بنتِ حوا کے ارمانوں کا یوں خون نہ کریں

یوں تو نکاح کرنا سنت مؤکدہ ہے مگر ہمارے اعمال وافعال اور نظریات سے اب شادیاں بارگراں بن چکی ہیں اور جوان لڑکے و لڑکیاں اب شادی جیسے پاک رشتے سے منہ موڑ رہے ہیں۔ اس کے وجوہات رسومات بد کے علاوہ شادی بیاہ کے پروگراموں میں مغربی تہذیب وتمدن کی تقلید ہے ۔ہم اب شادیاں اسلامی حدود کے اندر انجام نہیں دیتے ہیں اور ہم اسلامی سادگی کے سارے اصولوں کو پھلانگتے ہوئے دوسری تہذیبوں اور تمدنوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب شادیوں پر ہزاروں روپے کے بجائے لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں جس کا اثر سیدھے غریب ،مفلوک الحال، یتیموں اور بیواؤں پر پڑتا ہے جن کی بیٹیاں اب مہندی رچنے کے انتظار میں یا تو بوڑھی ہوچکی ہیں یا کئی بیٹیوں نے رسومات بد سے تنگ آکر خود کو تختہ دار پر لٹکایا ہے۔ جن لوگوں کے پاس ذریعہ معاش نہیں ہے، ان کا رسموں رواجوں نے جینا حرام کردیا ہے اور جب تک نہ آج کی شادیوں میں لاکھوں روپ

تحفۂ علمدارِکشمیر | کلام شیخ نور الدین نورانی کشمیریؒ کا منظوم فارسی ترجمہ

وادیٔ کشمیر کے معروف قلم کار‘ادیب اور اقبال شناس پروفیسر بشیر احمدنحوی صاحب اپنے ایک قلم برداشتہ مضمون بعنوان’’فارسی شیرین زبان‘‘ میںیوں رقم طراز ہیں کہ :’’اس بات پر ماہرین لسانیات میں سے اکثریت کا اتفاق ہے کہ دنیا میں جو زبانیں بولی جاتی ہیں‘ ان میں لسانی حلاوت‘ رنگ و آہنگ کی شیرنی اور فنی محاسن کے اعتبار سے زبان فارسی سہل الفہم ‘ سلیس سادہ او رملائم زبان ہے ‘مغلق الفاظ‘ پیچیدہ تراکیب‘ ثقیل محاورات سے آزاد فارسی اس دیس میںجنم لے چکی ہے ۔جسے ایران کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اپنے ابتدائی ایام سے ہی فارسی علم و آگہی‘ فصاحت و بلاغت‘نکتہ آفرینی اور سب سے بڑھ کر اخلاق آدمیت کا ترجما ن بھی او ربڑھ چڑھ کر علم بردار بھی رہی ہے‘‘۔(بحوالۂ سرحدِ ادراک)  ایران کے علاوہ یہ شیرین زبان وس

ایشیا پیسفک؛ اپ 10ٹیکنالوجی کمپنیاں

ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہر کمپنی کو، چاہے وہ مقامی ہو یا ملٹی نیشنل، اسے کہیں نہ کہیں اور کبھی نہ کبھی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی ضرور ت پڑہی جاتی ہے۔ ٹیکنالوجی کو فروغ دینے والی کمپنیوں کے نہ صرف حجم میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ان میں سرمایہ کاری بھی بڑھ رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ ان کی تیز تر ترقی ہے۔ اس ضمن میں ایشیا پیسفک کا خطہ بھی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مالا مال ہے۔ ڈیلائیٹ(Deloitte Touche Tohmatsu Limited) نامی گلوبل مینجمنٹ کنسلٹنگ فرم دنیا کی چار بڑی اکائونٹنگ آرگنائزیشنز میں سے ایک ہے جبکہ ریونیو اور پیشہ ورانہ افراد کی تعداد کے لحاظ سے یہ دنیا میں سب سے بڑا پروفیشنل سروس نیٹ ورک ہے۔ ڈیلائیٹ کی ’’2018 Technology Fast 500 Asia Pacific‘‘رپورٹ کے مطابق اس خطیمیں چین کی ’Ke.com‘ تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سر فہرست ہے۔ بیجنگ میں موجود

کشمیر’سرنو انضمام‘ کے ادھورے ایجنڈاکا شکار تو نہیں ہوگا! | آبادیاتی اکثریت کو سیاسی اقلیت میں تبدیل نہ کریں،ایک اور تقسیم ہی کریں

ٹھیک ایک سال پہلے بی جے پی نے وہ سب کچھ کیا جس کے بارے میں کشمیر میں کسی نے کبھی وہم وگماں تک نہیں تھا کہ کوئی ایسا کرپائے گا۔ آئینی نزاکت جائے بھاڑ میں ، حقیقت یہ ہے کہ یہ کیا گیا ہے۔ تب ایسا اپروچ تھا اور جب سے ہی مسلسل یہی رویہ رہا ہے۔  بی جے پی کے پیش رو جن سنگھ نے 1951 میں جموں میں "ایک ودھان ، ایک پردھان ، ایک نشان" ایجی ٹیشن شروع کی تھی اور اس کے بعد پچھلے 70 برسوں سے یکتا عقیدت کے ساتھ اس کا پیچھا کرنے کے بعدبی جے پی نے آخر کار اس کو5اگست2019کو ہندوستانی حکومت کی پالیسی بنا دیا۔ ایک سال بعدیہ نظریہ کے لحاظ سے متنوع سیاسی جماعتوں ، عدلیہ کے خود مختار اداروں اور ریگولیٹرز ، ذیلی قومی حکومتوں اور بلاشبہ قومی میڈیا اور ملک کی سول سوسائٹی کیلئے کشمیر کے بارے میں قومی پالیسی بن گئی ہے۔ چھوٹی موٹی پریشانیوں جیسے منسوخی کاطریقہ کار، 4G کی بحالی ، مرکزی دھارے میں شا

سرکارکی نظرمیں5اگست اہم کیوں؟

فضائے تیرہ کو نور عمل سے دور کرو پھر آگے آگ کے دریاؤں کو عبور کرو لیجیے صاحب رام مندر کی بنیادرکھ دی گئی ۔ہمارے پردھان سیوک نے5اگست کو اجودھیامیں وارد ہوکررام للا کے درشن کیے اور بھومی پوجن کے مذہبی فریضہ کی’پردھانی‘بھی خودہی کی۔ اسی دن مودی نے قوم کو خطاب کیا اور کہا کہ’ انڈونیشیا، ملیشیا تھائی لینڈ، کمبوڈیا،میں ہی نہیں بلکہ رام کی پوجا کئی مسلم ملکوں میں بھی ہوتی ہے۔رام نام ہے انصاف کا،ظلم سے جہاد کا،دنیا برائی مٹانے یا کم کرنے کا۔‘ وزیر اعظم نے اپنی تقریرکے ذریعہ یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ اب ہمارے ملک میں پوری طرح سے ’رام راج‘ لاگو ہو جائے گا۔ گودی میڈیا جوبرسوں سے دن رات ’جھوٹے پرچار‘کے ذریعہ حکومت کی ’شبیہ سازی‘میںمصروف ہے،وہ’ستیہ میو جیتے‘ کی جانب کس انداز میں پلٹتاہے اورحقیقت بیانی کے ذریعہ

تازہ ترین