آیا صوفیہ میں ذکر الٰہی بحال | مسجد اقصیٰ اور مسجد قرطبہ بھی کسی اردغان کی منتظر

 گزشتہ جمعہ 24؍جولائی 2020 کو ترکی کے شہراستنبول میں ایک اعلیٰ عدالتی فیصلہ کے مطابق آیا صوفیہ کی86؍ سال بعد از سر نو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کردیا گیا، اور دہائیوں بعد اس تاریخی مسجد میں پہلی نماز جمعہ کی ادائیگی سے نہ صرف ترکی بلکہ پورے عالم اسلام میں خوشی اور مسرت کا اظہار کیا گیا۔دنیا کی نام نہاد سیکولر اور لبرل طاقتوں کے شد ید دبائو کے باوجود رجب طیب اردگان نے دھونس ،د باؤ اور دھمکیوں کو جوتے کی نوک پہ رکھ کے یہ اعلان کیا کہ جمعہ کی نماز مسجد آیا صوفیہ میں ضرور ادا ہوگی۔ اس اعلان کے بعد ساری مسلم دنیا کے لئے یہ دن کسی عید سے کم نہیں تھا،کرونا جیسے وبائی مرض کی موجودگی کے باوجود مسلمانوں نے تاریخ ساز اعلان کے بعد اپنی خوشیوں کاخوب اظہار بھی کیا اور تاریخ کو واپس اپنی ڈگر پر جاتے دیکھ کر شکرانے کے سجدے بھی اداکیے ۔ آیا صوفیہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے قبل دیے گئے خطبے میں

معاملہ نجی اسکولوں کی فیس کا ’ غمِ عشق گر نہ ہوتو غم ِ روزگار ہوتا‘

کرونا وائرس کی وجہ سے جاری موجودہ لاک ڈاون کے بیچ جہاں کئی نئے اور پیچیدہ مسائل اور معاملات سامنے آرہے ہیں وہاں پچھلے تین ماہ سے کشمیر میں اِس بات کو لیکر کافی بحث و تمحیص اور لے دے ہو رہی ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے بند پڑے نجی سکولوں کو اِس عرصہ کا فیس وصولنے کا حق ہے کہ نہیں۔ اس دوران نجی سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کے نام پر ایک عدد تنظیم بھی سامنے آئی اور اس نام پر کئی لوگوں نے خاصی سرگرمی اور پھرتی دکھائی۔زیر تعلیم بچوں کے والدین کا ایک موثر پلیٹ فارم وجود میں لانا وقت کی اہم اور فوری ضرورت ہے اور یہ ایک احسن قدم ہوسکتا ہے اگر قول و فعل میں کسی تضاد کے بغیر کام کیا جائے۔ ہم والدین کی ایسوسی ایشن بنانے پر معترض نہیں ہیں البتہ ہمارا ضرور یہ پوچھناہے کہ اس پلیٹ فارم کو صرف نجی سکولوں تک ہی کیونکر محدود رکھا جا رہا ہے۔ کیا سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچے ہماری توجہ کے مستحق نہ

قربانی کریں لیکن پاکیزگی کا خیال رکھیں

عید قربان کی آمد آمد ہے اور دوسری سمت کرونائی حدتیںاو رشدتیں انسانیت کو لرزہ براندام کئے ہوئے ہیں۔ نت نئی بیماریاں الٰہی مخلوق پر حملہ آور ہیں اور ماحولیاتی آلودگی نے بھی انسانیت کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ ہم جس دین مطہر سے وابستہ ہیں اْس نے جہاں قلوب کی طہارت اور ابدان کی پاکیزگی کو زبردست اہمیت دی ہے، وہاں ماحول کی نفاست اس کے یہاں سر فہرست رہی ہے۔ اس نے توبہ کرنے والے اور صفائی پسند لوگوں کو اللہ کا محبوب گردانا ہے پاکیزگی کو نصف ایمان سے تعبیر کیا ہے۔[مسلم] امت مسلمہ کے دلوں میں جس کعبۃ اللہ کے طواف و حج کا شوق و جذبہ بہر آن موجزن رہتا ہے۔ اس گھر کے مالک نے اس کے معمار سیدنا ابراہیم ؑ کو اس کی تعمیر کے وقت ہی اس امر سے آگاہ فرمایا تھا کہ میرے اس گھر کو طواف ، اعتکاف اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک رکھ [القرآن] لیکن اسے ہماری کور بختی ہی کہئے کہ بہت سے مقامات پر مسلمان بستیوں ک

عیدالاضحی… قربانی و تقویٰ کا پیغام

عیدالاضحی کا معنی '' عید معنی خوشی اور الاضحی معنی قربانی۔ یعنی وہ خوشی جو انسان کو اپنا قیمتی سرمایہ اللہ کی راہ میں قربان کر کے حاصل ہوتی ہے، اس خوشی کا نام عیدِ قربان ہے، یہ عید مسلمانوں کا وہ مقدس دن ہے جو 10 ذی الحجہ کو منایا جاتا ہے، جس میں جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے۔ دین اسلام میں عید الاضحی اْمت ِمسلمہ کے لئے ایک عظیم الشان حیثیت رکھتا ہے،یہ سیدنا ابراہیم ؑ کی سنت اور عظیم یادگار ہے، یہ قربانی جہاں فی نفسہ ایک عظیم عبادت ہے، وہیں اس قربانی کے اندر امت مسلمہ کی تقوی اور للہٰیت کے حصول کا سامان بھی فراہم کرتا ہے جس میں سیدنا ابراہیم خلیل اللہ نے اپنی دانست میں اللہ تعالی کا حکم و اشارہ پاکر اپنے لخت جگر سیدنا حضرت اسماعیل ؑ کو ان کی رضامندی سے قربانی کے لئے اللہ تعالی کے حضور میں پیش کر کے اور ان کے گلے میں چھری چلا کر اپنی سچی وفاداری اور کامل تسلیم و رضا کا ثبوت د

قربانی اور صفائی

قربانی کے دنوں میں قربانی کرنے پر جس طرح بے انتہا اجر و ثواب لکھا جاتا ہے ، اسی طرح قربانی کے فضلات اور غیر ضروری چیزوں کو اہتمام سے دفن کرنے میں بھی بہت زیادہ اجر و بشارت کا وعدہ ہے۔ یہ بات تو اکثر حضرات کے علم میں ہے کہ مذہب اسلام میں ’’ صفائی و ستھرائی ‘‘ کا کیا مقام ہے ؟ اور غلاظت و گندگی پھیلانا کس قدر مذموم ہے ، نظافت و صفائی سے متعلق صرف یہ حدیث ہی کافی ہے ، جس میں بتلایا گیا ہے کہ ’’ نظافت آدھا ایمان ہے ‘‘ اب جس چیز کو شریعت میں ایمان کی علامت سے منسوب کردیا جائے ، وہ شے کتنی اہم اور اعلیٰ ہوگی ، کیوں کہ اعمال سے بھی بڑی چیز ایمان ہے ، اور صفائی و ستھرائی کا پورے ایمان کا نصف حصہ قرار دے کر اس کے درجے کو کس قدر بلند وبالاکردیا گیا ہے ؟ بخوبی سمجھا جاسکتا ہے ۔  قربانی کرنا ہر صاحب استطاعت پر واجب ہے ، اور چونکہ یہ چیز ایس

تازہ ترین