تازہ ترین

گوشہ اطفال|8 اگست 2020

بوجھو تو جانیں…!!! 1۔منہ سے تو وہ کچھ بھی نہ بولی اک اک بات مگر ہے کھولی ہے وہ علم کا اک خزانہ رکھے پاس اسے ہر دانا  2۔غور کرو اور دیکھو بھالو چاہے پی لو چاہے کھالو  3۔گرچہ وضو کرتا نہیں دیتا ہے اذانیں کیا نام ہے اس شوخ کا بتلائو تو جانیں  4۔کالے بن کی کا لی ماسی ہے وہ سب کے خون کی پیاسی  5۔گوداموں میں مال چھپائے پہرا دے ، کچھ نہ بتائے پتھر دل سے پڑ گیا پالابوجھ سکھی کیا ہے یہ نرالا  جوابات:1۔کتاب 2۔غصہ 3۔مرغا 4۔جوں 5۔تالا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خالی جگہ پُر کریں...!  1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کان سے نکلتا ہے لیکن کھایا بھی جا سکتا ہے۔ 2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی آواز پوری دنیا میں چوبیس گھنٹے سنی جا تی ہے۔ 3۔موسم اچھا تھا اور باغ میں بچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے تھے۔ 4۔ سب سے پہلے ایٹمی بجلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلامی ملک نے

خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک سال

خارجی محاذ پر سکون نہ داخلی محاذ پر قرار! جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک سال مکمل ہونے پر ایک رائے کہنہ مشق صحافی انورادھابھسین کی ہے کہ کشمیر ایک آتش فشاں بن چکا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ۔ ایک رائے سابق وزیر خزانہ اور سیاسی دانشور حسیب درابو کی ہے کہ دفعہ 370کا آئین ہند سے خاتمہ ہوچکا ہے لیکن وہ آئین سے نکل کر دلوں میںداخل ہوگیا ہے اور اب ایک نظریہ بن چکا ہے ۔ سابق وزیر اور پی ڈی پی لیڈر نعیم اختر کا کہنا ہے کہ کشمیربھارت میں ضم نہیں ہوا بلکہ گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد بھارت کشمیر میں ضم ہوا ہے ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اب پورے بھارت کے حالات کشمیر سے زیادہ ابتر ہیں ۔ان آرائوں کے درمیان بی جے پی نے دفعہ 370کے خاتمے کی یاد میں پندرہ روزہ جشن کا اعلان کیا ۔پٹاخے بھی سر کرلئے اور قومی جھنڈے بھی کئی مقامات پر لہرائے ۔ سا بق نائب وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر

’نئے کشمیر ‘کے نئے لیفٹنٹ گورنر

نئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کے بارے میں اکثر حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ نہایت سلجھے ہوئے سیاستکار، عوام دوست مصلح اور دوراندیشن سماجی کارکن ہیں۔تین بار بھارتی پارلیمان کے لئے منتخب ہونے والے منوج سنہا بھارتی کابینہ میں بھی اہم وزارتوں کا قلمدان سنبھالنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ہمیں گمان ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں معلومات رکھنے کو حب الوطنی کی بنیادی شرط سمجھتے ہیں، اور اُنہیں معلوم ہی ہوگا کہ کشمیر کو صدیوں سے توقیروں کا قبرستان یعنی  Graveyard of Reputations  کہتے ہیں۔اُن کے علم میں ہوگا کہ جب سکھ سلطنت نے انگریزوں کے ساتھ ساز باز کیا تو شیخ اماالدین کو نہایت خراب حالات میں کشمیر کا گورنر بنا کر بھیجا گیا، پھر جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا موضوع ہے۔ جن حالات میں مسٹر سنہا پدھار رہے ہیں، وہ اُن حالات سے مختلف بھی نہیں جن حالات میں اکثر اوقات یہاں سب ٹھیک ٹھاک کرنے کے لئے گورنروں کوبھیجا جاتا