سکولی نصاب میں تحریف کے پس پردہ مقاصدکیا؟

ملک میں اسکولی تعلیم کا انتظام وانصرام کرنے والے سب سے اہم ادارے سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) نے تعلیمی سال2020-21 کے لیے نویں سے بارہویں درجہ تک کے نصاب میں30فیصد کی کمی کردی ہے۔بورڈ کی دلیل ہے کہ ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے سبب لاک ڈاون کی وجہ سے مارچ سے اسکول بند ہیں جس کی وجہ سے طلبہ کا تعلیمی نقصان ہورہا ہے اور وہ صرف آن لائن کلاسیں کرپارہے ہیں لہذا ان پراور اساتذہ پر کورس پورا کرنے کا بوجھ نہ پڑے۔ انسانی وسائل کے فروغ کے مرکزی وزیر رمیش پوکھریال نے اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے کئی ٹوئٹ کرکے کہا کہ’’ ملک اور دنیا میں موجودہ غیر معمولی صورت حال کے مدنظر بنیاد ی نظریات سے متعلق مضامین کو علی حالیہ برقرار رکھتے ہوئے نصاب کو 30فیصد تک کم کرکے اسے منطقی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘‘ حالانکہ سی بی ایس ای کے اس اقدام کے خلاف ابھ

چڑیوں کی چہچہاہٹ

ہماری یونیورسٹی راجوری کے کوہساروں پر ایسی جگہ واقع ہے جو قبل ازیں چرند پرند اور جانوروں کا مسکن ومنبع اور مخبأ ہوا کرتی تھی۔جب یونیورسٹی قائم ہوئی اور لوگ یہاں آباد ہوتے گئے تو جانوردم دباکر بھاگنے لگے مگر پرندوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔انواع واقسام کے رنگ برنگ پرندے اس معمورے کو صبح وشام اپنی مدھر بھری چہچہاہٹ سے سرمست کیے رہتے ہیں۔مینا ، کبوتر،طوطا، بلیو برڈ،کویل، گوریّے جیسے انسانوں سے مانوس رہنے والے کچھ پرندوں کی تعداد تو کسی قدر زیادہ ہی ہے۔ کل بڑا پر بہار موسم تھا۔ میں اپنی بلڈنگ کی چھت پرگیا تو دیکھا سوپچاس کبوتروں کا ایک جھنڈ گرلس ہوسٹل کے اے بلاک سے ایک ساتھ اڑتا ہے اور ہلالی شکل بناتے ہوئے ڈی بلاک پرجاکر بیٹھ جاتا ہے۔ وہاں سے وہ اس کے عقب میں بنے ہوئے فیکلٹی کوارٹر پر یک ساتھ جست لگاتے ہیں۔اور پھر وہاں شیڈ پر اپنے چونچوں سے کٹ کٹ مار کر مستی کرتے پھرتے ہیں۔ بہت

غیر منصفانہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام

سرمایہ نظام ایک معاشی و معاشرتی نظام ہے جس میں جملہ حقوق و کنٹرول ملک کے بجائے نجی شعبے کا ہوتا ہے ۔نجی شعبے کو مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے کہ وہ منافع کے لئے آزاد منڈی میں جدو جہد کرے ۔ایک مثالی سرمایہ دارانہ نظام میں ریاست معاشی حالات میں مداخلت نہیں کرتی یا بہت کم مداخلت کرتی ہے ۔سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد انفرادی کلیت کے تصور پر قائم ہے ۔یہ نظام اس بات کا قائل ہے کہ ذرائع پیداوار جمع کرنا اور اس کا استعمال کرنا ہر فرد کا بنیادی حق ہے اور اس حق کے استعمال کے لئے ہر فرد کو مکمل آزادی حاصل ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مثالی سرمایہ دارانہ نظام کا وجود کہیں ممکن نہیں ہے کہ جہاں پر فرد کو مکمل آزادی حاصل ہو، کیونکہ حکومت کو کسی نہ کسی طرح مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد انفرادی ملکیت کے تصور پر قائم ہے ۔انفرادی ملکیت میں دو طرح کے سامان آتے ہیں: (۱) وہ چیزیں جو انسان

کشمیر کی دستکاری صنعت روبہ زوال

یوں تو ہماری وادیٔ کشمیر کی معیشت کا دارومدار تین بڑے شعبوں پر ہے جن میں دستکاری، سیاحت اور زراعت قابلِ ذکر ہیں مگر اب کئی دہائیوں سے یہ تینوں شعبے بْری طرح سے متاثر ہوئے ہیں جس کے اہم وجوہات اندرونی تناؤ اور ان شعبوں کی طرف سرکار کے ساتھ ساتھ عوام کی عدم توجہی بھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان شعبوں سے وابستہ لوگ اب کسمپرسی کی زندگی جی رہے ہیں۔ جہاں تک دستکار ی صنعت کی بات ہے تو کشمیر دستکاری صنعت کی تاریخ کئی سو سال پرانی ہے اور اس شعبے سے یہاں کی ایک بڑی تعداد وابستہ رہی ہے ۔ان دستکاریوں میں قالین بافی، شالبافی، پشمینہ سازی، پیپر ماشی اور لکڑی کی کندکاری قابلِ ذکر ہیں ۔ اب لگ بھگ ان دستکاریوں کا جنازہ نکلنے کو ہے اور لاکھوں لوگ بیروزگار ہوگئے ہیں۔کشمیری دستکاریوں کا جگہ اب اس سائنسی دور میں مشینوں نے لی ہے، ان سے سستا مال تیار کرکے مارکیٹ میں آنے سے بھی ان دستکاریوں کا دم اب آہستہ آہس

اپنا احتساب خود کر لیں!

کسی شدید بیماری کا سب سے سنگین درجہ وہ ہوتا ہے جب بیمار اس کو بیماری تسلیم کرنے سے انکار کر دے یا اس کے مرض ہونے کا احساس اس کے دل سے مٹ جائے۔ یہ کلیہ جسمانی بیماریوں کے بارے میں جتنا درست ہے، روحانی امراض یا گناہوں کے بارے میں بھی اتنا ہی سچا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سی برائیاں ایسی رواج پا گئی ہیں کہ گھر گھر اُن کا چلن دیکھ کر اب دلوں سے اُن کے برائی ہونے کا احساس بھی مٹ رہا ہے اور افسوس تو یہ ہے کہ معاشرے کے دینی رہنما بھی تھک ہار کر اُن کے بارے میں کہنا سننا چھوڑتے جا رہے ہیں۔  ایک بالکل واضح اور ظاہر سی بات ہے کہ انسان جوکچھ دیکھتا ہے، سنتا ہے اور پڑھتا ہے اس کا اثر ضرور قبول کرتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جو بچے بہت دلچسپی سے ڈرامے اور فلمیں دیکھتے ہیں، وہ انجانے میں پھر انہی کے کرداروں کی نقالی شروع کردیتے ہیں۔ وہ بچے نہ بھی چاہیں تو ان کی زبانوں پر وہ ہی باتیں آجاتی ہی

تازہ ترین