تازہ ترین

خبر لیجئے زباں بگڑی!

اس مضمون کی تحریک ڈاکٹر اکبر علی بلگرامی کی ایک تحریر سے ملی ہے۔ انھوں نے روزنامہ آگ کے 17 جنوری بروز اتوار کے شمارے میں سینئر صحافی آدرش پرکاش سنگھ کی ہندی کتاب ’’صحیح بھاشا سرل سمپادن‘‘ پر ایک چھوٹا سا تبصرہ کیا ہے۔ کتاب دیکھنے کا شرف تو حاصل نہیں ہوا لیکن تبصرہ پڑھ کر کتاب کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا۔ حالانکہ آدرش پرکاش نے ہندی کے اخبارات اور صحافیوں کو ذہن میں رکھ کر یہ کتاب لکھی ہوگی لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتاب دیگر زبانوں کے صحافیوں کے لیے بھی مفید ہوگی۔ مجھے ہندی اور انگریزی یا دوسری زبانوں کے اخبارات میں کام کرنے والے صحافیوں کے بارے میں تو زیادہ اندازہ نہیں ہے لیکن اس تبصرے سے جو اشارہ ملتا ہے اس کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ تمام زبانوں کے صحافی اور بالخصوص نو آموز صحافی ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ کیونکہ آدرش پرکاش نے اخباروں میں

غنی کشمیری کے نام کھلا خط

تیری علمی عظمتوں ، فکری رفعتوں ، تیرے جنون اور تیری سادگی کو میرے روم روم کا ، میرے زمانے کا ، کشمیر کے فلک بوس پہاڑوں ، برف پوش چوٹیوں ، حسین و جمیل وادیوں ، پھولوںو کلیوں ، دم توڑتی جھیلوں ۔ خشک آب گاہوں اور انسانی خون میں نہائے ہوئے ندی نالوں، آبشاروں اور دریاوں کا سلام !  کشمیر کو قدرت نے جو کچھ بھی عطاکیا ہے وہ آپ سے مانوس ہے ۔ جن پہاڑیوں پربیٹھ کر آپ غور وفکر کیا کرتے تھے ، جن دریائوں کے کناروں پر آپ پانی کے مٹکے بھرتی حسین دوشیزائوں کو دیکھ کرصناعی قدرت کی سحرانگیزیوں میں کھوجاتے تھے ۔ جن جنگلوں اور چراگاہوں میں آپ ادھ ننگے کشمیریوں کو خون پسینہ ایک کرتے دیکھ کر بغاوتوں اور انقلابوں کی باتیں سوچا کرتے تھے، ان کے سارے نظارے ،سارے پیڑ پودے ،ساری کلیاں اور سارے پھول آپ کو جانتے ہیں لیکن اسے ہماری قومی بے حسی کہئے ،بے مروتی کہیے ، جہالت کی انتہا کہئے یا بدبختی کہئے ک

لداخ میں تعلیم کا سفر

لداخ میں تعلیم کی کہانی بہت طویل اور دلچسپ ہے۔یہاں کے تعلیمی دور کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؛ 1۔ راجگان لداخ کا دور 2۔ ڈوگرہ حکومت کا دور 3۔ آزادی کے بعد کا دور  لداخی راجاؤں کے دور میں تعلیم کا کوئی انتظام نہیں تھا۔لداخی بودھ عام طور پر اپنے گھر کے ایک بیٹے کو ثواب کی نیت سے لاما (بھکشو) بنانے کی نیت سے گنپہ (بودھ مندر) میں بھیجتا تھا، جہاں اس کو بودھی (لداخی زبان) لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا تھا۔کچھ لوگ ضرورت کے مطابق واجبی سی بودھی سیکھتے تھے۔مسلمانوں میں بھی چند لوگ معمولی لداخی جانتے تھے۔میں نے اپنے آباء واجداد کی کتابوں اور دوسرے کاغذات پر بودھی (لداخی زبان) میں کچھ جملے لکھے ہوئے دیکھے ہیں۔ اس زمانہ میں بودھ و مسلم دونوں میں زبان (language) کے معاملہ میں کوئی بھید بھاؤ اور تعصب نہیں تھا۔دونوں مذاہب کے لوگ اردو اور بودھی سیکھتے تھے اور کوئی عار ا

اقدار کی پاسداری ادب کی ذمہ داری

 اخلاق اور اقدار کی پاسداری میں ادب اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ادب کو دراصل ادب کہنے کی یہی دو وجوہات ہیں ایک (زبان وادب)اور دوسرا (تہذیب) یعنی تہذیب اور اخلاق کی مناسبت سے ادب کو ادب کہتے ہیں ۔کسی بھی زبان کا ادب ہو، اس میں اقدار کا لحاظ رکھا جاتا ہے اور رکھا جانا چاہئے ۔اردو ادب کی اگر بات کریں گے تو اس ادب کا مقصد بھی انسانی اقدار کی پاسداری، ظلم و ستم کا خاتمہ، معاشرے میں مساوات کو فروغ دینا اور پْر امن معاشرے کی تشکیل سے جْڑا ہوا ہے۔ ادب چاہے نثر کی صورت میں ہو یا نظم کی صورت میں، اس کا بنیادی موضوع انسان، انسانیت اور انسان کے مصائب و مشکلات ہی رہے ہیں ۔اگر اردو کے نامور شاعر مرزا غالب کی بات کریں تو انہوں نے اپنی شاعری میں تصوف پر زور دیا ہے یعنی وہ اپنی شاعری میں انسان کو سچا انسان بننے اور اپنے خالق کا فرمانبردار بنے کا پیغام سناتے ہیں۔ اس سلسلے میں غالب کا ایک مشہور شعر ملا

سڑک سے جڑی ہے ترقی گاؤں کی

 ہندوستان کی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی ترقی کے لئے ایک عرصہ پہلے بارڈر روڈ آرگنائزیشن قائم کی گئی تھی۔ بی آر او نے ملک کے دیگر سرحدی علاقوں میں بخوبی کام کو سر انجام دیالیکن شہر سے دور ایک ایسی دنیا موجود ہے جہاں سڑک کا رابطہ نہیں ہے۔ ان غیر منقولہ علاقوں میں دیہاتی آج تک ہر طرح کی سہولیات سے محروم ہیں۔ منصوبہ ساز جو دور دراز علاقوں کی ترقی کے ذمہ دار ہیں، انہیں یہ احساس کرنا ہوگا کہ سڑک کی فراہمی دیہی ترقی کے بڑے مقاصد میں کس طرح فٹ بیٹھتی ہے۔یوٹی جموں اور کشمیر کا ضلع پونچھ ،جو منی کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے، اس لیے بھی مشہور ہے کہ جب دو پڑوسی ملک اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیںتو اس علاقے کے باشندوں کو سب سے زیادہ اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے جو آئے دن اخبارات اور ٹی وی چینل میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل منکوٹ گاؤں کینی

شیطان سے ایک دلچسپ انٹرویو

نسلِ آدم سے ایسی بھی شخصیات پیدا ہوئی ہیں جنہوں نے انسانیت کی بقا اور بھلائی کے لئے ایسے کارہائے نْمایاں انجام دیئے ہیں کہ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی وہ اْنہی کارناموں کی بدولت انسانی دلوں میں بہت ہی عزت واحترام سے یاد کئے جاتے ہیں۔ایسی شخصیت کو عام لوگوں میں متعارف کرنے کے لئے اپنے اپنے وقتوں میں مختلف ذرائع کا استعمال کیا گیا اور آج کے ترقی یافتہ اور سائنسی دور میں ہم ایسی ہستیوں کو ٹیلی ویژن کے ذریعے عام لوگوں سے متعارف کراتے ہیں۔ان ہستیوں میں عالم ہوتے ہیں،دانشورہوتے ہیں،سیاسی رہنما ہوتے ہیں،ڈاکٹر اور انجینئرہوتے ہیں اور فنکار اور اداکار بھی ہوتے ہیں۔غرض کہ انسانی زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے انسان ہوتے ہیں،مگر قارئین حضرات! آج میں آپ کی دلچسپی کے لئے ایک ایسی ہستی کا انٹرویو لے کر آیا ہوں جسے ہم زمین پر بسنے والے انسان ’’شیطان‘‘کے نام سے جانت

کتاب ’جواہر ِ رسالت‘…مختصر تاثرات

رسول پاک ﷺ کے ارشادات وفرمودات کی شرعی و دینی حیثیت مسلّم ہے۔ شریعت میں احادیث ِنبویﷺ کا مقام اور ان کی حجیت پر علماء ِ متقدمین و متاخیرین نے کتابوں کا ایک بحرِ ذخّار تیار کردیا ہے۔ اور انکارِ حدیث کے راستے جو گم راہیاں مختلف ادوار میں پیدا ہوئیں ان کا قلع قمع کردیا گیا( گو کہ یہ برساتی کیڑے اب بھی کسی نہ کسی حیثیت سے سر اٹھاتے رہتے ہیں)۔احادیثِ رسول ﷺ کی علمی، دینی اور حجیتی حیثیت اپنی جگہ تاہم اس پہلو سے بھی یہ اہم ہیں کہ تعلیم و تربیت کا مکمل ضابطہ ان میں بہم موجود ہے۔ اگر اس تربیت کا اعلیٰ نمونہ ہمیں دیکھنا ہو تو صحابہ کرام ؓ کی مبارک زندگیوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ صحابہ کرامؓ کا بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے احادیث کی روایت کے ذریعے صرف قواعد و ضوابط اور احکامات ہی آگے نہیں پہنچائے بل کہ وہ کیفیات و جذبات اور وہ پُر اثر ماحول بھی منتقل کرنے کا حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا۔کیوں کہ

غلام نبی شیداؔ | آہ!چمن کا دیدہ ورنہ رہا

میں جانتا تھا کہ شیدا صاحب کافی وقت سے بستر علالت پر تھے۔میں نے کئی بار ان سے ملنے اور ان کی صحت کے بارے میں دریافت کرنے کی سوچی لیکن افسوس! عصر حاضر کے حالات سرینگر میں ان کی رہائش گاہ کا دورہ کرنے کے حق میں نہیں تھے۔کچھ مہینے قبل میں نے ان کا موبائل نمبر ڈائل کیا تھا لیکن اُس وقت اُسے بند پایا…اس طرح اُنکی زندگی کے آخری مہینوں میں میرا اس مردِ آہن  سے ملنا، میں اتنا خوش قسمت نہیں تھا۔ غلام نبی شیدا سرکردہ صحافی اور ایک مشہور اردو روزنامہ’ ’وادی کی آواز‘‘ کے مدیر ِ اعلیٰ، عام لوگ انہیں اسی طرح جانتے ہیں لیکن وہ لوگ جنہیں ان کے قریب بیٹھنے اور ان کی شخصیت کو پڑھنے پرکھنے کا موقع ملا تھا، وہ انہیں ایک عظیم شخص کے طور پریاد کریں گے۔  غلام نبی شیداؔ سے ملاقات کے دوران کوئی بھی اجنبی شخص نفاستی طور پر خود کو محفوظ محسوس کرتا تھا کیونکہ شیدا ص

جموں وکشمیر کا مُرغِ شناخت | تحفظاتی نکتہ نظر کے بجائے ثقافتی اہمیت کو ملحوظ رکھنا بجا

 5 اگست ، 2019 سے پہلے جموں وکشمیر کا سرکاری سرکاری پرندہ سیاہ گردن والا بگلا تھا۔ صرف لداخ کے بنجر علاقہ میں پائے جانے والایہ نایاب اور غیر ملکی پرندہ بنیادی طور پر تبتی سطح مرتفع کا رہائشی ہے۔چونکہ لداخ اب الگ سے ایک یونین ٹریٹری بن چکا ہے تو ایک نیا ریاستی پرندہ نامزد کرنے کی ضرورت پیدا ہوئی ہے۔ شاید زیادہ مناسب طور پر ایک UT پرندہ نامزد کرنا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سب سے ضروری اور اہم کام ہے لیکن اس سے پہلے کہ ایک صبح نیند سے بیدار ہوکر ہمیں پتہ چلے کہ پاخلان،جسے مرغ اتشی یا مرغ غواص(Flamingo) بھی کہتے ہیں،جموںکشمیر کا نیا یوٹی پرندہ بنا ہے ،ہمیں اس بارے میں سوچنا چاہئے۔ ریاست کے پرندوں کے نامزد کرنے کیلئے عالمی طور پر قبول شدہ معیار یہ ہے کہ یہ ریاست میں پایا جائے ،یہ اس ریاست کی تاریخ اور ثقافت سے پیوستہ ہواور عمومی طور پر خالصتاً اس مقام سے ہی تعلق رکھتا ہو۔تاہم پرندہ شن

بیٹی انمول تحفہ ہے بوجھ نہیں

فطری طور پر اپنی اولاد ہونے کا احساس سب جانوروں اور انسانوں میں یکساں پایا جاتا ہے۔ سچ بھی یہی ہے کہ دنیا میں سلسلہ زندگی جاری رکھنے کے لئے یہ احساس اور آرزو بہت ہی اہم اور ناگزیر ہے۔اولاد کی تمنا اور شفقت وہ انمول تحفے ہیں جن کی بنا پر دنیا چل رہی ہے بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کا وجود ہی اسی بنیاد پر قائم ہے۔قدرت نے اولاد پیدا کرنے کا جذبہ سارے جانداروں میں رکھا ہے چاہیے وہ نہ دکھنے والا جراثیم ہو یا اشرف المخلوقات کا درجہ رکھنے والا انسان۔فرق صرف اتنا ہے کہ انسان جنس کی بنیاد پر اہمیت کے فتنے میں مبتلا ہو گیا جبکہ دوسرے جانداروں میں یہ عجیب خیال موجود نہیں ہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔سب سے پہلی اور اہم وجہ جنسی امتیاز ہے۔جنسی امتیاز نے انسان کے اندر بہت سے توہمات خلق کئے، جیسے لڑکی نسل کو آگے نہیں بڑھا سکتی حالانکہ لڑکی ہی کے بطن سے لڑکے جنم لیتے ہیں لیکن جب تک گھر میں لڑکا پیدا نہ ہو

نظامِ وراثت | مردو زَن برابر کیوں نہیں؟

 عام طور پر تصورکیا جاتا ہے کہ میراث کے اندر عورتوں کا حصہ مرد کے مقابلہ میں نصف ہے، یعنی مردوں کو جتنا ملتا ہے عورتوں کی اس کا آدھار دیا جاتا ہے، جبکہ عدل کا تقاضہ یہ تھا کہ مردو زن میں تفریق کے بغیر دونوں کو برابر ملے، مگر واقعہ یہ ہے کہ اس طرح کا تصور جہالت اور اسلام کے احکام اور میراث کے قواعد وضوابط سے ناواقفیت کی بنیاد پر ہے اور اس وجہ سے بھی کہ انہوں نے زن کو بہن اور بیٹی تک محدود رکھا ہے جنہیں بیٹے اور بھائی کے مقابلہ پر آدھار ملا کرتاہے جبکہ شریعت میںزن عام ہے خواہ بیٹی یا بہن کی صورت میں ہو یا ماں کی صورت میں یا بیوی کی صورت میں یا دادی کی صورت میں یا پوتی کی صورت میں یا علاتی واخیافی بہن کی صورت میں ، ان عورتوں کو میراث میں کتنا ملتا ہے، مردوں کے برابر یا کم یا زیادہ ، اس کی تفصیل سے پہلے سرسری نگاہ عورتوں کی اس صورتحال اور میراث میں ان کے استحقاق پر ڈال لیتے ہیں، جن

امریکہ… ڈوبنے کو ہے سفینہ اس کا

حضرت علی ؓ کا ایک قول ہے کہ ’معاشرہ یا ملک کفرکے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے لیکن انصاف کے بغیر نہیں‘ اور اللہ جب کسی قوم کو قوت عطا کرتا ہے تو اس کی کسوٹی ہی انصاف پر مبنی ہوتی ہے ۔دراصل چاند گاڑی میںچاند کا سفر یا اس سے آگے ستاروں کا سفر کسی بھی صورت میں انسانیت کی معراج نہیں کہلا ئی جاسکتی بلکہ اس سے ہم سائنسی ترقی سے ہی موسوم کر سکتے ہیں۔ انسان نے اگرچہ اس دور میں سائنسی لحاظ سے چاند ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی شروعات کی ہے اور اس دوڈ میں سب سے آگے امریکہ ہے لیکن افسوس کہ یہ امریکہ اخلاقی ، انسانی اور بلند اقدار کے لحاظ سے دنیا کا پست ترین ملک ہے جس کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس ملک نے انسانی تباہی کے لئے بے شمار ایٹم بم ، نیپام بم ، کارپٹ بم اور بائیو کیمیکل بم ضرور بنائے ہیں لیکن انسان اور انسانیت کو بچانے کی تو دور کی بات ہے بلکہ اس سے تھوڑا سا اوپر لانے کی کبھی سنجیدگی سے ک

راز جب ہمارے عیاں ہوں گے

 انسان کا دنیا میں آنا صرف اتفاق ہی نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک خاص مقصد، ہدف اور مشن حیات کارفرما ہے۔ اللہ رب العالمین نے انسان کو تمام مخلوقات میں سے بہترین تخلیق پر بنا دیا ہے۔ خالق کائنات، احد و صمد، علیم و حلیم، غفار و قہار رب الزوجلال ہماری تمام حرکات و سکنات کا ریکارڈ ایک خاص ضابطے کے تحت رکھ رہا ہے۔حتیٰ کہ دل سے پیدا ہونے والے خیالات کا بھی بخوبی علم رکھتا ہے۔ حقیقی چشموں سے پردہ اٹھتے ہی ہمارے ہاتھوں میں کتاب تھما دی جائے گی جس میں ذرہ بھر کی نیکی اور بدی درج ہوگی۔ موبائل فون میں ڈاٹا کو بطور محفوظ رکھے جانے سے بڑھ کر ہماری ایک ایک حرکات درج ہو رہی ہے۔ جس سے میموری کارڑ سے کئی گنا زیادہ غیر معمولی اسٹوریج کی ایک کتاب 'نامہ اعمال' میں محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے سوشل میڈیا پر فیس بک، ٹیوٹر وغیرہ جیسے ا کائونٹ میں جس طرح ہماری پسند، شیئر ، سبسکرائب ، اپلوڈ یا کوم

منجمد ڈل جھیل

رواں ماہ کی14تاریخ کو ضلع انتظامیہ سرینگر نے عوام کو متنبہ کیا کہ وہ زمستانی ماحول کی وجہ سے منجمد ڈل جھیل پر چلنے کا خطرہ مول نہ لیں کیونکہ ایسا کرنا اُن کیلئے خطر ناک ثابت ہوسکتا ہے۔کشمیر رواں برس کے ’چلہ کلان‘ میں سائبیریا کا سماں پیش کررہا ہے جہاںسردیوں کا تیس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔شدید سردیوں کی وجہ سے پانی کے نل جم گئے، یہاں تک کہ ڈل جھیل جیسا وسیع آبی ذخیرہ بھی منجمد ہوگیا۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ڈل جھیل سردیوں کے ایام میں جم گیا۔ایسا ماضی میں بھی ہوا ہے اور شاید مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا ۔ تاریخی حوالوں کے مطابق 1959کے موسم سرما میں وادی کے اندر اس قدر ٹھنڈ پڑگئی کہ سارا ڈل جھیل جم کر کم و بیش ایک ماہ تک منجمد رہا۔بتایا جاتا ہے کہ تب سابق ریاست کے اُس وقت کے وزیر اعظم بخشی غلام محمد نے ڈل کی اُوپری سطح پر پانی کی تین فٹ موٹی سطح پر اپنی جیپ چلانے کی مہم سر کی۔بخ

کلیمانِ بے تجلّی، مسیحانِ بے صلیب

 "کلیم بے تجلی" اور "مسیح بے صلیب" کی تراکیب علامہ اقبال نے کارل مارکس کے لئے استعمال کی ہیں۔ علامہ کا اشارہ غالباًاس حقیقت کی طرف ہے کہ اشتراکیت کا یہ بانی مفکر "داس کپیتال" کی صورت میں ایک ایسا نسخہ پیش کرنے میں کامیاب ہوا جس پر اشتراکیت کا پورا قصر تعمیر ہوا۔ کئی ایک جدلیاتی فلاسفہ نے مارکس ہی کے فکر سے متاثر ہوکر کئی ایک ممالک میں اشتراکیت کی تخم ریزی کی۔ چوں کہ اس فکر میں مادیات کو مرکزی حیثیت حاصل تھی، اس لئے یہاں تصور خدا کو "عوام کا افیون" قرار دیا جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ اس فکر کے راہنماوں کے لئے "تجلی ٔ رب" کا تصور کرنا بے شک محال تھا۔ تاہم یہاں پر ہماری غرض و غایت اس فکر پر بحث کرنا نہیں ہے۔ البتہ ان تراکیب کو مستعار لیکر ہمیں چند خاص معاشرتی رویوں پر بات کرنا مقصود ہے۔ ہمارے معاشرے کا ایک معتدبہ حصہ طرز تک

اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری

اسٹاک مارکیٹ میں دو طرح کا نفع ملتا ہے، ایک تو یہ کہ آپ کسی کمپنی کے حصص خرید یں اور سال کے اختتام پر وہ کمپنی ان حصص پر نفع (ڈِویڈنڈ)دے، کمپنی اپنی مالی پوزیشن اور پرفارمنس دیکھ کر نفع دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرتی ہے۔ واضح رہے کہ نفع دینے کی شرح بینکوں کے نفع کی طرح پہلے سے متعین کی ہوئی نہیںہوتی بلکہ کمپنی کے مجموعی منافع کودیکھتے ہوئے تمام حصے داروں میں یکساں نفع تقسیم کیا جاتا ہے،کمپنی کو زیادہ منافع ہوگا تو نفع بھی زیادہ ملے گا۔ اسٹاک مارکیٹ میں نفع حاصل کرنیکی دوسری شکل یہ ہے کہ آپ نے کسی کمپنی کے حصص خریدے اور کچھ عرصے بعد ان کی قیمت بڑھ گئی، اگر آپ اس نئی قیمت پر یہ حصص فروخت کردیں گے توقیمتوں کے درمیان جو فرق ہوگا وہ آپ کانفع ہوگا۔ یہ تجارت یا لین دین کی وہی شکل ہے جو دیگر اجناس کی تجارت میں ہوتی ہے۔ اگر آپ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو چند مشورو

سرمایہ دارا نہ جمہوریت!

نئے سال کے ٹھیک پانچ دن بعد 6؍ جنوری 2021ء کو اُس وقت امریکی کانگریس کی عمارت ’’کیپٹل ہل‘‘ پرسابق صدرِ امرریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے حامیوں نے دھاوا بول دیا، اس وقت وہاں 2020ء کے صدارتی انتخابات کے نتائج کی توثیق و تصدیق کے لئے دونوں ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی)اور سینٹ کا مشترکہ اجلاس ہو رہا تھاجہاں۔ امیریکہ میں انتخابی ووٹوں کی گنتی کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہر ریاست کے مصدقہ نتائج صدر نشین یعنی نائب صدر کو پیش کئے جاتے ہیں جو ایوان سے پو چھتے ہیں کہ کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں؟ نمائندگان  کے اعتراض نہ کرنے کی صورت میں نتیجے کی توثیق کر دی جاتی ہے۔ یہ ایک رسمی کارروائی ہی ہوتی ہے لیکن قانون کے تحت اگر کم از کم ایک سینٹر اور ایوان نمائندگان کا ایک رکن تحریری اعتراض جمع کر ادے تو پھر مشترکہ کارروائی معطل کر کے دونوں ایوان اس اعتراض پر بحث کر کے رائے شماری کے ذریعے فیص

بیمارمعاشرہ

خیر امت ہونے کی حیثیت سے ہمیں ہر معاملے میں اچھا اور اعلیٰ ہونا چاہئے تھا لیکن معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان کے عظیم مفکر احمد جاوید صاحب کہتے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا اجتماعی مرض یااْمّْ الامراض یہ ہے کہ ہم گھٹیا لوگ بن کر رہ گئے ہیں ؛ ذوق میں ، فہم میں ، ذہن میں ، اخلاق میں ہر معاملے میں ہم اوسط سے نیچے ہیں۔ یہ ہمارے انحطاط کا سب سے بڑا سبب ہے اور اسی سے ذہنی اور اخلاقی انحطاط پیدا ھوا۔۔۔ ہم بہت چھوٹے لوگ ہیں اور اس چھوٹے پن کو دْور کرنے کی خواہش بھی نہیں رکھتے۔ ہم بہت معمولی لوگ ہیں اور اس معمولی پن سے نکلنے کی ہم کوئی طلب بھی نہیں رکھتے۔معمولی پن پیدا ہو جانا مرض ہے۔معمولی پن پر راضی ہو جانا موت ہے۔معمولی پن کا متبادل لفظ پست بھی ہے۔ پست ہونا ہمارے وجود کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ میدان چاہے علم کا ہو، فہم کا ہو، ذوق کا ہویا اخلاق کا ہو، ہم معمولی اور پست سطح کا وجود پیش کرتے ہیں۔

ڈپٹی نذیر احمد کا نظریہ تعلیم

ڈپٹی نذیر احمدانگریزی علوم کو انگریزی میں ہی پڑھنے کو ضروری سمجھتے تھے۔ان کے بقول انگریزی سے فرار اب نا ممکن ہے کیونکہ اب ہر طرف انگریزی کا دو دورہ ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ان علو کو ترجمے کے بجائے انگریزی میں ہی سیکھا جائے۔وہ اپنے بیٹے بشیر احمد کو ایک خط  میں لکھتے ہیں :"اب انگریزی کا یہ حال ہے کہ گنجینہ علوم ہے۔یونانی اور عربی اور سنسکرت اور لیٹن وغیرہ میں جو ذخیرے تھے ،انگریزوں نے سب اپنی زبان میں جمع کرلئے  ہیں"۔نذیر احمد ،موعظہ حسنہ:37) وہ مسلمانوں کو یورپ کی مثال دیتے ہیں کہ آج جو ترقی ہم وہاں دیکھ رہے ہیں ،اس کے پیچھے "علم و ہنر" کا راز ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی اس کو سیکھنا چا ہئے۔وہ مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ تعلیم کو نوکری کے حصول کے لئے نہ پڑھیں۔وہ تعلیم کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ادنیٰ اور اعلیٰ۔ادنیٰ تعلیم سے وہ مروجہ تعلیم مراد ہے جس کو اکثر

سِول سروسز مسابقتی امتحانات کی تیاری کیسے کریں؟

یوپی ایس سی سیول سروسز کے ہر پرچے کے لیے ایک باضابطہ نصاب دیا گیا ہے لیکن مینز میں ایک پرچہ ایسا بھی ہے جس کا کوئی مدلل اور واضح نصاب نہیں ہے اور وہ ہے مضمون یعنی Essayکا پرچہ۔یہ پرچہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے لیکن بعض طلبہ اس کو قابلِ توجہ نہیں سمجھتے جو ایک غلط روش ہے۔بات کو مزید آگے بڑھانے سے پہلے آئیں دیکھتے ہیں کہ اس پرچے کے حوالے سے یوپی ایس سی کیا کہتا ہے۔اس پرچے کے بارے میں یوپی ایس سی فقط اتنا کہتا ہے کہ: "Candidates may be required to write essays on multiple topics.They will be expected to keep closely to the subject of the essay to arrange their ideas in orderly fashion,and to write concisley.Credit will be given for effective and exact expression." یہ چند سطور کہہ دینے کے بعد یوپی ایس سی اپنا پلو جھاڑتا ہے اور طلبہ کو ایک مکمل پرچے کا ہدایت نامہ ان ہی چند س