جموں اور کشمیر کے خطے

وادی کشمیر اور جموں کے مابین خیالات کے ٹکرائو کی اپنی تاریخ ہے۔گوکہ سیاسی قائدین عقیدے کو ریاست اور سیاست سے دور رکھنے کے بلند بانگ دعویٰ کرتے آرہے ہیں لیکن حقیقت حال یہی ہے کہ جموں اور وادی کے مابین تقسیم کی لکیروں میں ایک واضح لکیر عقیدے کی بھی ہے۔اس پس منظر میں دیکھا جائے تو جموں خطہ ،جموں،کٹھوعہ،ہیرا نگر،سانبہ اور ریاسی اضلاع پر مشتمل ہے اور کشمیر میںوادی کے دس اضلاع کے ساتھ ساتھ پیر پنچال ڈویژن اور خطہ چناب کے سبھی اضلاع کو شمار کیا جاسکتا ہے۔لیکن حکومتی سطح پر بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ انتظامی سطح پر پیر پنچال اور وادی چناب کوبھی صوبہ جموں کا ہی خطہ گردانا جارہا ہے جس نے مذکورہ دونوں خطوں کے اکثریتی عوام کو سالہا سال سے اضطراب کی کیفیت میں زندگی گذارنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ان خطوں کے لوگوں کا تمدن،رہن سہن یہاں تک کہ سیاسی سوچ و اپروچ کشمیر کے ساتھ ہی ملتا ہے ،یہی وجہ ہے ک

’سرینگر ایک عظیم شہر ‘

شہر سرینگر کشمیر کا دارالخلافہ ہے۔کشمیر ریشیوں اور منیوں کا مسکن رہا ہے۔اس کو رشی واری بھی کہا جاتا ہے۔یعنی یہ ریشیوں کا گلشن ہے۔اس گلشن میں کتنے صوفی اور ریشی پیدا ہوئے، وہ اَن گنت ہے۔وادیٔ کشمیر کو جنت بے نظیر بھی کہا گیا ہے اور ایران صغیر بھی۔اس وادی کشمیر کی جتنی تعریفیں تاریخوںمیںکی گئی ہیں کسی اور جگہ کی شاید ہی کی گئی ہو۔کشمیر پر وقتاً فوقتاً تاریخیں لکھی گئیں۔جن میں راج ترنگنی،تاریخ کشمیر،واقعات کشمیر،ہسٹری آف کشمیر،تاریخ کبیر ،تزک جہانگیری وغیرہ قابل ذکر ہیں۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں میں صرف شعر و شاعری کا ذوق و شوق نہیں تھا بلکہ تاریخ نویسی بھی یہاں کا ایک مشغلہ رہا ہے۔یہاں اکثر و بیشتر ادب کی آبیاری کی گئی اور ادب کو نکھارا اور نہارا گیا۔یہاں صرف کشمیری میں نہیں بلکہ اردو اور فارسی بھی کشمیری کے برابر چلتی رہی اور چلتی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’سرینگر ای

مسابقتی امتحانات ، حکومتی ملازمتیں

اس بات سے یکسر انکار ممکن نہیں ہے کہ موجودہ دور میں جب ملازمتوں کا حصول مشکل اور سخت مقابلہ آرائی کا متقاضی ہے، ایک حکومتی ملازم عمدہ اور پُرکشش تنخواہ کے ساتھ ساتھ مختلف سہولتوں سے آراستہ زندگی گذار تا ہے۔ یہ بات کہنے میں ہمیں بالکل بھی تعرض نہیں ہے کہ ایک حکومتی ملازم (گورنمنٹ سرونٹ) ایک خوشحال اور ایک محفوظ ترین ملازمت کرتاہے۔ حکومتی ملازمتوں کا حصول اگر مشکل نہیں تو بہت آسان بھی نہیں ہے۔ مختلف حکومتی شعبوں میں ملازمت کے لیے امیدوار کو سخت محنت کے ساتھ ساتھ ملازمت کے لیے منعقدہ امتحانات میں شریک دیگر امیدواروں کے مقابلے میں خود کو اہل ثابت کرنا پڑتا ہے اور ایک مرتبہ کامیاب ہوجانے کے بعد اس کی ترقی کے راستے کھل جاتے ہیں۔ بھارت میں حکومتی ملازمتوں میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی نمائندگی ان کی آبادی کی شرح کے لحاظ سے بہت کم ہے۔ نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن کے مطابق مذہبی گروپس کے

مشترکہ مسا بقتی امتحانات

کمیشن برائے عوامی خدمات جموں و کشمیر نے ۲۹ ؍ستمبر ۲۰۲۰ ء کو مشترکہ مسابقتی امتحانات۲۰۱۸ ء کے نتائج ظاہر کر دئے ۔ کمیشن کی ایک غیر معمولی نوٹیفکیشن کے مطابق ۷۰ ؍امیدواروں کوطبی معائنے کے لیے کامیاب قرار دیا گیا ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اِن امتحانات کے لیے مئی ۲۰۱۸؍ میں درخواستیں طلب کر دی گئی تھیں۔ ستمبر۲۰۱۸؍ کے مہینے میں ان امتحانات کے لیے ابتدائی (prelims)امتحان کا انعقاد ہوا تھا، جس میں ۲۵۱۸۸؍ امیدواروں نے حصہ لیا۔ ابتدائی امتحانات کے نتائج ستمبر ہی کے آخری ہفتے میں ظاہر کر دیے گئے، جس میں ۱۷۵۰؍ امیدواروں کو مرکزی(mains) امتحان میں بلایا گیا ۔ اس کے بعد جولائی ۲۰۲۰ ء میں مرکزی امتحان کا انعقاد ہوا تھا، جس میں ۲۲۹ ؍امیدواروں نے کامیابی حاصل کر لی اور انہیں انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ انہی امیدواروں  میں سے ۷۰؍ امیدواوں کو بالآخر و ہ کامیابی نصیب ہوئی، جنہیں مذکورہ نوٹیفکیشن میں مشتہر

تازہ ترین