سکولی نصاب میں تحریف کے پس پردہ مقاصدکیا؟

ملک میں اسکولی تعلیم کا انتظام وانصرام کرنے والے سب سے اہم ادارے سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) نے تعلیمی سال2020-21 کے لیے نویں سے بارہویں درجہ تک کے نصاب میں30فیصد کی کمی کردی ہے۔بورڈ کی دلیل ہے کہ ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے سبب لاک ڈاون کی وجہ سے مارچ سے اسکول بند ہیں جس کی وجہ سے طلبہ کا تعلیمی نقصان ہورہا ہے اور وہ صرف آن لائن کلاسیں کرپارہے ہیں لہذا ان پراور اساتذہ پر کورس پورا کرنے کا بوجھ نہ پڑے۔ انسانی وسائل کے فروغ کے مرکزی وزیر رمیش پوکھریال نے اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے کئی ٹوئٹ کرکے کہا کہ’’ ملک اور دنیا میں موجودہ غیر معمولی صورت حال کے مدنظر بنیاد ی نظریات سے متعلق مضامین کو علی حالیہ برقرار رکھتے ہوئے نصاب کو 30فیصد تک کم کرکے اسے منطقی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘‘ حالانکہ سی بی ایس ای کے اس اقدام کے خلاف ابھ

چڑیوں کی چہچہاہٹ

ہماری یونیورسٹی راجوری کے کوہساروں پر ایسی جگہ واقع ہے جو قبل ازیں چرند پرند اور جانوروں کا مسکن ومنبع اور مخبأ ہوا کرتی تھی۔جب یونیورسٹی قائم ہوئی اور لوگ یہاں آباد ہوتے گئے تو جانوردم دباکر بھاگنے لگے مگر پرندوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔انواع واقسام کے رنگ برنگ پرندے اس معمورے کو صبح وشام اپنی مدھر بھری چہچہاہٹ سے سرمست کیے رہتے ہیں۔مینا ، کبوتر،طوطا، بلیو برڈ،کویل، گوریّے جیسے انسانوں سے مانوس رہنے والے کچھ پرندوں کی تعداد تو کسی قدر زیادہ ہی ہے۔ کل بڑا پر بہار موسم تھا۔ میں اپنی بلڈنگ کی چھت پرگیا تو دیکھا سوپچاس کبوتروں کا ایک جھنڈ گرلس ہوسٹل کے اے بلاک سے ایک ساتھ اڑتا ہے اور ہلالی شکل بناتے ہوئے ڈی بلاک پرجاکر بیٹھ جاتا ہے۔ وہاں سے وہ اس کے عقب میں بنے ہوئے فیکلٹی کوارٹر پر یک ساتھ جست لگاتے ہیں۔اور پھر وہاں شیڈ پر اپنے چونچوں سے کٹ کٹ مار کر مستی کرتے پھرتے ہیں۔ بہت

غیر منصفانہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام

سرمایہ نظام ایک معاشی و معاشرتی نظام ہے جس میں جملہ حقوق و کنٹرول ملک کے بجائے نجی شعبے کا ہوتا ہے ۔نجی شعبے کو مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے کہ وہ منافع کے لئے آزاد منڈی میں جدو جہد کرے ۔ایک مثالی سرمایہ دارانہ نظام میں ریاست معاشی حالات میں مداخلت نہیں کرتی یا بہت کم مداخلت کرتی ہے ۔سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد انفرادی کلیت کے تصور پر قائم ہے ۔یہ نظام اس بات کا قائل ہے کہ ذرائع پیداوار جمع کرنا اور اس کا استعمال کرنا ہر فرد کا بنیادی حق ہے اور اس حق کے استعمال کے لئے ہر فرد کو مکمل آزادی حاصل ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مثالی سرمایہ دارانہ نظام کا وجود کہیں ممکن نہیں ہے کہ جہاں پر فرد کو مکمل آزادی حاصل ہو، کیونکہ حکومت کو کسی نہ کسی طرح مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد انفرادی ملکیت کے تصور پر قائم ہے ۔انفرادی ملکیت میں دو طرح کے سامان آتے ہیں: (۱) وہ چیزیں جو انسان

کشمیر کی دستکاری صنعت روبہ زوال

یوں تو ہماری وادیٔ کشمیر کی معیشت کا دارومدار تین بڑے شعبوں پر ہے جن میں دستکاری، سیاحت اور زراعت قابلِ ذکر ہیں مگر اب کئی دہائیوں سے یہ تینوں شعبے بْری طرح سے متاثر ہوئے ہیں جس کے اہم وجوہات اندرونی تناؤ اور ان شعبوں کی طرف سرکار کے ساتھ ساتھ عوام کی عدم توجہی بھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان شعبوں سے وابستہ لوگ اب کسمپرسی کی زندگی جی رہے ہیں۔ جہاں تک دستکار ی صنعت کی بات ہے تو کشمیر دستکاری صنعت کی تاریخ کئی سو سال پرانی ہے اور اس شعبے سے یہاں کی ایک بڑی تعداد وابستہ رہی ہے ۔ان دستکاریوں میں قالین بافی، شالبافی، پشمینہ سازی، پیپر ماشی اور لکڑی کی کندکاری قابلِ ذکر ہیں ۔ اب لگ بھگ ان دستکاریوں کا جنازہ نکلنے کو ہے اور لاکھوں لوگ بیروزگار ہوگئے ہیں۔کشمیری دستکاریوں کا جگہ اب اس سائنسی دور میں مشینوں نے لی ہے، ان سے سستا مال تیار کرکے مارکیٹ میں آنے سے بھی ان دستکاریوں کا دم اب آہستہ آہس

اپنا احتساب خود کر لیں!

کسی شدید بیماری کا سب سے سنگین درجہ وہ ہوتا ہے جب بیمار اس کو بیماری تسلیم کرنے سے انکار کر دے یا اس کے مرض ہونے کا احساس اس کے دل سے مٹ جائے۔ یہ کلیہ جسمانی بیماریوں کے بارے میں جتنا درست ہے، روحانی امراض یا گناہوں کے بارے میں بھی اتنا ہی سچا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سی برائیاں ایسی رواج پا گئی ہیں کہ گھر گھر اُن کا چلن دیکھ کر اب دلوں سے اُن کے برائی ہونے کا احساس بھی مٹ رہا ہے اور افسوس تو یہ ہے کہ معاشرے کے دینی رہنما بھی تھک ہار کر اُن کے بارے میں کہنا سننا چھوڑتے جا رہے ہیں۔  ایک بالکل واضح اور ظاہر سی بات ہے کہ انسان جوکچھ دیکھتا ہے، سنتا ہے اور پڑھتا ہے اس کا اثر ضرور قبول کرتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جو بچے بہت دلچسپی سے ڈرامے اور فلمیں دیکھتے ہیں، وہ انجانے میں پھر انہی کے کرداروں کی نقالی شروع کردیتے ہیں۔ وہ بچے نہ بھی چاہیں تو ان کی زبانوں پر وہ ہی باتیں آجاتی ہی

بیت المقدس… آخری میدانِ کار زار

یہ سر زمین مقدس جس میں اللہ نے اپنی برکتیں رکھی  ہیں ، جہاںکی ارض خاک سے لگ بھگ سارے پیمبر ، اولیاء کرام ا ور بر گزیدہ شخصیات  اللہ کے بندوں کی ہدایت کے لئے مامور رہے ہیں ،اس ارض پاک میں جب حضرت عمر فاروق ؓکے قدم مبارک ۵۴۶ ء میں بحیثیت فاتح کے پڑے تو آپ ؓکی نظریں نیچی۔لب پہ اللہ کی کبریائی۔  آپ کی سواری پر آپ کا غلام اور سواری کی لگام آپ کے ہاتھ میں تھی ،سبحان اللہ ، یہ شانِ فقیری ، اور فاتح بیت المقدس کا عجز و انکسار…اور جب عیسائیوں نے ۹۹۰۱ ء میں بیت المقدس کو فتح کیا تو شہروں کے شہر جلادئے اور بیت المقدس کے احاطہ میں پناہ گزین 70ہزار مسلم مرد ،بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کا قتل عام کیا۔ تاریخ اب بھی محفوظ ہے اور اب بھی نوحہ کناں ہے کہ گھوڑوں کے ٹخنے خون نا حق میں ڈوبے اور اس طرح سے صلیبیوں نے انتقام کی آگ بجھا کر فخر و غرور سے سر اونچا کیا ۔پھر ایک بار صلاح الد

بعد اَزموت

موت تجدیدِمذاقِ زندگی کانام ہے۔موت ایک ایسی مسلّمہ حقیقت ہے جس سے کسی کومفرنہیں۔انسان میدانِ جنگ میںہویامحصورقلعے میں، زمین کی تہوں میں جاچھپے یاآسمان کی وسعتوں میں ڈیرا جمالے، حالتِ امن میں ہویا حالتِ جنگ میں، صحت مندجوانِ رعنا ہو یا بڑھاپے کی سرحدکو پہنچا ہوا کمزور و نحیف ہڈیوںکاڈھانچہ،مقربِ خدابندہ ہویاشیطان کاولی،غرض ہرایک کشاںکشاں اپنے رب سے ملاقات کی اوربڑھ رہاہے: ’تم جہاںبھی ہوگے،موت تمہیںجاپکڑے گی،چاہے تم مضبوط قلعوںمیںکیوںنہ رہ رہے ہو۔‘‘(النساء:۷۸) مولاناروم نے ’مثنوی‘میںکیاخوب لکھاہے  ؎  چوں قضا آمد طبیب ابلہ شود آں دوا درنفع خود گمرہ شود (جب وقت قضاآتاہے توطبیب(ڈاکٹر)بھی بے بس ہوجاتاہے۔نفع دینے والی دوابھی تب بے اثرہوجاتی ہے۔) زمین کی موت کاخوف نہیںبلکہ ہمیںموت کا شعور پیدا کرنا ہے۔ اس دنیامیںانتخاب ہورہاہے

بدلتے حالات میں اُردو تدریس کابدلتا منظر نامہ

کورونا جیسے مہلک مرض کے روز بہ روز پھیلتے دائرے اوراس کے نتیجے کے طور پر گھروں میں قید زندگی کو دیکھتے ہوئے سب کی زبان پر یہی جملے ہیں’’ اب کیا ہوگا؟‘‘ کیا لاک ڈاؤن پوری طرح کھل جائے گا؟ لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد کیا ہوگا۔ اس پورے عمل میں جبکہ گذشتہ تین ماہ سے ہرکاروبارِ زندگی بُری طرح متاثر ہے۔ کورونا کے سبب لاک ڈاؤن کا ہونا اور جسمانی دوری کے فارمولے سے بیماری سے مقابلہ کرنے کے نتیجے میں پیدا شدہ تنہائی نے جیسے سارا منظر ہی بدل دیاہے۔ طرز ِ حیات بدل گیاہے۔ اب وہی باقی رہے گا جو وقت کے تقاضے کے مطابق خود کو ڈھال لے گا۔ زبانوں کے سامنے بھی ایسے ہی حالات درپیش ہیں، لیکن زندہ زبانیں ، خستہ سے خستہ حالات میں بھی دوب کی طرح دب دب کر پھر سر ابھارتی ہیں۔ اُردو بے شک زندہ زبان ہے۔ اسی لیے اُردو نے لاک ڈاؤن جیسی صورتحال میں خود کو آن لائن کرکے اپنا وجود ثابت کر دکھ

جدید تعلیم کی بے سود دوڑ

تاریخ شاہد ہے کہ جتنی لوٹ کھسوٹ،  بد اعمالیاں و بد عنوانیاں، رشوت، جرائم و دیگر برے اوصاف پڑھے لکھے افراد نے انجام دیئے ہیں، ان پڑھ افراد اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ تعلیم وہ طاقت ہے جو انسانی ذہن سے جہالت اور اندھیرے کے پردے کو چاک کرکے اس سے روشنی کی طرف صحیح رخ کے تعین کا فیصلہ کرنے میں مدد کرتی ہے۔ آج کل تعلیمی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرنے کی دوڑ میں سبقت لینے میں لگے ہوئے ہیں۔ جہاں جمہوریت، سماجیت، ریاضی، تواریخ، سائنس، اردو و انگریزی جیسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں مگر وہیںاخلاقی تعلیم سے محروم ہی رکھا جاتا ہے۔ اس طرح سے طلبا خام ہی رہ جاتے ہیں جس طرح بٹھے میں کچی اینٹ کو پکی کرنے کے غرض سے ڈالا جاتا ہے لیکن معمولی سی کمزوری کی وجہ سے کئی اینٹیں خام مال کی شکل میں ہی دوبارہ نظر آرہی ہیں۔ جو تع

تعلیم کی اہمت

تعلیم انفرادی اور اجتماعی طور پر سب کے لیے نہایت اہم ہے۔یہ ہر قوم کی بنیاد ہوتی ہے اور اسی سے سماجی ،معاشی ،شعوری اور سیاسی استحکام آسکتا ہے۔تعلیم ایک بہترین سرمایہ ہے جو ایک انسان کو دیگر مخلوقات سے اعلیٰ تر بناتی ہے اور ایک اچھا انسان بننے میں مدد دیتی ہے۔اجتماعی طور پر تعلیم یافتہ ہونا کسی بھی ملک کی ترقی و  استحکام کے لیے ضروری ہے۔یہی وہ دولت ہے جو ایک قوم کو سرخ روئی و سربلندی عطا کرسکتی ہے اور اسے ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کرسکتی ہے۔تعلیم ہی ترقی کی بنیاد ہے۔ہمارے دینِ اسلام میں بھی تعلیم پر بہت زور دیا گیاہے۔چنانچہ ایک مرتبہ رسولِ رحمت ﷺ نے جنگی قیدیوں کو اس شرط پر آزاد کرایا کہ وہ مسلمان بچوں کوتعلیم فراہم کریں۔ آج کے اس پُرآشوب اور تیز ترین دور میں تعلیم بہت اہمیت کی حامل ہے۔ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے، ایٹمی ٹیکنالوجی کا دور ہے ،سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے۔

۔13 جولائی محض کوئی تعزیتی ریفرنس نہیں | کشمیر کا اپنے ماضی کیساتھ تعلق تبدیل کرنے کی کوشش

1۔آج "یوم شہدا" ہے۔ اس دن 89 سال پہلے مہاراجہ مخالف کارکن کے مقدمے کی سماعت کے خلاف احتجاج کرنے والے بائیس افراد کو ہری سنگھ کی پولیس فورس نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ 2۔ اس سال کے شروع میں یونین ٹیرٹری انتظامیہ نے  ہر سال 13 جولائی کو یوم شہداء منانے کی اپنی دیرینہ سرکاری سرپرستی واپس لے لی۔ آج کے دن اب سرکاری تعطیل نہیں رہی۔ حکومت کے سربراہ کی طرف سے " مزار شہدا" میں پھولوں کی چادر چڑھانے کی رسمی  تقریب اب سرکاری پروٹوکول نہیں رہے گا۔ 3۔ بادی النظر میں انتظامیہ میں کسی نے اس کا جارج اورول اچھی طرح سے پڑھا ہے۔ 1984 میں اپنی کلاسیکی تخلیق میں ارول نے لکھا ، "ماضی کو کنٹرول کرنے والا مستقبل کو کنٹرول کرتا ہے اور حال پر قابو رکھنے والا ماضی پر دسترس رکھتا ہے ‘‘۔  4۔ بزرگ کشمیریوں کے لئے تیرہ جولائی " سیکھی یا پڑھی ہ

احساسِ ذمہ داری کا جذبہ اور کشمیری عوام

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن قوموں یا معاشروںکیسیاسی قائدین یا مذہبی اکابرین کے مابین نظریات کا ٹکرائورہااور لوگوںکے اجتماعی مفادات کی حفاظت اور حصولِ مقاصدکے تئیں منافرت رہی ،اْن قوموں میں اصول پرستی اور اجتماعی مفادات کی جگہ خود غرضی اور منفعت پرستی نے لیلیں۔اْن کے دِلوں میں خوف ِ خدا کا تصورباقی نہ رہا اور اْنہیںہمہ گیر خرابیوں اور بْرائیوں نے گھیر لیا ،جس کے نتیجہ میںوہ ہمیشہ مسائل ،مشکلات اور مصائب میں مبتلا رہیں،اْن کا نہ کبھی بھَلا ہوا نہ ہی وہ کسی کام کی پیش رفت میں سرْخ رو ہوسکیںاوروہ ہر میدان اور ہر شعبہ? زندگی میں ناکام ثابت ہوئیں ،اسی طرح جن اقوام یا معاشروں میں ایثار و اخلاص اور احساسِ ذمہ داری کا جذبہ باقی نہ رہا ، وہ بھی خود پرستی،ہٹ دھرمی اور لاتعلقی کے دلدَل میں دھنس کر نیست و نابود ہوتی گئیں۔  بلاشبہ کشمیری قوم کی بد قسمتی رہی ہے کہ اْسے ہر اودار میں زیادہ ت

سازشی نظریات اور اس کے اثرات سے تحفظ کیسے ممکن ہے؟ | کووڈ۔ ۱۹ کے تناظر میں ایک تجزیاتی نقطہ نظر

انفجار اطلاعات کے اس دور میں صحیح اطلاعات کی پرکھ باقاعدہ ایک مشق کی طالب ہونے لگی ہے۔ تلبیس اطلاعات (Disinformation)یعنی اطلاعات کو ایسا لباس پہنانا جس سے کوئی خاص قسم کا مقصد حاصل ہوسکے، باقاعدہ ایک منفی فن کی حیثیت حاصل کرچکا ہے۔ سازشی نظریات انفجار اطلاعات کے دور کی ناقابل انکار حقیقت ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سازشی نظریات اس سے قبل موجود نہیں تھے۔ یقیناً سازشی نظریات کی تاریخ انسانی شعور کی تاریخ سے متصل ہے لیکن ماضی بعید و قریب اور حال میں یہ فرق ہے کہ پہلے ان سازشی نظریات کو پھیلانے ، عوام الناس میں ان کے نفوذ ، خواص کے ذہنوں میں اسے پیوست کرنے اور ان کے صحیح ہونے کے لیے غیر معمولی جدوجہد، پیسہ، اور باقاعدہ منصوبہ بندی درکار ہوتی تھی۔ اب مواصلاتی انقلاب کے بعد ان سازشوں کو پھیلانا اور عوام الناس میں ان کو معقول بنانا محض کلکس کا محتاج ہے اور یہ چٹکی بجانے سے زیادہ آسان کام

گوشہ اطفال|11جولائی2020

گُد گُد یاں…!!! ایک دیہاتی اور ایک انگریز گاڑی میں سفر کررہے تھے۔ دیہاتی حقہ پیتا تو انگریز کو غصہ آتا تھا اور جب انگریز اپنے کتے کو پیار کرتا تو دیہاتی کو غصہ آتا۔ دیہاتی کسی کام سے دوسرے ڈبے میں گیا تو انگریز نے اس کا حقہ اْٹھا کر باہر پھینک دیا۔دیہاتی جب واپس آیا تو وہ اپنا حقہ نہ پا کر بہت پریشان ہوا مگر آرام سے بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد انگریز کسی ضرورت سے گیا تو دیہاتی نے اس کا کتا پکڑ کر گاڑی سے باہر پھینک دیا۔ جب انگریز واپس آیا تو اس نے کہا۔ کہاں گیا میرا کتا؟…دیہاتی نے فوراً جواب دیا۔ وہ میرا حقہ پینے گیا ہے۔ ٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭ ایک آدمی کی گاڑی میں آگ لگ گئی۔ تمام لوگ آگ بجھانے کیلئے دوڑے لیکن دور سے ایک آدمی بہت تیزی سے دوڑتا ہوا آرہا تھا اور زور سے بولا، ٹھہرو ٹھہرو! لوگوں نے سمجھا کہ یہ آدمی آگ پر جلد قابو پانے کی کوئی ترکیب جانتا ہوگا، ا

انتظار اُس مسیحا کا جو مُردے میں جان ڈال دے

نیشنل کانفرنس کے روح رواں ، سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی نظربندی ختم ہونے کا ان کے دوست اور دشمن سب بے صبری کے ساتھ انتظار کررہے تھے ۔بڑا تجسس تھا کہ وہ باہر آئیں گے تو کیا بولیں گے ۔ کس لہجے میں بات کریں گے اور کس رفتار کے ساتھ بولیں گے ۔لیکن ان کے باہر آنے کے ساتھ ہی یہ راز بھی کھلا کہ اب ڈاکٹر فارو ق عبداللہ وہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نہیں جس کی شوخی ٔ گفتار کا چرچا کشمیر میں ہی نہیں بلکہ برصغیر میں جاری و ساری رہا کرتا تھا ۔جس کی ہر ادا میں ایک نئی ادا ہوتی تھی ۔اُ س ڈاکٹر فاروق کو بھی 5اگست نے دفعہ 370کے ساتھ ہی نگل لیا ۔پابندیوں سے چھوٹ جانے کے بعدانہوں نے کوئی بڑی بات نہیں کی ۔کوئی الٹی سیدھی بات بھی نہیں کی۔ہر سوال کو ٹال دیا اور ہر بات کو گول کردیا ۔ان کے منہ سے کوئی تیکھا جملہ نہیں نکلا ۔لگتا ہے کہ اب وہ خود نہیں بول رہے ہیں بلکہ ان کی زبان سے

کشمیر:اے واک تھُرو ہسٹری!

کشمیر اے واک تھرو ہسٹری (kashmir a walk throuh history)خالد بشیر صاحب کی انگریزی زبان میں لکھی گئی تصنیف ہے۔ خالد بشیر کا تعلق وادی ِکشمیر سے ہے۔ موصوف تحقیق و تصنیف کے ساتھ ساتھ شعر وشاعری کا بھی شغف رکھتے ہیں۔آپ کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروسزکے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔ اس کتاب سے پہلے تاریخ کشمیر پر ان کی ایک اور کتاب بھی کشمیر: ایکسپوزنگ دی میتھ بیہاینڈ دی نیریٹیو (kashmir: exposing the myth behind the narrative)قارئین نے خاصی پسند کی ہے۔ مذکورہ کتاب میں انہوں نے کشمیرکی تاریخ کے چند واقعات کو منفرد انداز میں قلم بند کیا ہے۔کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ مصنف نے غیر ریاستی اور غیر مسلم مورخین کے حوالوں سے کشمیر کے چندتاریخی حقائق کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے اورچند ذیلی عنوانات کے تحت مختصر اور جامع انداز میں واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ خاص طور سے ڈوگروں کے مظالم اور نیشنل کانفرنس کے قائدین کی دغا با

خوشیوں ،خواہشات اورتمنائوں کی موت

پوری دنیا فی الوقت منشیات کے خوفناک زہر کے حصار میں ہے۔ نئی نسل اپنے تابناک مستقبل سے لا پرواہ ہوکر تیزی کے ساتھ اس زہر کو مٹھائی سمجھ رہی ہے اور کھائے جارہی ہے۔اس کے استعما ل پر پابندی کے قوانین بظاہر موجود ہیں،اس کے استعمال کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تہذیب کی۔ انسان نے اس کا استعمال کب شروع کیا اور سب سے پہلے کس نے منشیات کا استعمال کیا اس بارے میںصحیح اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے تاہم اس برائی نے جتنی تیزی سے اپنی جڑیں پھیلائی ہیں اس کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ تمام مذاہب نے اس کے استعمال کو منع کیا ہے۔ منشیات ایک ایسا میٹھا زہر ہے جو انسان کو دنیاو آخرت سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ اس کو استعمال کرنے و الا ہر شخص حقیقت سے فرار حاصل کرتا ہے اور خیالوں میں بھٹکتا ہے۔منشیات کا نشہ پہلے پہل ایک شوق ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ ضرورت بن جاتا ہے۔ نشے کا عادی شخص درد ناک کر

کیرالہ کی چیرامن جامع مسجد

آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال قبل جب نبی آخر الزمان حضرت محمدؐ نے عرب کی سرِ زمین پر ، جو ہر لحاظ سے گمراہی، جہالت،تکبر اور دیگر خرافات میں مکمل طور پر ڈوب چکی تھی، وہاں دینِ حق قائم کرکے عرب میں کیا بلکہ پورے عالم میں خوشگوار انقلاب لایا، جس سے لوگوں کی حالت ہی بدل گئی۔چونکہ اہلِ عرب کو حق کی بات سمجھانا نہایت دشوار تھا ، لہٰذا اس میں کافی محنت درکار تھی۔آخر کار ہمارے پیارے نبی ؐ نے ان تھک محنت کرکے عرب کے لوگوں کو راہِ راست پر لایا ،جس کیلئے آپ کو بے شمار تکالیف سینے پڑے۔ اسلام کی اشاعت میں مساجد کی بڑی اہمیت ہے،کیونکہ یہ نہ صرف عبادات کا مرکز ہوتی ہے ،بلکہ یہ مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا ایسا مرکز و محور ہے، جہاں سے ان کی تمام مذہبی، اخلاقی،اصلاحی ،تعلیمی و تمدنی، ثقافتی وتہذیبی،سیاسی اور اجتماعی امور کی رہنمائی ہوتی ہے۔اْس دور میں مسلمانوں کے تمام معاملات مس

انتخابی حد بندی رقبہ کے زاویہ سے

حد بندی کے معیار کے طور پر رقبے کا استعمال اس بیماری کا علاج ہوگا جو موجودہی نہیں ہے۔در حقیقت یہ ایک نئی بیماری کا سبب بنے گا۔ 1۔حدبندی معاملہ پر کالم سیریز کے دوسرے حصے میں یہ دکھایا گیاتھا کہ صوبہ جموں اور صوبہ کشمیر کے مابین اسمبلی انتخابی حلقوں کی تعداد میں کسی قسم کی تفاوت کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ آبادی کی بنیاد پرمجموعی آبادی میں42.68فیصد حصہ داری کے باوجود جموں کو87 رکنی اسمبلی میں سے 37 نشستیں ملی ہیں جو قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی کا 42.52 فیصد ہے۔  2۔تاہم جموں مرکوز سیاسی جماعتوں کی جانب سے جموں کے ساتھ امتیازی سلوک کا معاملہ اور جموں کے لئے زیادہ سے زیادہ نمائندگی کیلئے مطالبہ کی بنیاد یہ ہے کہ یہ رقبہ میں کشمیر سے بڑا ہے۔ نیز یہ بھی دلیل پیش کی گئی ہے کہ جموں کے ہر حلقہ انتخاب میں کشمیر کی نسبت لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس کو "ایک شخص ، ایک ووٹ"

ایس آر او 202کی منسوخی اور بیروزگاری

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ پہلے ریاست اور اب مرکزی حکومت کی طرف سے یوٹی کا درجہ دینے کے بعد جموں وکشمیر باقی ریاستوں کے مقابلے میں تعلیم کو فروغ دینے میں صف اول میں شمار ہوتی ہے۔جہاں اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں سے طلباوطالبات ہر سال ہزاروں کی تعداد میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے قلیل تعداد کے تعلیم یافتہ مختلف محکموں میں اچھے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔لیکن ان مختلف شعبوں میں تعلیم کا شعبہ ایک اہم شعبہ مانا جاتا ہے۔اور اس سے منسلک استاد کا پیشہ سب سے معتبر پیشہ تصور کیا جاتا ہے۔جس کو حاصل کرنے میں عرق ریزی اور جانفشانی سے دن رات محنت شاقہ کرنی پڑتی ہے۔ان ہی اساتذہ صاحبان میں گورنمنٹ ہائراسکنڈریوں میں کام کرنے والے ایس آر او202کی سکیم کے تحت سال 2016میں تعینات بحیثیت لیکچراروں کی ماہانہ تنخواہ تقریباً باون ہزار کے قریب مقرر کی گئی ہے۔ان ہی ہائرسکنڈریوں میں تعینات عارضی طور پرلیکچراروں کی ماہ