تازہ ترین

ذبح عظیم اور توحید کی بازیافت

صحابہ ؓ اگرچہ رسالتمآب ؐ سے بہت کم سوال کیا کرتے تھے، لیکن قربانی کے بارے میں جب آپ ؐ سے استفسار کیا جاتا تھا کہ: "ما ھذہ الاضاحی، یا رسول اللہ ؐ" اے اللہ کے رسولؐ! ہم جو یہ قربانی کرتے ہیں، یہ کیا ہے؟ رسول اللہؐ جوابا" فرمایا کرتے تھے کہ "سنت ابیکم ابراہیم ؑ!" یعنی یہ آپ کے باپ، ابراہیم ؑ کی سنت ہے! مطلب صاف ظاہر ہے کہ صحابہ ؓ سوال برائے سوال نہیں کرتے تھے۔ ان کی غرض و غایت یہ معلوم کرنا ہوتی تھی کہ قربانی کی شروعات کہاں سے ہوئی ہے۔ اصل میں قربانی ابراہیم ؑ کی اس عظیم سعی و جہد کی یادگار ہے جو آنجناب ؑ نے توحید کی بالادستی کے لئے عالمگیر پیمانے پر انجام دی ہے۔ اسی لئے اس کو قرآن نے "ذبح عظیم" (قرآن، 37:107) قرار دیا ہے اور آنے والوں کے لئے یادگار کے طور پر جاری کیا ہے۔ اس طرح یہ قربانی اس جدوجہد کا نقطہ عروج ہے جو ابراہیم ؑنے توحید کی بازی

یومِ عید ۔۔۔لغوی اور شرعی بحث

  لفظ ’’عید‘‘کااطلاق لغت میں ہر اُس دن پر ہوتا ہے جس میں کسی بڑے واقعے کی یادگار منائی جائے اور جو تسلسل کے ساتھ ہر سال آتارہے۱؎۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عید اُس اجتماعِ عام کوکہتے ہیں جو طے شدہ پروگرام کے مطابق باربار منعقد ہو خواہ ہر سال ہو ‘ہر مہینہ ہو یا ہر ہفتے۲؎۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ لکھتے ہیں کہ ’’عید کو عید اس لئے کہا جاتاہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر فرحت ومسرت کو لوٹاتے ہیں‘‘۳؎۔ ’’اعیاد‘‘اس کی جمع ہے ‘لیکن قاعدے کے مطا بق اس کی جمع’’اعْواد‘‘آتی ہے ۔پھر ’’اعیاد‘‘اس کی جمع کیوں بیان کی جاتی ہے مولانا عبدالحفیظ بلیاوی حفظہ اللہ نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ عربی میں چونکہ لکڑی کے لئے ’’العُوْد‘‘کا لفظ مستعمل ہے

قربانی کا اصل مقصد اور ہمارا معاشرہ

قر بان کا لفظ صدقہ اورقربانی دونوں کے لیے آتا ہے ۔ جوچیز بھی اللّٰه کے حضور قربِ اِلٰہی کے مقصد سے پیش کی جائے وہ قربان ہے اورقربانی کہلاتا ہے ۔ قربانی تسلیم ورضا اورصبر وشکر کا وہ امتحان ہے کہ جس کو پورا کیے بغیردنیا کی پیشوائی اورآخرت کی کامیابی نہیں ملتی ہے ۔ اصل میں اللّٰهِ‎  کے سامنےاپنے تمام جذبات ، خواہشات، تمناؤں اورآرزؤں کوقربان کردینا ہی قربانی ہے۔ قربانی اگر چہ ایک مختصر لفظ ہے ،لیکن انسانی زندگی میں اس کی غیرمعمولی اہمیت ہے۔ اس کی ضرورت انسان کو اپنی زندگی کے مختلف مقامات پر اور مختلف انداز میں پڑتی ہے۔ ساتھ ہی ہر قربانی کے پیچھے کوئی نہ کوئی مقصدہوتاہے۔ انسان جواپنی زندگی کے مختلف مسائل میں الجھا ہوتاہے،اسے قدم قدم پر قربانی دینی پڑتی ہے  اور مقصد جتناعظیم ہوتاہے قربانی بھی اتنی ہی بڑی ہوگی۔ مثلاًانسانی زندگی کا مقصد اطاعت الٰہی ہے جوتقرب الٰہی اور ک

یوم ِ عید ، سیرت ِ ابراہیمی کے چند درخشندہ اسباق

شب و روز کی گردش کے بعد عید الاضحی پھر قدم رنجہ ہے رحمتوں اور برکات کی سوغات لئے ،یہ یوم عظیم اُس رجل عظیم کے ایثار اور مولیٰ کے احکام کی تعمیل میں سر تسلیم خم کرنے کی بے مثال ادائوں کویاد دلاتا ہے جسے کائنات ِ انسانی سیدنا ابراہیم ؑ کے نامِ نامی سے  جانتی ہے ۔ یوں تو اس بطل جلیل کا اپنے فرزند دل بند اسماعیل ؑکو ذبح کرنے کا واقعہ اس عید کا بنیادی پس ِ منظر بھی ہے لیکن مہر نیم روز کی طرح یہ حقیقت بھی چمکتی دھمکتی ہے کہ ابراہیم ؑ کی ساری زندگی اور مبارک سیرت اس عید کی بنیاد بھی ہے اور وجہ بھی!ہاں ذبیحہ کا یہ واقعہ قربانی کا نکتہ عروج ہے۔ دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ کامل طور ایک بت پرست معاشرے میں خلیل اللہ ؑنے آنکھ کھولی اور ساری زندگی آنکھ کھول کر چلے ، آنکھ بند کرکے اس معاشرے کے طرزِ عبادت اور رسوم و رواج کو نہیں اپنایا بلکہ تلاش حق ،جستجو اور تحقیق اس کا شعاررہا ۔ یہاں تک کہ اس

عیدالاضحی کا پیغام

عید الاضحی کے ایام مبارک ہوتے  ہیںچناچہ یہ ایام مسلمانوں کے لئے مسرت اور شاد مانی کا پیغام لاتے ہیں۔ یہ وہ دن ہے جس کو رحمت کا دن کہا گیا ہے کہ اس ٖ دن حاجی صاحبان کے لئے ہر طرف اظہار وتشکر کا سماں ہوتاہے۔شکر کس بات کا ؟اس بات کا اللہ تعالی نے ہمیں ماہ ذی الحج کی صورت میں نیکیوں کا موسم بہار عطا فرمایا کہ اس  مبارک مہینے میں ہم اللہ کی رحمت ،مغفرت اور اجر ثواب سے اپنے دامن کو بھر کرآخرت کی کامیابی کا سامان فراہم کریں ۔۱۰  ذی الحجتہ وہ تاریخ اور مبارک اور عظیم شان قربانی کا یاد گار دن ہے ۔حضرت ابراہیم ؐ نے بڑھاپے میں عطا ہوئے لخت جگر سیدنا اسماعیلؐ کو حکم الہی  کی خاطر قربان  کرنے کا  ایساقدم اٹھایا  کہ آج بھی اس فیصلے کی تعیمل پر چشم فلک حیران  ہے جبکہ دوسری طرف فرمابرادی و جانثاری  کے پیکرسیدنا ابراہیمؐ کے فرزند ارجمند سیدنا اسماعیل ؐ نے

عید الاضحی..... ،کورونا اور وقت کا تقاضا

اس وقت پوری دُنیا سخت آزمایش کا شکار ہے کہ ایک نظر نہ آنے والے مہین سے وائرس نے، جسے ’’کورونا‘‘ کا نام دیا گیا ہے، نوعِ انسانی کو اپنے شکنجے میں یوں جکڑ رکھا ہے کہ ہر فرد خود کو بےبس ومجبور محسوس کررہا ہے۔ قرآنِ پاک کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ آزمایش کے اصول پر بنی اس دُنیا میں اگر اللہ چاہے، تو اپنی مخلوق کو مختلف طریقوں سے تنبیہ کرسکتا ہے، تو یہ اللہ کی طرف سے انتہائی سخت وارننگ ہی ہے،جو یقیناً اس کی ناراضی ظاہر کررہی ہے۔اب یہاں سوال یہ جنم لیتا ہے کہ اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟تو درحقیقت ہماری نیکیوں، عبادات کی وہ روح باقی نہیں رہی، جو اللہ پروردگارِعالم کو مطلوب ہے۔ حق تلفی، ناحق زیادتی، فواحش، ایسا کون سا عمل ہے، جو اس معاشرے میں بُرا سمجھا جاتا ہو اورعام نہ ہو۔دین و دُنیا دونوں ہی کے معاملات میں ہماری سرکشی و لاپروائی عروج پر ہے۔ تو بلاشبہ اللہ ہم سے سخ