تازہ ترین

خوشحالی اور سہولیات کی فراہمی کے کھوکھلے نعرے

کشمیر ی عوام کا ہر گذرتا دن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میںمسلسل اضافے سے مشکل سے مشکل تر بنتا جارہا ہے۔اشیائے ضروریہ اور روزمرہ کے استعمال کی اشیا عام آدمی کی پہنچ اور اس کی رسائی سے باہر ہوتی جارہی ہے۔معاشی بحران اور انحطاط کی وجہ سے پہلے ہی معاشی ترقی کی رفتار بْری طرح متاثر ہوچکی ہے جس کی وجہ سے بے شمار لوگ روز گار سے محروم ہوگئے ہیں اور کئی پرائیویٹ کمپنیوں ،کارخانوں اور اداروں میں تنخواہوں اور اْجرتوں میں کٹوتی کی گئی ہے جبکہ عام آدمی کی آمدنی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہی ہے۔غذائی اجناس کی قیمتوں میں مسلسل بڑھوتری سے ایسا لگتا ہے کہ ان قیمتوں پر قابو پانے کی سرکاری انتظامیہ میں کوئی سکت نہیں،اس لئے اس تعلق سے گورنر انتظامیہ زیادہ فکر مند بھی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔گویاکشمیری عوام کو اِس وقت جس بے لگام اور کمر توڑ مہنگائی کا سامنا ہے اْس کا شائد گورنر انتظامیہ کو بھی ادراک ہو،لیکن گ

صحت و عافیت!!

کیا یہ معمولی نعمت ہے کہ انسان اپنے گھر سے ہاتھ ہِلاتا ہوا ،مضبوطی سے قدم رکھتا ہوا نکلے،ہموار سانسیں اُس کے پھیپھڑوں میں اُبھر رہی ہوں،اُس کی آنکھیں دور دور تک دیکھ رہی ہوں اور اُس کے کان کی نقل و حرکت سُن رہے ہوں ؟ یہ عافیت جس میں ہم لطف اندوز ہورہے ہیں کوئی معمولی چیز نہیں۔ہمیں حاصل ہونے والی نعمتیں کتنی زیادہ گِر ا نقدر ہیں، چاہے ہم اُن سے آنکھیں بند ہی کیوں نہ کرلیں۔ہمیں جو جسمانی صحت ،اعضا ء کی سلامتی اور پورے حواس دئے گئے ہیں ،ہم اُن سے غافل ہیں۔اس لئے نہ تو اس پُر لطف زندگی کا مزا چکھتے ہیں اور نہ ہی اپنے آقا اللہ تعالیٰ کا شُکر ادا کرتے ہیں۔جس نے ہمیں اتنی ساری نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔کتنے لوگ ہیں جو ان نعمتوں سے محروم ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ وہ کتنی تکلیف محسوس کرتے ہیں،کوئی ایک لقمہ کھا کر بھی پریشان ہے کہ اس کی قوت ِ ہاضمہ ہی جواب دے چکی ہے ،کسی کے اعضا ء پورے ن

نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم سے عشق کا معیارِ

خیر الانام سرورکونین خاتم النبیین رحمت اللعالمین امام الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم کے امت پر بے حد احسان ہیں جس کے بدولت امت مسلمہ کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے بے حد محبت کرنا واجب بن جاتا ہے۔ عظیم الشان پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات اقدس کے ساتھ ایسی والہانہ محبت ہونی لازمی ہے کہ جس کا مطالبہ اور توجہ قرآن نے یوں مبذول فرمایا، ارشاد باری تعا لیٰ ہے کہ"اے محبوب ! فرما دیجئے ان کو کہ اگر تم خدا تعالٰی سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میری اتباع کرو، خدا تعا لیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے اور تمہارے سب گناہوں کو معاف کر دیں گے اور اللہ تعالٰی بڑے معاف کرنے والے بڑی عنایت فرمانے والے ہیں"- (القرآن؛ آل عمران، 3:31) قرآن کریم نے صاف اعلان کر دیا کہ جو لوگ اللہ تعا لیٰ سے محبت کا دعوٰی کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ اللہ کے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی

سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عصری معنویت

 لفظ" سیرت" کے عربی لغت میں معنی ہیں: چال چلن، چلنا پھرنا، ہیئت و حالت، شکل و صورت، طریقہ و کردار وغیرہ۔ چنانچہ اولین دور میں اس سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مغازی لئے گئے، بعد میں اس سے مراد وہ رویہ لیا گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کے ساتھ جنگ و صلح میں روا رکھا تھا۔ آخری مرحلہ میں اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی اور اس سے منسلک تمام حالات و واقعات کو لیا گیا۔ عرف عام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کے بیان کو سیرت کہتے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے ساتھ ساتھ شمائل و خصائص کو بھی بیان کیا جاتا ہے۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے بطور خاتم النبیین تمام اقوام عالم کے لئے مبعوث فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کو رہتی دنیا تک نمونہ حیات قرار دیا۔لقد کان لکم ف