خانہ بدوش لوگوں کی بدحالی | وجوہات اور تدارک

خانہ بدوش جو حرف عام میں بکروالوں کے نام سے جانے جاتے ہیں  جموں وکشمیر کے پشتنی باشندے ہیں اور تقریباً ہر ضلعے میں پائے جاتے ہیں ۔پہاڑوں ،ڈھوکوں ،مرگوں ،دروں اور چراگاہوں سے جونہی برف پگھلتی ہے تو یہ لوگ جموں کے مختلف اضلاع خاص کر راجوری ،ریاسی ،پونچھ اور ادھمپور  سے  مال مویشی سمیت وادی کشمیر کی طرف رخ کرتے ہیں ۔بیشتر لوگ دشوار ترین  پہاڑی راستوں سے گزر کر وادی کشمیر کی مرگوں اور ڈھوکوں میں وارد ہوتے ہیں ۔ان کا یہ سفر کوئی تفریح نہیں بلکہ مجبوری ہوتی ہے ۔یہ لوگ غربت کے شکار تو ہوتے ہی ہیں ساتھ ہی بیکار بھی ۔ ان کی بدحالی اور کسمپرسی ہماری سوچ سے زیادہ ہے ۔بھیڑ، بکریاں ، گھوڑے ،بھینس وغیرہ رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ ان چوپایوں کے لئے غذا کی فراہمی ہمیشہ ایک چلینج بنا رہتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ انہیں سال بھر جگہ جگہ گھومنا پڑتا ہے ۔مال مویشی کو ڈھوکوں اور بہ

سود کی ممانیت اور تباہ کاریاں

ابن ماجہ اور اصبحانی کی ایک روایت جو امامہ غزالی نے اپنی شہر آفاق کتاب مکاشفتہ القلوب میں بھی نقل کی ہے کے مطابق حضور ﷺ کے ایک فرمان میں یہ وضاحت فرمائی گئی کہ معراج کی رات جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچے تو میں نے اوپر دیکھا تو مجھے گرج بجلیاں اور شدید اور تند اندھیاں نظر آئیں ۔ پھر میں ایسے لوگوں کے پاس پہنچا جن کے پیٹ مکانوں کی طرح تھے اور باہر سے جھانک کر ان کے پیٹوں میں سے سانپ نظر آرہے تھے۔ جبرئیل ؑ سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں جبر ئیل ؑ نے فرمایا یہ سود خور ہیں ابو سعید خدری ؓ کی ایک اور روایت جو اصبحانی سے نقل کی گئی ہے میں کہا گیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب مجھے آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو آسمانی دنیا میں دیکھا کہ وہاں پر ایسے آدمی ہیں جن کے پائوں بڑے بڑے مکانوں کی طرح ہیں اور جھُکے ہوئے تھے ال فرعون کی گذرگاہ میں پڑے ہوئے تھے اور ہر صبح و شام جہنم کے کنارے پر کھڑے ہوکر کہتے

حضرت ابودردا ۔ ایک عظیم صحابی | مصیبتوں کو چھُپا،قربِ حق نصیب ہوگا

حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مشہور صحابی ہیں .آپ کا نام عویمر ابن عامرتھا ۔درداءآپ کی بیٹی کا نام تھا. آپ اپنے گھر والوں کے بعد ایمان لائے۔ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن رواحہ جو اسلام لا چکے تھے .وہ آپ کو اسلام لانے کے بارے میں سمجھایا کرتے تھے۔لیکن وہ اس دعوت کو قبول نہیں کرتے تھے ۔حضرت عویمر نے اپنے گھر میں ایک بُت رکھا تھا ۔جس کی وہ عبادت کیا کرتے تھے۔ایک دن حضرت عبداللہ بن رواحہ نے حضرت عویمر کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھایا ،اپنے پاس موجود کلہاڑے سے اس بُت کو توڑنا شروع کر دیا ۔بصورتِ شعر بتوں کی مذمت کرنے لگے۔اللہ پاک کی وحدانیت کو بیان کرنے لگے۔جب حضرت عُوَیمر گھر آئے ،تو ان کی بیوی نے روتے ہوئے سارا واقعہ بتایا ۔جسے سن کر آپ غصّہ میں آگئے،قریب تھا کہ اپنے بھائی کے خلاف کوئی انتقامی کاروائی کرتے لیکن دریں اثناء دل میں ایک خیال پیدا ہوا کہ اگربُت کے پاس ک

جس نے غنچوں کو کھلایا اور گل تر کردیا

  جن کی کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک ان کی تدریس سے پتھر بھی پگل سکتے ہیں  ایک قوم کی تعمیر میں ایسا ہی مقام رکھتا ہے جیسا کہ پیغمبر اپنے مخصوص قوموں کی تعمیر اور تصحیح کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں ایک پائدار اور ترقی یافتہ سماج کا منظر نامہ تب تک قائم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ اس میں اساتذہ کی حیثیت کا مقام مقر ر نہ ہو ۔ استاد ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جو نہ صرف اپنے طلبا ء بلکہ پوری عوام کے دلوں پر اپنے خیالات سے راج کرتے ہیں جن کی روحانی قوت طلبا کی روحانی قوتوں اور صلاحیتوں کو نکھارنے کا کام کرتے ہیں ۔ انہی شخصیتوں میں پروفیسر مجید مضمر ایک ایسے شخص گزرے ہیں جن کی قلندرانہ صفت نے وادی کشمیر کو ہزاروں روحانی سطح پر ایسے افراد تیار کر کے دیے جن کا فیض عام مختلف تدریسی اداروں میں رواں دواں ہے ۔ راقم کو یہ شرف حاصل رہا ہے کہ دوران ایم اے اردو کورس میں میں بھی ایک عام ط

پسِ زندان کی کہانی۔۔۔بابا کی زبانی

 اللہ تعالی کی عظیم نعمتوں  میں سے اولاد بھی  نعمت عظمی تصور کی جاتی ہے۔اسی اولاد کی پرورش اور نگہبانی  میںوالدین کو کن کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اس کا مجھے بخوبی ادراک ہے۔یہی اولاد جب بے گناہ قید وبند  میں شام و سحر گزار تا ہے تو والدین پر کیا بیتی ہے اس کا بھی مجھے پورا احساس ہے۔ میں نے بھی اپنی جوانی کے بارہ سال والدین کی غیر موجودگی میں گزارے ۔میرے والدین پر کیا بیتی ۔ تو پھرخاموشی سے سن لیجئے ۔میرا نا م بشیر احمد بابا ہے  اور میری پیدائی شہر خاص کے ایک مشہور علاقے رعناواری میں 14-04-19975 میں ہوئی ۔اس کے بعد اپنی ابتدائی تعلیم  اپنی ہی علاقے میں حاصل کی ۔  اسلامیہ کالج آف سائنس اینڈ کامرس حول سرینگر سے  بی۔ ای س۔سی2000 میں پاس کیا  اورساتھ ساتھ میں نے ٹیکنیکل ایجوکیشن  کے توسط سے کمپیوٹر سائنس میں ڈپلومہ بھی کیا اوراپنا ایک ک

علیم صبا نویدی کا ایک اور تحقیقی کارنامہ | ’’تمل ناڈو میں اردو افسانہ نگاری‘‘

اردو زبان وادب کی یہ خوش نصیبی ہے کہ اسے علیم صبا نویدی جیسامحنتی،باذوق اور بے لوث شاعر،محقق،نقاد،افسانہ نگار،تاریخ نویس،مترجم ،مفکر اور ایک نیک انسان نصیب ہوا ہے ۔ وہ تقریباً ساٹھ کتابوں کے مصنف ہیں اوروہ کتابیں ہیں جو زبان وبیان ،فکر واحساس اور حقائق کے لحاظ سے مستند اور حوالے  کا درجہ رکھتی ہیں ۔موصوف کی علمی وادبی جستجو کا یہ عالم ہے کہ وہ شعر وادب کی بیشتر اصناف میں کامیاب طبع آزامائی کرچکے ہیں ۔’’ٹمل ناڈو میں اردو ادب کی تاریخ ‘‘اُن کا ایک عظیم ادبی کارنامہ ہے جو دو جلدوں پہ مشتمل ہے اور تقریباً دوہزار صفحات  سے زائدپہ محیط ہے ۔انھوں نے جہاں ٹمل ناڈو میں اردو نثر نگاری کے بارے میں اردو والوں کو متعارف کرایا تو وہیں اس خطے میں نعت گوئی ،قدیم اردو غزل،جدید اردو غزل،پابند نظم ،آزاد نظم ،سانیٹ اورترائیلے جیسی جدید شعری اصناف کو نہ صرف تاریخی ،تہذیب

ذبح عظیم اور توحید کی بازیافت

صحابہ ؓ اگرچہ رسالتمآب ؐ سے بہت کم سوال کیا کرتے تھے، لیکن قربانی کے بارے میں جب آپ ؐ سے استفسار کیا جاتا تھا کہ: "ما ھذہ الاضاحی، یا رسول اللہ ؐ" اے اللہ کے رسولؐ! ہم جو یہ قربانی کرتے ہیں، یہ کیا ہے؟ رسول اللہؐ جوابا" فرمایا کرتے تھے کہ "سنت ابیکم ابراہیم ؑ!" یعنی یہ آپ کے باپ، ابراہیم ؑ کی سنت ہے! مطلب صاف ظاہر ہے کہ صحابہ ؓ سوال برائے سوال نہیں کرتے تھے۔ ان کی غرض و غایت یہ معلوم کرنا ہوتی تھی کہ قربانی کی شروعات کہاں سے ہوئی ہے۔ اصل میں قربانی ابراہیم ؑ کی اس عظیم سعی و جہد کی یادگار ہے جو آنجناب ؑ نے توحید کی بالادستی کے لئے عالمگیر پیمانے پر انجام دی ہے۔ اسی لئے اس کو قرآن نے "ذبح عظیم" (قرآن، 37:107) قرار دیا ہے اور آنے والوں کے لئے یادگار کے طور پر جاری کیا ہے۔ اس طرح یہ قربانی اس جدوجہد کا نقطہ عروج ہے جو ابراہیم ؑنے توحید کی بازی

یومِ عید ۔۔۔لغوی اور شرعی بحث

  لفظ ’’عید‘‘کااطلاق لغت میں ہر اُس دن پر ہوتا ہے جس میں کسی بڑے واقعے کی یادگار منائی جائے اور جو تسلسل کے ساتھ ہر سال آتارہے۱؎۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عید اُس اجتماعِ عام کوکہتے ہیں جو طے شدہ پروگرام کے مطابق باربار منعقد ہو خواہ ہر سال ہو ‘ہر مہینہ ہو یا ہر ہفتے۲؎۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ لکھتے ہیں کہ ’’عید کو عید اس لئے کہا جاتاہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر فرحت ومسرت کو لوٹاتے ہیں‘‘۳؎۔ ’’اعیاد‘‘اس کی جمع ہے ‘لیکن قاعدے کے مطا بق اس کی جمع’’اعْواد‘‘آتی ہے ۔پھر ’’اعیاد‘‘اس کی جمع کیوں بیان کی جاتی ہے مولانا عبدالحفیظ بلیاوی حفظہ اللہ نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ عربی میں چونکہ لکڑی کے لئے ’’العُوْد‘‘کا لفظ مستعمل ہے

قربانی کا اصل مقصد اور ہمارا معاشرہ

قر بان کا لفظ صدقہ اورقربانی دونوں کے لیے آتا ہے ۔ جوچیز بھی اللّٰه کے حضور قربِ اِلٰہی کے مقصد سے پیش کی جائے وہ قربان ہے اورقربانی کہلاتا ہے ۔ قربانی تسلیم ورضا اورصبر وشکر کا وہ امتحان ہے کہ جس کو پورا کیے بغیردنیا کی پیشوائی اورآخرت کی کامیابی نہیں ملتی ہے ۔ اصل میں اللّٰهِ‎  کے سامنےاپنے تمام جذبات ، خواہشات، تمناؤں اورآرزؤں کوقربان کردینا ہی قربانی ہے۔ قربانی اگر چہ ایک مختصر لفظ ہے ،لیکن انسانی زندگی میں اس کی غیرمعمولی اہمیت ہے۔ اس کی ضرورت انسان کو اپنی زندگی کے مختلف مقامات پر اور مختلف انداز میں پڑتی ہے۔ ساتھ ہی ہر قربانی کے پیچھے کوئی نہ کوئی مقصدہوتاہے۔ انسان جواپنی زندگی کے مختلف مسائل میں الجھا ہوتاہے،اسے قدم قدم پر قربانی دینی پڑتی ہے  اور مقصد جتناعظیم ہوتاہے قربانی بھی اتنی ہی بڑی ہوگی۔ مثلاًانسانی زندگی کا مقصد اطاعت الٰہی ہے جوتقرب الٰہی اور ک

یوم ِ عید ، سیرت ِ ابراہیمی کے چند درخشندہ اسباق

شب و روز کی گردش کے بعد عید الاضحی پھر قدم رنجہ ہے رحمتوں اور برکات کی سوغات لئے ،یہ یوم عظیم اُس رجل عظیم کے ایثار اور مولیٰ کے احکام کی تعمیل میں سر تسلیم خم کرنے کی بے مثال ادائوں کویاد دلاتا ہے جسے کائنات ِ انسانی سیدنا ابراہیم ؑ کے نامِ نامی سے  جانتی ہے ۔ یوں تو اس بطل جلیل کا اپنے فرزند دل بند اسماعیل ؑکو ذبح کرنے کا واقعہ اس عید کا بنیادی پس ِ منظر بھی ہے لیکن مہر نیم روز کی طرح یہ حقیقت بھی چمکتی دھمکتی ہے کہ ابراہیم ؑ کی ساری زندگی اور مبارک سیرت اس عید کی بنیاد بھی ہے اور وجہ بھی!ہاں ذبیحہ کا یہ واقعہ قربانی کا نکتہ عروج ہے۔ دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ کامل طور ایک بت پرست معاشرے میں خلیل اللہ ؑنے آنکھ کھولی اور ساری زندگی آنکھ کھول کر چلے ، آنکھ بند کرکے اس معاشرے کے طرزِ عبادت اور رسوم و رواج کو نہیں اپنایا بلکہ تلاش حق ،جستجو اور تحقیق اس کا شعاررہا ۔ یہاں تک کہ اس

عیدالاضحی کا پیغام

عید الاضحی کے ایام مبارک ہوتے  ہیںچناچہ یہ ایام مسلمانوں کے لئے مسرت اور شاد مانی کا پیغام لاتے ہیں۔ یہ وہ دن ہے جس کو رحمت کا دن کہا گیا ہے کہ اس ٖ دن حاجی صاحبان کے لئے ہر طرف اظہار وتشکر کا سماں ہوتاہے۔شکر کس بات کا ؟اس بات کا اللہ تعالی نے ہمیں ماہ ذی الحج کی صورت میں نیکیوں کا موسم بہار عطا فرمایا کہ اس  مبارک مہینے میں ہم اللہ کی رحمت ،مغفرت اور اجر ثواب سے اپنے دامن کو بھر کرآخرت کی کامیابی کا سامان فراہم کریں ۔۱۰  ذی الحجتہ وہ تاریخ اور مبارک اور عظیم شان قربانی کا یاد گار دن ہے ۔حضرت ابراہیم ؐ نے بڑھاپے میں عطا ہوئے لخت جگر سیدنا اسماعیلؐ کو حکم الہی  کی خاطر قربان  کرنے کا  ایساقدم اٹھایا  کہ آج بھی اس فیصلے کی تعیمل پر چشم فلک حیران  ہے جبکہ دوسری طرف فرمابرادی و جانثاری  کے پیکرسیدنا ابراہیمؐ کے فرزند ارجمند سیدنا اسماعیل ؐ نے

عید الاضحی..... ،کورونا اور وقت کا تقاضا

اس وقت پوری دُنیا سخت آزمایش کا شکار ہے کہ ایک نظر نہ آنے والے مہین سے وائرس نے، جسے ’’کورونا‘‘ کا نام دیا گیا ہے، نوعِ انسانی کو اپنے شکنجے میں یوں جکڑ رکھا ہے کہ ہر فرد خود کو بےبس ومجبور محسوس کررہا ہے۔ قرآنِ پاک کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ آزمایش کے اصول پر بنی اس دُنیا میں اگر اللہ چاہے، تو اپنی مخلوق کو مختلف طریقوں سے تنبیہ کرسکتا ہے، تو یہ اللہ کی طرف سے انتہائی سخت وارننگ ہی ہے،جو یقیناً اس کی ناراضی ظاہر کررہی ہے۔اب یہاں سوال یہ جنم لیتا ہے کہ اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟تو درحقیقت ہماری نیکیوں، عبادات کی وہ روح باقی نہیں رہی، جو اللہ پروردگارِعالم کو مطلوب ہے۔ حق تلفی، ناحق زیادتی، فواحش، ایسا کون سا عمل ہے، جو اس معاشرے میں بُرا سمجھا جاتا ہو اورعام نہ ہو۔دین و دُنیا دونوں ہی کے معاملات میں ہماری سرکشی و لاپروائی عروج پر ہے۔ تو بلاشبہ اللہ ہم سے سخ

قربانی کا حقیقی مقصد اور اس کی اہمیت

جنگ قادسیہ کا موقع تھا۔حضرت خنسا ؓ، جو عرب کی مشہور شاعرہ تھیں ،  اپنے شیر سے بیٹوں کو بلایا اورکہا:’’ بیٹا! کل جب جنگ  میں شریک ہونا تو سینے پر زخم کھانا ، پیٹھ پر زخم نہ کھانا‘‘ ۔ا س کے بعد شہادت پر ابھارنے والے اشعار پڑھے۔شہادت کے جذبے سے سر شار چاروں بیٹے میدان جنگ میں امّی کے اشعار پڑھتے ہوئے شہید ہو گئے جب حضرت خنساؓ کو پتہ چلا تو فرمایااللہ کا شکر ہے۔کل آخرت میں ، میں چار شہداء کی ماں کہلاؤں گی۔؎ شہادت مطلوب و مقصود مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی کشادِ در ِدل سمجھتے ہیں اس کو  ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں آخر یہ قربانی ہی تو تھی کہ شراب جیسی محبوب چیز جب حرام قرار دی گئی تو دور صحابہ میں مدینہ کی گلیوں میں شراب سیلاب کے پانیوں کی طرح بہائی گئی کہ شراب مٹی میں جذب ہوتی تھی۔اس منظر کو دیکھ کر پرانے  یہودی بادہ کشو

ایک عام ہندوستانی کی سوچ

حال ہی امریکہ کے مشہور تحقیقاتی ادارے Pew Research Centreنے ہندوستان کے مختلف عقائد اور ان کے ماننے والوں کے مختلف موضوعات پر ان کی رائے پر مرتب اپنے ایک سروے کی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس سروے کے لیے نومبر 2019سے مارچ2020 تک 29,999ہندوستانی شہریوں سے جو کہ ملک کی 26ریاستوں میں مقیم ہیں، مختلف سوالات پر ان کی آرا جاننے کی کوشش کی گئی، جن کی بنیاد پر یہ رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔ ان 29,999افراد میں 22975ہندو،3,336 اسلام 1782 سکھ، 1011کرسچین، 719بودھ اور109جینی مذہب کے ماننے والے تھے۔ رپورٹ نے جن موضوعات کو اپنی تحقیق کے لیے استعمال کیا، ان کے جوابات جہاں چونکانے والے ہیں، وہیں ان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ درحقیقت عوام کیا سوچتے اور سمجھتے ہیں اور کس طرح میڈیا اور سیاسی جماعتیں ان کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی ہیں، صرف اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے۔ مجموعی طور پر بیشتر افراد کا کہنا تھا کہ انھیں

قربانی خالص اللہ کے لئے

اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دو عظیم عیدیں ’’عید الفطر‘‘ اور ’’عید الاضحی‘‘ عنایت فرمائی ہیں۔ ’’عید الفطر‘‘ ماہ رمضان المبارک کے ایک مہینے کے روزے مکمل کرنے کی خوشی میں عطا فرمائی ہے اور ’’عید الاضحی‘‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کے طور پر عطا فرمائی ہے۔اِن دونوں عیدوں میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دو رکعت نماز پڑھنا واجب کر دیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ خوشی کتنی بھی زیادہ ہو اُس میں اﷲ کی بندگی اور تقویٰ سب سے زیادہ ضروری ہے۔اِس لئے ہم مسلمانوں کو اِس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیئے کہ ہم دونوں عیدین میں بے جا خرافات سے بہت زیادہ پرہیز کریں اور دونوں عیدین کی خوشیاں اِس طرح منائیں جس طرح اﷲ تعالیٰ چاہتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کو دو طرح کی آوازیں بہت سخت ناپسند ہیں ، پہلی خوشی میں گانے بجانے کی اور دوسر

حج :ہدایت اور محبت کا سفر

حجِ بیت اللہ پانچ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن ہے۔یہ ایک روحانی سفر سے عبارت ہے،  اس سفر کا ہر مرحلہ مومن کے لئے گرانقدر ہے۔یہ تصور کس قدر وجد آفریں ہے کہ  اس ذات پاک کے گھر کی زیارت میسر ہوتی ہے جو مکانیات سے منزہ و پاک ہے، حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ شریف کا دیدار میسر آتا ہے جن سے اک چھوٹی سی نسبت بھی خوابیدہ نصیبوں کو جگا جاتی ہے۔ فرخا شہری کہ تو بودی در آن ای خنک خاکی کہ آسودی در آن   (اقبالؒ ) یعنی کتنا مبارک ہے وہ شہر جس میں آپﷺ تشریف فرما ہیں۔کتنی عظیم ہے وہ خاک جس میں آپﷺ آرام فرما ہیں۔ بیت اللہ اللہ تعلیٰ کا سب سے قدیم گھر ہے جو فرزندانِ توحید کے دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والا ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں۔ اِنَّ اَوَّلَ بَیتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا  وَّ ہُدًی  لِّلعٰل

قربانی افضل یا دیگر سماجی کام؟

انسانی زندگی کے ڈھانچے میں تہوار ایک اہم سماجی اور تفریحی عنصر ہے۔ مختلف اقوام، قبائل اور مذاہب کے ماننے والے لوگ اپنی اپنی جگہ مختلف انواع کے تہواروں کا انعقاد کرتے ہیں۔ذرا سے غور و فکر پر یہ بات بآسانی سمجھ میں آتی ہے کہ ان تہواروں کے انعقاد میں متعدد فوائد پنہاں ہوتے ہیں۔ایک تو منانے والوں کے درمیان یگانگی کا احساس اور  ایک متحد اجتماعیت ہونے کا جذبہ گہرا اور مضبوط ہوتا ہے۔۔ دوسرا انہیں َزندگی کی کشمکش اور دوڈ دھوپ سے فراغت حاصل کر کے خوشی منانے کا موقع میسر آتا ہے جس میں الہامی کیف و سرو مومن کی شخصیت کو تروتازہ کرتی ہے اور جب سارے لوگ ایک ہی وقت میں مل کر اس خوشی میں شریک ہوتے ہیں تو یہ خوشی دوبالا ہوجاتی ہے۔ اس خوشی کی ہیئت و کیفیت الگ ہی نوع کی ہوتی ہے جسکو کسی اور ذریعے سے حاصل نہیں کیا جاسکتا.تیسرا اگر یہ تہوار کسی عقیدے سے منسلک ہو تو وہ عقیدہ بھی مزید راسخ ہوتا ہے۔&n

عید قربانی اور ہماری ذمہ داریاں

اللہ پاک نے اپنے بندوں کو ان کی بندگی کا احساس دلانے اور اپنی معبودیت کا مظاہرہ کرنے کے لیے کچھ احکامات ان پر نافذ کیے ہیں؛ تاکہ انسان اپنی زندگی کو آزاد نہ سمجھ بیٹھے، اپنے محدود اختیار کو کلی اتھارٹی سمجھ کر بے راہ روی کا شکار نہ ہوجائے ؛ اللہ پاک نے نماز فرض کی تاکہ بندہ اس کے ذریعے اللہ کے حضور سربسجود ہوکر اپنی کمتری کا احساس کرے ، خود کو غلام سمجھے، ناتواں تصور کرے، اللہ کو اپنا مالک حقیقی جانے اور اس کی فرماں برداری کے لیے اپنے وجود کو زمین پر رکھ دے۔ اللہ نے رمضان کے روزے فرض کیے تاکہ انسان کو احساس ہوکہ جو کچھ ہم کھاتے اور پیتے ہیں یہ کھانا اور یہ پانی سب اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ہیں؛ اگر وہ عطا نہ کرتا تو ہم بھوکے مر جاتے۔ اسی طرح اللہ پاک نے زکوٰۃ اور حج کے احکام نازل کیے جن میں انسان کی عبدیت اور خدا کی معبودیت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔  اسی طرح اللہ پاک نے سال بھر میں ایک

جموں وکشمیر میں جرائم اور خُود کشی کا بڑھتا ہوا رُجحان

جموں وکشمیر میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ نوجوان زندگی کی انمول نعمت کو چھوڑ کر موت کو گلے لگا رہے  ہیں۔ چند دنوں سے خودکشی کے واقعات رونما ہونے کی خبریں تیزی کے ساتھ سننے کو مل رہی ہیں کہ فلاں مقام پر فلاں نوجوان لڑکی یا لڑکے نے گلے میں پھندا ڈال کر یا زہریلی شئے کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا یا دریا میں چھلانگ لگا کر اپنے آپ کو ہلاک کر دیا۔ ان واقعات سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ نسل کتنی حساس ہےبلکہ برداشت کی قوت میں بھی ان میں کتنی کمی ہے۔ بروقت نظر پڑنے سے اگرچہ اب تک کئی نوجوانوں کو خودکشی کرنے سے روکا بھی گیا ہے لیکن خودکشی کے ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جو کہ  ہمارے معاشرے کو جھنجوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو جنتِ بے نظیر جموں وکشمیر،

دفاترمیں آئی سی سی کی عدم موجودگی

کشمیر میں پہلے سے ہی ایسے پلیٹ فارم کی کمی محسوس کی جا رہی تھی جہاں اپنی شکایات درج کر ائی جا سکیں۔ لیکن دفاترمیں خواتین کے لئے داخلی شکایت کمیٹی(آئی سی سی) کی عدم موجودگی کی وجہ سے کام کرنے والی خواتین کو کو نہ صرف پریشانی کا سامناکر نا پڑ رہا ہے بلکہ ان کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے معاملات میں انصاف کا دروازہ تقریبا ًبندہوتا نظر آرہاہے، جس کی وجہ سے خواتین کے ساتھ نہ صرف جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ان کا بیجا استحصال بھی کیاجا رہا ہے۔2013 میں کام کرنے والی جگہوں پر خواتین کو جنسی تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے ایک ایکٹ لایا گیا تھاجسے POSH ایکٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔یہ خواتین کو ان کے کام کرنے کی جگہوں پرنہ صرف جنسی زیادتی سے تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ ان کی تمام شکایات کا بھی ازالہ کرتا ہے۔ پوش ایکٹ کے تحت ہر دفتر، خواہ وہ سرکاری ہو یا نجی، میں آئی سی سی یعنی

تازہ ترین