پانی کی قلّت سے کشمیر میں کربلا

پورے ہندوستان میں وزیراعظم نریندر مودی کا جاری کردہ جل جیون مِشن پورے شدو مد سے جاری ہے۔ راجستھان اور گجرات کے ریگزاروں میں بھی اب لوگوں کو پانی دستیاب ہے۔وزیراعظم نے ’’ہرنل جل‘‘ کا نعرہ دے کر پورے ملک میں پینے کے پانی سے جْڑے محکموں کو متحرک کردیا ہے۔ واقعی یہ بہت بڑا مسلہ تھا جسکی طرف وزیراعظم کا دھیان کورونا وائرس سے بہت پہلے گیا تھا۔ جب صفائی ستھرائی اور بار بار ہاتھ دھونے کو ہی جان کی امان قرار دیا گیا ہو تو ’’ہر نل جل‘‘ وقت کی اہم ترین ضرورتوں میں سے ہے۔  لیکن کشمیر میں کیا ہورہا ہے؟ سکیمیں بڑے چائو سے شروع کی جاتی ہیں، لیکن یہاں کی انتظامیہ کو جیسے کوئی دیرینہ دھیمک لگا ہے جو اِن سکیموں کو بھی چاٹ جاتا ہے۔ اس سال کی شروعات سے ہی سرینگر سمیت مختلف اضلاع میں پینے کے پانی کی قلت سے ہاہا کار مچی ہے۔ ہر روز اخبارات میں سرخیاں ل

پڑھے لکھے گنوار‘

ابھی کچھ روز قبل ایک ڈاکٹر صاحب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔نو منٹ اور دس سیکنڈ کی اس ویڈیوکے آغاز میں مذکورہ کشمیری ڈاکٹر صاحب اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اپالو ہسپتال کولکتہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کشمیری زبان میں جاری اپنی ویڈیو میں ڈاکٹر شکیل احمدکورونا وائرس سے پیدا سنگین صورتحال کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اہل کشمیر کو خبردار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔وہ کہتے ہیں ’’میں انتہائی ایمر جنسی کی حالت میں اس ویڈیو کے ذریعے اپنے ہم وطنوں تک ایک ضروری پیغام پہنچانا چاہتاہوں ‘‘۔ ویڈیومیں ڈاکٹر شکیل کہتے ہیں’’میرے وطن کے لوگ کورونا وائرس سے اس قدر بے پرواہ ہوئے ہیں کہ انہوں نے اس کی ہلاکت خیزی کو بھول کر لاپرواہی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔آپ بے پرواہ ہوکربازاروں میں گھومتے پھرتے نظر آرہے ہیں، آپ پارکوں میں بھی جانے لگے ہیں اور ا

تازہ ترین