے بازی، فحاشی و فحش کاری اور دیگر جرائم محبوب مشغلے تھے۔ ان ہی حالات میں خاتم النبیین سرور کائنات رحمت عالم۔ حضرت محمدؐکی بعثت ہوئی۔ دنیا کے اس سب سے بڑے انسان کو خدا نے ایسی پاکیزہ فطرت بخشی تھی کہ گردوپیش کے اس غلط ماحول اور عربوں کے اتنے بگڑے اخلاقی حالات میں آپؐ نے ایسی پاکیزہ زندگی بسر کی اور اپنی زندگی کے ایک ایک لمحہ سے پاکیزگی کا ایسا محیر القول ثبوت دیا کہ دشمن بھی اس کی تعریف میں پیش پیش ہیں۔                        آپ ؐنے ج

ربیع الاول اصلی عالمی بہار

ایک ایسے وقت میں جب انسانیت کی کشتی ظلم و طغیان کے بھنور میں ہچکولے کھارہی تھی رب کریم نے انسانیت کی نجات کے لئے قدسیوں کی ایک جماعت کھڑا کی اور اس جماعت کی راہنمائی کے لئے ان ہی میں سے ان کے سردار (ص) کو مبعوث کیا! ان قدسیوں اور ان کے راہنما کا ذکر نا صرف بنی اسرائیل کے ادب میں پایا جاتا ہے بلکہ ہندی اساطیری ادب میں بھی ان کے اشارے ملتے ہیں۔ اسرائیلی ادب سے ہم اسرائیلیات کے توسط سے واقف ہیں جو مختلف تفاسیر میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک ہندی ادب کا تعلق ہے، اس کی طرف کئی ایک اہل علم نے اشارے کیے ہیں۔ ان آراء اور اشاروں کو ایک بنگالی نو مسلم، عبداللہ اڈیار کی کتابIslam: My Fascination نے شرف قبولیت اور درجہ استناد بخشا ہے۔ یہ قدسی کون تھے اور ان کے سردار (ص) کون تھے؟ دراصل جس جماعت سے ان قدسیوں کو چنا جانا تھا اسی جماعت کے جد امجد، ابراہیم (ع) نے اپنے فرزند ارجمند' اسماعیل

حضرت محمد ؐ کی شخصیت نمونۂ عمل

ماہ ربیع الاول وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں فخر کائنات، خطمی مرتبت، سرور کونین حضرت محمد مصطفیؐ تولد ہوئے اور دنیا کو اپنے اخلاق، کردار، گفتار اور اعمال سے اپنا گرویدہ بنا دیا ۔آپ ؐ نے انسانوں کو جہالت اور اندھیرے سے نکال کر علم اور نور کی طرف لے لیا اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو صحیح راستے پر گامزن کیا۔ آپ کی تعلیمات نے ایک آدم کو انسان بنا دیا اور انسانیت کا لباس زیب تن کیا اور باطل و طاغوتی قوتوں کو اپنے اخلاق و کردارسے برہنہ کیا اور اسلام کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ اسی لئے قرآن گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ''اے پیغمبر ،ہم نے تمھیں گواہی دینے والا اور خوش خبری پہنچانے والا اور عذاب الٰہی سے ڈرانے والا اور اللہ کے اذن سے اْس کی طرف دعوت دینے والا اور انسانوں کی ہدایت کے لیے ایک روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے (الاحزاب45۔46) مگر عصری مسلمانوں نے اس قرآن کو رحلوں پر

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چاہئے؟

مرحبا! ماہِ ربیع الاول آگیا، لیکن ربیع الاول تو گیا ہی کب تھا۔ کسی کیلئے ربیع الاول سال بھر میں ایک مرتبہ آتا ہو گا،ایک سچے مسلمان کیلئے تو زندگی کا ہر لمحہ ربیع الاول ہے کہ وہ اپنی فانی زندگی کے اس وقت کو جو رحمت للعالمین ،شفیع المذنبین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور پیروی سے خالی ہو،موت سے بد تر سمجھتا ہے۔ اس بات پر دنیائے عشق و محبت کا اتفاق بلکہ اجماع ہے کہ   ؎ مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا اس کو چھٹی نہ ملی جس کو سبق یاد ہوا سال کے صرف ایک مہینے،مہینے کے صرف ایک دن اور دن کے بھی صرف چند گھنٹے،معاف کیجئے گا یہ محبت نہیں ،محبت کی توہین معلوم ہوتی ہے۔ جو سچے محب تھے اور جن کی محبت کی گواہی خود محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ، ان کی حالت تو یہ تھی   ؎ جان دیدے کے خریدار بنے ہیں انصار عشق زارِ مدنی، مصر کا بازار نہیں جی

تازہ ترین