جنگلی حیات کیلئے آبِ حیات

جموں وکشمیر میں جنگلات کے دائرے میں اضافہ کے لئے اِنتظامی کونسل کی حالیہ میٹنگ میں محکمہ جنگلات کی مربوط ’’گرین جے کے مہم 2020‘‘  کی تجویز کو منظوری دی گئی۔اس مہم کا مقصد جنگلات کو وسعت دینا ہے اور اس کے تحت سال2020-21 کے دوران خستہ حال جنگلی علاقہ کے 15,000ہیکٹر اراضی پر 100لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔پچھلے مہینے سرکار کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ مذکورہ مہم میں پنچایتی راج ادارے ، متعلقہ محکمے ، تعلیمی ادارے ، فوج ، نیم فوجی دستے ، پولیس اور سول سوسائٹی کی شرکت طلب کی جائے گی جس کے لئے محکمہ جنگلات ضرورت کے مطابق پودے فراہم کرے گا۔ اگر حکومت کا ’’گرین جے کے‘ ‘منصوبہ کامیاب رہا اور اس سے مطلوبہ اہداف حاصل ہوگئے تو جموں کشمیر کے جنگلات میں وسعت پیدا ہونا یقینی ہے جو ہر صورت میںیہاں کے ماحولیات کیلئے ایک بہتر صورتحال ہوگی

مایوسی۔۔۔!

ہر انسان کی زندگی میں کم از کم ایسے تین مرحلے آتے ہیں جب وہ شدید مایوسی کا شکار ہوتا ہے ۔ایک جب زندگی اسے مسلسل ناکامی سے دوچار کرتی ہے اور وہ تھک ہار کر جدوجہد ترک کردیتا ہے ۔دوسرا جب وہ زندگی میں کامیابی کو چھونے لگتا مگر اچانک اپنے سے زیادہ ذہین اورکامیاب لوگوں کو دیکھ کر اُن سے حسد کرنے لگتا ہے اور دلبرداشتہ ہوکر بیٹھ جاتا ہے۔اور تیسرا تب جب وہ محبت میں ناکام ہوتا ہے۔دنیا میں ناکام لوگ تلاش کرنا مشکل کام نہیں ،ایک ڈھونڈو تو ہزار مل جاتے ہیں ۔مایوسی ان میں ایسے کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے کہ بعض اوقات اس مایوسی کے اثرات کے مربع فٹ تک محسوس کئے جاسکتے ہیں ۔تاہم اس شخص (ناکام شخص)کو ہی کلی طور پر مورد الزام ٹھہرانا ٹھیک نہیں کیونکہ یہ دنیا اس قدر سفاک ہے کہ یہاں کوئی بھی شریف آدمی زیادہ عرصے تک محض اپنی شرافت کے بل بوتے پر زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔ضروری ہے کہ شرافت کے ساتھ ساتھ اس کے پاس کو

ڈوگرہ حکمران اور اُردوزبان وادب

کشمیرمیں چودھویں صدی تک سنسکرت نے نہ صرف علمی وادبی خدمات سرانجام دینے میں نمایاں کرداراداکیابلکہ دربارمیں بھی اس کا خاصہ دبدبہ رہا۔اس کے بعدآہستہ آہستہ اس زبان کازوال شروع ہوااور فارسی نے اس کی جگہ لے کردرباری زبان کی حیثیت اختیار کرلی۔ تقریباً چھ سوسال تک یہاں اس زبان کاغلبہ رہا۔۱۶؍مارچ ۱۸۴۶ء میں عہدنامہ امرتسرکی روسے مہاراجہ گلاب سنگھ نے جموں وکشمیرمیں ڈوگرہ حکومت کی بنیاد رکھی ۔ڈوگرہ حکومت کے ابتدائی چندبرسوں میں اگرچہ سرکاری زبان فارسی ہی رہی ،لیکن آہستہ آہستہ اردوکاچلن بھی عام ہوتاجارہاتھا۔تعلیمی اداروں اور عوامی حلقوں میں اردومقبول ہورہی تھی ۔اس سلسلے میں ڈاکٹر برج پریمیؔ لکھتے ہیں:’’ڈوگرہ سلطنت کے بانی مہاراجہ گلاسنگھ کے عہدمیں ریاست کی درباری زبان فارسی تھی، لیکن خطہ جموں کے بیشترعلاقوں میں ڈوگری زبانوں کابول بالا تھا جو لسانی اعتبارسے پنجابی اوراردو کے قریب ہے

کیا اُردو کا بدل اب سنسکرت سے ہو گا؟

 اُتراکھنڈ کی بھاجپا سرکار نے2010 میں ہی صوبہ میںہندی کے بعدسنسکرت کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ پہلے یہ علاقہ یو پی کا حصہ تھا، جس کی دوسری سرکاری زبان اردو تھی۔ بھاجپا سرکار نے ریلوے انتظامیہ سے کہاکہ اُن کے حکم کے مطابق کسی بھی صوبہ کے ریلوے سٹیشنوں پر انگریزی اور ہندی کے بعد وہاں کی دوسری زبان میں بورڈ لکھے جائیںگے۔اس لئے ریلوے حکام نے سٹیشنوں کے بورڈوں پر سے اُردو ہٹا کر سنسکرت لکھوانی شروع کر دی۔ سٹیشنوں یا بس اڈّوں کے بورڈ مسافروں کی سہولت کے لئے ہوتے ہیں۔ اکثر الگ الگ زبانوں میںبورڈ اس لئے ہوتے ہیں تاکہ اُن مسافروں کو جو کسی دوسری مخصوص زبان سے واقف نہیں ہوتے ،کو اپنی زبان میں ضروری جانکاری حاصل ہوجائے۔ ہمیں اب یہ بھی پتہ چل رہا ہے کہ ایسے کتنے لوگ ہوںگے جو ہندی اور انگریزی سے ناواقف ہوں گے اور صرف سنسکرت ہی پڑھ سکتے ہیں۔ آخر اُتراکھنڈ میں کن لوگوں ک

بے روزگاری ایک مصیبت

 کام اگر زندہ لوگوں کی علامت ہے تو بے کار لوگ یقیناً مُردہ ہیں۔ہزاروں بُرائیاں بے کاری کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں اور اس کی گود میں اَن گنت جراثیم پرورش پاتے ہیں۔دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں لوگ فریب خوردگی کا شکار ہیں اور وہ ہیں صحت اور خالی وقت۔کتنے ہی صحت مند جسم اور مہیا وقت رکھنے والے لوگ اس زندگی کو ایسے گذارتے ہیں کہ ان کے سامنے کوئی امید ہے نہ کوئی کام اور نہ ہی کوئی ایسا مقصد ،جس کی تکمیل کے لئے اپنی عمر کھپائیں۔زمین و آسمان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو حق کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اور اس دنیا میں یہ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حق کو پہچانے اور اس کے ساتھ اپنی زندگی گزارے،ورنہ اگر وہ معمولی خواہشات کے دائرے میں پڑا رہے گا اور ہر چیز سے غافل رہے گا تو اس نے پھر اپنے حال و مستقبل کے لئے بدترین انجام چُن لیا ہے کیونکہ نفس کبھی سکون سے نہیں رہ سکتا۔اگر انسان منظم طریقے سے بھل

دفعہ370کی منسوخی کاایک سال | دلّی نے پایا کم ،کھویا بہت زیادہ

5گست 2019کونریندر مودی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور ریاست کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے دو مرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کیا۔ اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ پچھلے سال کا مطلب کیا ہے اور یہ خطہ اب کیسا دکھتا ہے۔  اکتوبر انقلاب سے عین قبل لینن نے ٹراٹسکی سے پوچھا "اگر ہم کامیاب نہیں ہوئے تو کیا ہوگا؟" ٹراٹسکی نے جواب دیا "اور اگر ہم کامیاب ہوگئے تو کیا ہوگا؟" جہاں حکومت میںشامل ہر شخص نے لینن کا سوال ضرور پوچھا ہوگا لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکمران جماعت میں کسی نے بھی 5 اگست 2019 کی آئینی بغاوت سے پہلے ٹراٹسکی کے سوال کا جواب نہیں دیا تھا۔ 365روز گزر جانے کے بعد وادی کشمیر 300 دن سے زیادہ کے لئے بند رہی ۔ ایک سیاسی لاک جام کے تحت جنوری کے آخر تک اور پھر مارچ کے بعد وبائی لاک ڈاؤن،جو ابھی بھی جاری ہے۔اطلاعات کی رسائی پر قدغن اس قدر سخت تھی کہ مق

رسہ کشی اور مقابلہ آرائی کی لہر | کرونا ئی کثافت سے زیادہ زہریلی

اقوام عالم خاص طور مسلم ممالک میں شیطانی قوتوں کے سازشی ہتھکنڈے ایک ایسے وقت میں زور و شور کے ساتھ پروان چڑھائے جارہے ہیں،جب ساری دنیا کورونا کی وبامیں مبتلا ہے اور کئی قومیں جنگ کی تباہ کاریوں، پُر اسرا ر آگ کے حملوں،شدید بارشوں، سیلاب،اورنسلی تعصب کے چکر ویو میںپھنسی ہوئی ہیںاور معاشی بدحالی ،بے کاری،بے روز گاری ،خانہ بدوشی اور بھکمری کی حالت میں دَر بہ دَر بھٹک رہی ہیں۔ظاہر ہے کہ جہاں کرونائی قہر نے ہر خاص وعام کے ذہن سے موجودہ سائنسی و ٹیکنالوجیکل ترقی پرانحصارو اعتبار زائل کردیا ہے وہیں اس تیز رفتار دور کےترقی و خوشحالی کے تمام تر دعوے داروں کے منہ پر بھی کالک پوت دی ہے۔شائد کالک کے داغ دھبوں کو مٹانے کے لئے ترقی و خوشحالی کے یہ دعویداراب دنیا میں نئی کثافت کو فروغ دینے کے لئے نئے ہتھکنڈے اور بہانے تراش رہے ہوں، تاکہ منصوبہ بندنیا نظام پرانے نظام کی جگہ لے لیں اور نئی خرابیاںپران

خودساختہ وہم و مجبوری کا نفسیاتی عارضہ

 تعارف: ’’ اس پر فٹ بال کا جنون ہر وقت طاری رہتا ہے‘‘۔ ’’ اس کو جوتوں کا حد سے زیادہ شوق ہے‘‘۔ ’’وہ لازماً جھوٹ بولتا رہتا ہے‘‘۔ ہم یہ الفاظ ان لوگوں کیلئے استعمال کرتے ہیں جو کچھ عادات یا حرکات باربار کرتے رہتے ہیں، حالانکہ دوسروں کو ان کے اس روئے کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔عام طور سے یہ عادت مسئلہ نہیں بنتی اور کچھ کاموں میں یہ مددگار بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر’کسی کام کو بار بار کرنے کا یا کسی سوچ کو بار بار دماغ میں لانے کا تقاضہ زندگی پر تکلیف دہ حد تک حاوی بھی ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کے ذہن میں تکلیف دہ خیالات بار بار آتے ہیں، حالانکہ آپ کوشش کرتے ہیں کہ یہ خیالات آپ کے دماغ میں نہ آئیں،یاآپ کے دل میں بار بار تقاضا ہوتا ہے کہ آپ کسی چیز کو بار بار چھوئیں، چیزوں کو بار بار گنتے رہیں، یا کسی ک

ہارڈ ڈسک پارٹیشننگ | انفارمیشن ٹیکنالوجی

’’ہارڈ ڈسک‘‘ کا تعارف چلئے آج ہم ہارڈ ڈسک میں پارٹیشن بنانے کی معلومات پیش کررہے ہیں ۔ ’’ہارڈ ڈسک‘‘ کسی بھی کمپیوٹر کا اہم ترین حصہ ہوتی ہے بلکہ اِس کے بغیر کمپیوٹر نامکمل ہوتا ہے۔ ’’ہارڈ ڈسک‘‘ ایک ایسی چیز ہے جس میں ’’کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم‘‘ ، ایپلی کیشن سافٹ وئیر، ڈاکیومینٹس، اسپریڈ شیٹس، ویڈیوفائلزاور تصاویر وغیرہ بلکہ ہر طرح کا ’’ڈیٹا‘‘ محفوظ کیا جاتا ہے۔ آسان طریقے سے یوں سمجھ لیں کہ ’’ہارڈسک‘‘ ہمارے کمپیوٹر کا ’’گودام‘‘ یا ’’اسٹور روم‘‘ ہوتی ہے۔ اِسی لئے ہمارے لئے ’’ہارڈ ڈسک‘‘ بہت ہی ضروری اور اہم چیز ہے کیونکہ ہماری ہر طرح کی معلومات اِسی میں محفوظ رہتی ہے۔ چون

گوشہ اطفال|8 اگست 2020

بوجھو تو جانیں…!!! 1۔منہ سے تو وہ کچھ بھی نہ بولی اک اک بات مگر ہے کھولی ہے وہ علم کا اک خزانہ رکھے پاس اسے ہر دانا  2۔غور کرو اور دیکھو بھالو چاہے پی لو چاہے کھالو  3۔گرچہ وضو کرتا نہیں دیتا ہے اذانیں کیا نام ہے اس شوخ کا بتلائو تو جانیں  4۔کالے بن کی کا لی ماسی ہے وہ سب کے خون کی پیاسی  5۔گوداموں میں مال چھپائے پہرا دے ، کچھ نہ بتائے پتھر دل سے پڑ گیا پالابوجھ سکھی کیا ہے یہ نرالا  جوابات:1۔کتاب 2۔غصہ 3۔مرغا 4۔جوں 5۔تالا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خالی جگہ پُر کریں...!  1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کان سے نکلتا ہے لیکن کھایا بھی جا سکتا ہے۔ 2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی آواز پوری دنیا میں چوبیس گھنٹے سنی جا تی ہے۔ 3۔موسم اچھا تھا اور باغ میں بچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے تھے۔ 4۔ سب سے پہلے ایٹمی بجلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلامی ملک نے

خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک سال

خارجی محاذ پر سکون نہ داخلی محاذ پر قرار! جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک سال مکمل ہونے پر ایک رائے کہنہ مشق صحافی انورادھابھسین کی ہے کہ کشمیر ایک آتش فشاں بن چکا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ۔ ایک رائے سابق وزیر خزانہ اور سیاسی دانشور حسیب درابو کی ہے کہ دفعہ 370کا آئین ہند سے خاتمہ ہوچکا ہے لیکن وہ آئین سے نکل کر دلوں میںداخل ہوگیا ہے اور اب ایک نظریہ بن چکا ہے ۔ سابق وزیر اور پی ڈی پی لیڈر نعیم اختر کا کہنا ہے کہ کشمیربھارت میں ضم نہیں ہوا بلکہ گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد بھارت کشمیر میں ضم ہوا ہے ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اب پورے بھارت کے حالات کشمیر سے زیادہ ابتر ہیں ۔ان آرائوں کے درمیان بی جے پی نے دفعہ 370کے خاتمے کی یاد میں پندرہ روزہ جشن کا اعلان کیا ۔پٹاخے بھی سر کرلئے اور قومی جھنڈے بھی کئی مقامات پر لہرائے ۔ سا بق نائب وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر

’نئے کشمیر ‘کے نئے لیفٹنٹ گورنر

نئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کے بارے میں اکثر حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ نہایت سلجھے ہوئے سیاستکار، عوام دوست مصلح اور دوراندیشن سماجی کارکن ہیں۔تین بار بھارتی پارلیمان کے لئے منتخب ہونے والے منوج سنہا بھارتی کابینہ میں بھی اہم وزارتوں کا قلمدان سنبھالنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ہمیں گمان ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں معلومات رکھنے کو حب الوطنی کی بنیادی شرط سمجھتے ہیں، اور اُنہیں معلوم ہی ہوگا کہ کشمیر کو صدیوں سے توقیروں کا قبرستان یعنی  Graveyard of Reputations  کہتے ہیں۔اُن کے علم میں ہوگا کہ جب سکھ سلطنت نے انگریزوں کے ساتھ ساز باز کیا تو شیخ اماالدین کو نہایت خراب حالات میں کشمیر کا گورنر بنا کر بھیجا گیا، پھر جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا موضوع ہے۔ جن حالات میں مسٹر سنہا پدھار رہے ہیں، وہ اُن حالات سے مختلف بھی نہیں جن حالات میں اکثر اوقات یہاں سب ٹھیک ٹھاک کرنے کے لئے گورنروں کوبھیجا جاتا

وبائی دور میں آن لائن ایجوکیشن

کورونا وائرس ایک ناگہانی بلا کی صورت میںدنیا پر مسلط ہے۔ دنیا کا کوئی ملک اس بلائے ناگہانی کا سامنا کرنا تو کجا، اس سے بچاؤکا متحمل نہیں ہے۔کورونا کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا خطرہ اسکولوں اور تعلیمی اداروں پرمنڈلاتے دیکھ کر انہیں فوراً بند کردیا گیا جس کی وجہ سے روایتی طریقہ تعلیم تقریباً منقطع ہوچکا ہے۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق 114 سے زائد ملکوں میں تمام اسکول اور کالج بند پڑے ہیں۔ پوری دنیا میں ایک عرب طالب علم اس سے متاثر ہیں۔  بچوں کو اس وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی اقدامات کے بطورنجی و سرکاری تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت تک بند کردئے گئے اوراب تعلیمی اداروں کو بند ہوئے تقریباً پانچ ماہ گزر چکے ہیں۔ جو غیر یقینی صورتحال پہلے تھی آج بھی جوں کی توں برقرار ہے۔ہم دنیا کے ایک ایسے حصے میں رہتے ہیں جہاں ہنگامی حالات کوئی نئی بات نہیں بلکہ اب تو ہم ان حالات کے اتنے عادی ضرو

منشیات۔۔۔ اغیار کا پنجہ استبداد

علامہ اقبال ؒ کا ایک مشہور شعر ہے ۔    ؎ ساحرِ الموط نے تجھ کو دیا برگِ حشیش  اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخِ نبات ”الموط “قدیم زمانے میں عرب ممالک کے اندر ایک قلعہ تھا ،جس کے متعلق لوگوں میں یہ یقین بیٹھا تھا کہ جوبادشاہ اس قلعہ پر حاکم ہوجاتا ہے، اُسے اس قدر طاقت(power) حاصل ہوجاتی ہے کہ دنیا اس کے آگے سرِ تسلیم خم کرلیتی ہے۔اتفاق سے یہ قلعہ ایران کے بادشاہ حسن صباح نے فتح کر لیا اور وہ اس پر حاکم ہوگیا۔دیکھتے ہی دیکھتے اس کی سلطنت وسیع سے وسیع تر ہوتی گئی۔وہ اردگرد کے بیشتر شہروں اور بستیوں پر حکومت کرنے لگا۔اس کی رعایا میں مختلف مذاہب اور قوموں کے لوگ شامل تھے۔وہ اپنی حکومت کو دنیا کی طاقت ور ترین حکومت (   Super Power) بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش میں مصروف تھا۔وہ ہر قوم کو محکوم اور مغلوب بنارہاتھا ۔اُن پر اپنی جابرانہ حکومت اور قوان

اسپین کی جغرافیائی حدود

ملک اسپین ”جزیرہ نما“ ہے اِس کے تین سمتوں میں سمندر ہے ۔ مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم ہے جسے ”بحر متوسط ، بحرشام اور بحر مشرق“ بھی کہتے ہیں ۔ جنوب میں آبنائے ”جبل الطارق“ ہے جسے آج کل آبنائے ”جبرالٹر“ کہا جاتا ہے اور اِسے عرب ”بحر زقاق“ بھی کہتے ہیں۔ ”آبنائے جبل الطارق“ ملک اسپین کے جنوبی گوشہ اور براعظم افریقہ کے شمالی گوشہ میں ہے ۔ یہی آبنائے براعظم یورپ کو براعظم افریقہ سے الگ کرتی ہے کیونکہ ملک اسپین براعظم یورپ کا حصہ ہے ۔ ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ، مغرب میں اور شمال مغرب میں اور شمال میں ”بحر اوقیانوس“ ہے ۔ جسے عرب ”بحر محیط ، بحر ظلمات ، بحر مظلم اور بحر اعظم“ بھی کہتے ہیں۔ آج کل اِس کا نام ”بحر اٹلانٹک“ بھی ہے۔ ملک اسپین براعظم یورپ کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور شما

ملازمتوں کیلئے اعلیٰ تعلیم یا فتہ ہونا ایک جرم

 یونین پبلک سروس کمیشن کے ایک تازہ حکمنامے کے مطابق گریجویٹ امیدواروں  کے علی الرّغم اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو سیول سروس امتحان میںشامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔اس نو ٹیفکیشن کے پس پردہ کیا محرکات ہیں ،یہ جا ننا ابھی باقی ہے۔حکومت میں موجود افسران اور بیورو کریٹس اس حوالے سے کیا موقف رکھتے ہیں اور کس طرح سے اس معا ملے کو دیکھتے ہیں؟۔ ظاہر ہے اسکی بھی ابھی صرا حت نہیں ہوئی ہے ۔کئی سارئے افسران ایسے بھی ہیں جنہوں نے خود ڈاکٹریٹ اور ماسٹرس ڈگریاں حاصل کرنے بعد سول سروس امتحان میں حصہ لیا ہو۔ کیا ماضی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو کبھی سول سروس امتحانات میں شامل ہونے سے محروم رکھا گیا؟ کیا عدلیہ میں اسکی کوئی گنجایش باقی ہے؟ کیا ایک متحرک سیاسی نظام کو چلانے کے لئے ایسی کوششیں بار آور ثابت ہوسکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ  اسطرح قوم کی نیا کنارے نہیں لگ سکتی ہے بلکہ مستحقین

کورونا وائرس کا خطرہ اور ہمارا کام

 کرورونا وائرس کی وجہ سے اس وقت ساری دنیا پریشانی میں مبتلا ہے اور یہ وباء کئی ماہ سے مسلسل لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی جا رہی ہے اور آج ہر طرف سے موت کی خبریں کثرت کے ساتھ سنائی دے رہی ہیں اور اس کی وجہ سے لوگ دہشت ووحشت محسوس کر رہے ہیں ۔ لیکن اس وقت ہمیں وحشت ودہشت میں پڑنے کے بجائے دو کاموں کی جانب توجہ دینا چاہیے ۔  ایک تو یہ کہ اس سے خود بچنے اور دوسروں کو بچانے کی فکر وتدبیر کرنا چاہیے ، کیوں کہ امراض اور وباؤں اور مصائب و پریشانیوں سے محفوظ رہنے کی فکر وتدبیر اسلامی نقطۂ نظر سے بھی ایک مشروع عمل ہے اور دنیوی نقطۂ نظر سے بھی ایک معقول بات ہے؛ مگر لوگوں میں اس سلسلے میں بے احتیاطی پائی جا رہی جو اس وائرس کے خطرے کو روز بروز بڑھا تی جا رہی ہے ۔  لہٰذا حکومت کی جانب سے اور اطباء کی جانب سے اس سلسلے میں جو احتیاطی تدابیر پیش کی جا رہی ہے ، ان کو اللہ کے بھ

’تھری جی ‘تو نا ملا ،اب’ فورجی ‘تو دیں

پندرہ اگست2017کو وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کی سترویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے اپنے روایتی انداز میں تقریر کی۔شعلہ بیانی میں توخیر وہ گفتار کے غازی ہیں ہی جیسا کہ کرپشن ختم کر دوں گا، بے روز گاری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکوں گا، کوئی غریب نہیں رہے گا، چوری سے ملک کے باہر بھیجا گیا دھن واپس آئے گا اور معیشت میرے آتے ہی آسمان سے باتیں کرنے لگے گی وغیرہ۔ یہ سب  نریندرمودی کی بے پناہ تقریری صلاحیتوں کا کمال تھا کہ ان میں ایک کام بھی ڈھنگ سے نہیں کیا لیکن دونوں مرتبہ یعنی2014 اور2019 میں جی بھر کے ووٹ بٹورے ۔ چلتے ہیں موضوع کی طرف، لال قلعہ سے اس بھاشن میں موصوف نے جموں و کشمیر کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور باقی ہم وطنوں کو صاف الفاظ میں ہدایات جاری کیں کہ 'نہ گولی سے نہ گالی سے، کشمیر کی سمسیا سلجھے گی گلے لگانے سے" ۔بظاہر تو بڑی اچھی بات لگی لیکن اندرون خانہ کچھ اور

دفعہ 370| پُل سے رُکاوٹ تک

1۔دفعہ 370 انتہائی متنازعہ اور بہت سی متصادم حقائق کی شدت سے دعویداری کی علامت تھی۔ سیاسی میدان عمل کے ہر رنگ ۔ علیحدگی پسندوں سے لے کر خود مختاری کے توسط سے انضمام پسندوں تک سبھی نے اپنے دائرہ کار میں اس کے معنی نکالے۔  2۔ دائیں بازو کی قدامت پسند جماعتوں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کے ساتھیوں کے لئے کشمیر کی خصوصی پوزیشن ان کے نظریہ ٔ قوم ،قومی ریاست اورقوم پرستی کی نفی تھی۔ وفاق ایک صوبہ کے ساتھ خود مختاری کو کیسے بانٹ سکتاہے؟ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے بلاشبہ جموں و کشمیر نے اسے نہ صرف نظریاتی طور پر گستاخانہ بنایا ، بلکہ سیاسی طور پر ناقابل قبو ل بھی بنایا۔  3۔ بے شک خصوصی آئینی انتظامات کے کچھ دن بعد ہی جن سنگھ ، جو بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بن گئی ، نے جموں میں "ایک ودھان ، ایک پردھان ، ایک نشان" ایجی ٹیشن شروع کی جہاں اس

سماج اور سماجی اصلاح

اگر فرد بشر کو کتاب بشریت کی ایک پرت سے تشبیہ دی جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اس پرت کے دورخ یعنی دو صفحے ہیں۔ ایک صفحہ پر اجتماعیت کا رنگ غالب ہے اور دوسرا صفحہ ذاتی و انفرادی نقش و نگار سے بھرا پڑا ہے۔ شیرازہ بندی نہ ہونے کی صورت میں بشریت کے یہ اوراق حادثاتِ زمانہ اور قدرتی آفات کے طوفان سے خس و خاشاک کی مانند کائنات کی وسیع فضا میں گم ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت نے فطری طور ان اوراق کی شیرازہ بندی کا انتظام کررکھا ہے۔ اس قدرتی شیرازہ بندی پر عالم انسانیت کی حیات کا دارومدار ہے۔؎  ہیں ربط باہمی سے قائم نظام سارے  پوشیدہ ہے یہ نکتہ تاروں کی زندگی میں واضح طور پر کہا جاسکتا ہے کہ خالق ہستی نے انسان کی فطرت میں ہی باقی ہم جنس انسانوں کیساتھ جذب و میلان رکھا ہے۔ نافہم بچے کا اپنی ماں یا دیگر مانوس افراد کی وقتی جدائی پر بھی چیخنا چلانا بتاتا ہے کہ انسان فطرتا ًانجمن

تازہ ترین