تازہ ترین

مقامی صحافت:ماضی اور حال کے آئینے میں۔۔۔۔ قسط دوم

 گزشتہ ہفتے مقامی صحافت پر ’’ سرکار نوازی ‘‘کے الزامات کے موضوع پر بات شروع کرتے ہوئے صحافت کے ماضی اور حال کا تذکرہ اس کا لازمی حصہ بن گیا تھا اور مین سٹریم لیڈر شپ ،جو آج مقامی صحافت پر یہ الزامات عاید کرنے میں پیش پیش ہے ،کی جمہوری سرکاروں نے مقامی صحافیوں اور اداروں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا ،اس کا تذکرہ کرتے ہوئے بات اس موڑ پر پہنچ گئی تھی جہاں صحافت مجبوری ، بے بسی اور لاچاری کا عنوان بن گئی تھی ۔عسکری دور شروع ہونے کے بعد صحافت کا احوال بیان کرنے سے پہلے اس بات کی مختصر سی وضاحت کرنا بھی موضوع کا تقاضا ہے کہ صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون قرار دینے والوں نے کسی ترنگ میں آکر ایسا نہیں کیا بلکہ انہیں معلوم تھا کہ جمہوریت کی روح کو آلودگیوں سے بچانے اور وقت کی گرد شو ںسے محفوظ رکھنے میں جو چند ایک ادارے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ان میں صحافت کا کردار

اب بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا!

روزگار کا غم کسے نہیں ہوتا۔جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی ایک انسان کو روزگار کی فکر دامن گیر ہوجاتی ہے،گویا کہ غمِ روزگار اور جوانی کا آپس میں ایک اٹوٹ رشتہ ہے،چولی دامن کا ساتھ ہے۔روزگار کی تلاش میں ہم کیا کچھ نہیں کرتے ۔والدین کی عمر بھر کی جمع پونجی اولاد کی تعلیم پرخرچ ہوتی ہے۔ وہ یہ آس لگائے ہوتے ہیں کہ پڑھ لکھ کر اولاد خود کمانے کے قابل ہوجائے گی اور اُن کے کندھوں سے ایک بہت بڑا بوجھ اُترے گا۔کچھ رقم بچ بھی جائے تو وہ پھر افسران کو رشوت کھلانے میں صرف ہوتی ہے تاکہ اولاد کے ہاتھ چھوٹا موٹا ہی سہی،کوئی روزگار آجائے۔ مگر ان ساری چیزوں کے باوجود بھی نتیجہ ندارد۔یہ سب باتیں تو آپ سب جانتے ہی ہیں مگر میں جس بات کا خلاصہ کرنے جارہا ہوں ممکن ہے کہ وہ آپ کے لیے سونے پہ سہاگا ثابت ہو ۔میں آپ کو ایک نسخہ دینے والا ہوں جو راتوں رات آپ کو لَکھ پتی بنا سکتا ہے اور آپ کے روزگار کا مسئل

آپ کا وجود ہے وجہ ِ وجو د ِکائنات

حضرت عیسیٰ بن مریم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس دنیا میں آمد کو تقریباً پانچ سو برس سے بیشتر عرصہ ہوچکا تھا، پوری انسانیت ذلالت وگمراہی کے عمیق گڑھے میں گرچکی تھی، روئے زمین پر تاریکی اورظلمت کا راج تھا،انسان اپنے مقصد تخلیق کو فراموش کر چکا تھا، یہودیت وعیسائیت صرف چند ظاہری رسم و رواج کو دین کا نام دے کر دین موسوی و عیسوی کو پوری طرح ترمیم کر چکی تھی،انجیل وتورات کا صرف نام باقی رہ گیا تھا، اس میں ہزاروں طرح کے تحریفات پیدا کئے جاچکے تھے، مذہبی پیشوا،راہ نمایانِ قوم وملت، اور عمائدینِ سیاست خدائی احکام کو بجز چند ٹکڑوں کے خاطر فروش کرچکے تھے، نفس پرستی اوردین بیزاری نے چند روپے پیسوں کے خاطر دین سے دست بردار کردیا تھا تو دوسری طرف ان سے زیادہ دگرگوں اورقابل رحم حالت میں اہل عرب، اصنام پرست، لات و منات کے پجاریوں کی ایک لمبی قطار تھی،جو دنیا کے کسی نقشے پر نہیں شمار کیے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے دنیا پر اثرات

 جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس مٹ جانے والی دنیا میں تشریف لائے تو پوری دنیاپر اس کے اثرات پڑے۔ واقعات تو بہت ہیں ہم صرف چند واقعات مختصراً پیش کرتے ہیں ۔ سب سے پہلا اثر سلطنت فارس ( حالیہ ایران و اعراق اور آس پاس کا علاقہ ) کے حکمراں کسریٰ ( یاد رہے سلطنت فارس کے حکمرانوں کا لقب کسریٰ ہوتا تھا۔) کے محل کے چودہ کنگورے گر گئے اور سلطنت فارس کا سب سے بڑا آتش کدہ ( سلطنت فارس کے لوگ آگ کی پوجا کرتے تھے۔ اور اسے مسلسل جلائے رکھتے تھے۔ جو ہزار سال سے روشن تھا۔ وہ بجھ گیا۔ اور دریائے ساوہ خشک ہو گیا۔ سیرت میں اور بھی بہت سے واقعات مذکور ہیں۔  حضرت عبد المطلب نے محمد نام رکھا   حضرت عبدالمطلب خانہ کعبہ میں تشریف فر ما تھے۔ کہ سیدہ آمنہ نے انھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا میں شتریف لانے کی خبر بھیجی۔ اور وہ خوشی خوشی گھر آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے

رسول اکرمؐ کا ساتھ چاہئے؟ ۔۔۔۔ قسط دوم

اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات میں سے حضرات انبیاء علیہم السلام کا انتخاب فرمایا،پھر ان سب میں سے خاتم النبیین، شفیع المذنبین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت، نصرت اور معیت کیلئے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوچن لیا۔صحابہ کرام ؓ کو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور صحبت کا جو شوق تھا،اس کی چند جھلکیاں گزشتہ کالم میں پیش ہوچکی ہیں۔ ہم لوگ اگرچہ دنیا میں تو اس نعمت ِ عظمیٰ اور سعادتِ کبریٰ سے محروم رہے لیکن کون سا مسلمان ایسا ہو گا جس کا دل جنت میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کیلئے نہیں تڑپتا ہو گا۔ جس دل میں ایمان ہو گا،اُس میں یہ چاہت ،یہ لگن اور یہ ولولہ ضرور ہو گا۔یہ دولت اتنی عظیم ہے کہ ساری دنیا کے خزانے دے کر اور ساری زندگی کی صلاحیتیں لگا کر بھی اگر مل جائے تو بخدا بہت ہی سستا سودا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ محض ا

لوح بھی تُو قلم بھی تُو تیرا وجود الکتاب

 پھر ایک بار فرانسیسی سرکار نے اپنے تعاون اور اشتراک سے رسول مقبول ﷺ کی شان ِ اقدس میں گستاخی کا منصوبہ بنایا اور اس پر عمل پیرا ہوکر مسلم دنیا اور کروڑوں مسلمانوں کے جگر کو چیر کر رکھ دیا ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسا پہلی بار ہورہا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ عصری دور میں جب آپ تھوڑا سا ماضی میں جھانکیں گے اور تھوڑا سا حافظے پر زور دیں گے تو آپ کو یاد آئے گا کہ پچھلی دہائیوں کے اندر اس طرح کی بے شمار گستاخانہ حرکتیں ہوئی ہیں جو کہ ان مغربی ممالک کے اپنے قوانین کی رو سے بھی ایک ناقابل معافی جرم کا ارتکاب ہے ، لیکن افسوس کہ یہ ممالک ان قوانیں اور ساری دنیا میں تسلیم شدہ بہتر اقدار اور معیارات کی خلاف ورز یوںکے مواقع پر اپنی آنکھیں موند لیتے ہیں اور ان تمام نازیبا اور دل آزار مکروہ منصوبہ بند سازشوں کو آزادی رائے سے تشبیہ دے کر مسلم دنیا کے خلاف میڈیا کی جنگ چھیڑ دیتے ہیں بلکہ م

شانِ رسالتؐ میں گُستاخی اور مجروح جذبات

رسول اللہ ؐ کی ذات مبارک پر حرف رکھنا اور توہین رسالت کا مرتکب ہونا دور جہالت کی نشانیاں ہیں جو آج بھی برقرار ہیں اور جس کا مظاہرہ فرانس نے حال ہی میں کیا۔ مدت دراز سے یورپی ممالک کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اشتعال دینے ، بدنام کرنے اور ان کے جذبات کو مجروح کرنے کے لیے مذہب کا سہارا لیتے ہیں۔مذہب اسلام اور اس کے ماننے والوں کو بدنام کرنے کی سازشیں کی جاتی ہیں۔ پیغمبروں کی توہین کی جاتی ہے۔اس بار یہ گھناؤنا کام فرانس نے انجام دیا۔رسول ؐ کا مضحکہ خیز خاکہ بنا کر دیواروں پر چسپاں کرنا اور بڑے ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرکے اسے آزادیٔ اظہار کا نام دینا حماقت ہے۔ اس حماقت کے پیچھے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں، یہ واضح نہیں ہے۔جب بھی اس اقسام کی شرم ناک حرکات سامنے آتی ہیں اور مسلمانوں کے خلاف بیان بازیوں کے نشتر چلائے جاتے ہیں تو اس کا  شدید ردعمل ضرور سامنے آتا ہے۔اس غم و غصہ اور ناراضگی

فخر موجودات ؐ تاریخ کا افتخار

تاریخِ انسانی کے نماشا گاہ پر کافی تعداد میں بڑی بڑی شخصیات کا ظہور ہوا جنہوں نے انسانوں کی علمی اور عملی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے،جنہوں نے انسانی زندگی کی مجموعی ساخت کو متاثر کیا ،جنہوں نے انسانوں کے طرزِ فکر اور طرزِ عمل کو بدلا ڈالا،جنہوں نے تاریخ میں ایک ہلچل پیدا کی ،جنہوں نے تاریخ کو اپنے نام کر دیااور تاریخ کے دھانے کو موڑنے کی کوشش کی۔ایسی شخصیات ہی عبقریت اور عظمت کا تاج پہن کر لوگوں کے دلوں میں ایک محترم مقام پیدا کرتی ہیں۔ایسی شخصیات کی زندگیاں عوام الناس کے لئے قابلِ التفات ہوا کرتی ہیں۔ان عظیم انسانوں کی تعمیر کس ڈھنگ اور کس پیٹرن پہ ہوئی ہے یہ محققین کے نزدیک قابلِ تحقیق موضوع ہوا کرتا ہے۔ ایسی شخصیات کی تعمیر میں متعدد عوامل کادخل ہوتا ہے۔جن عوامل کا صحیح خطوط پر تفتیش کرنا دشوارتو ضرور  ہے لیکن ناممکن نہیں۔ یہاں پر ان تمام عوامل کا (جو تعمیرِ شخصیت میں درکار ہ

رسول اللہ ؐ کی مقدس معاشرت

آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے جب دنیا میں ہر طرف ظلم ومعصیت کی تاریک گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں ، ہر مخلوق کسی بھی حیثیت یا درجہ کی تھی، دنیا میں اسکی پرستش ہورہی تھی اور کوئی ایسی برائی نہیں تھی جس میں دنیا بالخصوص اہلِ عرب مبتلا نہ ہوں اور پھر وحشت، جہالت، لڑائی جھگڑا، دختر کشی، شراب خوری، جوئے بازی، فحاشی و فحش کاری اور دیگر جرائم محبوب مشغلے تھے۔ ان ہی حالات میں خاتم النبیین سرور کائنات رحمت عالم۔ حضرت محمدؐکی بعثت ہوئی۔ دنیا کے اس سب سے بڑے انسان کو خدا نے ایسی پاکیزہ فطرت بخشی تھی کہ گردوپیش کے اس غلط ماحول اور عربوں کے اتنے بگڑے اخلاقی حالات میں آپؐ نے ایسی پاکیزہ زندگی بسر کی اور اپنی زندگی کے ایک ایک لمحہ سے پاکیزگی کا ایسا محیر القول ثبوت دیا کہ دشمن بھی اس کی تعریف میں پیش پیش ہیں۔                        آپ ؐنے ج

ربیع الاول اصلی عالمی بہار

ایک ایسے وقت میں جب انسانیت کی کشتی ظلم و طغیان کے بھنور میں ہچکولے کھارہی تھی رب کریم نے انسانیت کی نجات کے لئے قدسیوں کی ایک جماعت کھڑا کی اور اس جماعت کی راہنمائی کے لئے ان ہی میں سے ان کے سردار (ص) کو مبعوث کیا! ان قدسیوں اور ان کے راہنما کا ذکر نا صرف بنی اسرائیل کے ادب میں پایا جاتا ہے بلکہ ہندی اساطیری ادب میں بھی ان کے اشارے ملتے ہیں۔ اسرائیلی ادب سے ہم اسرائیلیات کے توسط سے واقف ہیں جو مختلف تفاسیر میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک ہندی ادب کا تعلق ہے، اس کی طرف کئی ایک اہل علم نے اشارے کیے ہیں۔ ان آراء اور اشاروں کو ایک بنگالی نو مسلم، عبداللہ اڈیار کی کتابIslam: My Fascination نے شرف قبولیت اور درجہ استناد بخشا ہے۔ یہ قدسی کون تھے اور ان کے سردار (ص) کون تھے؟ دراصل جس جماعت سے ان قدسیوں کو چنا جانا تھا اسی جماعت کے جد امجد، ابراہیم (ع) نے اپنے فرزند ارجمند' اسماعیل

حضرت محمد ؐ کی شخصیت نمونۂ عمل

ماہ ربیع الاول وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں فخر کائنات، خطمی مرتبت، سرور کونین حضرت محمد مصطفیؐ تولد ہوئے اور دنیا کو اپنے اخلاق، کردار، گفتار اور اعمال سے اپنا گرویدہ بنا دیا ۔آپ ؐ نے انسانوں کو جہالت اور اندھیرے سے نکال کر علم اور نور کی طرف لے لیا اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو صحیح راستے پر گامزن کیا۔ آپ کی تعلیمات نے ایک آدم کو انسان بنا دیا اور انسانیت کا لباس زیب تن کیا اور باطل و طاغوتی قوتوں کو اپنے اخلاق و کردارسے برہنہ کیا اور اسلام کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ اسی لئے قرآن گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ''اے پیغمبر ،ہم نے تمھیں گواہی دینے والا اور خوش خبری پہنچانے والا اور عذاب الٰہی سے ڈرانے والا اور اللہ کے اذن سے اْس کی طرف دعوت دینے والا اور انسانوں کی ہدایت کے لیے ایک روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے (الاحزاب45۔46) مگر عصری مسلمانوں نے اس قرآن کو رحلوں پر

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چاہئے؟

مرحبا! ماہِ ربیع الاول آگیا، لیکن ربیع الاول تو گیا ہی کب تھا۔ کسی کیلئے ربیع الاول سال بھر میں ایک مرتبہ آتا ہو گا،ایک سچے مسلمان کیلئے تو زندگی کا ہر لمحہ ربیع الاول ہے کہ وہ اپنی فانی زندگی کے اس وقت کو جو رحمت للعالمین ،شفیع المذنبین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور پیروی سے خالی ہو،موت سے بد تر سمجھتا ہے۔ اس بات پر دنیائے عشق و محبت کا اتفاق بلکہ اجماع ہے کہ   ؎ مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا اس کو چھٹی نہ ملی جس کو سبق یاد ہوا سال کے صرف ایک مہینے،مہینے کے صرف ایک دن اور دن کے بھی صرف چند گھنٹے،معاف کیجئے گا یہ محبت نہیں ،محبت کی توہین معلوم ہوتی ہے۔ جو سچے محب تھے اور جن کی محبت کی گواہی خود محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ، ان کی حالت تو یہ تھی   ؎ جان دیدے کے خریدار بنے ہیں انصار عشق زارِ مدنی، مصر کا بازار نہیں جی

خوشحالی اور سہولیات کی فراہمی کے کھوکھلے نعرے

کشمیر ی عوام کا ہر گذرتا دن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میںمسلسل اضافے سے مشکل سے مشکل تر بنتا جارہا ہے۔اشیائے ضروریہ اور روزمرہ کے استعمال کی اشیا عام آدمی کی پہنچ اور اس کی رسائی سے باہر ہوتی جارہی ہے۔معاشی بحران اور انحطاط کی وجہ سے پہلے ہی معاشی ترقی کی رفتار بْری طرح متاثر ہوچکی ہے جس کی وجہ سے بے شمار لوگ روز گار سے محروم ہوگئے ہیں اور کئی پرائیویٹ کمپنیوں ،کارخانوں اور اداروں میں تنخواہوں اور اْجرتوں میں کٹوتی کی گئی ہے جبکہ عام آدمی کی آمدنی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہی ہے۔غذائی اجناس کی قیمتوں میں مسلسل بڑھوتری سے ایسا لگتا ہے کہ ان قیمتوں پر قابو پانے کی سرکاری انتظامیہ میں کوئی سکت نہیں،اس لئے اس تعلق سے گورنر انتظامیہ زیادہ فکر مند بھی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔گویاکشمیری عوام کو اِس وقت جس بے لگام اور کمر توڑ مہنگائی کا سامنا ہے اْس کا شائد گورنر انتظامیہ کو بھی ادراک ہو،لیکن گ

صحت و عافیت!!

کیا یہ معمولی نعمت ہے کہ انسان اپنے گھر سے ہاتھ ہِلاتا ہوا ،مضبوطی سے قدم رکھتا ہوا نکلے،ہموار سانسیں اُس کے پھیپھڑوں میں اُبھر رہی ہوں،اُس کی آنکھیں دور دور تک دیکھ رہی ہوں اور اُس کے کان کی نقل و حرکت سُن رہے ہوں ؟ یہ عافیت جس میں ہم لطف اندوز ہورہے ہیں کوئی معمولی چیز نہیں۔ہمیں حاصل ہونے والی نعمتیں کتنی زیادہ گِر ا نقدر ہیں، چاہے ہم اُن سے آنکھیں بند ہی کیوں نہ کرلیں۔ہمیں جو جسمانی صحت ،اعضا ء کی سلامتی اور پورے حواس دئے گئے ہیں ،ہم اُن سے غافل ہیں۔اس لئے نہ تو اس پُر لطف زندگی کا مزا چکھتے ہیں اور نہ ہی اپنے آقا اللہ تعالیٰ کا شُکر ادا کرتے ہیں۔جس نے ہمیں اتنی ساری نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔کتنے لوگ ہیں جو ان نعمتوں سے محروم ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ وہ کتنی تکلیف محسوس کرتے ہیں،کوئی ایک لقمہ کھا کر بھی پریشان ہے کہ اس کی قوت ِ ہاضمہ ہی جواب دے چکی ہے ،کسی کے اعضا ء پورے ن

نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم سے عشق کا معیارِ

خیر الانام سرورکونین خاتم النبیین رحمت اللعالمین امام الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم کے امت پر بے حد احسان ہیں جس کے بدولت امت مسلمہ کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے بے حد محبت کرنا واجب بن جاتا ہے۔ عظیم الشان پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات اقدس کے ساتھ ایسی والہانہ محبت ہونی لازمی ہے کہ جس کا مطالبہ اور توجہ قرآن نے یوں مبذول فرمایا، ارشاد باری تعا لیٰ ہے کہ"اے محبوب ! فرما دیجئے ان کو کہ اگر تم خدا تعالٰی سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میری اتباع کرو، خدا تعا لیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے اور تمہارے سب گناہوں کو معاف کر دیں گے اور اللہ تعالٰی بڑے معاف کرنے والے بڑی عنایت فرمانے والے ہیں"- (القرآن؛ آل عمران، 3:31) قرآن کریم نے صاف اعلان کر دیا کہ جو لوگ اللہ تعا لیٰ سے محبت کا دعوٰی کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ اللہ کے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی

سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عصری معنویت

 لفظ" سیرت" کے عربی لغت میں معنی ہیں: چال چلن، چلنا پھرنا، ہیئت و حالت، شکل و صورت، طریقہ و کردار وغیرہ۔ چنانچہ اولین دور میں اس سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مغازی لئے گئے، بعد میں اس سے مراد وہ رویہ لیا گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کے ساتھ جنگ و صلح میں روا رکھا تھا۔ آخری مرحلہ میں اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی اور اس سے منسلک تمام حالات و واقعات کو لیا گیا۔ عرف عام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کے بیان کو سیرت کہتے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے ساتھ ساتھ شمائل و خصائص کو بھی بیان کیا جاتا ہے۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے بطور خاتم النبیین تمام اقوام عالم کے لئے مبعوث فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کو رہتی دنیا تک نمونہ حیات قرار دیا۔لقد کان لکم ف

جموں اور کشمیر کے خطے

وادی کشمیر اور جموں کے مابین خیالات کے ٹکرائو کی اپنی تاریخ ہے۔گوکہ سیاسی قائدین عقیدے کو ریاست اور سیاست سے دور رکھنے کے بلند بانگ دعویٰ کرتے آرہے ہیں لیکن حقیقت حال یہی ہے کہ جموں اور وادی کے مابین تقسیم کی لکیروں میں ایک واضح لکیر عقیدے کی بھی ہے۔اس پس منظر میں دیکھا جائے تو جموں خطہ ،جموں،کٹھوعہ،ہیرا نگر،سانبہ اور ریاسی اضلاع پر مشتمل ہے اور کشمیر میںوادی کے دس اضلاع کے ساتھ ساتھ پیر پنچال ڈویژن اور خطہ چناب کے سبھی اضلاع کو شمار کیا جاسکتا ہے۔لیکن حکومتی سطح پر بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ انتظامی سطح پر پیر پنچال اور وادی چناب کوبھی صوبہ جموں کا ہی خطہ گردانا جارہا ہے جس نے مذکورہ دونوں خطوں کے اکثریتی عوام کو سالہا سال سے اضطراب کی کیفیت میں زندگی گذارنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ان خطوں کے لوگوں کا تمدن،رہن سہن یہاں تک کہ سیاسی سوچ و اپروچ کشمیر کے ساتھ ہی ملتا ہے ،یہی وجہ ہے ک

’سرینگر ایک عظیم شہر ‘

شہر سرینگر کشمیر کا دارالخلافہ ہے۔کشمیر ریشیوں اور منیوں کا مسکن رہا ہے۔اس کو رشی واری بھی کہا جاتا ہے۔یعنی یہ ریشیوں کا گلشن ہے۔اس گلشن میں کتنے صوفی اور ریشی پیدا ہوئے، وہ اَن گنت ہے۔وادیٔ کشمیر کو جنت بے نظیر بھی کہا گیا ہے اور ایران صغیر بھی۔اس وادی کشمیر کی جتنی تعریفیں تاریخوںمیںکی گئی ہیں کسی اور جگہ کی شاید ہی کی گئی ہو۔کشمیر پر وقتاً فوقتاً تاریخیں لکھی گئیں۔جن میں راج ترنگنی،تاریخ کشمیر،واقعات کشمیر،ہسٹری آف کشمیر،تاریخ کبیر ،تزک جہانگیری وغیرہ قابل ذکر ہیں۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں میں صرف شعر و شاعری کا ذوق و شوق نہیں تھا بلکہ تاریخ نویسی بھی یہاں کا ایک مشغلہ رہا ہے۔یہاں اکثر و بیشتر ادب کی آبیاری کی گئی اور ادب کو نکھارا اور نہارا گیا۔یہاں صرف کشمیری میں نہیں بلکہ اردو اور فارسی بھی کشمیری کے برابر چلتی رہی اور چلتی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’سرینگر ای

مسابقتی امتحانات ، حکومتی ملازمتیں

اس بات سے یکسر انکار ممکن نہیں ہے کہ موجودہ دور میں جب ملازمتوں کا حصول مشکل اور سخت مقابلہ آرائی کا متقاضی ہے، ایک حکومتی ملازم عمدہ اور پُرکشش تنخواہ کے ساتھ ساتھ مختلف سہولتوں سے آراستہ زندگی گذار تا ہے۔ یہ بات کہنے میں ہمیں بالکل بھی تعرض نہیں ہے کہ ایک حکومتی ملازم (گورنمنٹ سرونٹ) ایک خوشحال اور ایک محفوظ ترین ملازمت کرتاہے۔ حکومتی ملازمتوں کا حصول اگر مشکل نہیں تو بہت آسان بھی نہیں ہے۔ مختلف حکومتی شعبوں میں ملازمت کے لیے امیدوار کو سخت محنت کے ساتھ ساتھ ملازمت کے لیے منعقدہ امتحانات میں شریک دیگر امیدواروں کے مقابلے میں خود کو اہل ثابت کرنا پڑتا ہے اور ایک مرتبہ کامیاب ہوجانے کے بعد اس کی ترقی کے راستے کھل جاتے ہیں۔ بھارت میں حکومتی ملازمتوں میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی نمائندگی ان کی آبادی کی شرح کے لحاظ سے بہت کم ہے۔ نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن کے مطابق مذہبی گروپس کے

مشترکہ مسا بقتی امتحانات

کمیشن برائے عوامی خدمات جموں و کشمیر نے ۲۹ ؍ستمبر ۲۰۲۰ ء کو مشترکہ مسابقتی امتحانات۲۰۱۸ ء کے نتائج ظاہر کر دئے ۔ کمیشن کی ایک غیر معمولی نوٹیفکیشن کے مطابق ۷۰ ؍امیدواروں کوطبی معائنے کے لیے کامیاب قرار دیا گیا ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اِن امتحانات کے لیے مئی ۲۰۱۸؍ میں درخواستیں طلب کر دی گئی تھیں۔ ستمبر۲۰۱۸؍ کے مہینے میں ان امتحانات کے لیے ابتدائی (prelims)امتحان کا انعقاد ہوا تھا، جس میں ۲۵۱۸۸؍ امیدواروں نے حصہ لیا۔ ابتدائی امتحانات کے نتائج ستمبر ہی کے آخری ہفتے میں ظاہر کر دیے گئے، جس میں ۱۷۵۰؍ امیدواروں کو مرکزی(mains) امتحان میں بلایا گیا ۔ اس کے بعد جولائی ۲۰۲۰ ء میں مرکزی امتحان کا انعقاد ہوا تھا، جس میں ۲۲۹ ؍امیدواروں نے کامیابی حاصل کر لی اور انہیں انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ انہی امیدواروں  میں سے ۷۰؍ امیدواوں کو بالآخر و ہ کامیابی نصیب ہوئی، جنہیں مذکورہ نوٹیفکیشن میں مشتہر

تازہ ترین