تازہ ترین

ایفائے عہد اور وعدے کی تکمیل

ارشادِ ربّانی ہے: ’’اور اپنے عہد کو جب وہ عہد کرلیں، پورا کرنے والے ہیں۔‘‘ (سورۃالبقرہ) ایک مقام پر فرمایا گیا:’’اور جو اپنی امانتوں اور عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔‘‘(سورۃالمعارج)’’سُورۃ النحل‘‘ میں انتہائی وضاحت کے ساتھ فرمایا گیا: اور اللہ کا نام لے کر جب تم باہم عہد کرلو تو اسے پورا کرو، اور قسموں کو پکی کرکے توڑا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کو تم نے اپنے اوپر ضامن ٹھہرایا ہے۔ بے شک، جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ جانتا ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی نسبت یہ فرمایا ہے: ’’بے شک، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔‘‘(سُورۂ آلِ عمران) اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔ اس لیے وہ اپنے پیرو کاروں سے ان کے معمولات زندگی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کرتا۔خاص طور پر جب معاملہ حقوق العباد یا اجتما

ماحولیاتی نظام میں خلل ۔ انسانی جانوں کے لئےخطرناک

انسان کو قدرت نے عقل سے نوازا ہے۔ جس سےاچھے اوربُرے میں تمیز کرسکتا ہے۔اسی لئے انسانی دوڑ اُسی بات میں لگی رہتی ہے کہ تمام تر سہولیات کے درمیان بہتر سے بہتر زندگی گزاری جائے۔انہی سہولیات کے حصول اور اپنے مفاد کی خاطر انسان نے آبی ذخائر کے ساتھ ساتھ جنگلات کی جانب بھی رخ کیا ۔جس سے جانوروں کی قیام گاہوں پر گہرا اثر پڑنے لگا۔ انسان نے اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کی خاطر قدرتی نظام میں خلل ڈالا ۔نتیجہ یہ نکلا کہ جنگلی جانور اب آبادیوں کی جانب رخ کرنے لگے اور لوگوں کی فصلوں کو نقصان پہنچانے لگے۔ نیز یہ جانور اب اپنا مسکن چھوڑ کر دوسرمقامات کی جانب منتقل ہورہے ہیں جو عوام الناس کے لئے شدید خطرے کا باعث ہے۔  اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ حکومت عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے میدانی و پہاڑی علاقوں میں سڑکیں تعمیر کررہی ہے،دوردراز پہاڑی علاقوں کو ایک دوسرے سے ملانے کے لئےجہاں

عزیز حاجنی۔۔۔جلانے والے جلاتے ہیں چراغ آخر

ایک کردار نیا روز جیا کرتا ہوں مجھ کو شاعر نہ کہو ایک ادا کار ہوں میں پروفیسر زاہد احمد سابق صدر شعبہ اردو علی گڈھ مسلم یونیورسٹی نے دوران توسعی خطہ ایک زبردست تاریخی جملہ بولا کہ مشہور بہادر رستم پہلوان کو اپنے ساتھیوں اور حامیوں نے ایک بار جیت پانے کی خوشی کو سلیبریٹ کرتے ہوئے اپنے کاندھوں پر اٹھا کر سٹیج تک پہنچایا اور فرمایش کی کہ اپنی کامیابی پر حاضرین کو اپنے تاثرات سے نوازے۔ اس عمل کو پورا کرنے کے لیے رستم سٹیج کی طرف بڑھنے لگا اور اسکی ٹانگیں تھر تھرانے لگی، جوں ہی سٹیج پر پہنچ گیا تو خاموشی چھاگئی۔ اس کے مداحین اس کی تقریر سننے کے خواہش مند تھے لیکن رستم صرف اتنا بول پایا کہ یہ کام مجھ سے نہیں ہوگا ،بس اتنا بتائو کس کو لٹکانا ہے۔ اس جملے کی مناسبت سے اگر اس عمل کی ضد دیکھنی ہو تو مرحوم عزیز حاجنی یاد آتے ہیں جو میدان ادب کے شہسوار تھے۔ جن کو قدرت نے زبان بھی بہت اچھی

دبستان کشمیر کے درخشاں ستارے

کچھ ادیب و فنکار ایسے ہوتے ہیں جو ادب و فن کو پروان چڑھانے میں کوئی کوتاہی نہیں برتے لیکن ان کو وہ مقبولیت اور قبولیت نہیں ملتی جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ادب و فن کو  پرکھنے والے ناقدین ان کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ایسےادیب بعض  دفعہ لوگوں میں مقبول تو ہوتے ہیں لیکن ادبی حلقوں میں ان کے چرچے کم ہی ہوتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں بھی ایسے ادیب و فنکار ہیں جنہوں نے یہاں کے کلچر ،ثقافت ،تہذیب ،تمدن اور اس ہر واقعے کو موضوع بنایا جو توجہ طلب تھا۔ایسے ہی معزز ادیبوں میں ایک اہم نام مشتاق مہدی صاحب کا ہے۔ مشتاق احمد مہدی کا پورا نام مشتاق احمد شاہ ہے۔آپ 13 فروری 1952 ء میں خانیار سرینگر میں پیدا ہوئے۔آپ اردو اور کشمیری دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں اور دونوں زبانوں میں آپ کی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔پہلے چند برس مشتاق احمد مشتاق کے قلمی نام سے لکھا کرتے تھے،

ظاہر میں آزادی، باطن میں گرفتاری

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے  جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے  فیمزم کی feminism اصطلاح ١٨٨۰کے آخر میں سب سے پہلے ہبرٹائن Huber Tain آکلرٹ نامی ایک خاتون نے سماج پر مرد حضرات کے خاتمے کے خلاف اور خواتین کے ان حقوق و اختیارات کو حاصل کرنے کے لئے استعمال کی ۔ ستمبر 1994میں قاہرہ میں UNO یو این او کی طرف سے ایک یہود آبادی کانفرنس منعقد ہوئی، جنسی بے راہ روی اور بکار کلچیر رائج کرنے کی کوشش کی گئی۔جس کا خصوصی نشانہ مسلم ممالک تھے ۔ستمبر ١٩٩٥ میں بیجنگ چین میں خواتین کی ایک بہت بڑی کانفرنس منعقد ہوئی ۔جو یو این او کی طرف سے عورتوں کی تیسری بڑی عالمی کانفرنس تھی ۔اسکے بعد بھی اور بھی بہت سے پروگرامات منعقد ہوئے ۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں عورتوں کے حقوق کے لیے آواز یں بلند ہونے لگیں ۔ اس دور کو تانیثیت کی پہلی لہر First wave feminism کہا