تازہ ترین

گُپکار اعلامیہ

جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ متنازع بیانات کیلئے جانے جاتے ہیں۔انہوں نے حال ہی میں اپنے ایک انٹریو میں کہا کہ کشمیر کے لوگ فی الوقت اپنے آپ کوہندوستانی محسوس نہیں کرتے ہیں۔ معروف صحافی کرن تھاپر کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فاروق نے کہا’’آج کشمیری لوگ خود کو ہندوستانی محسوس نہیں کرتے ہیں‘‘۔ فاروق عبد اللہ کے اس بیان نے وادی کشمیر میں کوئی ہلچل پیدا نہیں کی اور مقامی بھاجپا کی طرف سے ایک رسمی مذمتی بیان کے ساتھ ہی فاروق کی اس بات کی ان سُنی کردی گئی۔عوامی حلقوں میں بھی اس کاکوئی خاص چرچانہیں ہوا ۔ویسے بھی سر زمین کشمیر کے اندر ایک ایسی خاموشی چھائی ہے جہاں اب شاذ و نادر ہی کوئی عوامی رد عمل دیکھنے کو ملتا ہے۔جس خطے کے لوگوں کو زور دار رد عمل کیلئے جانا جاتا تھا وہاںگذشتہ ایک سال کے زیادہ عرصہ سے حکومتی سطح پر کامیابی

شفقتِ پدری اب بھی باقی

برق رفتاری سے اس بدلتی دنیا میں اخلاقی اقدار نا قابل یقین حد تک روبزوال ہیں اور انسانیت تباہی و بربادی کی دہلیز پے سسکتی بلکتی چراغ سحر کی مانند ٹمٹماتی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ ہر طرف حزن و ملال کی آندھیاں چل رہی ہیں اور ہر بستی ہر قریہ اور ہر گھر کے اندر نفاق کا سم قاتل ,گھر کی رونقوں کو اجاڑ رہا ہے اور انا و لا غیری کے مرض مہلک نے ہماری لوح مغز کی وسعتوں پے قبضہ جما لیا ہے۔اس ساری مصیبت کی متعدد وجوہات ذمہ دار ہیں مگر سب سے بڑی وجہ والدین کے تئیں دور حاضر کی نء نسل کا وہ ناروا برتاؤ اور غیر انسانی سلوک ہے جسے خالق حقیقی نے حرام قرار دیا ہے۔یادے رہے کہ مجموعی طور بنی نوع انسان تین طرح کے حقوق کی پاسداری کے لئے فطری طور پابند ہے مگر عصری تہذیب کے تیزاب میں جھلسے ہوئے دور حاضر کے نوخیز اور جوان سال طبقے کی اکثریت کے دل و دماغ میں مادہ پرستی اور بہیمانہ خواہشات کا اسقدر غلبہ ہے کہ اب ا

رابطہ کی زبان اور بولنے والے محض0.16فیصد

قواعد وضوابط کی پاسداری اور اداروں پر عوام کی اعتمادسازی قائم ودائم رکھنا ہی ایک مضبوط ریاست کی پہچان ہوتی ہے لیکن اگر آپ طاقت کے نشے میں چور اِس حد سے تجاوز کر جائیں کہ آئینی ، جمہوری اور انتظامی اداروں کی آپ کے کوئی اہمیت وافادیت نہ رہے تو پھر نظام سے عوام کا اعتماد اُٹھ جانا یقینی ہے۔آپ نے کئی سرکردہ سیاسی لیڈران، دانشوروں اور عالمی سیاسی منظر نامہ پر گہر ی نظر رکھنے والوں کو آئے روز ٹیلی ویژن مباحثوں ، اخبارات میں مضامین اور کالم وغیرہ کے ذریعے اِس بات کا اظہار کرتے سُنا ہوگا کہ انڈیا کی بین الاقوامی میڈیا پر پکڑ نہیں اور نہ ہی اِس ملک کے بیانیہ کو عالمی سطح پر اچھے انداز سے پروجیکٹ کیاجاتاہے۔اِس کی کئی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آئین وقانون سازی کے سب سے بڑے ادارہ ’پارلیمنٹ‘کے مقدس ایوانوں کے اندر بھی ہم مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔ پارلیمنٹ کا جب بھی اجلاس

’’کارروانِ زندگی‘‘

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے تھامس کارلائیل (Thomas Carlyle) نے بالکل بجا فرمایا ہے کہ:  ’’The history of world is but the biography of greatmen‘‘’’دنیا کی تاریخ بڑی شخصیتوں کی سوانح حیات ہی ہوتی ہے‘‘۔  عظیم دانش ور، مؤرخ و سوانح نگار، مرشد و رہنما ،مجدد و امام، عالم و داعی ، مفسر و ادیب ، مفکر اسلام مولانا سیدابو الحسن علی ندویؒکی علمی، فکری، ادبی ، تصنیفی، تحقیقی، ملی و سماجی ، دینی و روحانی خدمات کا احاطہ ایک مضمون میں کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ اس عظیم المرتبت شخصیت پر عربی، اردو اور انگریزی زبانوں میں بلا مبالغہ سینکڑوں کتابیں اور ہزاروںمقالات لکھے جاچکے ہیں اور یہ سلسلہ تاہنوذ جاری ہے۔ اس مضمون میںراقم سطورصرف اپنے احساسات کو الفاظ کا جامہ پہنانا چاہتا ہے جوتاثرات و اح

کشمیر اور اقوام عالم | چمن ویران ہیں لیکن زمیں گُل رنگ ہے ساری

یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جموں و کشمیربھارت کی آزادی اورقیام پاکستان کے دن سے متناعہ چلا آرہا ہے اور اس مسئلہ کے باعث جنوبی ایشیا میں قیام امن کی صورت حال بدستورغیر مستحکم ہے جبکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اقوام عالم کے سلامتی کونسل کی قرار داتوں میں در ج’ مسئلہ کشمیر‘  کا حل بھارت او ر پاکستان کے درمیان دوستی کا اہم ترین اور کلیدی ذریعہ ہے،جس کی ضرورت کی طرف کشمیری عوام گذشتہ سات عشروں سے توجہ مبذول کرتا چلا ٓرہا ہے۔ جس کی طرف عدم دلچسپی کے نتیجہ میں جموںو کشمیر کے لاکھوں مسلمانوں کی جانوں اور حقوق کی درد ناک پامالی ہورہی ہےاور گزشتہ 70سالوں سے بھارت کے زیر انتظام جموںو کشمیر کے 80 لاکھ کشمیریوں کو یرغمالی بناکے رکھا گیا ہے۔اس طویل عرصے کے دوران اگرچہ وقفہ وقفہ کے بعد ہند و پاک حکومتوں کے سربراہوں کی طرف سے اس متنازعہ مسئلے کو حل کرنےکے لئے بڑی بڑی بیان بازی

شیخ محمدعبداللہ کو بہکانے والے کون تھے؟ | جیل سے لکھے گئے خط میں شیخ نے اْنہیں ’دانا لوگ‘ کہا تھا

یہ 1975کے بعد کی بات ہے۔ مرحوم شمیم احمد شمیم نے کشمیر کے کئی سیاسی رہنماوں سے متلعق خاکوں پر مشتمل ہفت روزہ آئینہ کا خصوصی نمبر شائع کیا تھا۔ شیخ محمد عبداللہ سے متعلق خاکے کی شروعات اْنہوں نے اس تاریخی جملے سے کی تھی: ’’شیخ محمد عبداللہ: وہ شخصیت جس سے ہماری صبح بھی عبارت ہے اور شام بھی۔‘‘   شمیم صاحب نے شیخ عبداللہ کے کم و بیش چار دہائیوں پر محیط سیاسی سفر کو فقط ایک جملے میں سمیٹ دیا تھا۔ شیخ عبداللہ واقعی کشمیر کی سیاسی تاریخ کی وہ کڑی ہیں جن کے بغیر یہ تاریخ نامکمل ہے۔ اْن کے بعض حامی کہتے ہیں کہ شیخ صاحب نے عوام سے قْربانی وصول کر کے لیڈری نہیں کی، بلکہ خود قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرکے لوگوں کی نمائندگی کی۔ تاہم محاذ رائے شماری کی تحریک کو لپیٹ کر خودمختاری کے عوض چیف منسٹری قبول کرنا اْن کے لئے سیاسی خودکشی سمجھی جاتی ہے۔ 1982میں جب اْ

ذہنی صحت کا خاص خیال رکھیں | ذاتِ حق پر توکل پریشانیوں سے برأت کی سبیل

گھبراہٹ ایک عام انسانی احساس ہے۔ ہم سب کو اس کا تجربہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم کسی مشکل یا کڑے وقت سے گذرتے ہیں۔خطرات سے بچاؤ، چوکنا ہونے اور مسائل کا سامنا کرنے میںعام طور پر خوف اور گھبراہٹ مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ تاہم اگر یہ احساسات شدید ہوجائیں یا بہت عرصے تک رہیں تو یہ ہمیں ان کاموں سے روک سکتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہماری زندگی تکلیف دہ ہوسکتی ہے۔فوبیا کسی ایسی مخصوص صورتحال یا چیز کا خوف ہے جو خطرناک نہیں ہوتی اور عام طور پر لوگوں کے لیے پریشان کن نہیں ہوتی۔ اب اگر ہم آج اپنے معاشرے میں دیکھیںتو کافی لوگ ڈپریشن کا شکار ہوئے ہیں۔ جب سے یہ COVID-19 کی بیماری شروع ہوئی تو زندگی کا ہر کوئی شعبہ متاثر ہوا۔ لوگ اپنے گھروں تک ہی محدود رہے اور سارے کام کاج موبائل فون یا لیپ ٹاپ پرکرنا پڑے۔ پھر بھی اب چونکہ تعلیمی اداروں کے بغیر باقی تقریباً سبھی شعبوں میں کام کاج د

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | کشمیر کے تناظر میں

مکرم پروفیسر منظور احمد شاہ کے بقول "کشمیر یونیورسٹی میں بڑے بڑے ذہین دماغ کام کر رہے ہیں لیکن تحقیق کے معاملے میں دلچسپی، لگن اور جذبہ کا ہونا ازحد ضروری ہے۔ان خصوصیات سے عاری بڑی بڑی نابغہ شخصیات بیکار ہو جاتے ہیں۔وہ زندگی کی دوڑ میں باوجود اپنی صلاحیتوں کے پیچھے رہ جاتے ہیں۔یہی کچھ معاملہ ہماری یونیورسٹی کا ہے۔اگرچہ یہ بات بھی درست ہے کہ کشمیر یونیورسٹی میں پورے بھارت میں سائنسی تحقیق کے حوالے ایک مایہ ناز مقام حاصل کر رہی ہے۔لیکن جو صلاحیتیں قدرت کی طرف سے کشمیری نوجوانوں کو حاصل ہیں اس کے مقابلے میں کام لاغر محسوس ہوتا ہے".پروفیسر موصوف کی وساطت سے مجھے کشمیر یونیورسٹی میں جاری سائنسی تحقیقاتی کام کے متعلق کافی جانکاری حاصل ہوئی۔پروفیسر صاحب چونکہ ماحولیات کے محقق ہیں اس لئے ان کے زیادہ تر توجہ کشمیر میں سکڑتی ہوئی جھیلوں (Lakes)اور کشمیر میں اینویزیو پلانٹ سپیشس ( speci

کمپیوٹر کی زبان میں اعداد | ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کااستعمال

1 )  بِٹ  Bit : کمپیوٹر گنتی کی زبان سمجھتا ہے اور ہر چیز کو گنتی کے نظریہ سے ہی پیمانہ دیتا ہے۔گنتی کا ’’ایک عدد‘‘ کمپیوٹر کی زبان میں ’’ایک بائنری ڈجٹ‘‘ One Binary Digit کو ’’بِٹ‘‘ Bit کہا جاتا ہے۔ایک ’’بٹ‘‘ Bit یا تو 0 ہوسکتا ہے یا 1 ہوسکتاہے۔ 2 )  بائٹ  Byte : آٹھ ’’بِٹ‘‘ Bit کے مجموعے کو ’’بائٹ‘‘  Byte کہا جاتا ہے اور عملی طور پر ایک ’’حرف‘‘ کو بھی ایک ’’بائٹ‘‘ Byte کے برابر گنتے ہیں۔کیونکہ آٹھ ’’بِٹس‘‘ Bits مل کر ایک ’’حرف‘‘ کو ظاہر کرتے ہیں۔ 3 )’’کے بی‘‘ کلو بائٹ  KB,Kilo

اب تو خطرے کی کوئی بات نہیں

جنت نظیر کشمیر جسے کبھی رشیوں اور منیوں کی سرزمین کہا جاتا تھا، اب کئی دہائیوں سے انسانی خون سے سیراب ہورہی ہے ۔دو متحارب بندوقوں کے ٹکرائو میں تو انسانی لاشوں کا گرنا کوئی نئی بات نہیں لیکن زیادہ لاشیں نامعلوم بندوقوں سے ان نہتے انسانوں کی گررہی ہیں جن میںسے بیشتر کے بارے میں کوئی پتہ نہیں چلتا کہ انہیں کس نے قتل کردیا اور کس خطا پر ان کی جان لی گئی ۔کئی دہائیوں سے کبھی دریائوں سے انسانی لاشیں تیرتی ہوئی ملتی رہی ہیں اور کبھی ندی نالوں اور ویرانوں سے ۔صحافیوںکی لاشیں بھی گری ، تاجروں ، طالب علموں ، وکیلوں ، ڈاکٹروں ، انجینئروں ، مبلغوں غرض ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے موت کے گھاٹ اتارے گئے ۔ کسی کو اس کے دفتر میں جاکر گولیوں سے چھلنی کردیا گیا ، کسی کو گھر میں گھس کر ، کسی کو سرراہ اور کسی کو مسجد کے باہر خون میں نہلایا گیا ۔ حال ہی میں گاندربل سے انسانی ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ ملا ۔یہ کون

عارضہ ٔقلب کا توڑ دل سے کیجئے

بھارت میں عارضہ قلب اموات کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے۔ہمارے ملک میں 25سے30فیصد اموات دل کا دورہ پڑنے یادماغ کی نس پھٹنے سے منسوب کئے جانے کے قابل ہیں۔ ملک میں عارضہ قلب سے اموات کی شرح ایک لاکھ میں سے 272ہے،جبکہ عالمی سطح پر عارضہ قلب سے مرنیوالوں کی شرح ایک لاکھ میں 235ہے۔گویا ہمارے ملک میں عارضہ قلب سے اموات کی شرح عالمی سطح کی شرح سے زیادہ ہے۔ہمارے ملک کی دوسری خصوصیت میں یہاں کم عمر میں ہی بیماری کاظاہر ہونا،بیماری کی رفتار تیزپکڑنااور اموات کی زیادہ شرح ہے۔اس لئے احتیاطی تدابیراس ڈرائونے رجحان کوکم کرنے کی کلید ہے کیوں کہ ایک باریہ بیماری آشکار ہوئی ،تو پھر علاج کی ساری تدابیرزیادہ سے زیادہ درد کو کم کرتے ہیں ،نہ کہ بیماری کاعلاج ۔ورلڈہارٹ فیڈریشن اورعالمی صحت تنظیم ہر سال 29ستمبر کوعالمی یوم قلب مناتے ہیں ۔یہ عالمی سطح پر عارضہ قلب سے متعلق بیداری پیدا کرنے کاسب سے بڑاپلیٹ فارم ہے۔

گوشہ اطفال|26 ستمبر 2020

طلبہ کی صحت کیلئے عمدہ مشورے   فکرِ اطفال   فاروق احمد انصاری   ایک صحت مند جسم میں صحت مند دماغ ہوتا ہے اور دماغ صحت مند ہوتو کوئی بھی امتحان مشکل نہیں ہوتا اور کامیابی کی راہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں بچے جب تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہوتے ہیں تو اپنی غذا اور کھانے پینے کی روٹین کا خیال نہیں رکھ پاتے۔ امتحان کی تیاری، اسائنمنٹس جمع کروانے کی ٹینشن اور دیگر روزمرہ معمولات مستقل طورپر طلباکے ذہنوں پر سوار رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے طلبا اس قدر توانائی نہیں رکھتے کہ وہ تعلیم اور زندگی میں توازن لا سکیں۔ اسکو ل، کالج، گھریلو اور سماجی سرگرمیوں  میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کے اظہار کیلئے طلبا کو فٹ اور صحت مند رہنا بہت ضروری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین اپنے بچوں کی غذا کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ کم عمری سے ہی متوازن غذا مستقبل کیلئے ای

نظم و ضبط کامیاب طرز ِ زندگی کی کلید

نظم وضبط کسی معاشرے کے قیام کی پہلی شرط ہے۔ انسان کی زندگی کو منظم، پُرسکون، کامیاب بنانے اور مطلوبہ نتائج کے حصول میں نظم و ضبط بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ زندگی میں اس کی اہمیت سے انکار ناممکن ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ نظم و ضبط کے بغیر ایک اچھے معاشرے کا تصور ہی محال ہے۔زندگی میں اکثر پریشانیاں،مشکلات،محرومیاںاور ناکامیاں نظم وضبط کے فقدان کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ انسانی طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں پیدا کرنے ، وقت اور سرمایہ کو ضائع ہونے سے بچانے میں ڈسپلن کوایک منفرد مقام حاصل ہے ۔ نظم و ضبط کی متعدد تعریفیں بیان کی گئی ہیں۔بامقصد سرگرمیوں میں ترجیحات کی بنیاد پر لائحہ عمل کے تعین کو نظم و ضبط کہتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر نظم و ضبط تدبیر اور کام کی تقسیم اور مستقبل میں اسے انجام دینے کے فیصلے سے عبارت ہے۔ کام کی انجام دہی سے قبل تدبیر اور منصوبہ بندی آدمی کو پشیمانی سے محفوظ رکھتی ہے۔ انسان

عصر ِحا ضر میں مطا لعہ سیرتؐ کی ا ہمیت و مقصدیت

حضور خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے بھی ہر زمانے اور ہر ملک میںنبیؑ اور رسولؑ بھیجے گئے اور وہ پیغمبر مخصوص اپنی اپنی قوموں کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے۔ اور آخر میںنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت اللعالمین بنا کے بھیجا گیا تا کہ وہ پوری  دنیا کے لیے قیامت کے دن تک اپنی زندگی  یا سیرت نمو نے کے طور پر چھوڑجائیں۔جب نبی اکرمؐ کو یہ مقام حاصل ہوا تو پھر ہما رے لئے ،ہم سے پہلے اور بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے ضروری ہو گیا کہ ہم حضو اکرمؐ کی زندگی جسے ہم ’’سیرت ‘‘ کی مخصوص اصطلاح سے مو سوم کرتے ہیں سے اپنے ہر چھوٹے اور بڑے مسلے کے حل اور دین ودنیا کی کا میا بی حاصل کر نے کے لیے نصیحت یا سبق حا صل کریں۔حضور رسالت مآبؐ کی سیرت کا مطالعہ تاریخ کی کسی کتاب کا مطا لعہ نہیں ،بلکہ یہ قرآن مجید کے اصولوں اور احادیث مبارک  کے قانون کی صحیح

ملک کے فیصلہ ساز اداروں میں مسلم نمائندگی

شہریت ترمیمی قانون اور قومی آبادیاتی رجسٹر معاملہ پر شدید تنقید کی زد میں آنے کے بعد موجودہ مرکزی حکومت مسلسل یہ کہہ رہی ہے کہ اس ملک میں سبھی طبقوں و فرقوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں اور کسی کے حقوق غصب نہیں کئے جائیں گے ۔گزشتہ دنوں ہی پارلیمنٹ میں ایک بیان میں وزارت داخلہ نے پھر ایک بار یقین دلایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی والی بی جے پی حکومت سب کا ساتھ ،سب کا وکاس کے اصول پر کاربند ہے اور مذہب کے نام پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں کیاجائے گا بلکہ اقلیتوں کو بھی مکمل تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ انہیں ترقی کے سفر میں یکساں مواقع فراہم کئے جائیں گے تاہم حکومتی دعوئوں اور دلائل سے قطع نظر ملک کی اقلیتوں کی جو صورتحال ابھر کر سامنے آرہی ہے ،وہ قطعی حوصلہ افزاء نہیں ہے بلکہ اگر یوں کہیں کہ وہ صورتحال مایوس کن اور پریشان کن ہے تو بیجا نہ ہوگا۔ مذہب اور مسلم اقلیت کے نام پر سیاست کرکے

اقوام متحدہ کے 75سال

اقوا م متحدہ جنرل اسمبلی کا 75و اں اجلاس 15 ستمبر سے شرو ع ہوچکا ہے تاہم اس مرتبہ یہ اجلاس کئی معنوں میں سابقہ اجلاس سے مختلف اور اہم ہے۔کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے باعث اس سال بیشتر عالمی رہنما ذاتی طورپر خصوصی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے اور اس کی میٹنگ ورچوول ہوگی ، لیکن اس کا یہ قطعی مطلب نہیں ہے کہ عالمی سفارت کاری اور پائیدار ترقی کا پہیہ اپنے معمول کی رفتارسے نہیں گھومے گا۔ اقوام متحدہ کا قیام 1945میں عمل میں آیا تھا اور یہ اپنی 75ویں سالگرہ منا رہا ہے۔اقوا م متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے اس موقع پر ایک وسیع تر ’عوامی بحث‘ کی اپیل کی ہے جس میں ہمیں اپنے مطلوبہ مستقبل کی تعمیر سے متعلق اب تک کے سب سے جامع،  بامعنی اور پرمغز تبادلہ خیال کرسکیں۔ اقو ام متحدہ کی 75ویں سالگرہ کی مناسبت سے 21ستمبر کو ایک آن لائن تقریب کا انعقاد کیا جائے گا ، جس کا

حکومت کا اقتصادی پیکیج

جموں و کشمیر کی خستہ حال اور روبہ زوال مالی حالت کوبہتر خطوط پر استوار کرانے کے سلسلے میں جموں و کشمیر کے لیفٹینٹ گورنر منہوج سنہا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران1350 کروڑ روپے پر مشتمل ایک پیکیج کا اعلان کیا جس پرتجارتی انجمنوں اور ماہرین اقتصادیات نے ملا جلا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 14 مہینوں کے نا مساعد حالات کی وجہ سے معیشت وینٹی لیٹر پر ہے۔ کاروباری ادارے ہوں یا ٹرانسپورٹر، ٹورزم ہو یاعام مزدور غرض ہر فردِبشر حالات کی ناسازگاری اور کورونا کی مہا ماری سے بے حد متاثر ہوچکاہے ۔حد یہ ہے کہ خوشحال اور فارغ البال لوگوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں اور مفلوک الحال لوگوں کا خدا ہی حافظ۔قریہ قریہ اور گلی گلی میں یاس اور قنوطیت نے اپنا ڈھیرہ ڈالا ہوا ہے۔بھوک اور افلاس کے تھپیڑوںکی وجہ سے آئے روز خود کشی  کے بے شمارمعاملات واقع ہورہے ہیں۔چنا نچہ ایک قیامت صغریٰ ہے جہ

شادی بیاہ کی سادہ تقریبات

وادیٔ کشمیر میں ایک عرصے سے شادی بیاہ کی تقریبات میں رسوماتِ بد کی برمار عروج پر ہے جس نے لاکھوں غریب لڑکیوں کے لئے نت نئی مصیبتیں لا کھڑی کر دیں ہیں۔ان بے جا رسوم و رواج کی وجہ سے اب یہاں خاص و عام کا مزاج بھی بگڑ چکا ہے۔جس کا نتیجہ شادی میں تاخیر کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ نت نئے خرافات سے معتدد پیچیدہ معاشرتی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔جہاں عام اور سادہ لوح لوگ ان رسوماتِ بد سے بے خبر ہیں وہیں منافع خور طبقہ بھی ان کو بہ آسانی اسراف و تبذیر کی چیزیں فراہم کرنے میں مصروف عمل ہے۔ منافع خوری کے چکر میں وہ اس چیز کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ جن اشیائے تبزیر کی وہ بڑے شد و مد کے ساتھ خرید و فروخت کی سفارش بلکہ تشہیر و تاکید کر رہے ہیں، ان کی وجہ سے کتنے بسے بسائے گھر ویران ہو چکے ہیں۔ دراصل ہر سماجی پہلو کی طرح یہاں بھی افردِ سماج کی وہی خود غرضی اور خود خواہی اس مقدس عمل یعنی شادی

عوامی خدمات کی مختصر تاریخ

 اٹھارویں صدی کی بعد کی دنیا کو عمومی طور پر جدید دنیا کے لقب سے نوازا جاتا ہے۔ تادمِ اِیں دنیا کے حالات و واقعات کے حوالے سے حیرت انگیز تبدیلیاں ظہور پذیر ہو چکی ہیں۔ سیاست ہو یا معیشت، سماج ہو یا تعلیم، مشینری ہو یا ٹیکنالوجی، میڈیا ہو یا رسل و رسائل ، ایسے بے شمار شعبے ہیں جن کے اندر نِت نئے انقلابات آئے روز رونما ہوتے ہیں۔ وہیں آج اکیسویں صدی کے بیسویں سال، ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں ایک منٹ پہلے والی بریکنگ نیوز پرانی لگتی ہے۔ حالات و واقعات کے پھیر بدل اس طرح پیش آرہے ہیں کہ انسان ششدررہ جاتا ہے۔ ان معنوں میں موجودہ دور کو بعض لوگ ما بعد جدید دنیا کے لقب تک سے نوازتے ہیں۔  اس عرصے میں ملکوں کے نظاموں میں بھی خاصی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو گئیں۔ بہت سارے نظام ہائے زندگیاں انسانیت نے آزمائے۔لوگوں کو راحت پہنچانے کے لیے مختلف النوع ذیلی منصوبے بنائے گئے۔ حکام

معاشرتی زوال و انحطاط

 افراد سے ہی معاشرہ بنتا سنورتا ہے اور بگڑتا بھی ہے ۔ افراد صالح اور نیک طینت ہوں تو صالح معاشرہ کا وجود میں آنا طے ہے ۔ ینز انہی کی کج روی اس کو تباہی کے دلدل میں دھنساتی ہے۔ یعنی سماجی امراض کے باعث افراد ہی ہیں اور انہی کے پاس بیمار سماج کے واسطے دوا بھی پائی جاتی ہے ۔جہاں کہیں سماج میں خرابی پیدا ہو جائے تو جان لینا چا ہئے کہ اس خرابی کا اصل ماخذ وہ دل و دماغ ہیں جن میں برائی پنپ کریہ برائی معاشرتی عفریت کا روپ دھار لیتی ہے۔ یوں ہی رفاہی معاشرہ (welfare society)کسی معجزے کے بدولت تشکیل پاتا ہے نہ اس کے قیام کی خاطر عالمِ ملکوت سے فرشتے نازل ہوتے ہیں بلکہ رفاہی معاشرے کا وجود بزبانِ حال اس میں رہ رہے فرشتہ صفت انسانو ں کی نشاندہی کرتا ہے ۔ اس دلیل کی روشنی میں اگر ہم اپنے معاشرے کی ابتری کی وجوہات دریافت کرنا چاہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھنا ہو گا کہ کہ