تازہ ترین

خانہ بدوش لوگوں کی بدحالی | وجوہات اور تدارک

خانہ بدوش جو حرف عام میں بکروالوں کے نام سے جانے جاتے ہیں  جموں وکشمیر کے پشتنی باشندے ہیں اور تقریباً ہر ضلعے میں پائے جاتے ہیں ۔پہاڑوں ،ڈھوکوں ،مرگوں ،دروں اور چراگاہوں سے جونہی برف پگھلتی ہے تو یہ لوگ جموں کے مختلف اضلاع خاص کر راجوری ،ریاسی ،پونچھ اور ادھمپور  سے  مال مویشی سمیت وادی کشمیر کی طرف رخ کرتے ہیں ۔بیشتر لوگ دشوار ترین  پہاڑی راستوں سے گزر کر وادی کشمیر کی مرگوں اور ڈھوکوں میں وارد ہوتے ہیں ۔ان کا یہ سفر کوئی تفریح نہیں بلکہ مجبوری ہوتی ہے ۔یہ لوگ غربت کے شکار تو ہوتے ہی ہیں ساتھ ہی بیکار بھی ۔ ان کی بدحالی اور کسمپرسی ہماری سوچ سے زیادہ ہے ۔بھیڑ، بکریاں ، گھوڑے ،بھینس وغیرہ رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ ان چوپایوں کے لئے غذا کی فراہمی ہمیشہ ایک چلینج بنا رہتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ انہیں سال بھر جگہ جگہ گھومنا پڑتا ہے ۔مال مویشی کو ڈھوکوں اور بہ

سود کی ممانیت اور تباہ کاریاں

ابن ماجہ اور اصبحانی کی ایک روایت جو امامہ غزالی نے اپنی شہر آفاق کتاب مکاشفتہ القلوب میں بھی نقل کی ہے کے مطابق حضور ﷺ کے ایک فرمان میں یہ وضاحت فرمائی گئی کہ معراج کی رات جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچے تو میں نے اوپر دیکھا تو مجھے گرج بجلیاں اور شدید اور تند اندھیاں نظر آئیں ۔ پھر میں ایسے لوگوں کے پاس پہنچا جن کے پیٹ مکانوں کی طرح تھے اور باہر سے جھانک کر ان کے پیٹوں میں سے سانپ نظر آرہے تھے۔ جبرئیل ؑ سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں جبر ئیل ؑ نے فرمایا یہ سود خور ہیں ابو سعید خدری ؓ کی ایک اور روایت جو اصبحانی سے نقل کی گئی ہے میں کہا گیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب مجھے آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو آسمانی دنیا میں دیکھا کہ وہاں پر ایسے آدمی ہیں جن کے پائوں بڑے بڑے مکانوں کی طرح ہیں اور جھُکے ہوئے تھے ال فرعون کی گذرگاہ میں پڑے ہوئے تھے اور ہر صبح و شام جہنم کے کنارے پر کھڑے ہوکر کہتے

حضرت ابودردا ۔ ایک عظیم صحابی | مصیبتوں کو چھُپا،قربِ حق نصیب ہوگا

حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مشہور صحابی ہیں .آپ کا نام عویمر ابن عامرتھا ۔درداءآپ کی بیٹی کا نام تھا. آپ اپنے گھر والوں کے بعد ایمان لائے۔ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن رواحہ جو اسلام لا چکے تھے .وہ آپ کو اسلام لانے کے بارے میں سمجھایا کرتے تھے۔لیکن وہ اس دعوت کو قبول نہیں کرتے تھے ۔حضرت عویمر نے اپنے گھر میں ایک بُت رکھا تھا ۔جس کی وہ عبادت کیا کرتے تھے۔ایک دن حضرت عبداللہ بن رواحہ نے حضرت عویمر کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھایا ،اپنے پاس موجود کلہاڑے سے اس بُت کو توڑنا شروع کر دیا ۔بصورتِ شعر بتوں کی مذمت کرنے لگے۔اللہ پاک کی وحدانیت کو بیان کرنے لگے۔جب حضرت عُوَیمر گھر آئے ،تو ان کی بیوی نے روتے ہوئے سارا واقعہ بتایا ۔جسے سن کر آپ غصّہ میں آگئے،قریب تھا کہ اپنے بھائی کے خلاف کوئی انتقامی کاروائی کرتے لیکن دریں اثناء دل میں ایک خیال پیدا ہوا کہ اگربُت کے پاس ک

جس نے غنچوں کو کھلایا اور گل تر کردیا

  جن کی کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک ان کی تدریس سے پتھر بھی پگل سکتے ہیں  ایک قوم کی تعمیر میں ایسا ہی مقام رکھتا ہے جیسا کہ پیغمبر اپنے مخصوص قوموں کی تعمیر اور تصحیح کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں ایک پائدار اور ترقی یافتہ سماج کا منظر نامہ تب تک قائم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ اس میں اساتذہ کی حیثیت کا مقام مقر ر نہ ہو ۔ استاد ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جو نہ صرف اپنے طلبا ء بلکہ پوری عوام کے دلوں پر اپنے خیالات سے راج کرتے ہیں جن کی روحانی قوت طلبا کی روحانی قوتوں اور صلاحیتوں کو نکھارنے کا کام کرتے ہیں ۔ انہی شخصیتوں میں پروفیسر مجید مضمر ایک ایسے شخص گزرے ہیں جن کی قلندرانہ صفت نے وادی کشمیر کو ہزاروں روحانی سطح پر ایسے افراد تیار کر کے دیے جن کا فیض عام مختلف تدریسی اداروں میں رواں دواں ہے ۔ راقم کو یہ شرف حاصل رہا ہے کہ دوران ایم اے اردو کورس میں میں بھی ایک عام ط

پسِ زندان کی کہانی۔۔۔بابا کی زبانی

 اللہ تعالی کی عظیم نعمتوں  میں سے اولاد بھی  نعمت عظمی تصور کی جاتی ہے۔اسی اولاد کی پرورش اور نگہبانی  میںوالدین کو کن کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اس کا مجھے بخوبی ادراک ہے۔یہی اولاد جب بے گناہ قید وبند  میں شام و سحر گزار تا ہے تو والدین پر کیا بیتی ہے اس کا بھی مجھے پورا احساس ہے۔ میں نے بھی اپنی جوانی کے بارہ سال والدین کی غیر موجودگی میں گزارے ۔میرے والدین پر کیا بیتی ۔ تو پھرخاموشی سے سن لیجئے ۔میرا نا م بشیر احمد بابا ہے  اور میری پیدائی شہر خاص کے ایک مشہور علاقے رعناواری میں 14-04-19975 میں ہوئی ۔اس کے بعد اپنی ابتدائی تعلیم  اپنی ہی علاقے میں حاصل کی ۔  اسلامیہ کالج آف سائنس اینڈ کامرس حول سرینگر سے  بی۔ ای س۔سی2000 میں پاس کیا  اورساتھ ساتھ میں نے ٹیکنیکل ایجوکیشن  کے توسط سے کمپیوٹر سائنس میں ڈپلومہ بھی کیا اوراپنا ایک ک

علیم صبا نویدی کا ایک اور تحقیقی کارنامہ | ’’تمل ناڈو میں اردو افسانہ نگاری‘‘

اردو زبان وادب کی یہ خوش نصیبی ہے کہ اسے علیم صبا نویدی جیسامحنتی،باذوق اور بے لوث شاعر،محقق،نقاد،افسانہ نگار،تاریخ نویس،مترجم ،مفکر اور ایک نیک انسان نصیب ہوا ہے ۔ وہ تقریباً ساٹھ کتابوں کے مصنف ہیں اوروہ کتابیں ہیں جو زبان وبیان ،فکر واحساس اور حقائق کے لحاظ سے مستند اور حوالے  کا درجہ رکھتی ہیں ۔موصوف کی علمی وادبی جستجو کا یہ عالم ہے کہ وہ شعر وادب کی بیشتر اصناف میں کامیاب طبع آزامائی کرچکے ہیں ۔’’ٹمل ناڈو میں اردو ادب کی تاریخ ‘‘اُن کا ایک عظیم ادبی کارنامہ ہے جو دو جلدوں پہ مشتمل ہے اور تقریباً دوہزار صفحات  سے زائدپہ محیط ہے ۔انھوں نے جہاں ٹمل ناڈو میں اردو نثر نگاری کے بارے میں اردو والوں کو متعارف کرایا تو وہیں اس خطے میں نعت گوئی ،قدیم اردو غزل،جدید اردو غزل،پابند نظم ،آزاد نظم ،سانیٹ اورترائیلے جیسی جدید شعری اصناف کو نہ صرف تاریخی ،تہذیب