اسرائیل کے معاہدات اورعربوں کے سراب

اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گورین نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسرائیلی عزائم اور ا ہداف کو اپنے ان الفاظ میں منعکس کیا تھا ۔ ’’مستقبل قریب میں واحد عالمی تنظیم(ورلڈ آرڈر )وجود میں آئے گا جو یروشلم کی سربراہی میں ہوگا ، ایک واحد فوج ہوگی اور یروشلم میں اصلی اور حقیقی اقوام متحدہ کا ادارہ ہوگا ‘‘۔یہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ اسرائیلی منصوبہ وہی (دجالی ) منصوبہ ہے جس کی پیش گوئیاں احادیث میں شامل ہیں اور بن گورین کا یہ بیان اس جملے کا عکس ہے ،’’ مسیحااسرائیل میں ایک حکومت قائم کرے گا جو تمام دنیا کی حکومتوں کا مرکز ہوگی اور تمام غیر یہودی اقوام اس کے ماتحت اور غلام ہوں گے (ایسیاہ ۔۲۔ ۱۲ )۔اب  بن گورین کے بیان کو حالیہ اس بیان کے ساتھ ملاکر دیکھئے جو یروشلم میں امریکی سفارتخانہ کی منتقلی کی افتتاحی تقریب پر ٹرمپ کے سفیر پادری جان ہیکی نے دیا تھا

ماضی کے دریچوں سے

بیسویں صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی میں دنیا پرایک نام خوف کی طرح چھایا رہا تھااور وہ نام تھا ہٹلر۔بہت کم لوگ یہ جانتے ہے کہ ہٹلرکون تھا،کہاں پیداہواہے۔پہلی بار یہ باتیں اُس وقت منظر عام پرآئی جب والٹر سی لینگر ایک امریکی ماہرنفسیات کی ہٹلرکی نفسیات پر مبنی تصنیف 1972منظر عام پر آئی۔اگر چہ اس کتاب کو شائع ہوئے اب چند دہائیا گزری ہیں،لیکن درحقیقت اس کا مسودہ سب سے پہلے دوسری جنگ عظیم کے دوران 1943تیارکیاگیاتھا۔ مصنف نے ہٹلر کے زمانہ عروج میں متعدد قابل اعتمادذرائع اورٹھوس شہادتوں کی مدد سے بیسویں صدی کے سب سے بڑے ڈکٹیٹر اورنازی فلسفہ کے بانی کی آمرانہ ذہنیت اور نفسیات کاانتہائی ماہرانہ اورفاضلانہ تجزیہ کیا ہے ۔اس کے بچپن اور اوائل شباب سے قبل اوربعدمیں اس کے طرزعمل میں کارفرماعوامل کی نشاندہی کی ہے۔سروالٹر سی لینگر کاکہنا ہے کہ1936میں رائن لینڈکے دوبارہ قبضے کے موقع پرہٹلرنے اپنے طرز

جھوٹ،دھوکہ دہی اور فریب کاری

موبائیل فون کے وجود میں آنے سے جہاں انسان پوری دنیا میں رابطے میں رہا تو وہیں اس کے ذریعے پورا دن جھوٹ بولتا ہوا تھکتا نہیں ہے۔ بعض لوگوں کو تو عادت ہی پڑ گئی ہے کہ کئی جھوٹ ایسے بولے جاتے ہیں جو محض گناہِ بے لذت و بے فائدہ ہوتے ہیں۔ انہیں یہ امتیاز ہی نہیں رہتا کہ ہم نے فلاں کلمہ جھوٹ بولا ہے۔ انہیں اس کی پرواہ ہے نہ شرمندگی۔ کئی کلومیٹر دور ہوتے ہوئے بھی قریب بتاتے ہیں۔ اسی طرح ہم اپنے بچوں کو دھوکہ، جھوٹ اور فریب سکھا کر انہیں اپنے قریب بلاتے ہیں۔ واقعی ہم اْن سے محبت کرتے ہے لیکن جھوٹ بول کر نہیں۔ یعنی معمولی بات بچوں کو بہلانے کے لیے بھی گناہ ہے جو بے لذت و بے فائدہ ہے۔ سرکاری و نیم سرکاری اور پرائیویٹ محکموں کے ساتھ ساتھ کئی مزدور انجمنیں بھی اپنی حاضری ممکن بنانے کے لیے رجسٹر میں قلم زنی کرتی ہیں اور خلاف واقعہ لکھ کر گناہ کا مرتکب بن جاتی ہیں۔ آج کل لوگ ایسے کئی گناہوں می

مشکل میں صبر اور خوشی میں شُکر

اللہ تعالیٰ کی حکمت کو کون جانتا ہے۔اسکے فیصلے حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔وہ اپنا فیصلہ سنانے میں کسی کا محتاج نہیں۔وہ جب جو چاہے کر سکتا ہے۔اسکے فیصلے حتمی ہوتے ہیں۔کسی کی مجال ہی نہیں کہ وہ اسکے کسی بھی حکم کے خلاف احتجاج کرے۔اسکے حکم کے آگے ہر کوئی سر خم ہو جاتا ہے۔انسان کی فطرت ہے کہ وہ جلد اپنے حاجات کو پورا ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔جب اسکی خواہشات پوری ہوتی ہیں تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا ہے اور جب وہ پوری نہیں ہوتی ہیں تو غمگین ہو جاتا ہے،فکرمند ہوتا ہے اور پریشانی کے عالم میں چلا جاتا ہے۔انسان کی فطرت کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان جلد باز ہے یعنی وہ ہر کام کو جلد پورا ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔کچھ ایسے بھی افراد ہیں جو صبر کا دامن تھامے رکھتے ہیں۔انہی لوگوں کے خوشگوار انجام کو دیکھ کر یہ الفاظ زبان پر بے ساختہ نکل آتے ہیں کہ'صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے'۔وہ لو

کاروبار میں کامیابی کے 10 اصول

وَرجن گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رچرڈ برنسن کا شمار دنیا کے کامیاب ترین انٹرپرینیورز میں ہوتا ہے۔ وہ گاہے بگاہے، نئے انٹرپرینیورز کو کاروبار میں کامیابی کے مشورے بھی دیتے رہتے ہیں۔ ان ہی میں سے کچھ ذیل میں بتائے جارہے ہیں۔ خوابوں کا پیچھا کریں  اگر آپ اپنے خوابوں کا پیچھا کریں گے اور وہی کریں گے، جس سے آپ کو تسکین اور خوشی ملتی ہے تو یقین جانیں آپ بہت اچھی زندگی گزاریں گے۔ آپ دنیا کے کامیاب ترین لوگوں کی زندگیوں پر نظر ڈالیں، آپ کو نظر آئے گا کہ وہ اپنی زندگی سے اس لیے لطف اندوز ہوتے ہیں کیونکہ وہ وہی کرتے ہیں، جو ان کا شوق ہوتا ہے اور وہ اپنے خوابوں کا پیچھا کررہے ہوتے ہیں۔ آپ انٹرپرینیور بنیں یا پھر نوکری کریں، کام وہی کریں جس میں آپ کی دلچسپی ہو، اس کے بعد آپ کو کبھی بھی کام نہیں کرنا پڑے گا۔ دوسروں کیلئے اچھا کریں ایک سادہ سی بات ہے، اگر آپ اپنے کام

جاب مارکیٹ کے بدلتے رحجانات

جس تیزی سے وقت گزر رہا ہے، اتنی ہی تیزی سے جاب مارکیٹ بھی اپنے رنگ بدل رہی ہے۔ لہٰذا نوجوانو ں کو اپنی نظر مارکیٹ پر رکھنی ہوگی اور بدلتی صورتحال کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانی ہوگی۔ اس کے لیے آج کی نسل کو یہ جاننا ضروری ہے کہ جاب مارکیٹ کو اس سے کیا توقعات ہیں اور مقابلے کی فضا میں وہ کس طرح خود کو ممتاز و ممیّز رکھتے ہوئے توقعات کو پورا کرسکتے ہیں۔ ساتھ ہی کمپنیوں کو بھی مختلف جابز کے لیے ملازمین کو سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی۔ کمپنی کا مستقبل جاب مارکیٹ میں سخت مقابلہ ہے لیکن یہ مقابلہ صرف جاب ڈھونڈنے والوں کے درمیان ہی نہیں ہے بلکہ اب کمپنیوں کو بھی نئے ملازمین رکھنے کیلئے ایک قدم آگے جانا پڑتاہے اور بہترین ٹیلنٹ حاصل کرنے کیلئے لائق امیدواروں کو ترغیبی پیکج دینے کے بارے میں سوچنا ہوتاہے۔ کسی بھی اسامی کیلئے موزوں امیدوارسے کیے گئے ا

تازہ ترین